خوشحالی اور۔۔۔ گھریلو سافٹ ویئر کا وائرس


پاکستان کا ایک اہم مسئلہ دولت کی غیر مساوی تقسیم ہے اور کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک مرتبہ معاشی انصاف کی کنجی ہاتھ لگ گئی تو معاشرہ جنت کا نمونہ بن جائے گا ۔ پھر بھی شائد آپ نے کبھی محسوس کیا ہو کہ حالیہ برسوں کے دوران ہم میں سے جو لوگ مالی فراوانی کی منزل کو پا گئے ہیں، ان کے یہاں بھی یہ تازہ خوشحالی فی کس خوشی میں کوئی نمایاں اضافہ کیوں نہیں کر سکی ۔ میں نے تو اسلام آباد ، کراچی اور لاہور کے بڑے بڑے شاپنگ سنٹر گھوم پھر کر دیکھ لئے ، ائر پورٹ کی ڈپارچر لاؤنج میں چہروں کی کتابیں پڑھتا رہا، صبح دم کسی نہ کسی مہنگے تعلیمی ادار ے کے گیٹ پر گاڑی روک کر والدین کی حرکات و سکنات کا مشاہدہ کر تا رہا ۔ ہر جگہ پنجابی محاورے کے مطابق، ’سوجے ہوئے بوتھے ‘ ہی نظر آئے اور ہر بار میری مسکراہٹ کی بھیک ایک بے بس شرمندگی سے دو چار ہو کر رہ گئی۔ اس اعتراض کا مقبول جواب تو یہ ہے کہ حضور ، آپ کس ذہنی آسودگی کی بات کرتے ہیں،یہ چمک دمک تو اقتصادی مار دھاڑ کی دین ہے ، اس سے انسان کو حقیقی مسرت کہاں نصیب ہو سکتی ہے، مگر ، قارئین کرام ، میں پرمٹ ، ڈرگ یا لینڈ مافیا سے وابستہ زمین دوز کرداروں کی بات نہیں کر رہا۔ میری تشویش تو اس بھولی بھالی ، قانون پسند اور مائل بہ خوشحالی مڈل کلاس کے بارے میں ہے جس کے پھیلاؤ میں پاکستان بننے کے بعد ایک سماجی انقلاب کی حد تک اضافہ ہوا اور ابھی تک ہو رہا ہے ۔ یہ دوسری بات ہے کہ اس حد درجہ تیز رفتار عمل میں خواہشات کا گھوڑا سرپٹ دوڑاتے ہوئے اس نوزائیدہ کلاس کا ’سراپا‘ وہاں پہنچ گیا ہے جہاں ،بقول پروفیسر انور مسعود ’سر وکھرا تے آپا وکھری‘۔

اس میں شک نہیں کہ دنیا کا کوئی بھی ملک ہو،و ہاں مجموعی سماجی اقدار کے تعین اور ان کی نشوونما میں فیصلہ کن کردار کی توقع درمیانے طبقے ہی سے کی جاتی ہے ۔پاکستان میں اس نئے طبقے کا وجود اس لئے بھی اہم ہے کہ اس کے ظہور کے پیچھے کسی طے شدہ مملکتی پالیسی کا دخل کم اور عوامی ہمت و کاوش کی توانائی زیادہ کار فرما دکھائی دے گی۔اس لحاظ سے غور کریں تو چاروں طرف انفرادی کامیابیوں کی داستانیں بکھری ہوئی ہیں۔عزت نفس رکھنے والے ایک بزرگ، مستری رحمت علی سے بچپن میں یہ الفاظ سنے تھے کہ ’جب جالندھر سے بازار تلواڑاں ، راولپنڈی پہنچے تو اس وقت یہی سوچا تھا کہ بس ایک توا اور ایک ہانڈی رکھیں گے ، لیکن اب پھر دنیا داری میں پڑ گئے ہیں ، پھر بھی خدا نے بہت کچھ دیا ہے‘۔ اگر یہ فرض کر لوں کہ مستری صاحب کے بچوں کی طرح پاکستان کی کا ہر کامیاب پروفیشنل ، فرض شناس افسر یا کاروباری آدمی محض نیک والدین کی اخلاقی تربیت کی بدولت مادی زندگی میں کامیاب ہوا تو یہ میری خواہش پرستانہ سوچ کے سوا کچھ نہیں۔ ہاں، نئی طبقاتی اور علاقائی ناہمواریوں کے باوجود یہ ضرور ہے کہ موجودہ پاکستان میں پیشہ ورانہ اور کاروباری شعبوں میدانوں میں ہم لوگوں نے جس طرح ماضی کی غیر مسلم مڈل کلاس کی جگہ سنبھالی،وہ ایک عظیم الشان اجتماعی تجربہ تھا، لیکن سوال پھر وہی ہے کہ ہم میں سے جو شریف آدمی پہلے کے مقابلے میں اب زیادہ ’سَوکھے‘ ہو گئے ہیں، وہ اپنی خوشحالی کے تناسب سے خوش کیوں دکھائی نہیں دیتے؟ ائیر کنڈیشنر، ریفریجریٹر اور کاریں بھی خریدتے جاتے ہیں اور ساتھ ہی یہ واویلا بھی ہے کہ ضروری اشیا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔

چونکہ ہمارے لئے بصیرت کا منبع مغربی دُنیا ہے،اِس لئے اکنامکس کے طالب علم کو اہلِ مغرب نے برسوں پہلے انڈیکس نمبر نکالنے کا طریقہ سکھایا دیا ہے ۔ اس کے تحت ماضی کے کسی مرحلے پر اشیائے ضرورت کے نرخوں کو بنیاد بنا کر ہم ان کا موازنہ آج کی قیمتوں سے کرتے ہیں۔یوں اگر پچھلے25 سال کا تقابل مقصود ہے تو مارچ1997ء میں کسی بھی ضروری چیز کے ریٹ کو روایتی طور پر سو روپے فرض کر لیا، اور موجودہ قیمت اگر دوگنی ہے تو دو سو لگا لی اور تین گنی ہے تو تین سو ۔ پھر مختلف اشیا کی موجودہ قیمتوں کی فہرست کو جمع کرکے ہر آئٹم کی اوسط قیمت نکال لی اور پھر یہ دیکھا کہ ایک دہائی پہلے کی اوسط سے اس کا تناسب کیا بنتا ہے۔یہ ایک ٹیکنیکل سا طریقہ ہے،مگر جتنا دلچسپ ہے اُتنا ہی سبق آموز بھی ہے۔

اس سافٹ ویئر کا وائرس کیا کام کرتا ہے، یہ دکھانے کے لئے میں آپ کو پینتالیس سال پیچھے لے چلوں گا، اور بنیادی قیمتوں کے لئے گنڈیری ، سیخ کباب اور پٹرول کا انتخاب کروں گا۔ گنڈیری چار آنے سیر (یعنی کلو سے کوئی چھٹانک بھر کم) ، سیخ کباب روپے کے آٹھ ، اور پٹرول ایک دوست کے ہمراہ اٹھنی اٹھنی ڈال کر ایک روپے کا کوارٹر گیلن یا آج کے حساب سے ایک لیٹر) ۔ آپ چاہیں تو گنڈیری کو غیر سنجیدہ آئٹم سمجھ کر نظر انداز کر دیں اور یہ بھی بھول جائیں کہ ٹاٹ مارکہ اسکولوں کے باہر پرچون میں ایک بڑے پیسے کے عوض تین عدد گنڈیری اور نو عدد گنڈیں دستیاب تھیں۔ اگر ’گنڈیں‘ والی بات سمجھنے میں دشواری پیش آ رہی ہو تو اس میں پریشانی کی بات نہیں ۔ بس یہ پتا چلتا ہے کہ آپ خالص انگلش میڈیم آدمی ہیں اور آپ کا بچپن پنجاب کے کسی قصباتی شہر میں نہیں گزرا ۔ میری دیگر اشیائے ضرورت کے ضمن میں انڈیکس نمبر کے طے شدہ طریقے کے مطابق، پچاس سال پہلے کے دو آنے نرخ کو سامنے رکھا جائے تو آج کا سو روپے والا سیخ کباب آٹھ سو گنا قیمت کا حامل ہے۔پٹرول کا نصف خرچہ اس دوست کے ذمہ تھا جسے موٹر سائیکل بلا اجازت نکالنے کے لئے اپنے ابا کے دائیں بائیں ہونے اور پٹرول کا روپے بھر کا ’پوا ‘ خریدنے کے لئے میری اٹھنی کا انتظار رہتا ۔ اب اگر میرا پٹرول کا موجودہ خرچ 500 روپے یومیہ سمجھ لیا جائے تو اٹھنی کے مقابلے میں ہزار گنا ہوا۔ انڈیکس نمبر کے حساب سے کباب کی پرانی اور نئی قیمت کا تناسب سو اور اسی ہزار، جبکہ پٹرول کا سو اور ایک لاکھ بنتا ہے۔

ان عجیب و غریب مثالوں کا مقصد خود کو اسحاق ڈار کے پائے کا ماہر اقتصادیات ثابت کرنا ہر گز نہیں۔ صرف اتنا اشارہ دوں گا کہ اشیائے ضرورت، آسائشوں اور تعیشات کی زمرہ بندی اور اس میں ترمیم و اصلاح ایک ایسی سائنس ہے،جس کے ذریعے کچھ چالاک لوگ خوشحال آدمی کو بھی کم وسیلہ ہونے کے کمپلیکس میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ ناشکری کا وائرس اسی ذہنیت سے پیدا ہوتا ہے ۔ سیخ کباب اور پٹرول کا انڈیکس نمبر نکالتے ہوئے بھی اس حقیقت کو گول کر دیا گیا ہے کہ پچاس سال پہلے مَیں پرل کانٹی نینٹل کا نہیں،امام دین کبابئے کا گاہک تھا، جو زمین پر بیٹھ کر پنکھی جھلتے ہوئے میزبانی کرتا۔ رہی سانجھے پٹرول سے چلنے والی بائیک کی بات تو موٹر سائیکلوں میں اس کی کیٹگری وہی تھی جو انسانوں کے درمیان حال ہی میں شناختی کارڈ کا حق حاصل کر لینے والی مخلوق کی ہے۔ ہماری نئی مڈل کلاس کا المیہ یہی ہے کہ وہ اپنا انڈیکس نمبر میرے آزمائے ہوئے طریقے سے نکالتی ہے اور درویشی کا بھرم قائم رکھنے کے لئے میری ہی طرح یہ نہیں بتاتی کہ اب سیخ کباب کتنے ستاروں والے ہوٹل سے کھائے جاتے ہیں اور پٹرول اور پیڈل دونوں طرح سے چلنے والی موٹر سائیکل کی جگہ کتنے سی سی کی کار میں بیٹھ کر غربت کا ڈھول پیٹا جاتا ہے ۔ مسائل تو بے شمار ہیں ، لیکن اگر میری طرح آپ بھی اپنے گھر کے اندر طبقاتی کشمکش سے دوچار ہیں تو آئندہ گرمیوں میں ایک روز اونچی چھت والے کمرے میں جا بیٹھئے جس کے اندر کی طرف لکڑی اور باہر مٹی کی لپائی ہو۔ پھر روشندان اور کھڑکیاں کھولئے اور دال سبزی جو بھی میسر ہو اللہ کا نام لے کر کھا لیجئے ۔ شرط یہ ہے کہ کھانا مٹی کی ہانڈی میں تازہ تازہ بنایا گیا ہو ۔ ’پانی والی ٹینکی‘ کے مشکل ناموں والے ’ری سائکلڈ‘ پکوان نہیں چلیں گے ۔ یہ آزمایا ہوا نسخہ ہے ، ناشکری کے وائرس کے خلاف اس سے مضبوط فائر وال اور کوئی نہیں ۔


Comments

FB Login Required - comments