افغانستان کی بچہ پوش لڑکیاں


کل نادیہ ہاشمی کی کتاب ”دا پرل دیٹ بروک ایٹس شیل“ ختم کی۔ کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں کہ اٹھا لیں تو ختم کیے بغیرچھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کتاب کی دکھ بھری کہانی دو لڑکیوں کے گرد گھومتی ہے جو افغانستان میں بچہ پوش بن کر زندگی سے لڑتی ہیں۔ یہ بچہ پوش کیا ہیں یہ سن کر شاید بہت سے لوگ حیران پریشان رہ جایں گے۔ جب میں نے پہلی بار اس رواج کے بارے میں پڑھا تو میرے لئے یقین کرنا مشکل تھا کہ یہ سچ ہے۔

بچہ پوش آخر ہے کیا؟ افغانستان کے اکثریتی معاشرے کو ہم مردانہ غلبے کا معاشرہ کہہ سکتے ہیں۔ اس معاشرے میں لڑکوں کے پیدا ہونے پر خوشیاں منائیں جاتی ہیں، ڈھول پیٹے جاتے ہیں، اور مٹھائی بانٹی جاتی ہے۔ لڑکی کی پیدائش کو ایک ناکامی کے طور پر لیا جاتا ہے جس کا الزام بھی عورت کے حصے میں آتا ہے۔ بچہ پوش دراصل وہ لڑکیاں ہیں جن کو لڑکوں کے طور پر بڑا کیا جاتا ہے۔ یہ عموماً ان خاندانوں میں کیا جاتا ہے جہاں بار ہا ”کوششوں“ کے باوجود لڑکے کی پیدائش نہیں ہوتی۔ مردوں کے اس معاشرے میں ایک گھر میں بہت سی لڑکیوں کی موجودگی اور لڑکے کی کمی خاندان کے بہت سے حقوق سلب کر لیتی ہیں۔ ایک بچہ پوش ان حقوق کی بازیابی کی ایک کوشش ہے۔

بیٹیوں میں سے کسی ایک بیٹی کو اس مقصد کے لئے چن لیا جاتا ہے۔ اس بیٹی کے بال لڑکوں کی طرح کاٹے جاتے ہیں، یہ بچی لڑکوں کا سا لباس زیب تن کرتی ہے۔ اور تو اور اس کا نام بھی تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ یہ بچی عموماً اپنی بلوغت تک بچہ پوش رہتی ہے۔ اس بچہ پوش کا مقصد خاندان اور بچی کو وہ آزادی دینا ہے جو کہ ایک عورت ہونے کے ناتے اس کو یا خاندان کی اور عورتوں کی میسر نہیں ہوتی۔ یہ آزادی بچہ پوش کو اجازت دیتی ہے کہ وہ نہ صرف خود اسکول جا سکے بلکہ اپنی بہنوں کو بھی اسکول لے جا سکے۔ بچہ پوش کے طور پر یہ بچیاں کام بھی کر پاتی ہیں اور اپنے خاندانوں کی کفیل بن جاتی ہیں۔ تاہم یہ بھیس ہمیشہ کے لئے نہیں ہوتا۔ 12۔ 13 سال کی ( یا بلوغت کی ) عمر میں ان بچیوں کو دوبارہ لڑکیوں میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ کچھ علاقوں میں یہ بھی یقین رکھا جاتا ہے کہ خاندان میں ایک بچہ پوش بنانے سے آئندہ پیدا ہونے والا بچہ لڑکا ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ بچہ پوش بننے والی بچی کے بارے میں محلے والوں یا رشتے داروں کو علم نہیں ہوتا۔ معاشرہ اس رسم کو لڑکیوں سے بھرے گھر کے لئے ایک قا بل قبول حل سمجھتا ہے۔

جینی نورڈبرگ نے 5 سال ریسرچ کے بعد ان بچہ پوش بچیوں پر ایک کتاب تصنیف کی ہے۔ اس کتاب میں وہ لکھتی ہیں کہ آخر افغانستان میں عورتوں اور مردوں میں فرق کیا ہے؟ جواب ہے آزادی۔ نورڈبرگ کا کہنا ہے کہ اس رسم کی بنیاد شاید اس وقت پڑی جب افغانستان کے بادشاہ حبیباللہ نے 1900 میں اپنے حرم کی حفاظت لئےعورتوں کو گارڈ رکھا، یہ عورتیں بچہ پوش ہی کی طر ح مردوں کے لباس میں حرم کی حفاظت کرتی تھیں۔ غالباً وہاں سے اس رسم کا باقاعدہ آغاز ہوا لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ یہ اس سے بھی کہیں زیادہ پرانی ہو

نورڈبرگ کی ویب سائٹ پر ایک بچہ پوش نے اپنی کہانی بیان کی ہے۔ اس کہانی کے کچھ اقتباس پیش خدمت ہیں۔ پوری کہانی آپ پوسٹ کے آخر میں دیے گئے لنک میں پڑھ سکتے ہیں۔

“آزادی! ہاں یہی محسوس ہوتا تھا۔ میں 12 سال کی تھی جب میں نے اپنے گھر کے دروازے کی چوکھٹ کو ایک بچہ پوش کے طور پر پار کیا۔ میں اب فہیمہ نہیں بلکہ فہیم تھی۔ فہیم! جس کو ایک خاص طریقے سے رہنے کی ضرورت نہیں تھی۔ جس کے سر پر کوئی ہر وقت اس کی حفاظت کرنے کو سوار نہیں تھا۔ فہیم! جو بہادر تھا اور وہ کر سکتا تھا جو وہ چاہتا تھا وہ وہاں جا سکتا تھا جہاں اس کا دل چاہتا تھا۔ یہ میرا حق تھا۔ ایک بچہ پوش کا حق۔ بچہ پوش! وہ لڑکیاں جو لڑکوں کی طرح بڑی کی جاتی ہیں اور سچ یہ ہے کہ اندر سے وہ ہمیشہ کے لئے ایک لڑکا بن جاتی ہیں۔ یہ 2002 کی بات ہے۔ ہم طالبان کے جانے کے بعد کابل واپس آئے تھے۔ ایک تنگ نظر معاشرے میں واپس۔ یہ وہ تنگ نظر معاشرہ تھا جہاں لڑکیوں کو نیچا سمجھا جاتا تھا۔ پاکستان، جہاں ہم مہاجرین کی طرح رہتے تھے، سے کہیں زیادہ تنگ نظر۔ اس معاشرے میں لڑکی ہونا آسان نہیں تھا۔ چھوٹے بالوں اور پینٹ شرٹ کے ساتھ مجھے احساس ہوا کہ کوئی مجھے گلی میں مڑ کر نہیں دیکھتا تھا یا مجھے چھیڑتا نہیں تھا۔ میں لوگوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتی تھی۔ میں دوسرے لڑکوں اور بڑے آدمیوں سے بات کر سکتی تھی۔ اگر میرا دل چاہتا تو میں تیز چل سکتی تھی میں بھا گ سکتی تھی۔ لڑکا ہونے کا مطلب کیا تھا یہ ناقابل یقین تھا۔ مجھے انسان سمجھا گیا۔ پورا انسان۔ میں اپنی بہنوں کی حفاظت کر سکتی تھی۔ میرے ماں باپ بھی خوش تھے۔ یا کم از کم ناراض نہیں تھے۔ مرد ہونا ایک قابل فخر بات ہے۔ ایک رعایت ہے۔ آپ چھوٹی چھوٹی چیزوں کو دیکھتے اور سوچتے بھی نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ دنیا اور سب کچھ آپ کا ہے۔ “

اس اقتباس کو پڑھ کر شاید آپ کو بچہ پوش کی دنیا کی ایک جھلک نظر آئی ہو اور میں حیران ہوں گی اگر یہ کہانی آپ کا دل نہیں توڑتی۔ مجھے مشرقی ثقافت کے بہت سے حصوں سے پیار ہے لیکن اس کے بعض حصے غلاظت کا وہ ڈھیر ہیں جس کی بدبو کے آگے باقی ساری خوبصورتی ماند پڑ جاتی ہے۔ اس غلاظت کے ڈھیر پر بات کرنا کوئی مناسب نہیں سمجھتا سب منہ پر کپڑا رکھے آگے گذر جاتے ہیں۔ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ ان گلے سڑے تصورات کا نشانہ عمومی طور پر بچیاں اور عورتیں ہی ہوتی ہیں۔ مذہب اور روایت کے نام پر ان کی آزادی سلب، کر کے ان پر غیرت کے نام پر تشدد کر کے، ان کا قتل کر کے، جانے کونسی روایتوں کی پاسداری کی جاتی ہے۔ کیا یہ پڑھ کر آپ کا دل نہیں ٹوٹتا کہ ایک بچی اپنی مرضی سے تیز بھاگنے کو گلی میں ڈرے بغیر چلنے کو نا قا بل یقین خوشی سے تعبیر کرتی ہے۔ کتنی معمولی بات ہے۔ لیکن کتنی خاص بات ہے۔ یہ ہے وہ آزادی جو اس معاشرے میں بچیوں کو میسر ہے۔ معمولی خوشیوں کے لئے بچہ پوش بننے کی محتاجی! آہ

بہت سے لوگ کہتے ہیں عورتوں کے حقوق پر لکھنے والی عورتیں کبھی ان مشکلات سے گزری ہی نہیں جن پر وہ ٹسوے بہاتی ہیں۔ ہاں یہ سچ ہے کہ میں کبھی ان مشکلات سے نہیں گزری لیکن کیا اس سے میرا احساس بھی مر جائے؟ کیا میں عورتوں، بچیوں، بچوں، مردوں بچوں کا احساس کرنا، ان کے لیے آنسو بہانا اس لئے چھوڑ دوں کہ میں کبھی خود اس مسئلے سے نہیں گزری۔ رامش فاطمہ سچ کہتی ہیں اصل مسئلہ اس معاشرے میں احساس کو گونگا بہرہ ہونے سے بچانا ہے۔ تو ہما رے احساس ابھی گونگے بہرے نہیں ہوئے۔ افغانستان اور پاکستان کے کچھ علاقوں کی بچہ پوش بچیوں کو میرا سلام۔ کاش ہم آپ کو ایسی آزادی، ایسا ماحول دے پائیں کہ کسی کو کبھی اپنے لڑکی ہونے پر دکھ نہ ہو۔ آپ کو کبھی خوشیاں حاصل کرنے کے لئے پیسے کمانےکے لئے بچہ پوش نا بننا پڑے۔ اپ کےماں باپ آپ کی پدائیش پر خوشیاں منائیں۔ آپ پر فخر کریں۔ کاش۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں