تحصیل بنوں کی خاکروب اقلیت اور خاک نشین مخلوق


آج ایک اشتہار دیکھا جو تحصیل میونسپل ناظم بنوں کی طرف سے جاری ہوا تھا۔ خاکروب کی اسامی تھی، جو لوگ اس نوکری کے اہل تھے ان میں ہمارے مسیحی، ہندو اور شیعہ بھائی شامل تھے۔ خوشی ہوئی کہ محنت مزدوری کے اس کام میں تمام مذاہب کو برابر سمجھا گیا۔ ہاتھ سے کما کر کھانا اور محنت کرنے کے فوائد بچپن سے پڑھائے جاتے ہیں، اس میں کیسا عار، ہاں اگر کوئی بھی مذہب مینشن نہ کیا جاتا تو زیادہ عمدہ بات ہوتی لیکن بہرحال یہ بات قابل تحسین ہے کہ ملک کی دیگر اقلیتوں کے ساتھ ایک اور فرقے کو بھی اقلیتی کوٹے کی نوکریوں میں حصہ دیا گیا۔ خلوص دل سے مبارک باد۔

خاکروب کون تھے، کیا کرتے تھے، انہیں کس نام سے پکارا جاتا تھا، یہ سب فیروز دہلوی صاحب نے دو تین برس پہلے بھارت کے ایک اخبار چوتھی دنیا میں لکھا تھا۔ واضح رہے یہ قبل قیام پاکستان کے قصے ہیں۔

طویل اقتباس ہے، ملاحظہ کیجیے؛

“اسی لیے اس زمانے میں صفائی کرمچاری (گھر کا کوڑا کرکٹ اور فضلہ اٹھانے والے) کو بھی اسے پیشے کی مناسبت سے حلال خور اور مہتر (بڑا) جیسے نام دیے گئے تاکہ انہیں یہ احساس نہ ہو کہ اس معاشرہ میں ان کی کوئی جگہ اور حیثیت نہیں۔ دلّی سے باہر حلال خور کہنے کا رواج نہیں، اگر کسی نے کہا بھی تو وہ دلی میں رہ کر اور سن کر گیا۔ دلی کے شرفا کا قاعدہ تھا کہ وہ ’’مہتر‘‘ کو مہتر یا مہترانی کہہ کر نہیں پکارتے تھے، بلکہ ان کے گھریلوں ناموں سے بلایاجاتا، جیسے بھیم، منگلو، انارو، جیوتی، راجو کی ماں، بسنتی، شیلا وغیرہ۔ گھر میں کسی لڑکے بالے نے غلطی سے کہہ دیا کہ مہتر آیا ہے یا مہترانی تو اسے ڈانٹا جاتا اور تنبیہ کی جاتی کہ انہیں کبھی مہتریا مہترانی کہہ کر نہ بلانا۔ ہر گھر میں اسی طرح بچوں کی تربیت ہوتی۔ آج کی نئی نسل اس وقت کا تصور بھی نہیں کرسکتی کہ جب بیت الخلاء میں فلیش نہیں تھا، قد مچے تھے (جنہیں عرف عام میں کھڈی) کہاجاتا تھا۔ یہی نہیں، آج کی طرح گھروں میں پانی کی سپلائی بھی نہیں تھی۔ گلی کوچوں میں چھوٹے بڑے کنویں تھے، ان سے پانی لایا جاتا تھا، بعد میں جب برطانوی سرکار نے پانی کے نل لگوائے تو کچھ سہولت ہوئی۔ یہ صفائی کرمچاری (حلال خور/مہتر) اپنے سروں پر بڑے بڑے ٹوکروں میں کوڑا کرکٹ اور فضلہ بھر کر ڈلاؤ پر ڈال کر آتے۔ گھروں میں مرد حلال خور شاذ و نادر ہی آتے، مہترانیاں ہی گھروں میں آتیں اور صفائی کاکام انجام دیتیں۔ یہ مہترانیاں عام طورپر شادی شدہ عورتیں ہوتیں، جن کے ساتھ پختہ عمر کی ایک مہترانی نگرانی کے لیے ساتھ ساتھ چلتی۔ یہی پختہ عمر کی مہترانی گھر کے دروازے پر آکر آواز لگاتی ’کمانے آئے ہیں‘‘۔ مسلمانوں کے گھروں کے دروازے پر عام طور پر پردے پڑے ہوتے تھے۔ آواز سن کر گھر کا کوئی فرد پردہ اٹھا کر دروازے کے کواڑ پر ڈال دیتا۔ پہلے بڑی مہترانی گھر میں ننگے پیر داخل ہوتی، جوتیاں ڈیوڑھی کے باہر اتار دیتی ۔ ’’اماں سلام‘‘ اور اس کے پیچھے چھوٹی مہترانی بھی اسی طرح سلام کرکے کوڑے دان سے کوڑا اٹھاتی اور پھر قد مچے صاف کرکے فضلہ کوڑے پر ڈالا جاتا۔ یہ کوڑا اور فضلہ ٹھیکرے میں جمع کرکے گھر سے باہر کھڑے مہتر کے بڑے ٹوکرے میں پلٹ دیا جاتا۔ ٹھیکرا عام طور پر مٹی کے بڑے مٹکے کا نچلا حصہ ہوتا۔ کچھ مہترانیوں کے پاس لوہے کے گہرے تسلے بھی ہوتے۔ جتنی دیر یہ کام انجام پاتا، بڑی مہترانی خبررساں ایجنسی کے فرائض انجام دیتی۔ اس گھر کی بات اس گھر میں، دوسرے کی تیسرے گھر میں۔ صبح سے دوپہر تک پورے محلے کو ایک دوسرے کی خیر خبر مل جاتی۔ “

بہرحال یہ بات سے نکلتی ایک بات تھی۔ خالد عباس ڈار صاحب نے ایک ڈائیلاگ امر کر دیا تھا، آج وہ یاد آ گیا۔ “ہر بات کے اندر ایک بات ہوتی ہے، اور وہی ساری بات ہوتی ہے۔” تو ادھر ادھر کی باتیں ڈھونڈنے کی بجائے خوش ہونا چاہئیے کہ وطن عزیز میں تمام اقلیتوں کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنے پر غور ہو رہا ہے اور یہ نیک قدم سب سے پہلے خیبر پختون خواہ حکومت نے اٹھایا ہے۔

خدا زمیں سے گیا نہیں ہے!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 240 posts and counting.See all posts by husnain