بھارت میں ہندو انتہا پسندی تباہی کا راستہ ہے


 بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط نے واضح کیا ہے کہ الزام تراشی کے ماحول اور مذاکرات سے گریز کی پالیسی سے برصغیر میں مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ ایک مقامی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اس خطے کا واحد مسئلہ نہیں ہے بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بحالی اور اعتماد کی فضا پیدا کرنے کےلئے کشمیر ، سیاچن اور سرکریک جیسے مسائل کو حل کرنا بھی اشد ضروری ہے۔ بھارت یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ دہشت گردی کی صورتحال کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ منقطع ہوا ہے۔ عبدالباسط نے اس تاثر کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر تعاون کی فضا بحال نہیں ہوگی تو معاملات آگے نہیں بڑھ سکتے۔ بھارت کو یہ غلط فہمی دور کرنی ہوگی کہ وہ الزام تراشی کے ذریعے پاکستان کو دباؤ میں لا سکتا ہے۔ اس کے برعکس مذاکرات کا راستہ ہموار کرکے تمام امور طے کئے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کے ایک اعلیٰ سطح کے نمائندے کی طرف سے بھارت کو یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ریاستی انتخابات میں شاندار کامیابی کے بعد وزیراعظم نریندر مودی کو ملک کا غیر متنازعہ اور طاقتور لیڈر سمجھا جا رہا ہے۔ ریاستی انتخابات کے نتیجہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی پانچ میں سے چار ریاستوں میں حکومتیں قائم کرنے میں کامیاب ہو رہی ہے۔ جبکہ ملک کے سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں اس نے فقید المثال کامیابی حاصل کی ہے۔ 403 کی اسمبلی میں بی جے پی کو 325 نشستیں ملی ہیں تاہم وہ بدستور ہندو انتہا پسندی کا چہرہ سامنے لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اترپردیش کے وزیراعلیٰ کے طور پر یوگی آدتیہ ناتھ کا انتخاب اس رویہ کی نشاندہی کرتا ہے۔

پاکستان تسلسل سے بھارت کو مذاکرات کی دعوت دیتا آیا ہے کیونکہ پاکستانی حکومت نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد کشمیر سمیت تمام امور بات چیت کے ذریعے طے کرنا چاہتا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ برس کے دوران مقبوضہ کشمیر میں شروع ہونے والے احتجاج اور اس دوران اوڑی فوجی ہیڈ کوارٹرز پر دہشت گرد حملہ کے بعد پاکستان کے خلاف سخت موقف اختیار کیا۔ انہوں نے اوڑی حملہ کا الزام براہ راست پاکستان پر عائد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ان کی حکومت دنیا میں پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کرے گی۔ تاہم نئی دہلی کی سرکار اپنی ان کوششوں میں بری طرح ناکام ہوئی ہے۔ امریکہ جو بحر ہند میں اپنی حکمت عملی میں بھارت کو خاص اہمیت دینے لگا ہے، نے بھی بھارتی حکومت پر واضح کیا تھا کہ اسے پاکستان سے بات چیت کا سلسلہ شروع کرکے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ بھارتی سفارت کاروں کو دیگر ملکوں اور عالمی فورمز پر یہی جواب سننا پڑا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھارت کی ترقی پذیر معیشت کی وجہ سے وہاں سرمایہ کاری کے امکانات اور تجارتی مواقع کی وجہ سے نئی دہلی کے ساتھ دوستانہ تعلقات میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لئے بھارت میں انتہا پسند رجحانات کے فروغ اور حکومت کی طرف سے ہندو انتہا پسندی اور تشدد کے پرچار کو کھل کر مسترد کرنے کی آوازیں سنائی نہیں دیتیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی دنیا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کی تفصیلات سے بھی آگاہ ہے۔ کشمیر کو اٹوٹ انگ قرار دینے کے بھارتی دعوؤں کے باوجود یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کشمیری عوام بھارت کے ساتھ رہنے کےلئے تیار نہیں ہیں۔ بھارت ہی کی درخواست پر اقوام متحدہ نے کشمیر میں استصواب رائے کے بارے میں جو قراردادیں منظور کی تھیں، وہ بھی عالمی ادارے کے ریکارڈ کا حصہ ہے۔ اس لئے دنیا کے بیشتر ممالک یہ چاہتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلہ کا کوئی قابل قبول حل تلاش کر لیا جائے۔

کشمیر کے سوال پر پاکستان اور بھارت آمنے سامنے ہیں اور آزادی کے بعد سے اسی مسئلہ پر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بنیاد ضد اور دشمنی کے طرز عمل پر استوار ہوئی ہے۔ اس دوران دونوں ممالک جوہری قوت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ برصغیر میں اب اتنی بڑی تعداد میں جوہری ہتھیار موجود ہیں کہ اگر پاکستان اور بھارت انہیں استعمال کرنے کی غلطی کریں تو یہ پوری دنیا کے امن و سلامتی کےلئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ گزشتہ دنوں امریکی کانگریس کو بتایا گیا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ کا حقیقی خطرہ موجود ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ دونوں ملکوں کے درمیان روایتی عسکری صلاحیت میں عدم توازن ہے۔ بھارت کا دفاعی بجٹ 50 ارب ڈالر سالانہ سے زائد ہوتا ہے جبکہ پاکستان اس کا 10 فیصد ہی دفاع پر صرف کر سکتا ہے۔ بھارت اپنی فوجی قوت میں اضافہ کرتے ہوئے مسلسل یہ پروپیگنڈا کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اسے دراصل چین کی طرف سے خطرہ لاحق ہے۔ حالانکہ بھارت کا یہ دعویٰ بے بنیاد اور حقائق کے برعکس ہے۔ 1962 کی سرحدی جھڑپ کے بعد چین اور بھارت کے درمیان کوئی مسلح تصادم نہیں ہوا۔ اس دوران چین نے تجارتی حکمت عملی کے ذریعے ملکی معیشت کو کئی گنا بڑھا لیا ہے۔ چین مسلح تصادم کی بجائے تجارتی اور معاشی پالیسیوں کے ذریعے دنیا کے ملکوں سے تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے۔ بے شمار عسکری قوت اور مالی وسائل کے باوجود اس نے کبھی بھارت کو دھمکی نہیں دی اور نہ ہی فوجی برتری کا دعویٰ کرتے ہوئے بھارت کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی ہے۔ اس کے برعکس چین دیگر ملکوں کی طرح بھارت کے ساتھ تجارتی تعاون بڑھانے اور بھارتی منڈیوں میں سرمایہ کاری کی پالیسی پر کاربند ہے۔

اس کے مقابلے میں بھارت بڑی فوجی قوت ، بڑی معیشت اور بہتر سفارتی مراسم کے باوجود پاکستان کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہے۔ اس نے مسلسل کشمیری عوام کو حق خود اختیاری دینے سے انکار کیا ہے اور وہاں ابھرنے والی ہر عوامی تحریک کو فوجی قوت سے دبانے کی کوشش کی ہے۔ اس طرح ریاست میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ 60 کی دہائی سے وہ پاکستان کے ساتھ تین بڑی جنگوں میں بھی ملوث ہوا ہے جن میں 1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحدہ کرنے کی سازش کو کامیاب بنانے کےلئے مسلط کی ہوئی جنگ بھی شامل ہے۔ بھارتی حکمرانوں کا خیال تھا کہ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد باقی ماندہ ملک خودبخود انتشار اور بدامنی کا شکار ہوکر اکھنڈ بھارت کی تکمیل کےلئے بھارتی ارادوں کی راہ ہموار کر دے گا۔ البتہ بھارت کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔ اور 1998 میں بھارتی ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان نے جوہری صلاحیت کا مظاہرہ کرکے بھارت کے علاوہ پوری دنیا کو حیران کر دیا تھا۔ یہ توقع کی جا سکتی تھی کہ برصغیر کے یہ دو ہمسایہ ملک ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے بعد عقل کے ناخن لیتے اور جنگ کرنے کی احمقانہ باتیں کرنے کی بجائے مذاکرات کے ذریعے پائیدار امن قائم کرنے کی کوشش کرتے۔ بڑی قوت اور زیادہ وسائل کا ملک ہونے کی وجہ سے بھارت سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ تعاون اور مذاکرات کا ماحول پیدا کرے گا۔ لیکن اس کے برعکس بھارت نے مسلسل پاکستان پر دباؤ بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ گزشتہ پندرہ برس کے دوران بھارت نے کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن کے ذریعے اچانک اور بھرپور حملہ کرکے پاکستان کی فوجی قوت تباہ کرنے کے منصوبہ پر عمل کیا ہے۔ یہ حکمت عملی دونوں ملکوں کے درمیان مسلسل تنازعہ اور سنسنی خیز صورتحال کا باعث بنی ہوئی ہے۔ لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کا تبادلہ معمول کی بات ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ بھارت مذاکرات سے انکار کرتا ہے۔

نریندر مودی کے جارحانہ رویہ کے سبب پاکستان کی پالیسی تو تبدیل نہیں ہوئی لیکن بھارت میں انتہا پسند ہندو گروہوں نے قوت پکڑنا شروع کی ہے جو مسلسل طاقتور ہو رہے ہیں اور ملک میں اقلیتوں کےلئے زبردست خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ اترپردیش میں فرقہ وارانہ ایجنڈے پر بی جے پی کی کامیابی اور ریاست کے ایک چوتھائی مسلمان ووٹرز کو نظر انداز کرنے کی حکمت عملی اسی انتہا پسندانہ سیاسی مزاج کا حصہ ہے۔ بی جے پی کے کامیاب ہونے والے 325 ارکان اسمبلی میں سے ایک بھی مسلمان نہیں ہے۔ پارٹی قیادت مسلسل مسلمانوں کو ملنے والی ’’خصوصی مراعات‘‘ کے خاتمہ کی بات کرتی ہے اور اس طرح ہندو اکثریت کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ملک میں اقلیتوں کو خطرہ نہیں ہے بلکہ اکثریتی ہندو آبادی کو خطرہ ہے اس لئے انہیں اپنے حقوق کے تحفظ کےلئے متحد اور مسلح ہو جانا چاہئے۔ نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا یہ نعرہ ہندو آبادی میں مقبول ہو رہا ہے۔ ہندو توا کے فلسفہ کے تحت کئی مسلح گروہ منظم ہو رہے ہیں جنہیں بی جے پی کی حمایت حاصل ہے۔ یہ گروہ اپنے کارکنوں کےلئے عسکری تربیت کے مراکز چلاتے ہیں اور انہیں جنگی مقاصد کےلئے تیار کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی نوجوان نسل کی سوچ کو تبدیل کرنے کےلئے اسکولوں میں متعصبانہ اور مسخ شدہ تاریخی حقائق پر مشتمل مواد پڑھایا جاتا ہے۔ بنگال کی حکومت نے گزشتہ ہفتے کے دوران جن سنگھ کے ایسے ڈیڑھ سو اسکولوں کو نوٹس جاری کئے ہیں لیکن بی جے پی نے ریاستی حکومت کی اس کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔

بھارت میں انتہا پسند ہندو تنظیمیں جس طرح منظم ہو کر عسکری گروہ تیار کر رہی ہیں اور انہیں جیسے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف تشدد کےلئے تیار کیا جا رہا ہے، یہ بھارت جیسے کثیر الثقافتی معاشرہ کےلئے بہت بڑا خطرہ ہے۔ لیکن مرکز اور ملک کی آدھی سے زیادہ ریاستوں میں برسر اقتدار بی جے پی ان رجحانات کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ یہ وہی طریقہ کار ہے جو افغانستان میں سوویت فوجوں کا مقابلہ کرنے کےلئے مسلمان جہادی گروہوں کو تیار کرتے ہوئے اختیار کیا گیا تھا اور جس کے نتیجہ میں خطرناک دہشت گرد گروہ وجود میں آئے تھے۔ تاہم 80 کی دہائی میں تیار کئے جانے والے جہادی افغانستان میں غیر ملکی فوج کے خلاف تیار کئے گئے تھے۔ اس کے باوجود وہ بعد میں ایک خاص نظریہ کی تکمیل کےلئے عالمی دہشت گردی کی بنیاد بن گئے۔ اس کے مقابلے میں ہندو مسلح دستے اقلیتوں پر حملے کرنے کےلئے تیار کئے جا رہے ہیں۔ ڈیڑھ ارب آبادی کے ملک میں ایسے رجحان کی حوصلہ افزائی ایک نئی طرز کی دہشت گردی کے فروغ کا سبب بن سکتی ہے۔ لیکن نریندر مودی فی الوقت اسے اپنے سیاسی مقاصد کےلئے استعمال کر رہے ہیں۔ اسی لئے وہ پاکستان سے مذاکرات کی بجائے تصادم کی بات کرتے ہیں۔ حالانکہ ماضی کے تجربے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مذہبی بنیادوں پر تیار کئے جانے والے دہشت گرد کبھی بھی دیرپا سیاسی مقاصد کی تکمیل میں مددگار نہیں ہو سکتے اور یہ دراصل خود اپنے سرپرستوں کےلئے خطرہ کا سبب بن جاتے ہیں۔ جو تجربہ افغانستان ، پاکستان اور عراق میں کامیاب نہیں ہو سکا، وہ ہندو دہشت گردوں کے ذریعے بھارت میں بھی کامیاب نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نریندر مودی کو ان حالات میں جلد عقل کے ناخن لینے اور انتہا پسندانہ رویہ اختیار کرنے کی بجائے پاکستان کے ساتھ مواصلت اور مفاہمت کا راستہ ہموار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اسی طرح وہ خود کو بڑا لیڈر اور بھارت کا ہوشمند رہنما منوانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ انتہا پسندوں کے ہاتھوں میں کھیل کر وہ عسکری گروہوں کو ایسی قوت عطا کر سکتے ہیں جو براہ راست ریاستی طاقت کو چیلنج کرے گی۔ سیاسی مقبولیت کے عروج پر ان کےلئے سوچنے اور عمل کرنے کا یہ نادر موقع ہے۔ پاکستانی ہائی کمشنر نے بھارت کو یہی مخلصانہ مشورہ دیا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 495 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali