سچ جو سنے نہیں جاتے!


ایک وقت تھا جب ہم پاکستانی یہ مانا کرتے تھے کہ کلاسیکل موسیقی کے لئے بہترین ملک بھارت ہے جہاں اس فن کو سب سے بہتر طور پر سمجھا، برتایا اور پسند کیا جاتا ہے۔ ہر فن کار کی فن کے مطابق پذیرائی ہوتی ہے۔ نچلی ذات کا ہندو بھی فن کی وجہ سے’ پنڈت ‘مانا جاتا ہے۔ دور کے ڈھول سہانے۔ حقیقت میں ایسا نہیں۔ اب انٹرنیٹ کی بدولت حالات سے آگاہی ہو رہی ہے۔ بھارت جیسے ملک میں بھی کلاسیکل موسیقی کا بیڑہ غرق ہو چکا ہے۔ فن میں بھی راج نیتی گھس چکی ہے۔ ایوارڈوں کی بندربانٹ وہاں بھی ایسے ہی ہوتی ہے جیسے ہمارے یہاں۔ اس حوالے سے کچھ سچ ملاحظہ فرمائیے۔

دنیا نے روی شنکر کو سر پر چڑھا۔ یہ ستار میں واحد ’بھارت رتنا‘ تھے۔ اگر معیار صرف فن ہو تو ان کا ستار کچھ بھی نہیں ولایت خان یا شریف خان پونچھ والے کے آگے۔ ان سے کہیں بہتر فنکار ان کی بیگم انوپورما دیوی تھیں جن سے یہ حسد کرتے تھے کیونکہ سنوئے انہیں زیادہ داد دیتے تھے۔ بیچاری نے کیا کچھ نہیں کیا ان کے لئے۔ پہلے مسلمان سے ہندو ہوئی تا کہ شادی کر سکے۔ پھر سر بہار بجانا چھوڑ دیا تا کہ داد صرف شوہر کو ہی ملے۔ مگر شادی پھر بھی نا کام ہو گئی اکیس برس بعد!

روی شنکرکے ستار میں روح داری برائے نام اور گرامر برابر ملتی تھی۔ مگر ولایت خان کا ستار گاتا تھا اور شریف خان تو سحر طاری کر دیتے تھے۔ ولایت خان کا تو پھر بھی نام ہوا مگر شریف خان غلطی سے پاکستان میں ہی رہ گئے تقسیم کے بعد اور غربت میں ہی جوان موت مر گئے۔ ویسے روی شنکر نجی محفلوں میں یہ مانتے تھے کہ ستار تو صرف شریف خان اور ولایت خان ہی بجاتے ہیں۔

ولایت خان کا بیٹا شجاعت انتہائی عامیانہ سا ستار بجاتا ہے مگر کہلواتا اپنے آپ کو legendary maestro ہے۔ ستار بجاتے بجاتے انتہائی بھونڈی آواز میں بے سرا گانا شروع کر دے گا۔ دو طبلئے سنگت پر رکھے گا کہ جیسے ستار ’انتہائی نگہداشت یونٹ‘ میں پڑا ہے اور دو طبلے آکسیجن مہیا کر رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ولایت خان کے بھانجے ہیں شاہد پرویز۔ اپنے آپ کو استاد بھی نہیں کہلوانا پسند کرتے۔ فن اور کام میں ولایت خان کو بھی پیچھے چھوڑ چکے ہیں بالکل ایسے جیسے ذاکر حسین اپنے والد االلہ رکھا کو۔ مگر ایسا کہنے والا کافر!

شاہد نے بھی ولایت خان کی طرح ستار کے ڈھانچے میں تبدیلیاں کیں۔ آجکل ستار کے تین ماڈل بازار میں ملتے ہیں۔ ولایت خان، روی شنکر اور شاہد پرویز۔ ولایت خان نے تمام عمر لے کاری میں ہاتھ نہیں ڈالا۔ شاہد پرویز نے خطرناک لے کاری کی جیسے شیو کمار شرما کرتے ہیں سنتور پر۔ خوشامدی نہیں ہیں اور راج نیتی کے نیم سے بھی نا واقف۔ اسی لئے ابھی تک صرف پدما شری ہیں۔ سنگیت ناٹک اکیڈمی ایوارڈ پہلے ہی لے چکے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ بھارت رتنا بھی ان کے فن کے آگے چھوٹا ہے مگر ایسا کہنے والا احمق!

اس کے مقابلے میں ایک سرقے باز ہے جو اپنے آپ کو پنڈت کہتا ہے۔ ولایت خان اور شاہد پرویز کی گتیں بجاتا ہے۔ نام ہے وشوا موہن بھٹ۔ مغربی ساز گٹار میں کچھ الٹا سیدھا جگاڑ کر کے اسے ’موہن وینا‘ کا نام دے دیا ہے۔ نہ تین میں نہ تیرہ میں۔ اس نام نہاد وینا کوکچھ دیر سننے کے بعد tinnitusشروع ہو جاتا ہے۔ یہ خود ساختہ پنڈت پدما بھوشن ہیں جو کہ تیسرے درجے کا ایوارڈ ہے۔ پدما شری سے ایک درجے اوپر ہے۔ نا انصافی کی انتہا ملاحظہ ہو۔ ولایت خان کے بھائی امرت خان صاحب کو اب جا کر، اکاسی سال کی عمر میں پدما شری ملا اور وہ بھی بیرون ملک ہندوستانی (NRI)کے کوٹے پر کیونکہ ان کے پاس کینیڈا کی شہریت ہے۔ امرت خان کا سر بہار میں وہ مقام ہے جو ستار میں ولایت خان صاحب کا۔ یعنی کل کے نالائق لونڈے لپاڑے پدما بھوشن ہو گئے اور سچے استاد کو اب جا کر پدما شری دیا جا رہا ہے۔ ہمیں افسوس ہوا کہ امرت خان نے پدما شری قبول کیا۔ ٹھکرا دینا بہتر تھا! ان کے بھائی نے پدما شری، پدما بھوشن اور پدما وی بھوشن یہ کہہ کر ٹھکرا دیے کہ یہ ایوارڈ ان سے پہلے روی شنکر کومل گئے۔ بھارت سرکار کو گھٹنے ٹیکنے پڑے ولایت خان کے آگے۔ ان کے لئے ایک خاص ایوارڈ جاری کیا گیا ’آفتابِ ستار‘۔ اب ایک ہی آفتابِ ستار ہے جس کا نام ہے ولایت خان۔

برصغیر پاک و ہند کا بڑے سے بڑا اور ٹٹ پونجیے سے ٹٹ پونجیا گانے والا بڑے غلام علی خان اور امیر خان صاحب کی پیروی کرتا ہے۔ مگر مانتا نہیں ہے۔ الٹا یہ کہتا ہے کہ یہ دونوں اس کے گھرانے کی پیروی کرتے تھے۔ یہ گھرانے والے بھی ’سیدوں‘ کی طرح ہو گئے ہیں۔

علی اکبر خان کا بڑا نام ہے سرود میں لیکن ان کے سرود کی مینڈھ بہت ہی چھوٹی! امجد علی کا سرود تو جھوم جھوم کر گاتا ہے اور علی اکبر کے سرود سے پڑانگ پڑانگ، کڑانگ کڑانگ جیسی آواز آئے گی۔ پر ایسا سچ بولنے والا واجب القتل! ایک کڑوا سچ امجد علی کو بھی نگلنا پڑے گا۔ ان کے بیٹے امان اور ایان ان کے مقابلے میں تو کچھ بھی نہیں۔ بس سرود بجاتے ہیں پر ابا جی اپنا سارا سیاسی اثر ورسوخ استعمال کرنے سے نہیں چوکتے بچوں کو legendبنانے کے لئے۔ سرود امجد علی کی ایک ایسی جاگیر ہے جو ترکے میں بیٹوں کو نہیں مل سکتی۔ یہ صرف اس کی ہے جو محنت کرے گا اور جس پر االلہ کا کرم ہو گا۔ امجد علی پدما شری کمیٹی کے ممبر ہیں۔ اکہتر برس کے ہو چکے ہیں مگر شرم نہ آئی اپنے ہی بچوں کو پدما شری کے لئے نامزد کرتے ہوئے۔ شکر ہے نہیں ملا ورنہ بہت ہی تھو تھو ہوتی! امجد علی انتیس برس میں بھارت کے سب سے کم عمر پدما شری تھے۔ وہ چاہتے ہیں ایسا ہی ان کے بیٹوں کے ساتھ بھی ہو۔ شکر ہے ابھی اتنی اندھیر نگری نہیں۔

ایک گائیک ہیں رشید خان۔ ان کے گانے میں روح داری صفر۔ آواز میں مٹھاس بھی نہیں۔ پر باتیں یہ بڑی بڑی کرتے ہیں۔ پدما بھوشن ہیں۔ بھیم سن جوشی، جنہیں گانے میں بھارت رتن ملا اور ان کے گانے میں بھی کوئی اثر یا روح نہیں تھی کے مطابق رشید خان بھارت کا مستقبل تھا گانے میں۔ بھارت کا مستقبل بہت ہی برے وقت سے گذر رہا ہے۔ گانے میں دنیا بھر کا کوڑا کرکٹ اب بھارت میں ہی پایا جاتا ہے۔ گلزار جیسا شاعر بھی بیہودہ بازاری فلمی شاعری کرکے پاپی پیٹ پال رہا ہے۔ گویا تو اجے چکرابرتی ہے مگر صرف پدما شری ہے! اس سچ کے ساتھ ہی ایک اور سچ، ہندو پنڈتوں کا گانا روکھا مگر گرائمر مضبوط ہے۔ البتہ ان کی عورتوں کا گانا کمال کا ہے۔ پر ایسا کہنے والا پاپی!

ایوارڈوں کی عزت کے ساتھ کافی’ بالات کار ‘ہو چکا۔ اب ایوارڈز بھی بنتی کر رہے ہیں کہ ہماری آبرو کے ساتھ کھلواڑ بند کرو۔ بھارت رتنا کہہ رہا ہے کہ مجھے ذاکر حسین، امجد علی خان، شیو کمار شرما، شاہد پرویز، اجے چکرابرتی اور کشوری امونکر نواز دوتا کہ میرا کھویا ہوا وقار مجھے دوبارہ مل جائے۔ پر یہ سچ سننے والا کوئی نہیں بھارت میں!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

محمد شہزاد

شہزاد اسلام آباد میں مقیم لکھاری ہیں۔ ان سے facebook.com/writershehzad پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

muhammad-shahzad has 40 posts and counting.See all posts by muhammad-shahzad