اردو کے مومن صحافی، سعودی نوالے اور یمن کی تباہی


بات بات پر امریکہ اور اسرائیل کی ایسی تیسی کرنے کے شوقین اردو صحافت کے سرخیل حضرات میں سے ایک آدھ کو چھوڑ کر کسی کو یہ معاملہ لائق توجہ نہیں لگتا کہ یمن پر سعودی عرب اور اس کی اتحادی افواج کی بمباری کے دو برس مکمل ہو رہے ہیں۔ ان دو برسوں میں روزانہ سعودی اتحاد کے جنگی طیارے یمن کے کسی نہ کسی گاؤں یا شہر پر بمباری کرتے رہے۔ اس بمباری کا نشانہ بننے والوں میں جنازے میں شریک افراد بھی تھے اور شادی میں آئے باراتی بھی، دوا کے لئے امدادی کیمپ کی طرف رواں بیمار بوڑھے بھی تھے اور غذا کی کمی کے شکار بچے بھی، جنگ میں بیوہ ہو چکی عورتیں بھی تھیں اور بارود کی برسات میں ایڑیاں رگڑ رہے مرد بھی۔ سب پر بمباری ہو رہی ہے اور سب اپنی زندگی سے مایوس ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق دو برس میں دس ہزار سے زیادہ شہری ہلاک ہو چکے ہیں اور ان میں زیادہ تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔ خادم الحرمین الشریفین کی قیادت والے اتحاد نے طے کر لیا ہے کہ بھلے پورا یمن ختم ہو جائے لیکن منصور ہادی کی حکومت بحال کرا کر ہی دم لیں گے۔

اب ذرا کچھ سادہ سوالوں کا جائزہ لے لیتے ہیں۔ پہلا سوال تو یہی کہ آخر سعودی اتحاد کس بات کے لئے اتنی جان کھپا رہا ہے؟ سعودی عرب کا خیال ہے کہ حوثیوں کے ذریعہ منصور ہادی کو اقتدار سے الگ کرکے خود حکومت پر قبضہ کرنا لینا غلط ہے اور حوثی غاصب ہیں۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ وہ بمباری کرکے پہلے حوثیوں کی کمر توڑے گا اور پھر پورے ملک کا اقتدار واپس منصور ہادی کو سونپ کر ہی دم لے گا۔

اب یہاں بحث یہ نہیں ہے کہ اگر حوثی جن کی تنظیم کا نام تحریک انصار اللہ ہے وہ غاصبوں، شر پسندوں اور فسادیوں کا ٹولہ ہے تو اس کی حمایت میں ہونے والی ریلیوں میں پچاس پچاس لاکھ لوگوں کی بھیڑ کہاں سے آ جاتی ہے۔ ہم اس پر بھی بات نہیں کریں گے کہ اگر حوثی غاصب ہیں تو ان کے خلاف ان کے زیر کنٹرول علاقوں میں کوئی عوامی بغاوت یا شورش کیوں نہیں ہے؟ ہم بس یہ جاننا چاہیں گے کہ سعودی عرب کو اس بات کا حق کس نے دیا کہ وہ کسی ملک کے داخلی معاملے میں دخیل ہو اور دو برس تک ایسی بمباری کرتا رہے جس میں دس ہزار بے گناہ شہری مارے جائیں اور چالیس ہزار سے زیادہ آپاہج یا زخمی ہو جائیں؟

سعودی عرب اور اس کے وکیلوں کا استدلال اس بات پر ہے کہ چونکہ حوثیوں کو ایرانی حمایت حاصل ہے اس لئے سعودی عرب کے ذریعہ منصور ہادی کی حمایت میں بمباری میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ یہ دلیل دینے والے اصحاب اس بات کو بھول جاتے ہیں حوثیوں کے لئے ایرانی مدد صرف نظریاتی ہے۔ یمن میں نہ تو ایرانی فوج اور نہ ہی ایرانی فضائیہ کسی قسم کی کارروائیاں کر رہی ہے اور نہ ہی کسی حوثی مخالف ٹھکانے پر ایران کے کسی حملے کی کوئی خبر آئی ہے۔ ایران کے ذریعہ حوثیوں کو کسی قسم کے ہتھیار دینے کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ دراصل یمن کی سرحدیں دو طرف سے سمندر اور ایک طرف عمان سے ملی ہوئی ہیں جبکہ زیادہ تر زمینی سرحد سعودی عرب سے لگتی ہے۔ اب اگر یمن کی سرحد شام، لبنان، عراق یا خود ایران سے متصل ہوتی تو کہا جا سکتا تھا کہ ایران چپکے چپکے حوثیوں کو کمک بھیج رہا ہے لیکن ایسا بھی کچھ نہیں ہے ایسے میں ایرانی مدد صرف زبانی ہے نہ کہ عسکری۔ اچھا ذرا دیر کو مان لیجئے کہ ایران کسی نہ کسی طرح حوثیوں کی مدد کر رہا ہے اور منصور ہادی کی مدد سعودی عرب کے ذریعہ ہو رہی ہے۔ تو ایسے میں یہ کون فیصلہ کرے گا کہ کس کی مدد مداخلت ہے اور کس کی مدد، مدد ہے۔

سعودی عرب کی بمباری کو جائز بتانے والے کہتے ہیں کہ سوال حق کا ہے۔ چونکہ منصور ہادی یمن کے صدر ہیں اور ان کے خلاف حوثی بغاوت کر رہے ہیں اس لئے چاہے جتنی جانيں جائیں اقتدار تو منصور ہادی کا ہی بحال ہوکر رہے گا۔ یہ وہی طبقہ ہے جو بار بار کہتا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کو اقتدار سے نہیں چمٹے رہنا چاہئے اور قتل و غارتگری ختم کرانے کی خاطر اقتدار کی قربانی دے دینی چاہئے۔

اب بات یہ ہے کہ سعودی عرب ہمارے کہنے سے بمباری تو روکنے والا ہے نہیں، اس لئے اس سے کچھ کہنا سننا بے کار ہے۔ ہم تو ان جری اردو اخباریوں سے پوچھنا چاہیں گے جنہوں نے ایوان باطل کو ہلا دینے کا چسکہ پال رکھا ہے۔ یہ وہ بزرگ تجزیہ نگار اور صحافی ہیں جن کا ہر دوسرا تیسرا کالم اسلام مخالف طاقتوں کو کوسنے میں صرف ہوتا ہے۔ ان حضرات کا کہنا ہے کہ ان کے سینے میں بہت حساس دل ہے جو افغانستان، فلسطین، عراق اور شام کے لوگوں کی چیخوں سے ہل جاتا ہے۔ ان صحافیوں کا دل اتنا نازک ہے کہ شامی باغیوں تک کے خلاف کوئی کارروائی انہیں رلا ڈالتی ہے لیکن ان حضرات نے یمن کی طرف سے ایسی آنکھیں پھیر لی ہیں جیسے وہاں کچھ ہو ہی نہ رہا ہو۔ اب سوال یہ ہے کہ یمن کو کیوں نظر انداز کیا جا رہا ہے؟ کیا اس لئے کہ وہاں بمباری امریکہ نہیں، سعودی عرب کر رہا ہے؟۔ ذرا دیر کو تصور کیجئے کہ کسی عرب ملک پر ایران ایسے دو برس تک بمباری کرتا اور ہزاروں افراد مارے جاتے تو بھی کیا یہ اردو کے جیالے صحافی ایسے ہی خاموش رہتے۔

تر نوالے اور حلوے مانڈے کا لالچ بڑا برا ہوتا ہے، یہ انسان کو بے ضمیر تو بناتا ہی ہے، منافق اور آنکھ کا اندھا بھی بنا دیتا ہے۔ یمن میں دس ہزار لوگ مر چکے ہیں اور دسیوں ہزار کے اور ہلاک ہونے کا پورا امکان ہے۔ ایک دن سعودی اتحاد یا تو جیت جائے گا یا تھک جائے گا، ہم سب کی کمزور یادداشتیں اس المیہ کو بھلا دیں گی۔ یمن والے بھی رو پیٹ کر چپ ہو جائیں گے لیکن یہی اردو کے مومن صحافی امریکہ اور اسرائیل کو کوس رہے ہونگے یہ بھول کر کہ جن ہاتھوں سے وہ ظلم کی مخالفت میں صفحے کالے کرنے کا کھیل کھیل رہے ہیں ان ہاتھوں کی انگلیاں یمن کے بے گناہوں کے خون سے تر ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

مالک اشتر

مالک اشتر،آبائی تعلق نوگانواں سادات اترپردیش، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ترسیل عامہ اور صحافت میں ماسٹرس، اخبارات اور رسائل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھنا، ریڈیو تہران، سحر ٹی وی، ایف ایم گیان وانی، ایف ایم جامعہ اور کئی روزناموں میں کام کرنے کا تجربہ، کئی برس سے بھارت کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل دوردرشن نیوز میں نیوز ایڈیٹر، لکھنے کا شوق

malik-ashter has 18 posts and counting.See all posts by malik-ashter