لاہور لٹریری فیسٹیول


sharmilaجمعے ہفتے اور اتوار کو ہونے والے لاہور لٹریری فیسٹیول کا این او سی، لاہور کی انتظامیہ کی طرف سے عین موقعے پر کینسل کر کے اس کو درہم برہم کرنے کا انتظام کیا گیا۔ اس پر اپنے سیشن میں ممتاز ناولسٹ محمد حنیف صاحب نے کیا ہی خوب تبصرہ کیا، کہ فیسٹیول کے سڑک کے پرلی طرف  (الحمرا) سے اس پار (آواری ہوٹل) آنے پر سیکیورٹی کے تمام خدشات دور ہو گئے ہیں۔ کیا خوب انتظامیہ ہے جو کہتی ہے کہ ہم ایک دن سیکیورٹی نہیں دے سکتے ہیں کہ دہشت گردی کا بہت خطرہ ہے، لیکن اگلے دن دے دیں گے۔

لیکن ہماری دلچسپی تو ان خشک ادیبوں شاعروں سے بہت پہلے والی ان خاتون میں تھی جو ساٹھ سالوں سے ہر نوجوان کے دل میں ‘میرے سپنوں کی رانی’ کے نغمے کے سروں کی صورت میں بستی ہے۔ شرمیلا ٹیگور صاحبہ کا سیشن صبح ساڑھے نو بجے تھا۔ ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ اچھی سیٹ پانے کے لئے ساڑھے آٹھ بجے گھر سے نکل جائیں گے۔ کوشش تقریباً کامیاب رہی اور نو بجے نکل کر جب ہم نو پچیس پر پہنچے تو وہاں موجود رضاکاروں نے مطلع کیا کہ ساری سیٹیں فل ہو گئی ہیں، اب آپ کو ہم بٹھانے پر راضی نہیں ہیں۔ اس پر ہم نے استقامت دکھا کر دو گھنٹے کھڑے ہونے کا ارادہ ظاہر کیا تو بیس منٹ بعد ہی نشست مل گئی۔

شرمیلا ٹیگور نے اپنی داستان DSC_9747سنائی۔ کہتی تھیں کہ تیرہ برس کی عمر میں فلم میں اس وقت کام کیا جب کہ ہم بچوں کو فلم دیکھنے کی اجازت نہیں تھی کہ بری بات ہوتی ہے۔ یہ بھی پتہ چلا کہ فلم ‘کابلی والا’ میں موجود بچی ان کی بہن تھیں۔ اپنے دادا کو اپنی ذات پر ایک بڑا اثر قرار دیتی ہیں۔ بتا رہی تھیں کہ وہ شام کو مے نوشی کا شغل کرتے تھے تو جام میں ایک انگلی بھگو کر بچوں کے لبوں کو بھی لگا دیتے تھے۔ غالباً اس میں یہ حکمت ہوتی ہو گی کہ وہ
بلانوش نہ بنیں لیکن ‘ٹیسٹ ڈویویلپ’ کر لیں۔

پرانے وقتوں کو یاد کرتی تھیں کہ اس دور کے ہندوستان میں جتنا تنوع تھا، اتنی ہی برداشت تھی۔ بتاتی تھیں کہ ہمارے زمانے میں DSC_9754باہر کے ملکوں میں جا کر فلمسازی کا رواج نہیں تھا اور ملک کے اندر ہی فلمیں بنتی تھیں، اس لئے ہم پورا ملک گھومتے تھے۔ ہر سو کلومیٹر کے بعد زبان ہی نہیں، رسم و رواج بھی تبدیل ہو جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہندی فلم ہر جگہ چلتی تھی۔ سینسر بورڈ کی سربراہی کے زمانے میں سینسر پالیسی کے بارے میں بھی ان کا یہی تجربہ ان کے پیش نظر رہا۔ کہتی ہیں کہ بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کو سینسر نہیں کیا جانا چاہیے، لیکن ملک کے چپے چپے پر موجود ہر سینما گھر
کی حفاظت، پولیس کے بس سے باہر ہے۔ سو اس بات کا خیال بھی رکھنا پڑتا ہے کہ چپے چپے میں سینما گھر نہ جلائے جا رہے ہوں۔

ان کی فلموں کے کلپ بھی دکھائے گئے۔ ان کی ابتدائی فلمیں دیکھ کر اور ان کی موجودہ صورت دیکھ کر یہی حکم لگایا جا سکتا ہے کہ اب ان کے حسن میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ ہاں درمیانی دور کے روپ رنگ کی بات ہی کیا ہے۔ کوئی وجہ تو تھی جو سب دیوانے ہوئے پھرتے تھے۔

DSC_9768

کھچا کھچ بھرے ہوئے اس ایونٹ نے مقررہ وقت سے پندرہ بیس منٹ زیادہ لے لئے۔ اس کے فوراً بعد اگلا پروگرام انتظار حسین صاحب کی یاد میں تھا۔ اس میں حاضرین کی تعداد کافی کم تھی۔ غالباً اسی وجہ سے اسے مقررہ ایک گھنٹہ دینے کی بجائے شرمیلا ٹیگور کے پروگرام کا وقت اسی کے کھاتے میں درج کرتے ہوئے تیس پینتیس منٹ میں اسے بھگتا دیا گیا، حالانکہ اس میں کافی دلچسپ گفتگو کی جا رہی تھی۔ محترمہ کشور ناہید صاحبہ اور ایرج مبارک صاحب نے کئی دلچسپ واقعات بتائے۔

خیر، خاکسار کی دلچسپی کا باعث اس کے ایک گھنٹے بعد ہونے والی جارج آرویل کے صاحبزادے رچرڈ بلئیر اور محمد حنیف صاحبان کی جارج آرویل کے بارے میں گفتگو تھی۔ انتظار حسین صاحب کے پروگرام کو دیکھ کر ہمارا اندازہ تھا کہ جارج آرویل کے پروگرام میں پنڈال خالی ہو گا۔ جب وہاں پہنچے تو طویل قطار نظر آئی۔ پروگرام شروع ہوا تو دیکھا کہ اس میں شرمیلا ٹیگور کے پروگرام سے بھی زیادہ رش تھا۔

DSC_9791

جوانمرگ جارج آرویل کے دو ناول کمال کے ہیں، دا اینیمل فارم اور دوسرا 1984۔ دا اینیمل فارم پڑھ کر بندے کو انقلابی تحریکوں کے بارے میں مکمل سکون ہو جاتا ہے اور اسے پڑھنے والا انقلابی تبدیلی کی بجائے بتدریج معاشرتی تبدیلی کے فائدے جان لیتا ہے۔ دوسرے ناول 1984 میں ایسے زمانہ مستقبل کا تصور پیش کیا گیا ہے جس میں حکومت نے افراد کی پرائیویسی کو مکمل طور پر کنٹرول کر لیا ہے اور ان کے پل پل کی خبر رکھتی ہے اور عوام کو فرضی دشمن دکھا دکھا کر اپنا کام چلاتی ہے۔ اسی تناظر میں محمد حنیف صاحب نے لٹریری فیسٹیول کے این او سی کو واپس لئے جانے کا ذکر بھی کیا اور حیرت ظاہر کی کہ کیوں اس کا مقام تبدیل کیا گیا ہے۔ بہرحال ہماری نظر میں اس مکالمے کی جان جارج آرویل کا ایک قول ٹھہرا کہ آزادی یہ ہے کہ آدمی یہ کہنے کی آزادی رکھتا ہو کہ دو جمع دو چار ہوتے ہیں، اور اگر یہ آزادی مل جائے تو باقی سب آزادیاں خود بخود مل جاتی ہیں۔

ہاں یاد آیا، انتظار حسین صاحب اور جارج آرویل کے پروگراموں کے درمیان ایک گھنٹے کا وقفہ بھی تھا۔ پروگراموں کی فہرست پر نظر ڈالی تو وقت گزارنے کے لئے ایک ہی بیکار سا پروگرام نظر آیا جہاں بندہ کچھ دیر خالی ہال میں ٹھنڈے کمرے میں کرسی پر بیٹھ کر وقت گزاری کر سکتا تھا۔ پروگرام کا نام تھا ‘روح کی ضیافت، قوالی کی روایت’۔ شرکائے گفتگو میں ڈاکٹر حسن عزیز، قاسم جعفری، زہرہ نگاہ اور عارفہ سید زہرہ کے نام نظر آئے۔ یہ تو کچھ کچھ اندازہ ہو رہا تھا کہ ان معززین میں سے کوئی قوالی کا عملی مظاہرہ نہیں کرے گا، لیکن گمان تھا کہ شاید قوالیوں کی ریکارڈنگ سنائی جائے گی اور اس کے فنی محاسن پر روشنی ڈالی جائے گی۔

DSC_9770

خیر چلے گئے اور بیٹھ گئے۔ تقریباً تمام نشستیں پر تھیں۔ اور بس یہی کہہ سکتے ہیں کہ فیسٹیول کا حاصل یہی مکالمہ تھا۔ خاص طور پر بلا کی نکتہ طرازی اور حس مزاح تھی عارفہ سید زہرہ کی گفتگو میں۔ قوالی کے محاسن بتائے کہ علا الدین خلجی جب دہلی فتح کرنے پہنچا تو گوپال نائیک نامی گویے نے کمال فن دکھایا۔ اس پر خلجی نے اہل دہلی کو چیلنج کیا کہ راگوں کی کچھ شد بد رکھتے ہو تو اپنا کمال دکھاؤ۔ امیر خسرو نے چند ہفتے کی مہلت مانگی اور دہلی کے چند گھرانوں کے بچے لے کر ان کو قوالی سکھائی جسے انہوں نے ترک، ایرانی اور ہندی موسیقی کے امتزاج سے ایجاد کیا تھا۔ یہی پھر قوال گھرانے کہلائے۔ عارفہ صاحبہ نے گائیکی کے آداب بھی بتائے کہ کیسے ایک مشہور گائیک نے جب مرثیہ گایا تو بے سرا گایا۔ کسی نے کہا کہ یہ فلاں راگ میں گایا گیا ہے، تو پھر تم جیسے استاد بے سرے کیوں کر ہوئے؟ استاد نے جواب دیا کہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ ہمارا راگ، مرثیے پر غالب آئے کہ یہ خلاف ادب ہے۔

قوالی کا فلسفہ بھی بتایا کہ کس طرح یہ ایک محبت کرنے والے خدا کا تصور دیتی ہے، عذاب دینے والے خدا کا نہیں۔ یہ خدا سے محبت سکھاتی ہے، خوف نہیں۔ بخدا گزرے دنوں کا بائبل کا مطالعہ یاد آ گیا جس میں عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید کے تصور خدا کے بارے میں یہی بیان کیا جاتا ہے۔ آئندہ ان صاحبہ پر نظر رکھنی پڑے گی کہ کہاں کہاں ان کی گفتگو سننے کا شرف حاصل کیا جا سکتا ہے۔

نشست کے آخر میں پنجاب یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے سوال کیا کہ آپ سب کی یہ گفتگو تو سمجھ میں آ رہی ہے، لیکن ہم اپنے ساتھیوں کو کیسے سمجھائیں کہ موسیقی بری بات نہیں ہے۔ حکومت کو اس باب میں کچھ کرنا چاہیے۔ نصاب میں پڑھائے یا کچھ اور کرے۔ غالباً اس طالب علم کا اشارہ گزشتہ دنوں پنجاب یونیورسٹی میں موسیقی سے شروع ہونے والے دنگے فساد پر تھا۔ اس پر سیدہ عارفہ نے فرمایا کہ دیکھیں آپ اس ضمن میں کیا کر رہے ہیں؟ اگر خود کچھ نہ کیا اور ہر معاملے میں حکومت پر ہی انحصار کرتے رہے تو پھر آپ کو بس پھر سڑکیں اور پل ہی ملیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 332 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar