یورپ میں پاپولزم کا مستقبل؟


کیا یورپ میں ‘پاپولزم‘ کی سیاست ختم ہو رہی ہے؟ہالینڈ کے انتخابی نتائج کیا بتا رہے ہیں؟
جنگِ عظیم دوم کے بعد لوگوں نے ایک نیا یورپ دیکھا۔جنگ سے تباہ حال ہر بستی کے کوچہ وبازار،بربادی کی ایک داستان سنا رہے تھے۔ان کھنڈرات سے کچھ لوگوں نے جہان ِ نو دریافت کرنا چاہا۔یہ جان لیا گیا کہ جنگ مسئلے کا حل نہیں ہے۔پرامن بقائے باہمی ہی سے آگے بڑھا جا سکتا ہے۔25مارچ1957ء کو معاہدہ ء روم (Treaty of Room)نے باہمی تعلقات کی ایک نئی بنیاد فراہم کی۔بلجیئم ،ہالینڈ،مشرقی جرمنی ،اٹلی،فرانس اور لیکسمبرگ کی قیادت جمع ہوئی اور انہوں نے ایک اجتماعی معاشی حکمتِ عملی اختیار کر نے کا فیصلہ کیا۔اس کا جوہرایک دوسرے پر انحصار تھا۔جو عسکری قوم پرستی عالمی جنگوں کا باعث بنی تھی،اسے اقتصادی تعاون سے بدلنے کی یہ ایک کوشش تھی۔
7 فروری1992ء کو اس عہدکی تجدید ہوئی اور یورپی یونین کی سطح پر ایک بڑے معاشی اتحاد کے عمل کو آگے بڑھا یا گیا۔اس بار فیصلہ ہوا کہ سب کی کرنسی مشترکہ ہوگی۔شہریت ایک ہوگی اورخارجہ پالیسی بھی ایک ہی ہوگی۔لوگ روزگار کے لیے رکن ممالک میں بآسانی آ جا سکیں گے۔واقعات سے معلوم ہوا کہ یہ خواب تعبیر آشنا نہیں ہو سکا۔یورپی یونین میں شامل ممالک کے معاشی اور نظری اختلافات اس میں مانع ہوئے کہ وہ کوئی مشترکہ موقف اختیار کر سکیں۔بعض ممالک غریب تھے اور بعض امیر۔یونان میں بے روزگاری کی شرح پچاس فی صد سے زیادہ ہے اور جرمنی میں چھ فی صد۔پولینڈ میں 86 فی صد لوگ کسی نہ کسی طرح تصورِخدا پر یقین رکھتے ہیں۔سویڈن میں کم و بیش دو تہائی خدا کو نہیں مانتے۔
مسائل کے موجودہ دور کا آغاز 2009 ء میں ہوا جب اقتصادی بحران کی ایک نئی لہر آئی۔اس کے نتیجے میں ترقی کی شرح کم ہوئی۔بے روزگاری میں اضافہ ہوا۔اٹلی،یونان اور سپین بطورخاص متاثر ہوئے۔اس پر مستزاد دوسرے ممالک با لخصوص مشرقِ وسطیٰ سے مہاجرین کی آمد تھی۔اس سے یورپ کے معاشی بحران میں مزید اضافہ ہوا۔اس کے ساتھ ایک بڑا مسئلہ ریڈیکل اسلام نے پیدا کر دیا۔لندن، برسلز اور پیرس جیسے شہر وں میں دھماکے ہونے لگے۔خوف اور بدامنی نے معاشی اضطراب کو کئی گنابڑھا دیا۔لوگوں میں اس صورتِ حال سے نجات کی خواہش شدید ہوئی اور انہوں نے چاہا کہ کوئی جادو کی چھڑی ہو اور ان کی زندگی میں سکون آ جا ئے۔اسی فضا نے پاپولزم کی سیاست کو جنم دیا ۔
پاپولزم جادو کی چھڑی ہے۔یہ مسائل کا ایک سادہ حل پیش کر تا ہے۔یہ کسی گہرے غور وفکر کانتیجہ نہیں ہوتا۔ اس کا بنیادی مقصدعوامی جذبات سے کھیلنا ہو تا ہے۔مشکلات سے آلودہ فضا میں کچھ لوگ اٹھتے ہیں جومسائل کا سادہ حل تجویز کرتے ہیں۔پھر ایک موثر ابلاغی حکمتِ عملی کے ساتھ یہ باور کرا دیتے ہیں کہ ان کے پاس ایک ایسا سادہ نسخہ ہے جو جادو کی ایسی چھڑی ہے جس سے عوام کے شب و روز، پلک جھپکنے میںبدل جائیں گے۔اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ ہفتے عشرے میں سب کچھ درست دیں گے۔ایسے لوگوں کو پذیرائی بھی مل جاتی ہے۔
پورپ میں اٹھنے والی پاپولزم کی تحریک بنیادی طور پر تین نکات پر مبنی ہے۔ایک نکتہ یورپی اتحاد کا مخالف ہے۔وائلڈرزہالینڈ کے انتخابات میں پاپولزم کے نمائندے سیاست دان تھے۔انہوں نے سی بی این نیوز کے انٹر ویو میں یہ کہا کہ یورپی یونین نے ہمیں قومی شناخت اور خود مختاری سے محروم کر دیا ہے۔ان کا کہناتھا:”عنقریب یورپی یونین کا خاتمہ ہونے والا ہے۔روم کی سلطنت کی طرح،اسے بھی ختم ہو نا ہوگا‘‘۔برطانیہ میں یہی جذبات تھے جنہوں نے اسے یورپی یونین سے الگ کیا۔
ان کا دوسرا نکتہ اسلام کی مخالفت ہے۔یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام فی نفسہ پرتشددمذہب ہے۔یہ کسی خاص گروہ کا معاملہ نہیں۔ہالینڈ سے اسلام کونکالنا (De-Islamization)، قرآن مجید پر پابندی اور یورپی یونین سے انخلا،وائلڈرز کے منشورکے بنیادی نکات تھے۔اسی طرح ان لوگوں کا خیال ہے کہ دوسرے ممالک سے آنے والوں نے اپنے مذہبی خیالات اور کلچرسے، مقامی کلچر کو منفی طور پر متاثرکیا۔ہالینڈ کے انتخابات میں پاپولزم کے علم برداروں نے نعرہ لگایا کہ یہاں رہنا ہے تو ڈچ کلچر کو اپنا نا ہو گا۔
15 مارچ کے انتخابات میں ہالینڈ کے عوام نے اس منشور کو مسترد کر دیا۔ پاپولزم کے نمائندہ وائلڈرز کو شکست ہوئی۔وزیراعظم مارک وٹ کی پارٹی نے اکثریت حاصل کی۔ایک طبقہ اسے یورپ میں پاپولزم کی شکست قرار دے رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے فرانس ا ور جرمنی کے انتخابات پر بھی اثر پڑے گا جو اپریل اور ستمبر میں ہو رہے ہیں۔دوسری رائے یہ ہے کہ کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔بے چینی مو جود ہے۔یورپ کا معاشرہ ابہام کا شکار ہے ۔اس فضا میں کسی ایک فیصلے کو حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
میرا خیال یہ ہے کہ پاپولزم کی عمر ہمیشہ مختصر ہوتی ہے۔اگر عقل کو کچھ موقع مل جا ئے تو بہتری آ سکتی ہے۔اس کی ایک مثال امریکہ کے انتخابات ہیں۔ٹرمپ صاحب صدر بن گئے لیکن لوگوں نے انتخابی نتائج کے آتے ہی سوچنا شروع کر دیا کہ یہ کیا ہوگیا۔یہ اسی کانتیجہ تھا کہ نومبر سے جنوری تک، محض دو ماہ میں ان کی مقبولیت بہت کم ہو گئی۔شاید یورپ میں بھی اب اس عمل کا آغاز ہو گیا ہے۔عملی حقیقتوں نے خود کو منوانا شروع کر دیا ہے۔
ایک حقیقت یورپ میں مسلمانوں کااپنے تہذیبی تشخص پر اصرا رہے۔ایک سروے بتاتا ہے کہ یورپ میں آباد نوے فی صد مسلمان لباس سے لے کر خوراک تک، اسلام کی تعلیمات کا خیال رکھتے ہیں۔وہ کوئی ایسی چیز کھانے سے گریز کرتے ہیں جس کے اجزائے ترکیبی میں کوئی حرام عنصر شامل ہو۔اسی طرح حجاب کا معاملہ ہے۔حال ہی میں یورپ کی عدالتِ انصاف نے ایک فیصلہ دیا جس میں آجر کو یہ حق دیا گیا ہے کہ اگر کوئی ملازم اپنے مذہبی تشخص کو نمایاں کرنے کے لیے حجاب کا استعمال کر ے تو وہ اس پر پابندی لگا سکتا ہے۔یورپ کے45میں سے اٹھارہ ممالک میں، مختلف صورتوں میں حجاب پر پابندی ہے۔
اس کے باوجود یہ کہا جاتاہے کہ یورپ میں حجاب پہلے سے زیادہ دکھائی دینے لگا ہے۔فروری میں لندن میں ہفتہ فیشن (London Modest Fashion Week)کا انعقاد ہوا۔اس میں حجاب،دوپٹوں اور چادروں کی نمائش ہوئی۔ایک تجزیے کے مطابق، مذہب سے متعلق صنعت کی مالیت،2020ء تک،2.6ٹریلین ڈالرز تک پہنچ جائے گی۔مسلمانوں کے خلاف مہم چلا کر ،کیا یورپ اتنی بڑی مارکیٹ کھونے کے لیے آمادہ ہو جائے گا؟سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت میں، جہاں نفع ہی اصل قدر ہے،کوئی یہ گوارا نہیں کرے گا۔
‘پاپولزم‘ تبدیلی کی ایک خواہش سے جنم لیتا ہے۔انسانی تجربہ یہ کہتا ہے کہ اقتصادی،سیاسی اور سماجی تبدیلی ایک تدریجی عمل ہے۔یہ ایک معروضی تجزیے کے نتیجے میں اختیار کی جانے والی حکمتِ عملی کے نتیجے میں آئے تو پائیدار اورنتیجہ خیز ہوتی ہے۔اگر اسے نظر انداز کر کے محض ہیجان کی فضا میں فیصلہ کیا جا ئے تونہ صرف کچھ ہاتھ نہیں آتابلکہ یہ امکان ہو تا ہے کہ جو موجود ہے،لوگ اس سے بھی محروم ہو جائیں۔امریکہ اور یورپ کے ان تجربات میں ہمارے لیے بھی غو روفکر کا بہت سامان ہے۔

اسی بارے میں: ۔  کینیڈا میں شاہراہ بہشت

(بشکریہ روزنامہ دنیا)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔