جان سپرلنگ کے ناول ”دس ہزار چیزیں “ میں کیا لکھا ہے؟


\"aasim\"تاؤ  نے ایک کو جنم دیا، ایک نے دو کو، دو نے تین کو، اور پھر تین کے بطن سے دس ہزار چیزیں برآمد ہوئیں۔ (تاؤ تی ینگ)

دس ہزار چیزوں کی تمام تر پیچیدگیوں سے انسان کی خود شعوری دس ہزار گنا زیادہ پیچیدہ ہے۔(جان سپرلنگ، ”دس ہزار چیزیں“)

قدیم چینی تہذیب کا سرسری مطالعہ بھی کسی قاری کو بدھ مت، تاؤ ازم اورکنفیوشنزم کی تین فلسفیانہ اور کسی حد تک مذہبی و ثقافتی روایتوں سے ضرور روشناس کرواتا ہے۔ تینوں روایتیں حقیقتِ مطلق، فرد، کائنات، اورسماجی زندگی وغیرہ کے بارے میں مختلف مفروضے قائم کرتی ہیں اور اپنے تئیں ان سوالات کے جوابات فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہیں جو عمومی طور پر دنیا کی ہرقدیم و جدید فلسفیانہ روایت کا موضوع رہے ہیں۔ چونکہ کنفیوشس اور تاؤ کے روایتی سلسلوں میں زیرِ بحث فکری مباحث نے بدھ مت کی مذہبی روایت کے ساتھ کئی صدیوں پر محیط تعامل کے بعد ایک باضابطہ چینی بدھ مت کی شکل اختیار کر لی، لہٰذا اب ان تینوں دھاروں کو ایک دوسرے سے علیحدہ کر کے دیکھنا چینی ادب و فلسفہ کے اہم تحقیقی مسائل سے تعلق رکھتا ہے۔ لیکن اگر غیر رسمی طور پران کو اپنے اپنے دائروں میں محدود کرنا مقصود ہواور کسی حد تک فکری سادہ لوحی سے صرفِ نظر کیا جائے تو بدھ مت کو کسی حد تک ایک مذہبی نظریہ، کنفیوشنزم کو ایک سماجی نظریہ اور تاؤ ازم کو فطرت اور انسان کے باہمی ملاپ یعنی حقیقتِ انسان و کائنات کی ایک نظریاتی تفہیم کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

انہی تینوں دائروں کو کوئی نام دئیے بغیر اور کسی ایسی مصنوعی تحدید پر اصرار کئے بغیر، ایک روایتی چینی شعور کی پیچیدگی کا مطالعہ جان سپرلنگ کے اس شاعرانہ ناول کا موضوع ہے۔ ناول کو شاعرانہ کہنا اس لئے ضروری ہے کہ فنی لحاظ سے مکمل ناول کچھ اس انداز سے لکھا گیا ہے کہ ایک ایسا قاری جس کی چین اور چینی روایات کے بارے میں معلومات نہ ہونے کے برابر بھی ہوں، اختتام تک پہنچتے پہنچتے چینی فنون لطیفہ کے حسن اور اس کے تخلیق کار کی قدرتِ تخلیق سے مرعوب ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ دوسری طرف ایک ایسا قاری جس نے چین کی فضا میں سانس لیا ہو اور فنونِ لطیفہ کے وسیلے سے چینی شعور کا کچھ نہ کچھ مطالعہ کیا ہو، اپنے آپ کو کسی سحر انگیز چینی پینٹنگ کا تاریخی مسافر محسوس کرتا ہے۔

\"images\"مصنف نے اس پرلطف سفر کو ممکن بنانے کے لئے چودھویں صدی عیسوی کے آغاز میں پیدا ہونے والے وانگ مینگ نامی ایک مصور، شاعر اور خطاط کو بطور کردار چنا ہے جو کہانی کے آغاز میں تقریباً اسی سالہ ضعیف قیدی کے طور پر جیل میں پڑا اپنی سوانح حیات قلم بند کر رہا ہے۔ کہانی وینگ مینگ کی ادھیڑ عمر میں اس کے دادا کی دی ہوئی ایک ایسی آبائی انگوٹھی کھو جانے کی کہانی کی تمہید سے شروع ہوتی ہے جس پر سانگ خاندان کا شاہی نقش موجود تھا۔ یہ چودھویں صدی کے وسط ہے جب وینگ مینگ یوآن دور میں ایک چھوٹا موٹا سا سرکاری ملازم ہے۔ منگول قبضے کو اب چوراسی سال گزر چکے ہیں اور قبلائی خان کا سنہرا دور تاریخ بن چکا ہے۔ہر طرف قزاق بغاوتوں اور مسلح جتھوں کی باہمی لڑائیوں کے باعث افراتفری کا عالم ہے اور منگول حکومت کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ایسے میں جب وینگ مینگ کی عمر کوئی پینتیس چھتیس سال ہے، وہ مستعفی ہو کرپہاڑوں، ندیوں اور آبشاروں کے قریب اپنے دور دراز آبائی گھر میں سکونت اختیار کر کے پوری یکسوئی سے اپنے فن پر توجہ دینا چاہتا ہے۔حالات کے ستم کے تحت مستقل ایسا ممکن نہیں ہوتا اور ہم وینگ مینگ کے ساتھ اجڑتی ہوئی منگول سلطنت کا سفر کرتے رہتے ہیں، جس میں کئی دلچسپ واقعات، مختلف فکری دھاروں سے تعلق رکھنے والے فن کار اور سیاسی کرداروں سے ملاقات ہوتی ہے۔

اپنی زندگی کے مختلف اوقات میں وینگ مینگ کی تخلیقی کاوشوں اور تجربات کے ذریعے ہم بنیادی طور پر روایتی چینی شعور کی پیچیدگیوں سے واقف ہوتے ہیں۔ وینگ مینگ کا سفر محض ایک ہنگامی تاریخی دور میں حادثہ حیات یا بقا کی جدو جہد نہیں بلکہ حقیقتِ کل کی تفہیم کا سفر بھی ہے۔ وینگ مینگ کا شعور ایک مجسم خدا یا حقیقت مطلق کے کسی ایسے ملفوظ تصور کے قابل نہیں جسے وہ کل کائنات کے تصور سے علیحدہ کر کے ایک جزو کے طور پر دیکھ سکے۔نہ صرف یہ بلکہ وہ اس قسم کی کسی تشنگی کے اظہار کے قابل بھی نہیں اور اس کی طلب محض فطرت میں ضم ہو کر ’دس ہزار چیزوں‘ کی پیچیدگی کو اپنے قلم اور پینٹ کے ذریعے کبھی پہاڑوں، کبھی دریاو¿ں اور کبھی آبشاروں میں پا لینے کی ہے۔ فلسفیانہ اعتبار سے یہ مشہور تاو¿ کہاوت ”وی وو وی“ (Wei Wu Wei) کی ترجمانی محسوس ہوتی ہے جو ایک عجیب و غریب قسم کا لفظی تناقض ہے یعنی ”ایسا عمل جو غیرِ عمل ہو“۔ تاو¿ تعبیرات کی رو سے یہ اسی طرح ہے جیسے سکوت میں معنی تلاش کرنا۔ استعاراتی اعتبار سے ایک تاو¿ نظم کے الفاظ کچھ اس طرح ہیں کہ لطیف ترین پانی سخت سے سخت پتھر میں کسی باارادہ عمل کے بغیر (کیوں کہ وہ سوراخ کرنے کے لئے نہیں بہتا) سوراخ کر دیتا ہے اور جو مادی حالت نہیں رکھتا وہ لامکان میں موجود ہوتا ہے۔ لہٰذا سکوت میں وہ حقیقتِ مطلق کی بہترین تعلیم موجود ہے جو عوام کی دسترس سے باہر ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ وینگ مینگ کا سفر اسی غیر عمل کی عملی تعبیر ہے۔
\"imagesلیکن اس سفر کی ایک اور اہم جہت یہ بھی ہے کہ فطرت کے قریب تنہائی اور سکوت میں معنی تلاش کرنے والا شعور بھی باعمل زندگی کے جبر کے ہاتھوں مجبور ہے۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ وینگ مینگ شادی بھی کرتا ہے،ایک سے زیادہ بار عشق میں بھی مبتلا ہوتا ہے، مسلح جتھوں کے ساتھ مل کر گورنر کے قتل کے منصوبے بھی بناتا ہے اور دوسری طرف باغی اس سے اس لئے بھی نالاں ہیں کہ وہ منگولوں اور خاص طور پر قبلائی خان کے عہد سے متاثر بھی ہے۔ ہمارا یہ ہیرو جو اپنے فن میں مشاق ہونے کے ساتھ ساتھ گمنام بھی ہے کبھی تو بدھ مت کے پروہتوں کے ساتھ خدا اور مقدس ارواح کے ہونے پر بحث کرتا ہے تو شہنشاہ کو کنفیوشنزم اور بدھ مت کے ساتھ ساتھ اس تیسری راہ یعنی سکوت اور غیر عمل کی بابت بھی بتلاتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ ناول اپنی تمام تر واقعاتی دلچسپیوں کے ساتھ ساتھ ان تینوں روایتی دھاروں کے باہمی مکالمے اور فکری کشمکش پر مبنی ایک ممکنہ مطالعے کو بھی سامنے لاتا ہے۔

خالص ادبی تناظر میں دیکھا جائے تو ناول کی اہم ترین جہت اس کی سلیس و لطیف ، اور کسی حد تک شاعرانہ نثر ہے۔ خاص طور پر ان مقامات پرجہاں ہم وینگ مینگ یا ناول کے کردار کے طور پر سامنے لائے جانے والے معاصر فن کاروں کے کسی نہ کسی تصویری فن پارے کی تفصیلات میں اترتے ہیں ، تو کچھ دیر کے لئے تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے تصویر نہ صرف ہمارے سامنے ہو بلکہ اس کی تمام پیچیدگیاں ملفوظ ہو کر معنی بہم پہنچا رہی ہوں۔ چونکہ اردو قارئین تک اس ناول کی رسائی کے امکانات محدود ہیں ، اس لئے آخر میں ہم ایک نثری نمونے کے طورپر ایک طویل نمائندہ اقتباس کا ترجمہ کئے دیتے ہیں۔

”وینگ نے جب’موجِِ مرغابی پویلین‘ میں پینٹنگ پر کام شروع کرنے کے لئے کمر باندھی تو اس کے ذہن میں یہی معنی تھے کہ [اپنے سامنے نظر آنے والے’ کوہِ ازرق‘ کو ’خانہ¿ لایموت‘ [نامی پینٹنگ] کے تصور میں ملا جلا کر پیش کرے۔’دریائے ارغواں‘ کا وہ قصہ بھی اس کے ذہن میں تھا جب کوئی مافوق الفطرت لافانی پیکر نہیں بلکہ عام سے جیتے جاگتے لوگوں نے جنگ، قحط اور بدانتظامی سے دور وہاں ایک محفوظ ٹھکانہ تلاش کر لیا تھا۔

\"Ge_Zhichuan_Relocating_by_Wang_Meng\"لیکن ہوا یوں کہ پینٹنگ نے اپنی ہی ایک مخصوص رفتار سے سفر شروع کر دیا۔ وہ بالکل رسمی طور پر نیچے سے اس طرح شروع ہوئی کہ دریا دیکھنے والے اور حدِ نظر تک جاتے منظر کے درمیان ایک سرحد تھی۔ منظر لارڈ مینگ کی ’خانہ¿ لایموت‘ ہی کی طرح کافی اونچائی سے دکھایا گیا تھا، اور نظر کے بالکل سامنے ایسے کوئی بھی خدوخال نہ تھے جن سے یہ اندازہ کیا جا سکتا کہ ناظر آیا ملحقہ پہاڑی پر کھڑا ہے یا ہوا میں معلق ہے۔پانی کے دوسرے کنارے پر چھوٹی چھوٹی چٹانوں کےایک ڈھانچے کے ساتھ چھدرے پتوں والے اونچے پیڑوں کا ایک جھنڈ تھا جو مرکز سے اس طرح ذرا سا ہٹا ہوا تھا کہ دائیں طرف رہ جانے والی جگہ سے دریا کا مرکزی دھارا بہتا ہوا دکھائی دے رہا تھا، جس میں پہاڑ سے آنے والا ایک جھرنا بھی گر رہا تھا۔

اس سب سے دور پینٹنگ کے دائیں طرف ہی ایک کشادہ پگڈنڈی کا کچھ حصہ دیکھا جا سکتا تھا جو منتشر پیڑوں کے بیچ سے لہراتا ہوا گزر رہا تھا۔ اس پگڈنڈی پر کھڑے ایک شخص کے خدوخال دکھائی دے رہے تھے، ایک ہٹا کٹا گھٹا ہوا شخص جس نے کمر سے باندھی گئی ایک عبا اور ایک مخروطی سفری ٹوپی پہن رکھی تھی، اور قریب والے ہاتھ میں لمبی سی چہل قدمی کرنے والی چھڑی تھی۔تو کیا یہ ناظر ہی کی قائم مقام شبیہہ تھی؟ وہ ذرا ندر کو مڑا ہوا تھا جیسے پینٹنگ کے اندر کی جانب دیکھ رہا ہو لیکن حالانکہ اس کی چھڑی کا اوپر کی جانب اشارہ کر رہی تھی، اس کی اپنی آنکھوں کے سامنے ایک چٹانوں کے قطعے پر مشتمل بہت بڑی پہاڑی کے علاوہ اور کوئی منظر نہ تھا جو ایک ترچھی چڑھائی کی صورت اوپر جا رہی تھی۔خیر کچھ بھی ہو، وہ شاید تھکن کے عالم میں یا کسی سوچ بچار میں مشغول اپنے سامنے زمین کو گھور رہا تھا۔یہ بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا تھا کہ وہ کس طرف سے آیا ہے۔ جس پگڈنڈی پر وہ کھڑا تھا وہ آہستہ آہستہ اوپر کو بڑھ رہی تھی یہاں تک کہ دائیں جانب کاغذ کے اختتام پر غائب ہو جاتی تھی،لیکن یہ ممکن تھا کہ وہ وہیں سے اتر ا ہو۔ وہ اس درخت تلے کھڑا ایک بونا سا لگتا تھا جو اس کے قد سے آٹھ گنا اونچا تھا، پوری پینٹنگ کی اونچائی کا وہ محض ساٹھواں ساٹھواں حصہ تھا لہٰذا چہرہ اتنا ننھا سا تھا کہ خدوخال پہچانے نہ جاتے تھے لیکن اس کے اپنے جسم اور وضع قطع کی مناسبت سے اتنا بڑا ضرور تھا کہ پختگی اور انفرادیت کا احساس ابھارتا تھا۔

کیا یہ ژاؤلین ہو سکتا تھا جو اپنے دادا کے پہاڑی گوشہ تنہائی کی طرف جا رہاتھا یا پھر وہاں سے لوٹ رہا تھا؟ اگر کوئی وینگ سے پوچھتا تو شاید وہ اتفاق کرتا کہ ایسا یقیناً ممکن تھا، لیکن وہ یہ بھی اتفاق کرتا کہ یہ شبیہہ کچھ کچھ مہاتمامیتریا بدھ سے ملتی تھی جو سرخ پوش باغیوں کے اعتقاد کے مطابق دنیا کو بچانے کے لئے پہنچنے والا تھا، یا پھر یہ لارڈ مینگ کی روح بھی ہو سکتی تھی، یا پھر اس دیومالائی مسافر بائین کی روح جسے وہاں وہ یشم سبز کا قیمتی پتھر ملا اور اس نے پہاڑی سلسلے کو اپنا نام دے دیا، یا پھر کوئی اور بے نام مسافر، یا پھر مصور خود۔حقیقت یہ تھی کہ شبیہہ کسی کی بھی ہو سکتی تھی جسے اس جگہ سے محبت ہو اور اس نے اپنے آپ کو اس سے قریب محسوس کیا ہو۔

پھر بھی یہ ایک تناقض تھا کہ وہ کھڑا ہوا شخص وہاں داخل نہ ہو سکتا تھا۔پہاڑ کے پہلو پر تو رنگ کر دیا گیا تھا لہٰذا وہاں سے کوئی داخل نہ ہو سکتا تھا۔پینٹنگ کی بائیں حد پر گھاس پھوس کے چھپر والی خیمہ نما جھونپڑیوں کا ایک جھرمٹ تھا، جن میں سب سے آگے والی کے اندر دو ننھی سی شبیہیں دکھائی دے رہی تھیں، اور اس جھرمٹ سے کافی نیچے ایک اور جھونپڑی تھی۔ دونوں جگہوں تک بے شک بائیں جانب سے پہنچا جا سکتا تھا لیکن عین اسی جگہ کینوس کا اختتام ہو جاتا تھا، وہ دونوں اس کے کنارے سے منسلک تھیں۔پینٹنگ کے بیچ سے ان تک کوئی راستہ نہ جاتا تھا۔ایک دفعہ دائیں اور پھر بائیں اٹھتے ہوئے، پہاڑ وینگ کی یاداشت سے ’کوہِ ازرق‘ کے سلسلے کی سب سے اونچی چوٹی ’زمرد ٹیکری‘ کی صورت نکلتے ہوئے، دیکھنے والے کے چہرے پر براہِ راست اپنی نوکیلی چوٹیاں اور گہرے خلا پھینک رہا تھا۔

پیش منظر میں موجود دریا میں گرتا جھرنا بھی بمشکل ہی نظر آ رہا تھا:جھونپڑیوں کے جھرمٹ کے بہت اوپر واقع خطرناک چٹانوں پر ایک لمبی بہتی ہوئی دھار، اس کے نیچے ایک چھوٹا سا نالہ، اور اس کے نیچے مڑے ہوئے بازو کی شکل کا ایک مختصر سا حصہ جو چٹانوں سے منسلک تھا۔ مسافر کے کھڑے ہونے کے مقام پر نیچے دائیں کونے سےاوپر بائیں کونے پر چڑھنے کے لئے ،جہاں دوسرے لوگ اپنی جھونپڑی میں بیٹھے تھے، نہ تو کسی پگڈنڈی کا نام و نشان تھا اور نہ ہی کسی پگڈنڈی تک پہنچنے کا کوئی راستہ۔ یہ پورا منظر لارڈ مینگ کے فرحت افزا شاہکار ’خانہ¿ لایموت‘ سے بالکل متضاد تھا۔ پیش منظر میں موجود دریا پر کوئی پل نہ تھا، کسی پرندے یا بے جسم روح کے علادہ پہاڑ کے اندرونی حصے تک، اوپر یاپار پہنچنا کسی کے لئے ممکن نہ تھا۔

لہٰذا ایک ناظر کی پوری توجہ خود پہاڑ پر، اس کی بے انتہا اونچائی کیوں کہ کاغذی طومار کی اونچائی اس کے عرض سے تین گنا تھی، اوراس کی چڑھائی کی پیچیدگیوں پر ہی مرکوز ہو جاتی تھی، بڑھتی اونچائی کے ساتھ ہئیت مزید بے ضبط اور پیچ دار ہوتی جاتی تھی۔یقیناً بائیں جانب جھونپڑیوں کے اوپر پہاڑ مزید بڑھتا، پھیلتا اوراس طرح عجیب الخلقت اونچے نیچے پیچ کھاتا محسوس ہوتا تھا جیسے کسی آتش فشاں کے باعث چٹانیں اب تک پگھلی ہوئی ہوں۔ لیکن یہ اثر ان درختوں جنہیں اس کے کاندھوں پر اگنے کا وقت مل گیا تھا، پہاڑ کے بالائی حصے کے سروں پر اگے ہوئے سبزے اور ایک مختصر کھلے آسمان کے مقابل ایک جسیم پیکانی ابھار کے سیاہ خاکے کی وجہ سے زائل ہو جاتا تھا۔روشنی میں تناقضات موجود تھے۔پہاڑ اپنی کھائیوں یا اہم چوٹیوں کی قطاروں کے ساتھ یا ناظر کے بالکل سامنے کے حصوں میں بہت تاریک تھا لیکن دونوں اطراف یہاں تک کے نیم پنہاں کھوکھلے حصوں کے اندر بھی روشن تھا، جیسے کسی خواب کا منظر ہو یا پھر یاداشت میں صبح اور شام کی اکھٹی ذہنی کیفیت کی عکاسی۔

وینگ بھی اس پینٹنگ کو اختتام شدہ حالت میں دیکھ کر اتنا ہی حیران ہوا جتنا اس کا کزن۔ اس نے ہمیشہ کی طرح تہہ میں موجود چھوٹی ، ٹھوس چٹانوں سے ہی کام شروع کیا تھا او ربعد میں پیش منظر کے اونچے درختوں، دائیں جانب پگڈنڈی اور مسافر کی شبیہہ، اور بائیں جانب چھوٹی سی جھونپڑی کا اضافہ کیا تھا۔ حالانکہ اس نے آغاز میں یہی سوچا تھا کہ شبیہہ سے جھونپڑی تک، درختوں کے پیچھے سے گول گھومتی ہوئی ایک تنگ پگڈنڈی بنائے گا، کسی وجہ سے وہ اسے ظاہر کرنا بھول گیا اور وہاں سے پہاڑی خدوخال میں ایسا مصروف ہوا کہ ان کے مختلف جوڑوں اوربھول بھلیوں میں کھو گیا، اور بس اپنے برش سے ان پیچیدگیوں کو واضح کرنے،پھریرے لگانے، نقطے بنانے، مروڑنے میں یوں لگا رہا کہ ہر اوپر جاتی نئی وضاحت سے اس کا جوش مزید بڑھ رہا تھا۔

شروع ہی سےاس کے ذہن میں تھا کہ وہ ان خیمہ نما جھونپڑیوں کو کہاں رکھنا چاہتا ہے جو لارڈ مینگ کے گوشہ¿ تنہائی کو ظاہر کرتی تھیں،یعنی بائیں طرف اوپر جاتی پگڈنڈی کے تقریباً دو تہائی راستے میں، لیکن وہاں پہنچنے سے پہلے وہ پہاڑ کی طرف آیا تاکہ ان پیڑوں کو جہاں وہ [اپنی بچپن کی محبوبہ ] پیونی کے ساتھ [اس دن] چلا تھا اور اس کے ساتھ موجود جھرنے کے زاوئیے کو پینٹ کر سکے۔پہاڑ کے بظاہر خود رو پھیلاو¿ نے جھونپڑیوں کے لئے کچھ زیادہ جگہ نہیں چھوڑی تھی لیکن تقریباً بغیر سوچے سمجھے، اس نے سامنے اور اوپر والے حصے پر ایک بہت بڑی گہری تاریک چٹان کا اضافہ کچھ اس طرح کر دیا جیسے جھونپڑیوں کو صفحے کے مزید ساتھ دھکیل رہا ہو، اور پھر عقب سے ایک پتھریلی دیوار نما چٹان کے ذریعے انہیں ایک حاشیے میں قید سا کر دیا۔ اسے اب معلوم ہوا کہ اس نے جھونپڑیوں کو نہ تو لازوال روحوں کے کشادہ ، خوش آمدید کہتے گھر میں اور نہ ہی اپنے بچپن کی ذہن میں محفوظ جنت کی شکل میں ڈھالا بلکہ یہ تو’ دریائے ارغواں ‘ سے آگے کا کوئی گوشہ¿ تنہائی تھا، ایک ایسی جگہ جہاں پہنچنے کے لئے ایک سرنگ درکار ہو، اپنے ارد گرد موجود ڈراتی دھمکاتی دنیا سے محفوظ ایک پناہ گاہ۔

اب پہاڑ کی طرف واپس لوٹتے ہوئے اس نے اس کا جسیم کاندھا پینٹ کیا، پھر آبشار کا گرتا دھارا اور آخر میں اس کا عظیم الجثہ بالائی حصہ یعنی کسی دیو کا سا سر جو یوں بائیں جانب جھکا ہوا تھا جیسے ابھی اپنے بالکل نیچے موجود ناتواں تعمیرات پر گر پڑے گا۔ جب اس نے پینٹنگ ختم کر کے اپنے کزن کو دی تو وہ یقین سے نہیں کہہ سکتا تھا کہ اس کے برش کاغذ پر کس مقصد سے کھینچا گیا ہے۔حالانکہ اس کے ہاتھ نے برش کو ضرور تھاما تھا، اسے شاید ہی محسوس ہوا ہو کہ اس سفر پر اس کو کچھ اختیار تھا۔تفصیلات، ہاں بالکل: اس نے اپنی فنی صلاحیتوں کو پوری طرح کام میں لاتے ہوئے سیاہی کو مجبور کیا تھا کہ وہ سطح، پتھر، درختوں کے تنے، سبزہ و برگ، گہرائیاں، اونچائیاں، اور ان کی زیریں ساخت دکھانے کی کوشش کرے۔لیکن اس نے یقیناً کبھی شعوری طور پر وسیع اثرات کا تصور بھی نہ کیا تھا:روشنی کے ذریعے وہ بھید بھری عکاسی، پہاڑ کی وہ کٹھور وضع قطع، اس کے بالائی کگروں کی وہ سفاکیت؟ کیا یہ ان ہیبت ناک زمانوں کی علامت تھے جن میں وہ زندہ تھے؟ کیا انسانوں کی شدت پسندی کی عکاسی اس فطرت میں ہو رہی تھی جس کا وہ جزو تھے؟ یا ان زمینوں کا ناقابلِ تسخیر قالب اب بالآخرایڑیوں کے بل کھڑا ہو رہا تھا تاکہ دخل اندازی کرتے منگولوں کو جھٹکا دے کر پٹخ دے؟ یہ سائباں تھا یا جوکھم، پرامن پسپائی یا متوقع انتشار کی تصویر؟“


Comments

FB Login Required - comments

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 58 posts and counting.See all posts by aasembakhshi