یورپ میں امتیازی سلوک کا آغاز


mujahid aliیوں تو ابھی دنیا کے کسی ملک میں بھی مکمل مساوات اور سب کے لئے یکساں حقوق اور آزادی کا اصول پوری طرح نافذالعمل نہیں ہو سکا ہے لیکن یورپ کو کسی حد تک اس شعبہ میں کامیابی نصیب ہوئی ہے۔ اگرچہ یہ معاشرے طبقاتی تقسیم ختم نہیں کرسکے لیکن انہوں نے محروم طبقوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے اور سرکاری مراعات پر سب شہریوں کا مساوی حق تسلیم کرکے کسی حد تک انصاف اور مساوات کا اصول مروج کرنے کی بنیاد رکھی ہے۔ گزشتہ ستر برس کے دوران متحدہ یورپ یعنی یورپین یونین کی بنیادیں استوار کرتے ہوئے مساوات اور برابری کو ہی رہنما اصول کی حیثیت حاصل تھی۔ اس بین الملکی اقتصادی اتحاد کا بنیادی اصول سرمایہ اور افراد کی آزادانہ نقل و حرکت تھی۔ کل برطانیہ کو یونین کا حصہ رکھنے کی غرض سے اس اصول کو نظر انداز کرنے پر اتفاق کرلیا گیا ہے۔ اب برطانیہ اپنے ہاں آنے والے مشرقی یورپی باشندوں سے امتیازی سلوک روا رکھ سکے گا۔

وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے 2017 کے آخر تک برطانیہ کی یورپین یونین میں بدستور شرکت کے سوال پر استصواب کروانے کا اعلان کر رکھا ہے، تاہم عام خیال یہ ہے کہ یہ رائے شماری اس سال جون میں ہو گی۔ اسی لئے برطانوی وزیر اعظم نے گزشتہ دو روز کے مذاکرات کے بعد یورپ کے ساتھ برطانیہ کی خصوصی حیثیت کی بات طے کی ہے۔ ڈیوڈ کیمرون نے کہا تھا اگر یورپ کے دوسرے ملک برطانیہ کو خصوصی مراعات دینے پر تیار نہ ہوئے تو وہ یونین میں شامل نہیں رہیں گے۔ دیگر یورپی ملکوں کی طرح برطانیہ میں بھی یورپین یونین کی رکنیت کے سوال پر اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ خیال ہے برطانوی کابینہ میں بھی اس بارے میں اختلافات ہیں اور نئے معاہدہ کے باوجود بہت سے وزیر ریفرنڈم میں یورپین یونین چھوڑنے کی حمایت کریں گے۔ برطانیہ میں اس سوال پر بحث جاری ہے کہ یونین میں شامل رہنے کا فائدہ یا نقصان کیا ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ یونین کا حصہ رہنے سے برطانیہ کی سرمایہ کارانہ حیثیت متاثر ہوگی اور لندن کی فنانس مارکیٹ اپنی کشش کھونے لگے گی۔ اس کے علاوہ یونین کے قواعد پر پابندیوں کو برطانوی معیشت اور خود مختاری کے لئے خطرہ سمجھا جانے لگا ہے۔

کل رات برطانیہ نے یورپین لیڈروں کے ساتھ جو خصوصی معاہدہ کیا ہے اس کے تحت اب دیگر یورپی ملکوں سے برطانیہ آنے والے شہریوں کو مساوی معاشی اور فلاحی حقوق حاصل نہیں ہوں گے۔ یہ مطالبہ خاص طور سے مشرقی یورپ کے کم ترقی یافتہ اور نسبتاً غریب ملکوں کے شہریوں کی آمد کو روکنے اور انہیں برطانوی فلاحی نظام کے فوائد سے محروم کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ گزشتہ چند برس کے دوران یونین میں شامل ہونے والے متعدد مشرقی یورپی ملکوں کے باشندوں کی برطانیہ آمد کی وجہ سے برطانیہ مالی دباؤ محسوس کررہا تھا۔ اب اس حوالے سے لندن حکومت برسلز کے مقرر کردہ قواعد کی پابند نہیں رہے گی۔ اس طرح یورپی ملکوں نے دراصل مساوات اور مساوی مواقع کے اس اصول کو مسترد کردیا ہے جس کی بنیاد پر یونین کا ڈھانچہ استوار ہے۔

اگرچہ برطانیہ جیسے بڑے ملک کو بدستور یونین کا رکن رکھنے کے لئے یہ کڑوی گولی نگلی گئی ہے لیکن اس کے بعد یونین کے قائم رہنے کا جواز بھی ختم ہو جائے گا۔ اب یورپ صرف ایشیا اور مشرق وسطیٰ سے آنے والے پناہ گزینوں کو ہی دوسرے درجے کا شہری قرار دینے کے لئے اقدامات نہیں کررہا بلکہ مالی مشکلات اور سماجی بحران کے اس مشکل دور میں مختلف حکومتیں صرف اپنے شہریوں کی بہبود کے بارے میں اقدام کو مناسب سمجھتی ہیں۔ برطانیہ کے ساتھ معاہدہ اسی سیاسی ضرورت کا اظہار ہے۔ لیکن یہ متحد یورپ کا خواب دیکھنے والوں کے نظریہ مساوات کو مسترد بھی کرتا ہے۔ اب یورپی لیڈر باقاعدہ طور سے امتیازی سلوک کو تسلیم کرنے پر متفق ہوگئے ہیں۔ اس کے بعد دیکھنا ہوگا کہ یہ اتحاد اپنے ہی اراکین کو مختلف حیثیت دیتے ہوئے کب تک برقرار رہ سکتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali