سیاست کا کھیت اور غیر جمہوری سوچ کی آکاس بیل


mujahid aliپاکستان میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے اس اعلان نے بہت لوگوں کو اذیت میں مبتلا کیا ہے کہ وہ نومبر میں اپنے عہدے کی مدت پوری ہونے پر باعزت طریقے سے ریٹائر ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیکن فوجی قوت کے سہارے اپنی سیاست اور سماج سیوا کی گاڑی چلانے والے بہت سے گروہ اور تنظیمیں اس فیصلہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ اپیل کر رہی ہیں کہ موجودہ بحران میں وہ قوم و ملک کو اکیلے چھوڑ کر نہ جائیں۔ ان کے جانے سے اس عظیم کام کو کون مکمل کرے گا جو آپریشن ضرب عضب کی صورت میں دہشت گردوں کے خلاف اور قومی ایکشن پلان کی شکل میں کرپشن یا دہشت گردوں کی مالی امداد کرنے والوں کے خلاف شروع کیا گیا ہے۔ لیکن ان عناصر کا اصل مقصد فوج کی خوشامد اور اس کے تعاون سے ملک میں جمہوریت کی رہی سہی امید کو ختم کرنا ہے۔ اب اس سے ملتی جلتی ایک خبر ڈنمارک سے بھی آئی ہے۔ وہاں ایک سروے میں 40 فیصد مسلمانوں نے یہ قرار دیا ہے کہ ملک کے قوانین کی اساس ڈینش آئین کے ساتھ قرآن پر بھی ہونی چاہئے۔ ان میں سے بھی گیارہ فیصد یہ کہتے ہیں کہ ڈنمارک میں قانون سازی کے لئے صرف قرآن ہی کافی ہے۔ مقامی معاشروں کے رحم و کرم پر آباد ایک اقلیت میں اس قسم کے تصورات مسلمانوں کی مشکلات میں اضافہ کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ انہیں ہرگز احساس نہیں ہے کہ اس طرح نہ اسلام کی خدمت ہوتی ہے اور نہ وہ خود کو اچھا شہری ثابت کرتے ہیں۔

ان دونوں خبروں میں جو مزاج یکساں ہے، وہی اس وقت دنیا بھر میں کسی نہ کسی شکل میں مسلمانوں کے لئے مشکلات کا سبب بنا ہوا ہے۔ پاکستان کے علاوہ دنیا کے بیشتر مسلمان آبادی والے ملکوں میں یہ تصور عام کیا گیا ہے کہ اگر ایک بار قرآن کے احکامات یعنی شریعت نافذ ہو گئی تو دنیا کے سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔ اس تصور کی بنیاد کسی تحقیق ، ماضی کے کسی تجربہ یا عام طور سے پائی جانے والی جمہوری خواہش نہیں ہے بلکہ اسے ماضی قریب سے اب تک کسی نہ کسی طرح ایک جذباتی نعرے کے طور پر مسلمانوں کے دل و دماغ میں راسخ کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ اس میں کارفرما اصول یہ نہیں ہے کہ لوگ خود اپنی زندگیوں کو معیاری اور اپنی صوابدید میں بہتر اخلاقی اصولوں (جن میں قرآن و سنت کے بتائے ہوئے رہنما اصول بھی شامل ہو سکتے ہیں) پر استوار کر لیں۔ بلکہ یہ ترغیب دی جاتی ہے کہ اسلام کو نافذ کر دیا جائے تو معاملات از خود درست ہو جائیں گے۔ جس طرح پاکستان میں یہ نعرہ عام کر دیا گیا ہے کہ نظریہ پاکستان کے تحت اسلام نافذ کر دیا جائے تو ملک و قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائیں گے۔ اس شدت دلیل میں نہ نظریہ پاکستان کی وضاحت کرنے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے، نہ تاریخی تناظر میں حالات کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا جاتا ہے اور نہ یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ خاص سیاسی ماحول میں حالات و واقعات کی ایک خاص ترتیب کے سبب پاکستان وجود میں آیا تھا۔ حق یہ ہے کہ ہم اس ملک کی حفاظت نہیں کر سکے اور ملک بننے کی چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اکثریتی آبادی والا علاقہ علیحدگی اختیار کرنے پر مجبور ہو گیا۔ باقی ماندہ پاکستان میں بھی مختلف صوبے اور پنجاب کے مختلف علاقے اپنی مقامی لسانی ، تہذیبی ، انتظامی اور سیاسی ضرورتوں کے حوالے سے وفاق کو شک کی نگاہ سے دیکھتے رہتے ہیں۔ لیکن جمہوریت کے نعرے لگانے کے باوجود ان شبہات کو دور کرنے اور ان علاقوں کے لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے کوئی اقدام دیکھنے میں نہیں آتے۔ اس کا جواب دینے کے لئے قومی اتحاد اور اسلامی وقار کے نعرے لگا کر کام چلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

phpThumb_generated_thumbnailاسی مزاج اور رویہ کا نتیجہ ہے کہ جمہوریت کا نعرہ لگانے کے باوجود بعض حلقے مسلسل اس کے سر پر ”فوجی انقلاب“ کی تلوار مسلط رکھنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ملک کی مختصر تاریخ کا دوٹوک سبق ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد فوج نے کسی بہتری کے لئے کوئی کام نہیں کیا بلکہ ملک میں فوج کی قوت پر اقتدار سنبھالنے والے چاروں جرنیلوں نے اپنے اپنے طور پر سازشوں ، جوڑ توڑ ، قانون شکنی اور جھوٹ کا سہارا لے کر اپنے اقتدار کو طول دینے کی کوشش کی تھی۔ اس کے باوجود ملٹری اسٹیبلشمنٹ پیر تسمہ پا کی طرح ہر قومی شعبہ پر حاوی و مسلط رہی ہے۔ سیاسی فیصلوں کا راستہ مسدود کیا جاتا ہے اور ملک میں جمہوری طریقہ کار پر نت نئی قدغن عائد ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر ایک جرنیل نے عقل سلیم سے کام لیتے ہوئے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ فوج کا ادارہ کسی فرد کی قیادت کا محتاج نہیں ہے بلکہ یہ اجتماعی کوشش و کاوش کی وجہ سے پروان چڑھ رہا ہے تو بہت سے لوگوں کو یہ بات ہضم نہیں ہوتی۔ اور وہ ”جانے کی باتیں نہ کرو“ کے بینر لے کر سڑکوں ، شاہراہوں پر نکلے ہیں۔ کیوں ادارے کی فوقیت کا اصول طے ہونے کے بعد ان عناصر کی ضرورت نہیں رہتی جو جمہوریت اور فوج کی چپقلش میں اپنے لئے گنجائش پیدا کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ اس لئے حیرت کی کوئی بات نہیں ہے کہ ان عناصر میں اکثریت ملک میں اسلامی نظام نافذ کرنے اور عقیدہ کے نام پر جبر مسلط کرنے کے خواہشمندوں کی ہے۔ انہیں ہر آرمی چیف کی صورت میں ایک سرپرست میسر آتا ہے اور اس کے جانے کے اعلان پر ان کا رنجیدہ ہونا قابل فہم بھی ہے۔

سچ یہ ہے کہ اگر پاکستان کو اپنی موجودہ جغرافیائی شکل میں بھی ہمیشہ کے لئے قائم رہنا ہے تو وہ اسی اصول پر عمل کرنے سے ممکن ہے جن کی بنیاد پر اسے حاصل کیا گیا تھا۔ یعنی لوگوں کا حق رائے دہی۔ آپ ہزار بحث کیجئے کہ پاکستان صرف اسلام نافذ کرنے کے لئے قائم ہوا تھا لیکن اس سچائی سے کیسے انکار کریں گے کہ اگر 1946 کے انتخابات میں مسلم لیگ عوامی تائید حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوتی تو یہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا تھا۔ مسلم لیگ کے لئے عوامی تائید کے حوالے سے بھی کئی مباحث جنم لے سکتے ہیں۔ کہنا صرف یہ مقصود ہے کہ جو ملک ووٹ کی طاقت سے قائم ہوا، وہ اسی کی طاقت سے مضبوط ہو گا اور پروان چڑھے گا۔ اس اصول کو مسترد کرنے والے لوگ دراصل اس ملک کی اساس سے انکار کرتے ہیں۔ اسی لئے وہ کبھی جمہوریت کو ملک کے مسائل کا مکمل حل نہیں سمجھتے اور اسی لئے عقیدہ اور اس کے لوازمات کو سیاسی ضرورتوں کے ساتھ ملا کر شریعت نافذ کرنے کی بات کی جاتی ہے۔ کہ جہاں عوامی تائید حاصل نہ ہو سکے، وہاں اسلام کا نام لے کر مخالفین کو خاموش کروایا جا ئے۔

کسی حد تک شدت پسندی کے اسی نظریہ کی وجہ سے ہی دنیا بھر میں ایسے دہشت گرد گروہوں نے فروغ پایا ہے جو ایک تصوراتی اسلامی نشاة ثانیہ کی بحالی کے لئے خون بہانا اور قتل و غار ت گری کرنا عین فرض منصبی اور مذہبی عقیدہ سمجھتے ہیں۔ جو بھی اس شدت پسندی کے خلاف بات کرنے کی کوشش کرتا ہے اسے مغرب کا ایجنٹ اور اسلام کا دشمن قرار دینے میں دیر نہیں کی جاتی۔ حالانکہ بحث نہ اسلام کے اصولوں سے ہے اور نہ یہ دلیل لائی جا رہی ہے کہ قرآن و سنت کے ایک خیالی تصور پر قائم ہونے والی جو مملکت قائم ہو گی، اس کے خدوخال کیا ہوں گے۔ اس کی جو ظاہری صورتیں ہمیں اپنے زمانے میں دیکھنے کو ملی ہیں ان میں سعودی عرب میں شہنشاہانہ طریقہ حکومت ہے جہاں مذہبی اجارہ داری ایک خاص طرز فکر کو عطا کرتے ہوئے، اقلیتوں ہی کے نہیں دیگر تمام مسالک کے حقوق محدود کر دئیے گئے ہیں۔ ایک صورت طالبان نے افغانستان پر اپنے مختصر دور میں دکھائی تھی جہاں دلیل، حجت ، تعلیم اور مساوی حقوق کی بات اسلام کے احکامات کی مخالفت قرار پائی تھی۔ کچھ ایسی ہی شکل شام و عراق میں خلافت قائم کرنے کے دعویدار داعش نے دنیا کے سامنے پیش کی ہے۔ اگر اصول مملکت قتل کرنے ، مسترد کرنے ، گروہی انصاف عام کرنے اور انسانی حقوق مسترد کرنے کو قرار دیا جائے گا تو غیر تو غیر مسلمان بھی ایسے اسلام کے سیاسی پہلوﺅں کو قبول کرتے ہوئے کانوں کو ہاتھ لگائیں گے۔

اس لئے جب ڈنمارک میں پانچ دہائیوں سے آباد مسلمانوں میں سے 40 فیصد یہ کہتے ہیں کہ اس غیر مسلم آبادی کے ملک کے قوانین قرآن پر استوار ہونے چاہئیں تو مقامی آبادی اور سیاستدانوں کا پریشان ہونا لازمی ہے۔ اس قسم کے سروے کبھی اصل صورتحال پیش کرنے کا دعویٰ نہیں کرتے۔ اس لئے ڈنمارک میں قرآنی قوانین نافذ کرنے کی خواہش سامنے لانے والے سروے کو بھی مکمل طور سے نمائندہ نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس سروے میں سامنے آنے والی رائے کے سماجی اور سیاسی اثرات کے خطرات سے نگاہ بھی نہیں چرائی جا سکتی۔ ڈنمارک 55 لاکھ نفوس پر مشتمل ایک جمہوری ملک ہے جس میں مسلمانوں کی تعداد تین لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ ان میں سے اکثر گزشتہ تیس چالیس برس کے دوران وہاں آ کر آباد ہوئے ہیں۔ اب اگر اتنی چھوٹی اقلیت کسی ملک پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی بات کرے گی تو سماجی اور سیاسی سطح پر تشویش پیدا ہونا فطری بات ہے۔ یہ رائے بھی ان غلط تصورات کے عام ہونے کی وجہ سے استوار ہو رہی ہے جس میں عقیدہ فرد کی اصلاح تو نہیں کرتا لیکن معاشرے پر قانون نافذ کر کے اسے اسلامی بنانے میں بضد ہے۔ ڈنمارک کے آرہس کے علاقے کی ایک مسجد کے امام نے اس خواہش پر اصرار کرتے ہوئے یہ دلیل دی ہے کہ قرآن اور ڈینش آئین میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس لئے قرآن کی بنیاد پر قانون سازی کی خواہش فطری اور جائز ہے۔

غور کیا جائے تو موصوف یہ کہنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ڈنمارک میں جو قوانین اور نظام نافذ العمل ہے، وہ عین اسلامی روایات اور تقاضوں کے مطابق ہے۔ اسی لئے مسلمان مزید قوانین قرآن کے مطابق بنوانے کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں۔ اگر اس حجت کو تسلیم کر لیا جائے تو پوچھا جا سکتا ہے کہ اگر ڈینش نظام اسلامی قواعد کے عین مطابق ہے تو وہاں آباد مسلمان اسے تباہ کرنے پر کیوں تلے ہیں۔ کیونکہ جب آپ قرآنی قوانین نافذ کرنے کی بات کرتے ہیں تو ڈنمارک تو کیا مغربی دنیا میں کہیں بھی رہنے والے لوگوں کو بلاتخصیص عقیدہ یہ گمان ہو گا کہ یہ لوگ داعش اور طالبان کا اسلام لانے کی بات کر رہے ہیں۔ کیا مغربی ممالک میں آباد مسلمان اس بنیادی کامن سینس سے بھی محروم ہو چکے ہیں یا ان کے مذہبی پیشوا اسلام نافذ کرنے کی خواہش کے لئے جھوٹ بولنا اور کہنے اور کرنے کے دوہرے معیار پر عمل کو برا نہیں سمجھتے۔

ڈنمارک سمیت یورپ کے بیشتر ملکوں میں رہنے والے مسلمانوں کی زندگیاں اسی دہرے معیار کی نمائندہ ہیں۔ اس کی کافی حد تک ذمہ داری یہاں قائم ہونے والے مساجد اور ان میں مقرر مذہبی پیشواﺅں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ مسلمان مساجد تعمیر کرنے میں جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن یہ اقدام کرنے سے پہلے کبھی یہ شعوری کوشش نہیں کی جاتی کہ رزق حلال حاصل کرنے کے لئے ٹیکس چوری نہ کیا جائے، سماجی بہبود کی مراعات حاصل کرنے کے لئے جھوٹ نہ بولا جائے، غلط عذر پر بیماری کی چھٹی لے کر سرکاری مفادات حاصل کرتے ہوئے بلیک مارکیٹ میں کام یا کاروبار نہ کیا جائے۔ کیا کوئی ان مسلمانوں کو بتا سکتا ہے کہ اگر وہ بطور انسان اسلام کا نمونہ بن جائیں گے تو ملک کے قوانین غیر اسلامی ہوتے ہوئے بھی ان کی معاونت کریں گے۔

ہزاروں میل کی مسافت سے ہجرت کر کے یہ لوگ اس لئے مغربی معاشروں میں آباد ہوئے ہیں کیونکہ انہیں ان کے اصل وطن میں نہ حقوق حاصل ہیں اور نہ روزگار اور ترقی کے مواقع میسر ہیں۔ اب انہی عادات کو نئے معاشروں میں اپنانے سے کون سی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے؟ پھر چاہے قرآن نافذ کر دیں، کیا فرق پڑے گا۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 418 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali