’شاہراہ شوق‘ پر ہم زاد کے ساتھ چہل قدمی


husnain jamal (3)کہا جاتا ہے، ہمزاد کو تسخیر کرنے کا جلالی وظیفہ الٹ جائے تو ہمزاد آپ کو تسخیر کر لیتا ہے۔ اس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ ایسا ہوا یا ایسا اس کو محسوس ہوا، اس بارے میں تو کچھ کہا نہیں جا سکتا لیکن دونوں میں سے کوئی ایک تسخیر بہرحال ہو گیا۔ عام طور سے تسخیر وہی کرتا ہے جو شیریں لب، شیریں دہن، شیریں مقال جیسی شہر زاد صفات رکھتا ہو۔

ہوا کچھ یوں کہ اس نے ایک بار خواب دیکھا۔ دیکھا کہ اس کے ساتھ کوئی بے چہرہ خاتون ہیں اور وہ پچھلی صدیوں میں بنائے گئے کسی گھنٹہ گھر کی سیڑھیاں چڑھ رہا ہے۔ اس گھنٹہ گھر کی جو شہر کے بیچ میں ہوتا تھا اور ہر آنے جانے والا اس پر نظر ڈال کر وقت دیکھ سکتا تھا۔ اس کے اندر باقاعدہ گول گول سیڑھیاں ہوتی تھیں، اور اس کو چلانے یا صاف رکھنے پر مامور عملہ وہیں سے اوپر نیچے باآسانی آتا جاتا تھا۔ وہ سیڑھیاں ایسی سمجھ لو جیسے ایک گول ستون کے ساتھ بس قدمچے لگا دئیے جائیں اور گول گول گھومتے ہوئے آدمی وہ بے انت سیڑھیاں چڑھتا چلا جائے۔ تو وہ ان بے چہرہ خاتون کے ساتھ وہ سیڑھیاں چڑھ رہا تھا۔ خاتون کے کپڑے کالے تھے، اپنے کپڑوں کا رنگ اسے یاد نہیں تھا۔ وہ سیڑھیاں چڑھتے جا رہے تھے لیکن سیڑھیوں نے تو اپنے وقت پر ہی ختم ہونا تھا۔ اچانک اس گھنٹہ گھر کا گجر بجنا شروع ہو گیا۔ معلوم نہیں بجا کیا تھا، بس گجر ہی تھا جو بے حساب بجتے چلا جا رہا تھا۔ شور کانوں کے پردے پھاڑے ڈالتا تھا۔ اتنی دیر میں اوپر سورج کی ایک کرن نظر آنی شروع ہوئی اور باہر ایک ٹرین چیختی چنگھاڑتی نظر آئی جو نہایت تیزی سے ان کے قریب آ رہی تھی۔ شور مزید بڑھ گیا۔ ٹرین بہت نزدیک آئی تو اتنے شور سے اس کی آنکھ کھل گئی۔ پہلا خیال اس کے ذہن میں آیا، “ذات اقدس کی اقلیدس”۔

اس رات جب یہ خواب دیکھا گیا، اس کا ہمزاد ایک نظم لکھ کر سویا؛

خدا اک دائرہ/اک ایسا گھیرا/ایسا حلقہ ہے/کہ جس کے مرکزی نقطے میں شامل ہے مکمل/کائنات/اس کل جہان آفرینش کے/ہر اک ذرے/ہر اک ریزے/سبھی موجود اور معدوم، ہر صورت، کہیں پر بھی/مکاں اور وقت کی تقسیم سے پہلے/بہت پہلے/فضاوں سے جہانوں سے خلاوں سے بہت/پہلے/اور ان آئندہ گھڑیوں سے/جو آنکھ نے نہیں دیکھیں/خیال نے نہیں برتیں/تصور میں نہیں اتریں/مگر/یہ دائرہ دل چسپ ہے اس طور کہ اس کا محیط / اک نیست کی سی کیفیت بھی رکھ نہیں سکتا/کہ آخر نیست بھی/دو چار حرفوں میں جڑے مربوط دھاگے میں/بندھا/اک خوب صورت سا تصور ہے/جو کچھ ایسے اشاروں اور کنایوں میں سماتا ہے/جو خود اس خالق کون و مکاں نے/اپنے بندے کو سکھائے ہیں/تو پھر یہ کیسے ممکن ہے/کہ ایسا مشکل و پیچاں، نہ گفتہ چیستانی دائرہ/مخلوق کی دانش کی اک ادنی سی کنڈل میں/سما جائے۔

اور اس نظم کا نام اقلیدسی الہیات رکھا گیا۔ اور یہ ہمزاد کی بہترین شاعری میں شامل تھی۔

اور جب ہمزاد نیند سے دوبارہ جاگا تو اس شعر کا ظہور پر نور ہوا؛

ہم حقیقت کے حاشیے پر ہیں
اور مرکز ہماری منزل ہے

اس کے ذہن میں اکثر ایک پریشانی رہتی تھی، کہ تمام تر کہانیاں، تمام اچھے خیال، یا برے خیال، یا اچھے برے خواب یا پورے پورے افسانے صبح کے وقت جاگنے سے پہلے ہی کیوں دماغ میں آتے ہیں۔ اگر وہ یہ سب جاگتے میں سوچ لے تو روز کتنی ہی کہانیاں کہہ دے۔ پھر جب وہ یہ سوچ رہا تھا تو اس کے ہمزاد نے ایک شعر کہا اور طعام گاہ کا رخ کیا؛

ہندسہ و نطق وسخن، کون و مکاں، نفس و وجود
آخر شب میرے وجدان عجب ہوتے ہیں

پیدا کرنے والے کے متعلق ہمیشہ سے وہ یہ سوچتا تھا کہ اس کا تصور ناممکن ہے۔ جس کی بڑائی تصور میں آ گئی تو وہ محدود ہو گیا، اور جو محدود ہوا تو وہ کبریا کیوں کر ہوا۔ تو وہ ہے! مگر خیال میں سمائی کیوں کر ہو۔ اور اگر اسے ڈھونڈنے نکلتا تھا تو وہ ہر چیز میں نظر آ جاتا تھا۔ جس رات وہ دوستوں میں یہ سب گفت گو کر کے آیا، ہاتف بتاتا ہے اسی رات ہمزاد نے یہ شعر کہا اور بستر میں لیٹ گیا؛

اگر میں ارتسام ذات حق تسلیم کر لوں!
تو کیسے کہہ سکوں وہ ہر گماں سے ماورا ہے

تو اب جس دن اسے سفر کے بے انت ہونے کا گمان ہوا، اسی دن ہمزاد بھی بے ساختہ پکار اٹھا؛

میں تیری آنکھ میں سنگ مسافت دیکھتا ہوں
تجھے کیسے کہوں منزل مکاں سے ماورا ہے

پھر جب وہ اس غم میں گھل رہا ہوتا کہ کوئی حال ہے ہی نہیں، جو کچھ ہے وہ ماضی ہے، اور جو کچھ نہیں ہے وہ مستقبل ہے۔ تو اس حال میں کیسے زندگی کی جائے جو کسی طور حال ہے ہی نہیں، ایک تو بے حالی پھر بدحالی، ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے۔ تو ہمزاد ایسے دنوں میں یہ شعر کہتا؛

دشت امکاں سے پرے، وقت کے در پر پہنچوں
ایک لمحے کو جکڑ لوں، اسے پل پل دیکھوں

اور دودھ کا ایک گلاس پی کر مقطع کہنے لگتا؛

چیستاں گوئی کہیں گے،مصرع ثانی کو آپ؟
لمحہ موجود گزرے وقت ہی کا نام ہے!

تو وہ امکانات آواگون و آسائشات عقبی پر غور کر رہا ہوتا اور ہمزاد کہتا؛

جانئیے جبر کہ بس مضحکہ خیزی کہیے
آفت وسعت امکاں ہے یہاں سے آگے

پھر ایک روز جب وہ دھند سے شدید متاثر ہوا اور چاہتا تھا کہ دھند میں پھنس جانے اور کچھ نہ دکھائی دینے کے مصائب اپنے ہم جلیسوں میں بیان کرے تو اس دن ہمزاد محترم سوکھی کھجوریں کھاتا تھا اور یہ شعر پڑھتا جاتا تھا؛

دھند چھائی ہے فضائے زیست میں کچھ اس قدر
راہ نورد شوق کی گاڑی کا پہیہ جام ہے

اب جب وہ دنیا کی بے ثباتی اور اپنی ذات کے نرے بے اہم پن پر غور کرتا تو وہ نہایت مطمئن اور قناعت پسند ہو جاتا، بلکہ کبھی کبھی اس کو گمان گزرتا کہ قناعت اور اطمینان کی یہ زیادتی کہیں اس کی موت کا سبب نہ بن جائے، تو جب وہ مطمئن عالم اپنے تئیں ان محسوسات میں گھرا محسوس کرتا، اسی لمحے ہمزاد آئینے میں دیکھتا ہوا ڈاڑھی بنا رہا ہوتا اور نئے شعر کی آمد ہو رہی ہوتی؛

زندگی، تجربہ، جفا و وفا
چھوڑئیے! سب فنا ہے، زائل ہے

تو وہ جو غم روزگار میں مبتلا رہتا،اور وہ اسے بھی بس ہست و نیست کا ایک کھیل جانتا تھا۔ وہ کھیل جو سب نے کھیلا، اس کے پرکھے بھی اسی کھیل کے کھلاڑی تھے، وہ بھی یوں ہی کھیل کر میدان سے باہر جانے والا تھا اور اگلے بھی میدان سے باہر اندر آنے کو بے تاب بیٹھے تھے۔ اور اگر وہ اس سب بپتا کو کبھی لکھنے بھی بیٹھتا تو فلسفے کے دقیق مسائل کے سوا کوئی ہمدرد ہاتھ تھامتا نظر نا آتا۔ مگر وہ ہاتھ پکڑنا اس کی لکھائی کی موت تھی۔ تو ہمزاد ان لمحوں میں اپنی سواری پر بیٹھے کہیں جا رہا ہوتا اور دماغ اس کا یہ شعر بن رہا ہوتا؛

سارا دن اوہام کی منڈی میں سودا بیچ کر
رات کو افکار کے بستر پہ گر جاتا ہوں میں

وہ کام سے واپس کر اپنا وقت، پودوں، کتابوں، مجسموں، کبوتروں، تصویروں، اپنے بچوں اور اپنی بیوی میں برابر تقسیم کرنے کی کوشش ہی کر پاتا، کچھ بھی کبھی مکمل نہیں ہوتا تھا۔ ہر وقت یہی سوچ رہتی کہ وقت بہت کم ہے، کسی کو بھی پورا وقت نہیں مل رہا، نہ پودوں کو، نہ کتابوں کو، نہ مجسموں کو، نہ کبوتروں کو، نہ تصویروں کو، نہ بچوں کو نہ بیوی کو، تو وقت بس اڑتا چلا جاتا اور وہ دیوانہ وار اسے تھامنے پیچھے پیچھے دوڑے جاتا۔ ایسے میں ہمزاد عینک کے شیشے صاف کرتا اور ایک شعر کہہ کر رخصت ہو جاتا؛

روزگار، فکر و فن، شوق، جستجو، لگن
خود کو بانٹتے رہے اور دل اداس تھا

چونکہ وہ دنیاوی اسفار سے گریزاں و خفقاں تھا تو ہمزاد پر بھی لازم تھا کہ وہ کچھ کہتا، تو ہمزاد نے حقیقی معنے کا جبہ پہنا اور گویا ہوا؛

گشت افلاک کی حاجت مجھے کیوں کر ہو گی
میں تو اپنے ہی خلاوں میں سمویا ہوا ہوں

وہ بھی اپنے خوابوں کو بیان کرنے پر تلا رہتا تھا تو ہمزاد بھی ویسے ہی خواب دیکھتا اور وہ بھی تل جاتا۔ فرق مگر ایک رہتا۔ وہ نثر میں کہہ جاتا، طویل بیانیے سے اکتا جاتا، ہمزاد دس سطروں میں سب کچھ کہہ کر ہاتھ جھاڑتا ہوا روانہ ہو جاتا۔ وہ اپنے پھنسے ہوئے بیانیے کو “کابوس/بختک” کا نام دیتا۔ ہمزاد اپنی رواں نظم “عینک” کو معنون کر دیتا۔

پھر ہمزاد کا شکستہ سی عینک تھامے بھٹکتا ہوا پیکر جب اس کے ساتھ شہر لاہور (تیرے درو بام کی خیر) کی نہر سے گزرا، پھر مال سے گزرا تو ہمزاد بے ساختہ کہہ اٹھا؛

یہ تھی کم سنی میں اک آرزو کہ ہو گفتگو کسی پیڑ سے
جو زباں ملی تو یہ وا ہوا کہ شجر کوئی بھی بچا نہیں

تو زندگی کی اس شاہراہ شوق پر سفر کرتے کرتے اسے یہ گمان سا گزرا کہ وہ ہمزاد عاصم بخشی ہے۔ خدا جانے وہ اس کا ہمزاد ہے بھی یا نہیں، شوق ضروری ہے، شاہراہ ناپنا بھی شرط ہے، کیا خبر کسی اور کو بھی ایسا ہی محسوس ہو۔

فقط اک تجربہ مقصود تھا لیکن عاصم
مکتب عشق میں تشکیک پہ پابندی تھی

(عاصم بخشی کا شعری مجموعہ ’شاہراہ شوق‘ بعد از صد اشتیاق ہاتھ آیا ۔ پڑھنے کے بعد کچھ ایسی کیفیت نے آ لیا جو شاید استاد امانت علی خان کو سنتے ہوئے شاکر علی پر طاری ہوتی۔ عاصم بخشی کے تفلسف کے جو قتیل ہیں ، انہیں اس شخص بے کنار کی شاعری بھی پڑھنی چاہیے۔ بھرے ہیں یہاں چار سمتوں سے دریا….)


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 146 posts and counting.See all posts by husnain