جشن نوروز اور پچھلے برسوں کے رنگ


وہ بڑی مشہور اور شاندار مغنیہ تھیں۔ اس دور افتادہ گاوں میں بلائی گئیں۔ کہتے ہیں صبح کا وقت تھا۔ راہ چلتے کسی کسان پر نگاہ پڑی۔ وہ کسان ہل پر تالیں دے رہا تھا۔ تالوں پر دھیان دیا تو حیران سی رہ گئیں اور پکار اٹھیں’ یہاں تو گنوار بھی صاحب ذوق ہیں، یہاں گانا اور گا کے داد پانا تو بہت ہی دشوار ہو گا۔

یہ شاید تقسیم ہند سے پہلے کا قصہ ہے۔ لیکن ہم نے استاد فتح علی خان پٹیالے والے کو وقت کے لیے التجائیں کرتے دیکھا اور سنا ہے کہ پیر و مرشد ہمیں گانے کے لیے وقت دیں کہ یہی تو وہ جگہ ہے جہاں سننے والوں کا مقام بہت ہی بلند ہے کہ فن موسیقی کے ماہرین ہیں اور گانے میں لطف بھی بہت آتا ہے۔

حامد علی خان صاحب کو بھی سننے والوں کی سخن شناسی کی تعریف و توصیف کرتے سنا ہے۔ جہاں تک کلاسیکی موسیقی کا تعلق ہے،آپ کو شاید علم ہو، گانے والا ہو کہ سننے والا، داد دینے اور داد پانے کے حوالے سے استحقاق کی رفعتوں سے نیچے اترتے ہی نہیں اور جب کسی سماجی یا ذاتی وجہ کی بنا پر داد دینا ضروری سمجھیں تو یہ داد ایک تحقیر آمیز تبسم کی نزاکتوں میں گھلی ہوتی ہے لیکن یہ تحقیر آمیز تبسم بوجھنے کے لیے بھی کافی ذہانت کی ضرورت ہوتی ہے۔

نصرت فتح علی خان بھی یہاں باقاعدگی سے آیا کرتے تھے۔ دوسروں کی طرح وقت کے متمنی اور ملتجی۔ پھر وہ مشہور اور امیر ہو گئے۔ بہت زیادہ مصروف بھی۔ پہلے تواتر منقطع کیا ، پھر آمد کا سلسلہ ہی توڑ دیا۔

ہمیں یاد ہے جب وہ آخری دفعہ آئے تھے۔ ستائیس اٹھائیس سال ہونے کو آئے۔ ہمیں کسی بزرگ رشتہ دار نے محفل سماع سے اٹھا کے گھر بھیج دیا۔ ہم انھیں دو تین تک بے نقط سناتے رہے تھے۔ خود دیکھ لیں ، برس بیتے، نصرت فتح علی خان فوت ہوئے، وہ بزرگ بھی پتا نہیں سورگ باشی ہوئے کہ نرکھ میں گئے مگر نصرت فتح علی خان کی قوالیاں نہ سن پانے کا ملال ابھی تک نہیں گیا۔

دوسرا شاندار پہلو سماجی ہم اہنگی اور رواداری پر مشتمل رویے ہیں جن کی نوروز کے موقع پر عمدہ طریقے سے اظہار کیا جاتا ہے۔ کبڈی، بیل دوڑ، ڈالی اور محفل موسیقی، سارے تماشے فرقہ بازی کی آلودگیوں سے محفوظ ہیں۔ اگرچہ ہم لوگوں کی تاریخ کا ایک مختصر سا عرصہ فرقہ بازی کی ہولناکیوں کا ستم زدہ رہا۔ سکھوں پر تقسیم کے موقع پر بہت ظلم ڈھائے گئے جس پر ہم ذاتی طور پہ بہت شرمندہ ہیں لیکن علاقے کے لوگوں نے پنڈت نہرو کی طرح اس ظلم وستم سے سبق سیکھا اور دوبارہ فرقے بازی کے حوالے سے قتل وغارت کے واقعات نہیں رونما ہوئے۔ایک محدود سی اقلیت موجود رہی جو شیعوں کو کھتری سمجھتی رہی۔

اس زمانے میں کفر اتنا مقبول نہیں تھا، کسی کو کافر کہنے کو دل چاہے تو اسے کھتری ہی کہتے تھے۔

اور یہ کھتری لوک کہانیوں کے اہم کردار ہوتے تھے۔ وہ انگار وادی والے بنیے نہیں بلکہ وہ کھتری جو حشرات الارض کے مکالمے سنتے تھے۔

بہر حال اس مذہبی جذباتیت کے زمانے میں ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کو قائم رکھنا علاقے کے لوگوں کا ایک کارنامہ ہے جو جہالت ، جعل سازی اور انا پرستی کے سمندر میں رواداری کا ایک جزیرہ ہے۔

تیسرا شاندار پہلو ہے کہ اس دور افتادہ گاوں میں زندگی کی ہمہ جہتی سے ملاقات ہوتی ہے۔

ایسی ملاقات جس میں زندگی کی ہمہ جہتی پر تشدد نہیں ہوتا۔جیسے ہی اس تشدد کے آثار نمودار ہوتے ہیں، لطیف پیرائے میں کوئی طنز آمیز کنایہ جس پر سب ہنس دیتے ہیں ، اس تشدد کا خاتمہ کر دیتا ہے اور اگر لاتوں کے بھوت باتوں سے نہ مانیں تو یہ کہہ کر کہ بکواس نہ کرو لات بھی جما دی جاتی ہے۔

پھر وہ پڑھے لکھے لوگ جن کی عدم موجودی کا آپ ہر وقت گلہ کرتے رہتے ہیں، آپ کو کافی تعداد میں مل جاتے ہیں۔ کوئی فن موسیقی کے اسرار و رموز سمجھا رہا ہے۔کوئی کائنات کی ترتیب سیدھی کر رہا ہے۔ کوئی معاشرہ ٹھیک کر رہا ہے۔ کوئی سائنسی تجربات کی دنیا سے روشانس کرا رہا ہے۔ کوئی شعر و ادب کی لطافتوں سے متعارف کراتا ہے تو کوئی سیاسی معاملات کی عقدہ کشائی کر رہا ہے۔ اور ایک دو ایسے ہیں جو یہ سارے کام کر رہے ہوتے ہیں۔لطف یہ ہے کہ ہر ایک کے پاس اپنی بات کے حق میں دلائل اور ثبوت موجود ہیں۔خالی خولی ہوائی باتیں نہیں ہیں۔

اور پھر وہ سیدھی سادی دیہاتی باتیں جن کی روانی اس دور افتادہ گاوں کی ندی کی طرح ہیں۔ جسے جب بھی دیکھو، چونکا بھی دیتی ہے، ہنسا بھی دیتی ہے۔ کبھی کبھی وہ باتیں اور ندی رلا بھی دیتے ہیں۔ ندی اور موسیقی کے اپنے اپنے بہاو ہوتے ہیں، کبھی ایک جیسے لگتے ہیں اور کبھی اتنے مختلف کہ پہچانے نہ جا سکیں۔

اس دفعہ ہم وہاں برسوں بعد گئے۔ کوئی چھ سات سال بعد۔ اتنے عرصے میں بہت سی تبدیلیاں آ گئی ہیں اور تبدیلیاں زبردستی کی شادیوں کی طرح ہوتی ہیں، قبول کریں تب بھی نا خوش اور قبول کر لیں تب بھی تشنگی کا کوئی نہ کوئی مرثیہ لوگ پڑھتے ہی رہتے ہیں۔

بہر حال، کیسی تشنگی، کیسے مرثیے، زندگی ندی کی طرح ہما ہم رواں رہتی ہے اور اس روانی میں حسن و لطافت کے جتنے بھی خزینے چھپے ہیں، ان سے دست بردار نہ ہوں،تب تک امکانات زندہ ہی رہتے ہیں۔

لو جی ،ہم تو گریز کر گئے لیکن اسی دور افتادہ گاوں کے گرد ونواح میں ہمارا ایک گھر ہوتا تھا اور اور گھر جو کھو جائیں ، وہ معاملات جذباتی تو کر ہی دیتے ہیں۔

ایک اور بات کہ اس جشن نوروز میں خواتین گانے کے لیے تو بلائی جاتی ہیں، لیکن سننے کے لیے ان کی شمولیت ثقافتی لحاظ سے بری سمجھی جاتی ہے ۔ یہ ہماری ثقافتت بھی ایک ایسا عفریت ہے جس نے عقل و انصاف کی بات سننے سے انکار کر دیا ہے۔ اور بطور معاشرہ ہم کتنے ہی شاندار کیوں نہ ہوں، خواتین کے معاملے میں بالکل ہی کچرا ہیں۔ جس کی وجہ سے ساری رفعتیں وہم و گمان اور بے جا تعریف و توصیف کی پستیاں ہیں ، ان پستیوں کو ہم ماننے سے انکاری ہیں۔

اور یہ جزیرہ جس کی ہم مدح سرائی کر رہے ہیں، اس اجتماعی کچرا پن سے محفوظ نہیں ہے۔


Comments

FB Login Required - comments