لٹریچر فیسٹیول سے اورنج ٹرین تک


ramishلٹریچر فیسٹیول کے چکرمیں لاہور بھی آنا اور جانا ایسی بھاگ دوڑ تھی کہ شاید ہی کہیں اور ہوئی ہو۔اب بندہ یا مریض بھگتا لے یا پھر فیسٹیول بھگتا لے۔ یہ اور بات ہے کہ دونوں چیزیں مل کے مجھے بھگتا رہی ہیں۔

اتنی بھاگم دوڑ میں ایک ہی چیز نمایاں تھی اور وہ آپ نے بھی لاہور میں جگہ جگہ لگے بینرز دیکھے ہونگے آپ نے”گونگا پنجاب اپنی زبان منگدا اے”۔اب ان کا مقصد تو کچھ اور ہے کہ ماں بولی کا دن غالباً اکیس فروری کو منایا جائے گا مگر جانے کیوں ہمیں ہمارے ہر دل عزیز چھوڑے بڑے میاں صاحبان یاد آ گئے کہ اگر پنجاب بول رہا ہوتا ہے تو کیا ان کو فرق پڑتا ہے؟

ایسا ہے کہ پنجاب تو بول ہی رہا ہے مگر کیا لوگ یہ سننا چاہتے ہیں؟ کیا آپ کو جگہ جگہ ہوئی کھدائی یہ بولتی نظر نہیں آتی کہ اورنج لائن کا آغاز ہونے کو ہے۔ کیا وہ لوگ اور گلیاں جو اس آنے والی تباہی کے نام پہ نوحہ کناں ہیں وہ نوحے سنائی دیتے ہیں آپ کو؟ کیا آپ سن سکتے ہیں کہ لاہور کا نقشہ بدل دینے سے کیا نقصان ہونے جا رہا ہے؟ ترقی کے نام پہ جو ہو رہا ہے اسے اپنے پاوں پہ کلہاڑی بلکہ اورنج ٹرین مارنا کہتے ہیں۔

چلیں چھوڑیں نکلیں ذرا یہاں سے اور آگے چلتے ہیں۔یہاں ایک علاقہ ہے جہاں کے لوگ آپ سے پانی مانگ رہے ہیں۔ آپ چائے ، کافی ، سافٹ ڈرنک سب دینے کو تیار ہیں مگر پانی نہیں۔ پانی کی پیاس تو پانی ہی سے بجھے گی لیکن یہ کوئی سننا چاہتا ہو تو پھر ہے۔ملتان کے مسائل میں شاید اور اتنا کچھ ہے کہ میٹرو کی ضرورت تو کیا خواہش بھی بےکار ہونی چاہیے لیکن افسر شاہی اور میاں صاحبان کے غم خواروں کو میٹرو ہی تمام مسائل کا حل نظر آتی ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔ ہم پانی کے سوالی ہیں تو ہمیں کافی پلائی جا رہی ہے۔

مجھے میٹرو ، اورنج لائن سمیت کسی بات سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ میں ترقی کی مخالفت نہیں کر رہی مگر ترقی سے پہلے بنیادی ضروریات پوری ہوں تو اچھا ہے، وہ بنیادی ضروریات جن پہ سب کا حق ہے چاہے وہ لاہور کے باسی ہوں یا تخت لاہور کے قیدی ہوں۔

ملتان ہو یا ڈی جی خان آپ سب جگہ میٹرو میٹرو چلا دیں اور داجل میں پانی ہی سب سے بڑا مسئلہ ہو تو آپ صاحبان کی عقل و دانش کو سات نہیں، سات سو بار سلام۔ نشتر اسپتال کتنا اور کہاں کہاں پورا پڑ سکتا ہے لیکن صحت تب ہی ہو گی جب اسپتال تک کوئی جا سکے گا اور اس کے لیے میٹرو ضروری ہے۔ تعلیم حاصل کرنی ہے تو بیٹھیں میٹرو میں اور شوق پورا کریں۔ہم بھی اسرار بھائی کا گانا سنتے ہیں اور شکر ونڈتے ہیں کہ اک سکھ ملیا، سو دکھ مکے…. رہے نام میٹرو کا۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “لٹریچر فیسٹیول سے اورنج ٹرین تک

  • 05-03-2016 at 12:05 pm
    Permalink

    فاطمہ جی حکمرانوں کی اچھی خبر لی ہے۔ تحریر میں کاٹ محسوس ہوتی ہے جو کسی بھی تحریر کی جان سمجھی جاتی ہے۔ بہت خوب۔

Comments are closed.