دو قومی نظریہ کس طرح اسلامی ہے؟ (2)


anwar ghaziایک نظریاتی، مذہبی اور دینی ریاست میں برتر قانون قرآن وحدیث ہوتے ہیں۔ اگر دو یا زائد قومیں آپس میں مل کر رہیں تو کوئی مسئلہ نہیں، رہ سکتی ہے، لیکن اگر کسی کا جینا حرام کردیا جائے، ناحق ماراپیٹا جائے، جان کے دشمن ہوجائے تواجازت ہے۔مکہ میں جب مسلمانوں کہ نہ رہنے دیا گیا تو آپ نے مدینہ ہجرت فرمائی۔ وہاں کے دو بڑے قبائل اوس وخزرج مسلمان ہوچکے ہیں۔ اگرچہ مسلمان تعداد میں کم تھے، لیکن مسلمانوں کا غلبہ ہوچکا تھا۔ میثاقِ مدینہ میں مسلمانوں کے علاوہ تمام قبائل اور قوموں نے یہ تسلیم کیا کہ ”سپریم اتھارٹی“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودِ مدینہ سے میثاق ِمدینہ کیا تو اس میثاق میں بھی آپ کو فیصلوں کے معاملے میں ”سپریم اتھارٹی“ مانا کیا گیا بلکہ تمام تنازعات، اختلافات میں آپ کا فیصلہ اٹل تسلیم کیا گیا تھا۔ دیکھیں! مدینہ میں اکثریت کفار کی تھی۔ انہوں نے کس بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ’سپریم اتھارٹی‘ تسلیم کیا تھا۔ وہ چودہ سو سال قبل کا یہ تاریخی معاہدہ کیا ہے؟ آئیے! اس کا جائزہ لیتے ہیں:

مدینہ منورہ میں ’اوس‘ اور ’خزرج‘ کے علاوہ اس وقت غیر مسلم بھی موجود تھے۔ ان میں زیادہ تعداد یہودیوں کی تھی۔ یہودیوں کے تین با اثر قبائل بھی آباد تھے۔ ”بنو نظیر“، ”بنوقریظہ“ اور ”بنو قینقاع“ ان کو اسلام کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی ضرورت تھی کہ ان سے سیاسی تعلقات کی نوعیت متعین ہوجائے۔ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ایک تحریری معاہدہ ہوجائے جس میں ریاست کے دستور اور منشور کی بنیادی اور ضروری دفعات کو ضبط تحریر میں لایا جائے۔ چنانچہ غزوہ بدر سے قبل ہجرت کے پہلے سال میں ہی درج ذیل دستاویز لکھی گئی۔ اس معاہدے کا حوالہ امام احمد کی م±سند، ابن القیم کی زاد المعاد، سیرت کی کئی مستند کتابوں میں دیا گیا ہے۔ ابن ہشام اور ابن کثیر نے محمد بن اسحق متوفی 150 ہجری کے حوالے سے یہ دستاویز پوری کی پوری نقل کی ہے۔ سیرت ابن ہشام اور البدایہ سے اس اہم ترین سیاسی منشور اور تحریری دستور کا جامع خلاصہ کچھ یوں ہے۔

یہ ایک تحریری معاہدہ ہے۔ مہاجرین وانصار کے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جو ان کے تابعدار ہوں۔ ان کے ساتھ جنگ میں شریک ہوں۔ (1) سب مسلمان ایک ا±مت اور ایک قوم سمجھے جائیں گے۔ (2) قریشی مہاجرین حسب سابق اپنے قیدیوں کا فدیہ دیں گے اور دیت میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔ (3) اوس وخزرج کے آٹھ قبیلوں کا نام لے کر لکھا گیا ہے یہ سب کے سب حسب سابق ایک دوسرے کی دیت دیں گے اور اپنے اپنے قیدیوں کا فدیہ ادا کریں گے۔ (4) قرض داروں اور معاشی پریشانی میں مبتلا لوگوں کی معروف طریقے پر مدد کی جائے گی۔ (5) ظالموں، مجرموں اور مفسدوں کے خلاف سب مسلمان متحد ہوں گے، اگرچہ ان میں سے کوئی مجرم کسی مسلمان کا بیٹا ہو۔ (6) کوئی مومن کافر کی حمایت میں مومن کو قتل نہیں کرے گا اور نہ مومن کے مقابلے میں کافر کی حمایت کرے گا۔ (7) ادنیٰ مومن بھی اگر کسی کو پناہ دے دے تو وہ سب کی پناہ سمجھی جائے گی۔ مسلمانوں کی ذمہ داری مشترک ہوگی۔ (8) یہودی اگر ہماری فرمانبرداری کریں گے تو ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کی مدد کی جائے گی۔ (9)مسلمانوں کی صلح مشترک ہوگی لیکن انفرادی صلح کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ اجتماعی طور پر کسی بیرونی قبیلے کے ساتھ صلح کی جائے گی۔ جنگ کے دوران کوئی مسلمان انفرادی طور پر صلح نہیں کرے گا۔ (10) مسلمانوں کو باری باری جہاد پر جانا ہوگا۔ جب ایک دستہ آجائے تو دوسرا تازہ دم دستہ بھیجا جائے۔ (11) تمام مسلمانوں کا خون مساوی ہے اور راہِ راست پر وہی شمار ہوں گے جو متقی ہوں۔ (12) قریش مکہ کی نہ مالی امداد کی جائے گی اور نہ مسلمانوں کے مقابلے میں ان کو پناہ دی جائے گی۔ (13) جس نے مسلمان کو ظماً اور عمداً قتل کیا ہو اس سے قصاص لیا جائے گا، الا یہ کہ مقتول کے وارث دیت لینے پر راضی ہوجائیں اور قاتل کے خلاف تمام مسلمان متحد ہوں گے۔ (14) ہر معاملے اور ہر قسم کے تنازع کا فیصلہ اللہ کی کتاب اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق کیا جائے گا، یعنی قانونی بالادستی قرآن وسنت کو حاصل ہوگی۔ (15) مدینہ پر حملے کی صورت میں حملہ آور کے خلاف یہودی مسلمانوں کے ساتھ جنگ اور مصارف جنگ میں شریک ہوں گے، اس لیے کہ یہ دفاع وطن کی جنگ ہوگی۔ (16) یہودی اپنے مذہب پر عمل کریں گے اور مسلمان اپنے مذہب پر عمل کریں گے۔ (17) یہودیوں کے تمام قبائل اور ان کے حلیفوں اور دوستوں کو قانون کے مطابق تمام شہری حقوق حاصل ہوں گے لیکن جو جرم کرے گا وہ بچ نہیں سکے گا۔ (18) جرائم کی سزائیں دینے میں رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ دھوکا دینے والا اور عہد شکنی کرنے والا اپنے آپ کو خطرے میں ڈالے گا۔ تحفظ نیکوکاروں ہی کو حاصل ہوگا۔ (19) شرکائے معاہدہ پر مدینہ میں کسی قسم کا فتنہ وفساد برپا کرنا حرام ہے۔ (20) ہمسائے اور پناہ لینے والے کے بھی یہی حقوق ہیں۔ اس پر بھی کسی قسم کی زیادتی نہیں کی جائے گی۔ (21) شرکائے معاہدہ کے درمیان اگر کوئی حادثہ اور تنازع ہوجائے جس سے فساد کا اندیشہ ہو تو اس کا فیصلہ اللہ کے قانون کے مطابق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کریں گے۔ (22) قریش مکہ اور ان کے حامیوں کو پناہ نہیں دی جائے گی۔ (23) تمام شرکائے معاہدہ کسی کے ساتھ کی گئی صلح میں برابر کے شریک ہوں گے، یعنی مسلمانوں کی طرح یہودی بھی اس صلح نامے کے پابند ہوں گے جو کسی بیرونی قبیلے کے ساتھ ہوا ہو۔ (24) ہر فریق اپنے علاقے کی حفاظت اور اس کے دفاع کا ذمہ دار ہوگا۔ (25) یہ معاہدہ ظلم اور زیادتی کرنے والے کو سزا دینے میں رکاوٹ نہیں سمجھا جائے گا۔“ یہ معاہدہ دنیا کا پہلا تحریری دستور بھی کہلاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیام امن، اپنے دینی اور ملکی مفادات کی خاطر مختلف قومیں، تہذیبیں اور ممالک خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیرمسلم…. آپس میں معاہدے کرسکتے ہیں۔

جس وقت یہ معاہدہ ہوا ا±س وقت روم اور ایران میں بھی اکثریت کفار کی تھی، لیکن ریاست مدینہ کی طرف سے ان کو پیغام پہنچایا گیا کہ اگر تم اسلام قبول کرو اور مسلمان ہوجا? تو تمہاری بادشاہت جوں کی توں ہی رہے گی۔ اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ اسلام کا اصل مقصد غلبہ ہے نہ کہ بادشاہت۔ مسلمان اقلیت میں ہوں یا اکثریت میں، ان کا غلبہ ہونا چاہیے۔

دو قومی نظریہ سے اقوامِ عالم کو کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ دو قومی نظریہ کا یہ ہرگز مطلب نہیںہے کہ مسلمان دوسری قوموں سے الگ تھلگ رہ کر زندگی گذاریں، بلکہ ہمیں تو قرآن وسنت نے یہ تعلیم دی ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ بھی ہمیشہ خیر خواہی اور حسنِ سلوک کا معاملہ کرو۔ تجارتی وسیاسی معاملات میں جائز اور معقول حد تک باہمی تعاون سے اور صلح جوئی سے کام لو۔ معاہدات اور عدل وانصاف کی پابندی کرو بلکہ جو غیر مسلم ہمارے ملک کے باشندے ہیں یا جو باہر سے عارضی طور پر قانونی طریقے سے یہاں آکر رہیں، ان کی تو جان ومال اورآبرو کی حفاظت یہاں کی حکومت اور مسلم معاشرے کی قانونی ذمہ داری ہے۔ ان کو اپنی عبادات پر عمل کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ ان کی عبادت گاہوں کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچانا بھی ہمارا دینی فریضہ ہے۔ ان کا پرسنل لا بھی قانونی طور پر آزاد ہے۔ اس میں کسی مسلمان کو کسی قسم کے ردو بدل کی ہرگز اجازت نہیں اور ان تمام امور کی ضمانت خود ہمارے 1973ء کے آئین نے بھی دے رکھی ہے۔ ایک اور نکتے کی طرف بھی آئیے۔

روئے زمین پر پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کے ترانے کا اختتام خدائے ذی الجلال کے سایہ میں ہوتا ہے۔ جس ملک کا آغاز بانی پاکستان کی اس تاریخی تقریر سے ہوا جس میں مسلمانوں اور ہندوﺅں کو دو مختلف تہذیبوں، طرزِ حیات کا وارث قرار دیا گیا تھا اور مسلمانوں کے ایک الگ خطہ زمین کا مطالبہ اس تقریر کا مرکزی عنوان تھا۔ اس تقریر کا اختتام پاکستان کے قومی ترانے کے آخری مصرعے تک وسیع ہوگیا۔ پورے پاکستان پر خدا کے سائے کا یہی مطلب ہے اس ملک کا ہر کام اللہ کے بنائے ہوئے احکامات کے ذریعے ہی ہوگا جو ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے، صحابہ کے تعامل، امت کے تواتر اور اجماع کے ذریعے منتقل ہوئے ہیں۔ جب ہم یہ کہتے ہیں پاکستان ایک سیکولر ملک ہے۔ اسے سیکولر ہونا چاہیے تو درحقیقت ہم بابائے قوم کی تمام تقاریر کو دانستہ طور نظر انداز کرتے ہیں اور پاکستان کے ترانے کو بھی۔ پاکستان اسی وقت سیکولر ملک بن سکتا ہے جب قائداعظم کی تمام تقریروں کو جلا دیااور ملک کا ترانہ تبدیل کردیا جائے، لیکن کیا یہ جلانااور ترانہ تبدیل کرنا کوئی آسان مرحلہ ہو گا؟

مملکت خداداد پاکستان ، ریاست ِمدینہ کے بعد روئے زمین پر اللہ کے نام پر بننے والی پہلی ریاست ہے۔ آقا صلی اللہ علیہ و سلم کی لائی ہوئی شریعت کے نفاذ کے پر عزم ولولوں اور پرجوش حوصلوں پر اس کی بِنا ہے۔ پاکستان کی اینٹ اینٹ کو حرمین کے ساتھ ایک لازوال وابستگی ہے۔ یہ نسبتیں ایک دوسرے میں یوں گندھ گئی ہیں جیسے پھول میں خوشبو۔ قیام پاکستان کے وقت لاکھوں مسلمانوں نے اسی نظریے کے تحت اپنی جانیں قربان کی تھیں، جیسے چاہے زندگی بسر کرنا مقصد نہ تھا جبکہ سیکولرازم کا مطلب یہ ہے تمام انفرادی واجتماعی معاملات، قومی وبین الاقوامی امور، سیاست، ریاست، تجارت، سفارت، معاشرت، غرض زندگی کے ہر اہم دائرے سے مذہب کو اس طرح بے دخل کردیا جائے کہ کسی فیصلے کی بنیاد تعقل مذہبی نہ ہو، یعنی فرد اپنی ذاتی زندگی میں یا ریاست اپنی اجتماعی زندگی میں جب بھی کوئی فیصلہ کریں، خواہ وہ کسی معاملے سے متعلق ہو، اس فیصلے کی بنیاد کسی قسم کا تعقل مذہبی نہ ہو۔ آپ خواہ کسی دین کے ماننے والے ہوں۔ یہ دین آپ کی ذاتی اور اجتماعی زندگی میں حکم دینے کی صلاحیت سے محروم ہوجائے۔ آپ کی عقلیت اور خواہش نفس نص کا درجہ حاصل کرلے۔ ریاست اس طرح سے نظام زندگی، نظام تعلیم، نظام اقدار مرتب کرے کہ زندگی کے کسی دائرے میں مذہبی تعقل کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی صلاحیت بحال ہوتی چلی جائے اور غیرمذہبی تعقل پورے منظر پر محیط ہو۔ مذہب کھیل تماشے کی طرح زندگی کے میدان میں کوئی جگہ قبول کرے۔ امریکا سمیت دیگر ریاستوں کے بارے میں کہا جاسکتا ہے وہ سیکولر ریاستیں ہیں، کیونکہ ان میں سے کسی کی آزادی کی بنیاد ”مذہب“ کبھی نہیں رہا۔ عیسائی، یہودی اور دیگر مذاہب والے اگر اپنی ریاستوں سے مذہب کو دیس نکالا دیتے ہیں، اس میں وہ حق بجانب کہلائے جا سکتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس ان کی شریعت کا کوئی باوثوق مذہبی قانون نہیں ہے۔ ایک ریاست کو کس طرح چلایا جاتا ہے؟ ریاست کے خدوخال کیا ہوں؟ موسیٰ یا عیسیٰ علیہ السلام کی ایسی کوئی تعلیمات اس دنیا میں موجود نہیں جن کی بنیاد پر یہودی یا عیسائی دعویٰ کرسکیں جبکہ اس کے مقابلے میں اسلام کے پاس پورا فلسفہ حیات ہے۔ یہ صرف ایک نظری بات نہیں، بلکہ مسلمانوں کی ایک طویل تاریخ اس پر گواہ ہے۔


Comments

FB Login Required - comments