اکنامک کوریڈور کی سیاست


\"aliپچھلے ایک سال سے چائناپاکستان اکنامک کوریڈور (سی پی ای سی) کے حوالے سے جاری بحث، بلند بانگ دعووں، قسمت بدل دینے کی خوش خبریوں ، مشرقی و مغربی روٹ کی تعمیرمیں ترجیح دینے یا امتیاز برتنے کے شکوو¿ں، احسن اقبال کی قلابازیوں اور اے این پی کے گرم و سرد بیانات سے مجھے کوئی خاص دلچسپی نہیں بلکہ اس حوالے سے آنے والی خبروں پر گاہے گاہے تبصروں میں اسے تھر کول منصوبے کی طرح اوور ہائپ کا شاہکار بھی قرار دیتا رہا ہوں۔
اس کی وجوہات میں ایک تو پاکستان چین دوستی کی گہرائی و اونچائی کی ناپ تول کی بحث سے شدید اظہار لاتعلقی بھی رہی ہے کہ اب تک چین سے رفاقتوں کے حساب میں شاید ہی کوئی عمومی فلاح کا زاویہ ڈھونڈ پانے میں کامیاب ہوا ہوں، ویسے بھی یہاں تو عوامی سطح پر میڈ ان چائنا سے چائنا کٹنگ تک کی اصطلاح نقالی ، رنگ آمیزی یا کسی حد تک جعل سازی کے مترادف رہی ہے۔ دوسری طرف اس منصوبے کے سب سے اہم فریق یعنی بلوچ قومیت کی حقیقی نمائندگی اور اشتراک عمل کے فقدان کے باعث ان کی ملکیت سمجھے جانے والے ساحلوں سے مستفیدہونے کی امیدوں کے حوالے سے بھی میں کسی خاص گرم جوشی کے اظہار سے خود کو قاصر پاتا ہوں۔
بیسویں صدی کے اوائل میں ترکی کو یورپ کا مرد بیمار قرار دیا جاتا تھا اسی طرح اگر دیکھا جائے تو بلوچستان کا خطہ بھی اپنے کئی دہائیوں سے جاری پرآشوب حالات کے باعث پاکستان کے مرد بیمار کا منظر پیش کرتا ہے ایسے میں بلوچستان کے ساحلوں سے جڑے کسی منصوبے سے سودوزیاں کا حساب مجھے کسی انتہائی علیل مریض کے اہل خانہ کے اس طرزعمل کا عکاس لگتا ہے جب وہ جاں بہ لب مریض کی سانسیں بھی گن رہے ہوں اور اس کی میراث کی بندر بانٹ کا حساب بھی کررہے ہوں۔
اگر ان ذاتی مشاہدات کو ایک طرف رکھ کر اس منصوبے کے حوالے سے جاری بحث کو دیکھا جائے تو بھی منظر کچھ خاص حوصلہ افزا نہیں ہے۔ کیوں کہ ابھی تک منظر عام پر آنے والی معلومات کے مطابق اس پراجیکٹ کے حوالے سے معلومات اسرار کے پردوں میں نہاں ہیں اور مسلم لیگ ن کی حکومت نے جان کر اس ابہام کو برقرار رکھا ہے۔ لیکن چائنا کے ادارے اس منصوبے کے مختلف گوشوں، معاشی پہلوو¿ں اور مواصلاتی نظام کی تفصیلات انٹرنیٹ پر ڈال چکے ہیں۔ اس لئے یہ بات کوئی راز نہیں رہی کہ مغربی روٹ کی باتیں زیادہ تر طفل تسلیاں ہی ہیں اور اس پراجیکٹ کے فیوضات بڑی حد تک پنجاب ہی تک محدود ہیں
ان تفصیلات کے منظرعام آنے اور مغربی روٹ سے گریز کے باعث بلوچستان کا بڑا علاقہ نظر انداز کئے جانے پر اگر بلوچ قوم پرستوں میں شدید تحفّظات موجود ہیں توپشتون قوم پرست بھی شکایتوں کا انبار لئے بیٹھے ہیں، چاہے بعض حوالوں سے اس کی وجوہات ذاتی نوعیت ہی کی کیوں نہ ہوں۔
پنجاب جس نے پچھلی دہائی سے جاری دہشت گردی کے اثراتِ بد سے اپنا دامن بڑی حد تک بچائے رکھ کر اس تاثر کو تقویت دی کہ دہشت گردی اور اس کے اثرات کی اسٹریٹجک تحدید کی جاسکتی ہے۔ پھر سابق دور میں یہاں حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے عدلیہ کی پشتیبانی ، شہری علاقوں میں اپنے ڈیویلپمنٹ ماڈلز کی کامیاب مارکیٹنگ ، میڈیا کی جانب سے مثبت پراجیکشن اور انتظامی مشینری کے مو¿ثر استعمال کی بدولت اسی صوبے سے حاصل کردہ مینڈیٹ کے بل پر ہی وفاق میں بھی حکومت تشکیل دے رکھی ہے اسی لئے اس کی نظر کرم کسی دوسری جانب شاید ہی کبھی ا±ٹھتی ہے۔
جب چائنا سے معاشی شاہراہ کے نام پر اربوں ڈالر کی گنگا بہنے کے امکانات نظر آنے لگے تو اس کا دھارا بھی پنجاب تک محدود کرنے کی تگ و دو ہوتی نظر آرہی ہے اور احسن اقبال اپنی تمام تر کلاکار یوں کے باوجود اس تاثر کو زائل کرنے میں ناکام رہے ہیں اگر چہ وہ اب بھی اختلافی آوازوں کو پاکستانی قوم پرستی کے عنوان سے قائم نقار خانے کیے شور میں دبانے پر مصر ہیں۔ اپنے طے شدہ اہداف کے حصول کے لئے ےانہیں کبھی حقائق چھپانے پڑے یا غلط بیانی کرنی پڑ گئی اور کبھی ناقدین کو پڑوسی ملک کے کارندے قرار دیتے رہے، بہت زیادہ دباو¿ پڑا تو آل پارٹیز کانفرنس میں کچھ یقین دہانیاں کرادیں پھر خدشات ابھرے تو کسی کو ون ٹو ون ملاقات میں رام کیا تو کسی کو گیدڑسنگھی سنگھا دی۔
یارلوگ مان بھی گئے ان کے معتقدین کی تالیف قلب کے لئے ایک پہلے سے زیر تعمیر روڈ پر تختی بدل دی اور اسے مغربی روٹ قرار دے کرمیلہ لگا لیا اور پشتون مشر یعنی سیاسی بڑے اور اپنے دیرینہ رفیق ’کوئٹہ کے ممنون‘ سے قصیدے بھی پڑھوالئے۔
سب کچھ ٹھیک ہی چل رہا تھا کہ اچانک پاکستان تحریک انصاف کو پنجاب کے محاصرے میں پسپائی و ہزیمت کے بعد اپنے پایہ تخت کی طرف متوجہ ہونے کا بھی خیال آگیا اور پرویز خٹک نے نئی افتتاح شدہ سڑک کے لارے لپے سے بہلنے کے بجائے کوریڈور میں صوبے کے حصے کا مطالبہ کردیا اور موٹر وے سمیت ، اکنامک زونز ، فائبر آپٹک نیٹ ورک، ایل این جی پائپ لائنز اور پاور پراجیکٹس میں بھی حصّہ مانگ لیا اور صوبے کی دیگر سیاسی نمائندہ جماعتیں بھی پختون خواہ اولسی تحریک کے کنونشن اور بعد ازاں پریس کانفرنسز میں بہ یک آواز یہی مطالبہ دہراتی نظر آئیں۔سکندر شیرپاو¿ بھی بولے اور مولانا فضل الرحمان اور ان کے بھائی لطف الرحمان بھی گرجتے برستے نظر آئے، آخر کو آئندہ بھی انتخاب لڑنا ہے اور وزارت اعلیٰ کے شجر امید سے بھی پیوستہ ہیں۔
اور وہ جو ژوب ڈیرہ اسماعیل خان روڈ کے لالی پاپ اور زبانی یقین دہانی کی گولی سے کسی ون ٹو ون نشست میں بہل گئے تھے اور این ایچ پچاس ہائی وے کے افتتاح کے لئے کچے دھاگے سے بندھے چل دئیے تھے وہ بھی ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھے اور لگے تلافی کرنے، مریدان با صفا نے کی بورڈ تھام لئے اور صفائیاں دینے میں لگ گئے۔
نہ جائے رفتن ، نہ پائے ماندن کے مصداق، عوامی نیشنل پارٹی نے اس ایشو کی لیڈ ہاتھ سے چھوٹتی نظر آنے پرتھوڑا ہوش سنبھالاہے اور اے پی سی کے بعد سے تاخیر کا شکار چلی آنے والی کمیٹی کی تشکیل کرڈالی ہے۔ جس نے سی پی ای سی کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس کی یقین دہانیوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیتے رہنا ہے، پھر سردار حسین بابک صاحب بھی احسن اقبال کی خبر لیتے رہے۔

جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمن جو اپنی جماعت کی قلیل پارلیمانی نمائندگی کے باوجود بھی سیاسی سودے بازی کے محاذ پر اپنی بازی گری کی بدولت مولانا عبدالغفور حیدری کے لئے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی نشست ہتھیانے میں کامیاب ٹھہرے ہیں، اکنامک کوریڈور کا محاذ گرم دیکھ کرانہوں نے بھی ایک اے پی سی کرڈالی۔ جب کہ جماعت اسلامی جس کے سابق امیر قاضی حسین احمد چائنا وفد لے جاکر تحریری یقین دہانیاں کرا کے آئے تھے کہ ہمارے جہاد سے آپ محفوظ رہیں گے ا±ن کے دیرینہ رفیق اور حالیہ امیر سراج الحق بھی بول پڑے ہیں۔
سیاسی محاذ پر بلوچستان کے گورنر ہاو¿س کے نام کے باہر اچکزئی ہاﺅس کی تختی نصب کراکے پھولے نہ سمانے والے محمود خان اچکزئی بھی کنونشنز اور اے پی سیز میں بیٹھے نظر آئے جب کہ ان کے برادر بزرگ کو اکنامک کوریڈور کی ترجیحات کے معاملے پر چین کی ناراضی کا خدشہ لاحق ہوگیا ہے۔
پشتون قوم پرستی کی سیاست بھی عجیب مخمصے میں ہے۔ کہنے کو سب جمہوریت کے چیمپین ہیں لیکن مشر خان صاحب کی تنہا پرواز کی جانب انگشت نمائی پر تعزیریں بھی قائم ہیں جب کہ مشر اچکزئی کی عقیدت میں ان کے معتقدین کسی بدگمانی کو دل میں لانے کے قائل نظر نہیں آتے۔
دوسری طرف تحریک انصاف، جمعیت العلمائے اسلام اور جماعت اسلامی کی جانب سے صوبائی حقوق کے معاملے پر بیک آواز بولنا اگرچہ خوش آئند بھی ہے لیکن اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اگر کوئی کامیابی حاصل ہوئی تو اس کا کریڈٹ لینے سب کھڑے ہوں گے لیکن اگر تمام تر سرگرمی کے باوجود مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہوتے تو خسارہ قوم پرست قوتوں کے ہاتھ آئے گا۔
یوں سی پی ای سی کے گرد بنی گئی سیاسی بازی گری کی بساط بھی چاروں صوبوں کی سیاسی افتاد ہائے طبع کی اسیر نظر آتی ہے۔ جہاں ایک طرف بلوچوں کی بے گانگی اور سندھ کی بے نیازی کا مشاہدہ ہے تو دوسری جانب پنجاب کی سیاسی مشاقی اور پشتون سیاست کی روایتی تقسیم اور پولرائزیشن کی اسیری کاافسوس ناک مظاہرہ بھی نمایاں ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔