ننھا مانجھی (2)


  ’’تم کو یقین نہ آئے گا سوہنے سائیاں! ایک دفعہ میں پار کے علاقے میں بیڑی میں مچھلی پکڑنے گیا۔ بڑی دیر تک کوئی مچھلی نہ آئی اور میں سمجھا کہ اس حصے کی سب مچھلیاں کہیں چلی گئیں ہیں۔ پھر جب میں گھر کا رخ کرنے لگا، تو مچھلیوں کا لشکر کا لشکر بیڑی کی طرف تیرتا ہوا آیا۔ لیکن اس کے پیچھے گدھے جتنی بڑی بھلّن تھی۔ میں چاقو منہ میں دابے پانی میں اتر گیا۔ اب بھلّن مچھلیوں کو کھاتی ہے اور سنسار بھلّن کا شکار کرتا ہے۔ اس وقت بھلّن کے پیچھے پیچھے ایک سنسار بھی بھلّن کو کھانے چلا آیا تھا۔ یہ مجھے پتا نہ تھا۔ میں بھلّن کے پیٹ میں چاقو گھونپنے لگا تھا کہ نیچے سے سنسار نے اپنے جبڑے میں میری ٹانگ کو پکڑ لیا۔ سائیاں، تم یقین نہیں کرو گے۔ میں نے اپنے ہوش و حواس بجا رکھے۔ میرے باپ نے مجھے ایک بار بتایا تھا کہ سنسار کی آنکھیں اگر اندھی کردو تو وہ بے بس ہو جاتا ہے۔ بس سائیاں، میں تیر کر سنسار کے دہانے کے سامنے آیا اور اس کی آنکھوں میں چاقو سے دو گھونپے دیے۔ بڑا لہو بہا۔ سنسار تکلیف سے تڑپنے لگا اور اس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ میں بچ کر اپنی کشتی میں چڑھ آیا مگر میری ٹانگ بالکل لوتھڑا ہو گئی۔ ہسپتال میں وہ اسے کاٹنے لگے تھے، پر بڑے ڈاکٹر نے کاٹنے نہ دیا۔ مجھے ہسپتال میں چار پانچ مہینے رہنا پڑا اور میری ٹانگ اب سوائے اس نشان کے بالکل ٹھیک ہے۔ ‘‘

ننھا مانجھی جھوٹ نہیں بول رہا تھا۔ اس کے چمکیلے چہرے پر صاف صاف لکھا تھا: میں سچ بول رہا ہوں!

پھر اس نے کہا’’سائیاں! میں مچھلیاں کوں سڈاں؟ ایس ڈار وچ مچھلیاں نیں۔ ‘‘ وہ سیٹیاں مارنے اور اپنے ہاتھوں کو ایک خاص انداز میں بجانے لگا۔ تھوڑی دیر ہی دیر بعد پانی میں مچھلیوں کے اچھلنے کی حرکت پیدا ہونے لگی۔ ننھے مانجھی کو پانی میں نہ اترنا پڑا کیونکہ ایک مچھلی چھلانگ لگا کر کشتی میں آ کر گری، تڑپتی ہوئی۔

میں یہ بتانا بھول گیا کہ ہم پرسکون پانی میں تھے… دریا کی چھل کے بنائے ہوئے ٹاپو میں۔ ہم اس پتن سے گزر آئے تھے جہاں فیری لنگر ڈالے کھڑی تھی اور اب ہم کھجوروں کے جھنڈوں میں سے اندھیرے سبز راستوں میں شپ شپاتے گزر رہے تھے۔ کشتی میں سے کھجوروں کے گچھے توڑتے ہوئے ہم آخر خشکی پر آئے۔ مغرب کی سمت ایک سفیدی نے ہمیں بتایا کہ چاند ابھر آیا ہے۔

ننھے مانجھی نے میرا سوٹ کیس اٹھایا اور ہم سونی سڑک پر چل پڑے۔ میرا دریائی چچا شہر کی دو منزلہ حویلی میں رہتا تھا۔ میں وہاں پہلی دفعہ آیا تھا لیکن سوہنے کو اس جگہ کا پتا تھا۔ وہ مجھے وہاں لے گیا۔

میرے چچا نے مجھے خندہ پیشانی سے خوش آمدید کہا۔ اس کا چہرہ مسکراہٹوں سے شکن آلود ہو گیا،کیونکہ اب تک وہ میرے آنے سے مایوس ہو چکا تھا۔

جب میں اس سے مل رہا تھا، توسوہنا دروازے میں کھڑا تھا۔ میں سوہنے کو دو روپے دینے لگا، تومیرے چچا کا مسکراتا چہرہ درشت اور سخت ہو گیا۔ وہ سوہنے پر برسا ’’او چوہڑے دے بچے، تینکوں ساڈے خاندان توں پیسے لیندیاں شرم نہیں آندی؟‘‘

سوہنا چلا گیا۔ میرا چچا ان علاقوں میں ایک سخت اور جابر آدمی کی حیثیت سے مشہور تھا۔ اب میری سمجھ میں آیا کہ اس کا نام سنتے ہی سوہنے کے چہرے کی رنگت کیوں بدلی تھی۔

میں مٹھن کوٹ میں دو ہفتے رہا۔ مجھے اپنے چچا سے آبائی زمین کے معاملات طے کرنا تھے مگر اس کے زرخیز دماغ میں دوسرے ارادے تھے۔ البتہ یہ میرے ذاتی معاملات ہیں اور یہاں مجھے ان کا ذکر نہیں کرنا چاہیے۔

ایک دفعہ میں نے خواجہ غلام فرید کے روضے کی عقبی گلی میں سوہنے کو پھر دیکھا۔ سوہنا مجھے اپنے گھر لے گیا۔ دریائی ٹاپوئوں کے کنارے پر سرکنڈوں کی ایک چھوٹی سی جھونپڑی تھی۔ اس میں مٹی کے دو تین برتنوں کے سوا کچھ نہ تھا یا پھر سیپیوں کا ایک ہار اور ایک بانسری دیوار سے لٹک رہی تھی۔ سوہنا یہاں اکیلا رہتا تھا۔ اس نے کچھ افسوس سے کہا کہ اس کی ماں نے شادی کر لی ہے اور وہ اوراس کا خاوند علی پور چلے گئے ہیں جہاں اس کے سوتیلے باپ کی لوہارے کی دکان ہے۔

’’سوہنا‘‘ میں نے پوچھا، تمھارے پاس چارپائی نہیں؟‘‘

’’میں زمین پر سوتا ہوں، سوندھی سجری زمین پر۔ ‘‘ اس نے مجھے سرکنڈوں کی ایک چٹائی دکھائی۔ ’’میں اس پر سوتا ہوں۔ یہ میرا وِچھاون ہے۔ ‘‘

’’تم سانپوں سے نہیں ڈرتے؟‘‘ میں نے پوچھا۔ میں خود سانپوں سے بے حد ڈرتا تھا اور ان کے ڈرائونے خواب دیکھا کرتا تھا۔

’’سانپ مجھے کچھ نہیں کہتے۔ میں تو ان کے ساتھ کھیلتا ہوں۔ ‘‘

’’اور تم سردیوں میں کیسے رہتے ہو؟ تمھارے پاس لحاف نہیں تم تو ٹھٹھر جاتے ہو گے؟‘‘

’’مجھے سردی نہیں لگتی۔ جب سخت سردی پڑتی ہے، توسائیاں! پتا ہے میں کیا کرتا ہوں؟ میں بہت سا گڑ کھا لیتا ہوں اور اپنے وچھاون پر لیٹ جاتا ہوں۔ یہ بڑا لمبا ہے اس لیے آدھے حصے کو الٹا کر اپنے اوپر اوڑھ لیتا ہوں۔ میں اتنا گرم ہو جاتا ہوں جتنا سیڑ (خرگوش) اپنے بھٹ میں۔ ‘‘

میں نے اسے کہا کہ وہ میرے ساتھ سکھر چلے، میں اسے وہاں کسی فیکٹری میں نوکر کرا دوں گا۔ مگروہ سوچ میں کھو گیا۔ اس نے اپنا سر ہلایا ’’میں اپنی بیڑی اور دریا کو نہیں چھوڑ سکتا سائیاں۔ میں فیکٹری میں کام کرنا نہیں چاہتا۔‘‘

پھر اس نے کہا ’’سائیاں! میں تیڈی کیا خدمت کراں؟ میرے پاس کچھ مکھانے ہیں۔‘‘ وہ ایک پیالے میں مکھانے لے آیا اور ہم کھانے لگے۔ یہ غریبانہ مہمان نوازی ایک بادشاہ کی ضیافت سے کہیں اچھی تھی۔ پھر اس نے بانسری دیوار سے اتارلی اور اسے بجانے لگا۔

’’سوہنا! تم نے کوئی نئے گیت بنائے ہیں؟‘‘

’’بہت سے۔ ہر روز جب میں اپنی بیڑی میں مچھلیاں پکڑنے جاتا ہوں، نئے گیت بناتا ہوں۔ کبھی میرے ساتھ شکار پر چلو، میں تمھیں بہت سے گیت سنائوں گا۔ ‘‘

اسی بارے میں: ۔  اردو ادب میں فنِ ترجمہ نگاری کی روایت

میںنے اسے تین روپے دینے کی کوشش کی لیکن اس نے لینے سے انکار کردیا۔ سوہناخود دار لڑکا تھا۔ میں نے اسے کہا کہ وہ مجھے اپنی کشتی میں مٹھن کوٹ لے کر آیا تھا اور میں نے اسے کوئی اُجرت نہ دی تھی۔ اس نے کچھ نہ کہا۔ پھر میں اسے اپنے ساتھ بازار لے آیااور اسے اس کی پسند کی چیزیں خرید دیں… ایک نیا چاقو، ایک سیر نمک، آدھ سیر گڑ، چائے کا ڈبا، سجی، تھوڑا سا رنگدار لٹھّا۔

وہ بڑا خوش ہوا اور اس نے کہا کہ اب وہ بادشاہ زادے کی طرح رہے گا۔

وہ اس وقت تک مجھے چھوڑنے پر تیار نہ ہوا جب تک میں نے اس سے وعدہ نہ کر لیا کہ میں کسی دن اس کے ساتھ شکار پر جائوں گا۔

میں اس کے ساتھ مچھلی کے شکار پر نہ جا سکا اور اگرچہ میری رخصت کے چند دن باقی تھے مگر مجھے دوسرے ہی دن اپنے دریائی چچا سے ایک جھگڑے کی وجہ سے مٹھن کوٹ چھوڑنا پڑا۔ دریا کے پتن پر جاتے ہوئے میں نے سوہنے کی جھونپڑی میں جھانکا، مگر ننھا مانجھی وہاں نہ تھا۔ ساتھ کی جھونپڑی میں ٹوکریاں بننے والی ایک بوڑھی عورت نے مجھے بتایا کہ وہ شکار پر گیا ہے۔ ’’اللہ اس کو حیاتی دے۔ بڑا نیک وہ ہے۔ مچھی لاتا ہے ، تو بچوں کو تقسیم کرتا پھرتا ہے۔ میں اس کے لیے دعا مانگتی رہتی ہوں کہ رب اسے نظرِ بد سے محفوظ رکھے۔ ‘‘

مجھے اس سے نہ ملنے کا افسوس ہوا۔ میں فیری لانچ کے پتن پر پہنچا اور ٹکٹ لے کر اس میں سوار ہو گیا۔ ریل کے ڈبے کے سے کمرے میں بڑا حبس تھا اس لیے میں سامنے عرشے پر پتوار کے پاس ایک چارپائی پر جا بیٹھا جو دراصل ایک ترکی ٹوپی والے تھل تھل کرتے مخدوم کے لیے بچھائی گئی تھی۔ میں نے پتلون کوٹ پہن رکھا تھا اس لیے کسی نے اعتراض نہ کیا۔ مخدوم کے پائوں دبانے کے لیے چار نوکر تھے اور ایک اس کاحقہ بھرنے پر مامور تھا۔ میں نے مخدوم کے ساتھ حقہ پیا اور ہم نے بہت سی باتیں کیں… اوقاف کی چیرہ دستی کی، روحانیت کی کمی کی اور شکار کی۔ ایسے مواقع پر آدمی خود کو بڑھا کر ظاہر کرے، تو ٹھیک رہتا ہے، اس لیے میں نے مخدوم پر یہ ظاہر کیا کہ میں شکار پور میں فاریسٹ آفیسر تھا۔ پھر میں نے اسے اگلی سردیوں میں وہاں شکار پر آنے کی دعوت دی۔ فیری لانچ ابھی منجدھار میں تھی کہ مجھے ننھے مانجھی کی بیڑی دکھائی دی…بالکل ننھی سی ڈونگی! ننھا مانجھی پانی میں تھا…مچھلیاں پکڑتا ہوا، دھوپ میں ایک یونانی دیوتا کی طرح حسین اور جیالا۔

اس نے ایک دفعہ بھی فیری لانچ کی طرف نہ دیکھا۔ وہ مچھلیاں پکڑنے میں بہت مصروف تھا ’’اب دیکھو‘‘ مخدوم نے کہا۔ ’’ اب ہماری یہ حالت ہو گئی ہے کہ میں نے اپنے پرانے وفادار مدارالمہام کو بھی چھٹی دے دی ہے ۔ گورنمنٹ کہتی ہے کہ ان کی املاک چھین لو۔ کل کو کہے گی کہ ان کے شکاری کتے بھی چھین لو۔ آخر کتے بھی تو املاک میں شامل ہیں۔ ‘‘

میں نے اتفاق کیا۔ اس گئے گزرے زمانے میں روحانیت کی اقدار واقعی مٹ رہی تھیں۔ چار پانچ سال بعد میں علی پور میں سینئر کمپاؤنڈر مقرر ہوا۔ ہماری بیشتر آبائی جائداد مٹھن کوٹ کے پاس تھی اور میں نے کوشش کر کے اپنی تبدیلی علی پور میں کرائی تا کہ جائداد کی دیکھ بھال کر سکوں۔ میں مٹھن کوٹ اپنے چچا سے ملنے نہ گیا۔ ہمارے تعلقات بعض خاندانی معاملات کی وجہ سے کشیدہ اور تلخ ہو چکے تھے۔ چار سال پہلے سکھر میں، میں نے ایک سندھی تاجر کے گھرانے میں شادی کر لی تھی اور اب ہمارے دو بچے تھے،ایک لڑکا اور ایک لڑکی۔ شادی ایک عجیب تجربہ ہے۔ یہ ساری کی ساری گلابوں کی سیج نہیں جیسی کہ پہلے پہل نظر آتی ہے۔ آزاد منش آدمی کو تو یہ بالکل راس نہیں آتی اور وہ کئی بار مضطرب ہو کر ان بندھنوں کو توڑ کر جنگلوں میں بھاگ جانا چاہتا ہے۔ ہمارے درمیان اخراجات پر اکثر جو تم پیزار ہونے لگتی تھی۔ عورتیں عموماً تنگ دل اور ارضی ہوتی ہیں اور جب ان کے بچے ہو جاتے ہیں تو ان کی ساری محبت اور دلچسپی بچوں کی طرف منتقل ہو جاتی ہے اور ان کے خاوند ان کے لیے صرف ضروریات مہیا کرنے کے آلے بن کر رہ جاتے ہیں۔ ان تلخ جھگڑوں کے بعد ہم بعض دفعہ دنوں ایک دوسرے سے نہ بولتے اور ان دنوں سُتا ہوا اور بجھا ہوا میں دریا پر مچھلیاں پکڑتے ہوئے ننھے مانجھی کے بارے میں سوچتا… ہواؤں کی طرح آزاد اور گیت گاتا ہوا سوہنا کتنے مزے کی زندگی گذار رہا ہوگا!

ایک دن سوہنا آ گیا۔ مجھ پر اس صبح تاریک موڈ طاری تھا اور میں ہسپتال کے دواخانے میں بیٹھا ہسپتال کے اردلی بخشن کو نمبر ایک سے لے کر نمبر دس تک مکسچر بنانے کی ہدایات بے پروایانہ انداز میں دے رہا تھا۔ تب میں نے کھڑکی میں سے سوہنے کو دیکھا… دبلا اور پیلا سوہنا، بالکل ایک مختلف سوہنا۔ اس کے ساتھ رنگدار چھینٹ کے کرتے اور گھگھرے میں ایک دیہاتی عورت تھی، پینتیس چھتیس سال کی مگر ابھی تک جوانی کی سج دھج لیے ہوئے اور نخریلی۔ سوہنا اس کے کندھے کا سہارا لیے ہوئے تھا اور گھسٹتا ہوا چل رہا تھا۔ وہ بیمار تھا۔

میں نے اسے کھڑکی میں سے آواز دی، ’’سوہنے!‘‘ اور میں باہر برآمدے میں آ گیا۔ مجھے دیکھ کر سوہنے کے چہرے پر پہلی سی مسکراہٹ آ گئی، ’’سائیاں!‘‘ مجھ سے ہاتھ ملا کر اس نے کہا، ’’سائیاں، تم یہاں کہاں؟‘‘

میں اسے اپنے دواخانے میں لے آیا اور سہارا دے کر اسٹول پر بٹھا دیا۔ عورت اطمینان سے پھسکڑا لگا کر ایک دلربا حیوان کی طرح فرش پر بیٹھ گئی۔ میں تعجب کر رہا تھا کہ آیا سوہنے نے شادی کر لی ہے۔ ان علاقوں میں وٹّے سٹّے کے رواج کی وجہ سے سولہ سال کے لڑکے کے ساتھ اپنے سے کافی زیادہ عمر کی عورت کا بیاہ ہو جانا کوئی غیرمعمولی بات نہیں۔ سوہنے نے مجھے اس شش و پنج میں سے خود ہی نکالا’’سائیاں، ایہہ میری اماں بی بی اے۔ ‘‘

اسی بارے میں: ۔  نورا خان

دریائی علاقے کی عورتیں اپنی جوانی کے رنگ روپ کو دیر تک قائم رکھتی ہیں۔

’’سوہنا،تم بیمار ہو؟ تمھیں کیا ہو گیا ہے؟

سوہنا نے مجھے بتایا کہ وہ پچھلے چار پانچ ماہ سے ایک عجیب پیچیدہ بیماری میں مبتلا ہے۔ پہلے پہل اس نے توجہ نہ دی اور مچھلیاں پکڑنے کے کام کو جاری رکھا۔ لیکن اب وہ کافی بیمار ہو گیا تھا۔ اچانک اس کے ہاتھ پاؤں بالکل سن ہو جاتے تھے۔ اسے ہلکا ہلکا بخار رہنے لگا تھا اور ایک دو دن پہلے اسے خون کی قے ہوئی تھی۔

’’ڈاک دار صاحب!‘‘سوہنے کی ماں نے کہا ’’میرا پتر ککھ ہو گیا ہے۔ ایہدے چہرے ول دیکھ ڈاک دار صاحب۔ میرے سوہنے نوں ٹھیک کر دے۔ ‘‘

مجھے سوہنے کی بیماری کا سن کر بڑا دکھ ہوا۔ کسی طرح میرے دل میں یہ بات نہ آتی تھی کہ سوہنا بھی سب کی طرح بیمار پڑ سکتا ہے۔

سوہنے نے کہا ’’جب میں بیمار پڑ گیا، تو میں اپنے ماما کے ساتھ بس میں بیٹھ کر اپنی اماں بی بی کے پاس علی پور آ گیا۔ میری اماں بی بی یہاں یارو لوہار سے بیاہی ہوئی ہے۔ میرا متریا باپ بڑا اچھا آدمی ہے۔ پنج وقت دا نمازی۔ ‘‘

سوہنا اپنی اماں بی بی کی دوسری شادی کر لینے کو بالکل قدرتی بات سمجھتا تھا اور اس طرح اسے غرور تھا کہ اس کی ماں ایک خاوند کو پھانسنے اور اپنا گھر بسانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ اس کے دل میں اس کا ذرا ملال نہ تھا… یہ کوئی عجیب بات نہیں، تہذیب کے ٹیبو ہی ہر بات کو عجیب بنا ڈالتے ہیں۔

میں نے ڈاکٹر سے کہہ کر سوہنے اور اس کی ماں کو ہسپتال میں ایک چھوٹی سی الگ کوٹھڑی لے دی۔ ڈاکٹر مریضوں کوہسپتال میں رکھنے کے حق میں نہ تھا۔ اس سے اس کا کام بڑھ جاتا تھا اور بعض قیمتی دوائیں جو بازار میں فروخت ہو سکتی تھیں، ضائع ہو جاتی تھیں۔ مگر میں نے اس سے کہا کہ سوہنا میرا قریبی عزیز ہے۔ یوں وہ مان گیا۔

سوہنے کو دق کی قسم کی کوئی بیماری تھی، اگرچہ پوری طرح اس کی تشخیص نہ ہو سکی۔ میں اس کا بھائی کی طرح خیال رکھتا۔ اسے وقت پر دوا ملنے اور ٹیکے بہم پہنچانے کی فکر کرتا اور شام کو کام سے فارغ ہو کر اس کے پاس گھڑی دو گھڑی بیٹھ کر اس کی باتیں سنتا۔ جب بھی میں جاتا اس کا چہرہ کھل اٹھتا اور ایک پیلی سی مسکراہٹ اس پر آجاتی۔ اس کی ماں سب دیہاتی عورتوں کی طرح حوصلہ مند اور محنتی تھی۔ وہ شام کو کوٹھڑی کے باہر ریت پر بیٹھ کر اپنے بیٹے کے لیے روٹی پکاتی۔ بعض وقت یارو لوہار آتا… بھاری بھر کم، چوڑا چوڑا چکلا چہرہ، مہندی سے رنگی ہوئی ڈاڑھی، آنکھوں میں سرمہ، وہ ہمیشہ سوہنے کے لیے کچھ نہ کچھ چیز لے کر آتا۔ سوہنے میں کوئی ایسی بات تھی، اس کی گفتگو کا ایسا سلجھائو تھا کہ ہر کوئی اس سے محبت کرنے لگتا تھا۔

لیکن ہماری تمام تر توجہ کے باوجود سوہنے کی حالت ابتر ہوتی گئی اور وہ ماضی کے سوہنے کا ایک ہیولا سا رہ گیا۔ اس کے بازو اور ٹانگیں اب پتلی سوکھی لکڑیاں نظر آتی تھیں۔ اب مجھے احساس ہونے لگا کہ ہوائوں اور دریائوں کا پالا سوہنا ہمارے پاس سے چلا جائے گا۔ لیکن وہ کیسے مر سکتا تھا؟ وہ جو قدرت کے عناصر میں سے ایک تھا، دریا جس کا بھائی تھا اور بیڑی جس کی بیوی اور محبوبہ تھی! وہ جو لہروں پربادشاہ کی طرح سوار ہوتا تھا اور دیوتائوں کی طرح گیت گاتا تھا! مچھلیوں کو کلکاریوں سے بلا لینے والا سوہنا! بھلّن اور مگرمچھ سے کشتی لڑنے والا سوہنا، وہ بھلا کیسے مر سکتا تھا؟

ایک شام میں اس کوٹھڑی میں گیا۔ اتنی کمزوری کے باوجود اس کی آنکھوں میں وہی روشنی تھی۔ اس نے کہا ’’سائیاں! میں اچھا ہو جائوں گا، تو ہم چھل پر مچھلیاں پکڑنے جائیں گے۔ ‘‘

’’ہاں ہاں سوہنا! تم اچھے ہو جائو گے۔ ‘‘

پھر وہ اداس ہو گیا ’’میری بیڑی میرے واسطے مونجھ گئی ہوسی۔ سائیاں! میں مر گیا، تو میری بیڑی دا کیہ ہوسی؟‘‘

’’تم جلد اچھے ہو جائو گے سوہنے۔ ‘‘

’’نہیں، اب نہیں سائیاں!‘‘ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ ’’حیاتی کتنی سوہنی شے ہے سائیاں۔ میں مر ویساں تے تاں دریا میکوں یاد کریسی کہ کوئی حوصلے والا نکا میڈی چھاتی دے چڑھ کے گمداہا (گاتا تھا)۔ میری مچھلیاں پوچھیسن (پوچھیں گی) کہ چھوٹا جیا مانجھی کتھاں ایں جیہڑا کلکاریاں نال انہاں کو سڈدیند اہا۔ میں ہن شکار تے کدے نئیں جاساں سائیں۔ میں کدھے ہور دریا ول ویندا پیا ہاں…‘‘

اس کی آنکھیں کہیں دور دیکھ رہی تھیں، کسی دور کے دیس کی طرف۔ پھر اس پر کھانسی کا ایک شدید دورہ پڑا۔ کھانستے کھانستے اس کا دم گھٹنے لگا اور وہ جھٹ لیٹ گیا۔ اس کی ماں بھاگتی بھاگتی اندر آئی اور اپنے بیٹے سے روتی ہوئی لپٹ گئی ’’او میرے سوہنے لعل! او میرے سوہنے پتر!‘‘

میں بھاگا بھاگا کورا مین لانے گیا۔ لیکن جب میں لوٹا تو سوہنا بہت دور جا چکا تھا۔

اس کی ماں چھاتی پیٹ کر بین کر رہی تھی، مگر سوہنا جیسے چپ چاپ سو رہا تھا۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ لیے، جیسے وہ کوئی خواب دیکھ رہا ہو۔ وہ زندگی اور موت کے بڑے پرشور دریا پر تن تنہا مچھلی اور بھلّن کا شکار کرنے چلا گیا تھا، میرا ننھا مانجھی!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

محمد خالد اختر کی دیگر تحریریں
محمد خالد اختر کی دیگر تحریریں