حکومتی اعلان برائے آزادی عدم اظہار


گزشتہ دنوں حکومت پاکستان نے عدالتی حکم پرعمل درآمد کرتے ہوئے پورے صفحے پر مشتمل ایک اشتہار اخباروں میں چھپوایا ہے جس میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ملک میں اظہار کی آزادی کی قطعی گنجائش نہیں۔ آئین کی شق 19 کو کھول کھول کر بتا دیا گیا ہے کہ ہمارا آئین عوام کو تنبیہ کرتا ہے کہ خبردار جو مقتدر طبقے کے خلاف زبان کھولی! نیز یہ کہ آزادی اظہار کی اس مملکت خداداد میں بالکل اجازت نہیں دی جاسکتی۔ لہٰذا اگر کسی کو آزادی اظہار کا بخار چڑھا ہے تو اسے خبردار کر دیا جاتا ہے کہ جیل کی سلاخیں اس کی منتظر رہیں گی۔ اس آرٹیکل کے مطابق وہ تمام غیر منتخب ادارے کسی بھی قسم کی تنقید سے مبرا ہیں جو آج تک ملک کو غلط سمت پر لے جانے کے ذمہ دار ہیں۔

آرٹیکل 19 کیا کہتا ہے یہ بھی دیکھ لیجئے:

“اسلام کی عظمت یا پاکستان یا اس کے کسی حصہ کی سالمیت، سلامتی یا دفاع، غیر ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات، امن عامہ، تہذیب یا اخلاق کے مفاد کے پیشِ نظر یا توہین عدالت، کسی جرم [کے ارتکاب] یا اس کی ترغیب سے متعلق قانون کے ذریعے عائد کردہ مناسب پابندیوں کے تابع، ہر شہری کو تقریر اور اظہار خیال کی آزادی کا حق ہوگا، اور پریس کی آزادی ہوگی۔”

اس شق کے تین نکات پر بات کر لیتے ہیں۔

اسلام کی عظمت:

اسلام کی عظمت سے یہاں کیا مراد ہے اس کی تشریح آئین میں نہیں کی گئی۔ عدالتیں بھی اس پر ہنوز خاموش ہیں۔ عام چلن یہ ہے کہ ملا پر کسی بھی قسم کی تنقید کو اسلام دشمنی قرار دیا جاتا ہے۔ حال یہ ہے کہ ایک ناکے پر گزرتے ہوئے چیکنگ کے دوران سپاہی نے مجھ سے کہا کہ تم گانے کیوں سنتے ہو، مولانا طارق جمیل کا وعظ کیوں نہیں سنتے؟ میں نے کہا بھائی میں کیوں سنوں ان کی تقریر تو کہنے لگے “ہاں، تم کون سا مسلمان ہو گے”۔ یہی حال باقی قوم کا بھی ہے۔ سوشل میڈیا پر متعدد فیس بک پیجز چلانے کے باعث صبح شام یہی تجربہ ہوتا ہے۔ “اجی تم ملا کے پردے میں اسلام کے خلاف بات کرنے کے خواہش مند ہو“۔ پہلے ملا کو اسلام کی عظمت کے مترادف قرار دیا جاتا ہے اور پھر اس پر فتوؤں، دھمکیوں اور گالیوں کا نزول شروع ہوجاتا ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ وزیراعظم صاحب بھی نئے بیانیہ کی بات ملاؤں کے جمگھٹ میں کرتے ہیں۔

پاکستان کا دفاع:

جیسے عظمت اسلام کو کھینچ تان کر ملا تک لایا جاتا ہے ویسے ہی دفاع پاکستان کو عسکریت پسندی کے مترادف قرار دیا جاتا ہے۔ فوجی آمروں کی عسکریت پسند پالیسیوں کی وجہ سے ملک آج لہو لہو ہے۔ پرویز مشرف کے دور میں ایک نکتہ زیر بحث آیا۔ اپوزیشن کی جانب سے آمر عسکری لیڈر شپ پر نکتہ چینی کے جواب میں چوہدری شجاعت نے نعرہ لگا دیا کہ فوج پر تنقید ملک سے غداری ہے۔ اس پر ان کو جواب دیا گیا کہ اگر فوج اپنا کام کرے تو کوئی تنقید نہ کرے، جب سیاست میں ملوث ہوگی تو تنقید تو کی جائے گی۔

مہذب ملکوں میں فوج کا اپنا کام بھی تنقید سے مستثنی نہیں ہوتا اور اس پر بھی منتخب قیادت کے سامنے جواب دہی کرنی پڑتی ہے۔ 71 کی جنگ، سیاچن اور کارگل کا ‘کارنامہ’، ان سب پر جواب دہی ہونی چاہئے۔ جمہوری دور میں بھی بلوچستان کا آپریشن اوردہشت گردی کے خلاف متعدد آپریشنوں پر جمہوری احتساب نہیں ہونے دیا گیا۔ ابھی پچھلی فوجی قیادت کے دور کی بات ہے، اے پی ایس کے دلدوز سانحے کے بعد قوم نے نیپ کے نام پر فوجی قیادت پر اعتماد کیا اور زائد اختیارت دیے۔ جواب میں کبھی ہمیں پتہ چلا کہ ادارے کراچی کی سیاست میں ملوث ہیں تو کبھی پتہ چلتا کہ 2014 کے دھرنے کے پیچھے فلاں سابق جنرل صاحب کا ہاتھ ہے۔ جنرل راحیل شریف جب ریٹائر ہوتے ہیں تو حامد میر صاحب لکھتے ہیں کہ صاحب مارشل لا لگانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ ایسے میں جب فوج کے ظاہری (مارشل لا ادوار) و پس پردہ (جمہوری ادوار) کردار پر تنقید کی جائے تو اسے پاکستان کے دفاع پہ حملے پر محمول کیا جاتا ہے جب کہ ادارے خود آئین میں تجویز کردہ کردار تک محدود رہنا نہیں چاہتے۔

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اگر پالیسیاں منتخب ادارے نہیں بناتے تو عوامی حلقے ان پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کے لئے تنقید بھی انہی اداروں پر کریں گے جو پالیسیاں بنانے کے حقیقی ذمہ دار ہیں۔ پالیسیاں بنا کر ان پر جمہوری ٹھپے لگوا لینے سے ادارے چاہتے ہیں کہ ان پالیسیوں کے نتائج کے وہ ذمہ دار نہ ہوں۔ ایسے چلتا نہیں صاحب!

توہین عدالت:

افتخار محمد چوہدری کا دور ابھی کل کی بات ہے۔  ان پر کسی بھی قسم کی تنقید پر کچھ لوگ پھبتی کستے ہیں کہ جج کے ریٹائر ہونے کے بعد تنقید تو بزدلی ہے۔ نہیں بھائی، ملک کا قانون اجازت نہیں دیتا تھا کہ جب افتخار محمد چوہدری جج کے لبادے میں قانون سے تجاوز کے مرتکب ہوتے تو ان پر کوئی تنقید کر سکے۔ مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کو آئین میں ترمیم کی اجازت دے دی جاتی ہے اور قانون کہتا ہے کہ ایسی عدلیہ پر تنقید نہ کی جائے۔ ایسا صرف اس لئے ہے کہ ادارے اپنی کارکردگی پر کسی قسم کے احتساب کے لئے تیار نہیں ہیں۔ توہین عدالت جیسے نو آبادیاتی قوانین کو ہم نے گلے سے اسی لئے لگا کر رکھا ہے کہ تمام آئینی اور جمہوری ادارے کھل کر کام نہ کر سکیں۔ گورے کی تو یہ منشا تھی، ہمیں اس میں کتنے نفلوں کا ثواب مل رہا ہے؟

عدلیہ امریکہ میں بھی آزاد ہے۔ عوام کا منتخب کردہ صدر سوشل میڈیا پر آ کر نکتہ چینی کرتا ہے، عدالت اپنا کام جاری رکھتی ہے البتہ ایسی توہین سے منتخب صدر کا قد عوام میں گھٹ جاتا ہے۔ لہذا یہ جان لینا چاہئے کہ عدالتوں کا احترام قانون کے مطابق فیصلوں اور بروقت انصاف کی فراہمی سے مشروط ہوتا ہے۔ خلیل جبران کے اقوال کی مدد سے عدالتوں کو احترام نہیں ملتا۔۔۔

غیر ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات:

یہ بھی بہت دلچسپ پابندی ہے۔ اس کے مطابق پچاس کی دہائی اور اس کے بعد جب جب ملک میں فوجی آمریت کا زرد سورج جسموں کو جھلساتا رہا امریکہ پر تنقید غیر قانونی قرار پاتی ہے کیوں کہ ان تمام ادوار میں ہم امریکہ کی گود میں بیٹھے رہے۔ ایسے تمام ادوار میں سی آئی اے کو ٹھکانے دینا بھی جائز بلکہ افضل تھا۔ جمہوری دور میں عالمی دہشت گردوں کی سرکوبی کے لئے ایسا کام البتہ غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ ایسے ہی یہ پوچھنا کہ سعودی عرب یمن میں فرقہ وارانہ کشت و خون میں پاکستان کو کیوں ملوث کرنا چاہتا ہے بھی غیر قانونی ہے۔ غیرملکی سفیر آخر کس اختیار کے تحت سی پیک پر تنقید کرنے والے پاکستانیوں کی حب الوطنی پر شک کا اظہار کر رہے ہیں۔۔۔ ایسا سوال بھی پیارے غیر قانونی ہے۔ لطف یہ کہ احمد بشیر کے مطابق ستر کی دہائی میں وزارت خارجہ قائداعظم پر بننے والی ڈاکومنٹری اس لئے ریلیز نہیں کرنا چاہتی تھی کہ اس میں گاندھی جی پر تنقید کی وجہ سے ہندوستان ناراض ہوجائے گا۔

ہماری ریاست ابھی تک یہ سمجھ نہیں سکی کہ ملکوں کے ساتھ تعلقات قومی مفاد کے تحت بدلتے رہتے ہیں۔ آج کے دوست ممالک کل دشمن بھی بن سکتے ہیں۔ جن وجوہات سے یہ دن پھرتے ہیں ان پر لمحۂ موجود میں تنقید اور جرح کو غیر قانونی قرار دینا کہاں کی دانش مندی ہے۔ آج اگر بادشاہ جہانگیر اس بات پر ملال کرتا پایا جائے کہ کاش اسے کسی نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو اڈے دینے سے روک دیا ہوتا تو کیا کوئی کہے گا نہیں کہ ہم ظل الہی پر ان کی بد نیتی آشکار کرنے سے قاصر تھے۔ جناب آپ کے دربار میں آپ کے منظور نظر ممالک  پر تنقید ممنوع تھی۔

حکومت نے اس کے علاوہ بھی دس قوانین کا ذکر کر کے واضح پیغام دیا ہے کہ جیسا ستر سال سے ہوتا چلا آیا ہے ویسے ہی آگے چلانے کی پوری کوشش کی جائے گی۔ زبان بندی یہاں کا قانون ہے، سنگ و خشت کو مقید رکھنا مقصود ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔