شادی ”کھانا“ آبادی – طنز و مزاح


شادی ایسا اخلاقی فریضہ ہے جس کی ادائیگی پر کئی غیراخلاقی حرکتوں کو قانونی حیثیت مل جاتی ہے۔ یہ دنیا کا واحد کام ہے جو چھپ کر بھی کیا جاسکتا ہے اور سب کے سامنے بھی۔ اس کے لئے اندھیرے کی بھی ضرورت پڑتی  ہے اور اجالے کی بھی۔ جوانی کا پہلا خواب محبت ہے اور اس کی تعبیر شادی۔ جس کی شادی نہ ہو وہ اپنے آپ کو ادھورا سمجھتا ہے اور جن کی ہوجائے وہ بے وقوف۔ شادی وقت پر گھر جانے اور ایک ہی عورت سے بار بار محبت جتانے کا نام ہے۔ شادی اپنی ذات پر خودکش حملہ کروانے کے مترادف ہے۔ پھر بھی کوئی اس سے عبرت نہیں پکڑتا بلکہ بڑے بھائی کی شادی ہوجائے تو اگلے دن چھوٹا بھائی لڑکی کا ہاتھ تھامے چلا آتا ہے کہ اب میری باری ہے۔ شادی سے پہلے آدمی اپنے آپ کو ادھورا محسوس کرتا ہے اور شادی کے بعد فنا۔ پاکستان میں شادی کرنی ہو تو پورے خاندان کی رضامندی ضروری ہوتی ہے اور کینیڈا میں شادی کرنی ہو تو صرف جنس مخالف کی بلکہ اب تو مخالف کی بھی ضرورت باقی نہیں رہی۔

شادی اور سگریٹ میں کئی طرح کی مماثلت پائی جاتی ہے۔ بالغ ہوتے ہی دونوں کی اشتہا محسوس ہوتی ہے۔ دونوں کے لئے انگلیاں اور ہونٹ اہم ہیں۔ دونوں کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے اگر چھپ کر ہو۔ کچھ دنوں بعد دونوں کے برے اثرات واضح ہونے لگتے ہیں۔ دونوں کا تعلق جیب اور اسٹیٹس سے ہے۔

مرد کی شادی نہ ہو تو اس پر انگلیاں اٹھتی ہیں اور لڑکی کی شادی نہ ہو تو اس پر بری نگاہیں۔ لڑکی شادی سے پہلے گھبراتی ہے اور لڑکا شادی کے بعد ساری زندگی۔ انسان جوان ہوجائے تو اپنی شادی کا سوچتا ہے اور بوڑھا ہوجائے تو اپنی اولاد کی شادی کا۔ درحقیقت وہ اپنی غلطی کا بدلہ لینا چاہتا ہے۔ شادی اپنی پسند کی ہو یا والدین کی پسند کی، انجام ایک ہی ہوتا ہے جھگڑے اور بچے۔ شادی کے چند سالوں بعد تک اگر جھگڑے اور بچے نہ ہوں تو عزیز و اقارب اور پڑوسی شک کی نظروں سے دیکھنے لگتے ہیں۔ محبت کا انجام شادی تو ہو سکتا ہے مگر شادی کا انجام محبت ہو، یہ خال خال اور خیال ہی ہوسکتا ہے۔ کہتے ہیں جو کبھی نہیں لڑتے ان کی شادی کروا دو۔ دنیا کا سب سے بڑا تجربہ محبوبہ کا بیوی بننا اور زندگی بھر ساتھ نبھانا ہے۔

ہر شادی کے دن سب نکاح خواں کےساتھ مل کر خشوع و خضوع کے ساتھ دعا مانگتے ہیں کہ نئی جوڑی کی زندگی خوش و خرم گذرے اور یہی بات ثابت کرتی ہے کہ ننانوے فیصد مسلمانوں کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ شادی کا ایک دن بھی اچھا نہیں ہوتا مگر پہلی رات کے بارے میں متضاد رائے پائی جاتی ہیں۔ شادی زندگی کی سب سے بڑی فضول خرچی ہوتی ہے جس میں یہ بھی نہیں پتہ ہوتا کہ آپ نے جو مال خریدا ہے وہ اچھا ہے یا گھٹیا۔ مغربی دنیا اس معاملے میں کافی سیانی ہے مال کو ہر پہلو سے دیکھتی اور پرکھتی ہے بلکہ اس پرکھنے میں اتنے سال نکال دیتی ہے کہ دولہا دلہن کو ان کے ’ذاتی‘ بچے شادی کے دن گفٹ پیش کرتے ہیں۔

کامیاب موت اور اچھی شادی وہی کہلاتی ہے جس میں زیادہ سے زیادہ لوگ کھانا کھا سکیں۔ کھانا جتنا مزیدار اور ڈشیں جتنی زیادہ ہوں مرحوم یا دولہا دلہن کی اتنی ہی زیادہ تعریفیں ہوتی ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ اگلے ہی دن سے سارے شریکین منکرین بن کر نمک حرامی پر اتر آتے ہیں۔ ہمارے ہاں اچھا کھانا لوگ شادی یا موت پر ہی کھاتے ہیں اور دولہا دلہن کو مرحومین ہی سمجھ کر تعریف کرتے ہیں۔ کھانے کی لذت جتنی زیادہ ہو شادی اور موت اتنی زیادہ دیر تک یاد رکھی جاتی ہے۔

چونکہ ہم جب بھی کوئی فارم بھرتے ہیں تو اس میں اکثر ایک خانہ ہوتا ہے جس میں لکھا ہوتا ہے ’شادی شدہ یا غیر شادی شدہ‘ شاید اسی خانے کی وجہ سے ہر شادی، شادی خانہ آبادی‘ کہلاتی ہے۔ جبکہ اب شادی کے مختلف مراحل منگنی، مایوں، نکاح، رخصتی اور ولیمے میں جتنا زور کھانوں پر دیا جاتا ہے اس وجہ سے بذریعہ عوامی اجتہاد اگر شادی کو ’شادی کھانا آبادی‘ لکھا اور پکارا جائے تو چنداں غلط نہ ہوگا۔ دلہا اور دلہن کی اہمیت صرف چند روزہ ہوتی ہے اس کے بعد انھیں باسی پھلوں اور سبزیوں کی طرح کوئی منہ نہیں لگاتا بلکہ انھیں آپس میں منہ ماری کرنے کے لئے اکیلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ شادی کے دن دولہا اور دلہن کو اتنا کچھ پہنایا جاتا ہے جس کی انھیں قطعی ضرورت نہیں ہوتی اور اس کی وجہ سے وہ مزید احمق لگ رہے ہوتے ہیں۔ شادی ایک دن کی خوشی کا نام ہے، اگلے دن سے برا دن شروع ہوتے ہی باراتیوں میں سے ایک بھی مدد کو نہیں آتا۔ دیکھا جائے تو شادی آسان سا، کم خرچے والا کام ہے جسے ہم نے اپنی کوششوں سے انتہائی مہنگا اور مشکل کام بنادیا ہے۔

شادی کھانا آبادی میں آبادی والا حصہ سب سے دلچسپ ہے۔ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ دنیا کی آبادی کو سات بلین تک پہنچانے میں شادی شدہ کا بڑا ہاتھ ہے، اگر اسے ہاتھ کہیں تو۔ اگرچہ بلین افراد ایسے ہیں جو دولہا اور ولن بنے بغیر باہمی رضامندی سے آبادی میں اضافہ کررہے ہیں مگر ان میں سے کسی کی بھی پکڑ دھکڑ نہیں، الٹا ہر نئی پیدائش کے بعد لڈو ہی بانٹے جاتے ہیں۔ دلہا دلہن پر اولاد پیدا کرنے کا اتنا دباؤ ہوتا ہے کہ ان کی خوشی اکثر مصیبت بن جاتی ہے اور وہ بیڈ پر لیٹے صرف سوچتے رہتے ہیں۔

شادی کا ایک اور دلچسپ حصہ شادی کارڈز ہیں۔ ان کارڈز کی عبارت ایک ہی جیسی ہوتی ہے سوائے نام، مقام اور تاریخ کی تبدیلی کے۔ پھر بھی ہم ہر نئے کارڈ کو بصد شوق بار بار پڑھتے اور تبصرے کرتے ہیں۔ دلہا دلہن کا نام کچھ بھی ہو انھیں شادی کے دعوت نامے پر نور چشمی اور نور چشمہ اور سلمہ اور سلمہا کے القابات سے ضرور نوازا جاتا ہے۔ پورے خاندان کی خواہش ہوتی ہے کہ شادی کارڈ پر ان کا نام بھی چھپے اور یہیں سے شادی کے برے اثرات سامنے آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ آج کل یہ کارڈز اتنے مہنگے ہوگئے ہیں کہ پرانے زمانے میں اتنے پیسوں میں پوری شادی ہوجایا کرتی تھی۔

شادی، شادی ہال اور بیڈ روم کے بغیر نامکمل ہوتی ہے۔ دولہا، دلہن، شادی ہال اور بیڈ روم کو سجانے میں یکساں محنت سے کام لیا جاتا ہے جو اگلے ہی دن سے رائیگاں محسوس ہوتی ہے۔ دلہا دلہن کے لئے شادی کا سب سے بڑا گفٹ ان کے سسرالی ہوتے ہیں جو ان کے اعمالوں پر ایسی نظر رکھتے ہیں کہ اگر بدی کے فرشتے شادی شدہ کی نگرانی ترک بھی کردیں تب بھی یہ سسرالی انھیں پل پل کی خبر فراہم کر سکتے ہیں۔ شادی پر جتنا لکھا جائے کم ہے اور بے فائدہ بھی۔ کیونکہ اس سے کوئی بھی نصیحت نہیں لیتا۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ اگر اس تحریر کو پڑھ کر ایک بھی شادی شدہ مسکرا اٹھا تو میں سمجھوں گا میری محنت وصول ہوگئی ورنہ شادی میں کیا رکھا ہے سوائے ایک بیوی اور شوہر کے۔


Comments

FB Login Required - comments