کشمیر میں عسکریت پسندی کا تاوان عورت ادا کر رہی ہے


کشمیر میں اب خواتین ناقابل برداشت ماحول میں زندگی بسر کررہی ہیں، جو سخت ترین اور آہنی قوانین نافذ رہنے کی وجہ سے پیدا کیا گیا ہے۔ بھارتی سیکورٹی عملہ، بندوق برداروں اور اُن کے تنخواہ داروں نے جموں کشمیر میں لاقانونیت کا عالم پیدا کردیا ہے، جس سے کشمیر کے روایتی حُسن کو داغدار بنادیا گیا ہے اور اِس کو ابدی عذاب کے مقام میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

دور دراز علاقوں میں خواتین اور نوجوان لڑکیوں کی بے حرمتی اور انہیں پوچھ گچھ کے دوران ظلم وزبردستی کا شکار بنانے سے متعلق تفصیلات کا سرکاری ریکارڈ میں کوئی اندراج نہیں ہے۔ ایسے واقعات کا پُر آشوب حالات کے دوران وادی بھر میں خوفناک آواز میں تذکرہ کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر 1991 میں راجپوت رایفلز کے آٹھ سو جوانوں نے کنن پوشہ پورہ میں رات کے اندھیروں میں 23 سے 60 کے درمیان خواتین کا ریپ کیا۔ یہ فوجی مقامی باشندوں کا انٹروگیشن کرنے کے بہانے گاؤں میں گُھس آئے تھے۔ کیونکہ اُن کی نظروں میں یہ لوگ باغی تھے۔ اِسی نوعیت کا ایک اور دلدوز واقعہ 2004 میں ہندوارہ میں پیش آیا، جہاں راشٹریہ رایفلز کے ایک میجر نے ایک خاتون اور اُس کی نابالغ بچی کا انتہائی بے رحمی سے ریپ۔ اِسی طرح جنوبی کشمیر کے مٹن علاقے میں انڈین آرمی ایک صوبیدار اور اُس کا باڑی گارڈ ریپ کے ایک اور بھیانک واقعہ میں ملوث رہے ہیں۔ اِس وقعہ کے خلاف سرکاری سطح پر ابھی تک بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ (جون 2004 میں ہیومن رایٹس کارکنان اور امن وترک اسلحہ سے متعلق کشمیری خواتین تنظیم کے اہلکاروں کے ساتھ انٹرویو)۔

لِسر چوگام کی دل نشین دُلہن مبینہ بانو کے ساتھ ریپ کا واقعہ اعصاب کو مفلوج کر دیتا ہے۔ 18 مئی 1990 کے دِن وہ اپنے خوابوں کی دنیا بسانے کے لئے سسرال کی جانب سفر پر تھی۔ عبدالرشید ملک کے ساتھ شادی کے بندھن کے خواب میں محو وہ اپنے سسرال والے گاؤں کے حالات سے کیسے واقف ہوتی۔ عسکریت پسندی سے آلودہ اِس گاؤں کے لوگوں نے مبینہ کا استقبال کرنے میں پھر بھی کوئی کسر باقی نہیں رہنے دی تھی۔ خوشیاں منانے کے مخالف عسکریت پسندوں کی دھمکیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے سسرال والوں نے ہنسی خوشی کا خوب ترسامان میسر کردیا تھا۔ لیکن مبینہ کے میکے والوں کو کیا معلوم تھا کہ اُن کی انمول بیٹی، جس کو زمانے کے طوفان سے بچائے رکھنے کے لئے ہر ممکن احتیاط برتا گیا تھا، کے نصیب میں اُس کے شوہر اور سسرال والوں کا پیار نہیں لکھا تھا۔

اُس دِن مبینہ اپنے معزز باراتیوں کے ہمراہ سسرال کے سفر پر تھی اور اُسی موقعہ پر نیم فوجیوں کے ایک دستے نے خوفناک طریقے سے اِس دلہن کی خوشیاں لوٹ لیں۔ دولہا ملک اور اُس کے کچھ ساتھیوں پر بُودسگام موڑ پر کوئی گناہ کئے بغیر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی گئی۔ نوخیز دلہن، جس نے اپنا دِل اور اپنی روح اپنے دولہا کے نام کردیئے تھے، کی آہ فغان سے پتھر دل انسان بھی زخمی ہوجاتے۔ دلہن کا ریپ کیا گیا تھا اور اُس کی معصومیت کا خاتمہ ہوچکا تھا۔ وہ اب اپنے آپ کو تنہا محسوس کر رہی تھی اور کسی کے آنے سے ناامید ہوچکی تھی۔ جیسے خدا بھی اُس سے روٹھ گیا تھا۔ اب اُس کے سامنے ایک ہی سوال تھا۔ کیا کوئی مسیحا اُس کو بچانے کے لئے آئے گا یا پھر وہ درندہ صفت آدمیوں کے نرغے میں پھنس کر رہ جائے گی۔ کیا یہ خوفناک خواب تھا، جو اُجالا پھیلتے ہی ختم ہوگا؟ کیا وہ نیند ٹوٹنے کے ساتھ ہی اپنے آپ کو بستر عروسی پر موجود پائے گی، جہاں سے وہ اپنے دولہا راجے کے قدموں کی آہٹ کے لئے منتظر رہے گی؟ مبینہ کا ذہن اِس قدر پریشان تھا، کہ وہ قرآن شریف کی کوئی ایک آیت بھی یاد نہ کرسکی۔ حالانکہ خطرات کے مواقعہ پر قرآنی آیات کو یاد کرنا اُس کی پڑھائی کا ایک حصہ تھا۔ مبینہ کا دولہا بھی اب تک عزت واحترام کی زندگی بسر کرچکا تھا، اب وہ اِس دلخراش سانحہ کے بعد کچھ وقت تک معزور ہوچکا تھا۔

میں نے مبینہ اور اُس کے خاوند ملک کے ساتھ 25، جولائی 2008 کو سرنل میں ملاقات کی۔ مبینہ اب ایک لاغر عورت بن چکی ہے اور بس ایک ہی سوچ میں ڈوبی ہے۔ بودسگام موڑ پر 18 مئی 1990 کو ہوئے واقعہ کے بعد مبینہ کے سسرال والوں نے اُس کو شہر بدر کردیا تھا۔ وہ فوجیوں کے ذریعہ مبینہ کے وحشیانہ ریپ ہوجانے پر اُس کو بخشنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ مبینہ کی نفسیات پر اَن مٹ دھبہ لگنے، اُس کی بے حرمتی ہونے اور تُلون مزاج بن جانے کے باوجود وہ قسمت کی ستم ظریفی کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمت جٹا رہی تھی۔ اُس کے خاوند کی غیر متزلزل حمایت کی وجہ سے وہ اپنے مزاج کو درست کرنے کے لئے کوشاں تھی۔ سرداری نظام میں پلے بڑھے بیشمار لوگوں کی عادات کے برعکس، عبدالرشید اپنی بیوی کے جسمانی درد اور ذہنی تھکاوٹ کے تئیں ہمدردی رکھتا تھا۔ اُس نے ایسے تمام لوگوں کو نظر انداز کرنے کا مضبوطی سے فیصلہ لیا تھا، جو مبینہ کو طعنہ دیتے تھے اور وبا کے مانند اُس سے دور رہتے تھے۔ عبدالرشید نے سمجھ لیا تھا کہ مبینہ کے بدلے وہ خود اِسی طرح کی ستم ظریفی کا شکار ہوسکتا تھا۔ تشدد کے کلچر کو پروان چڑھانے اور کمزوروں کی بے حرمتی کرنے کے نتیجے میں اِس طرح کے افسوس ناک اور بے عزتی کے واقعات میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔

مبینہ اب تین بچوں کی ماں ہے، جو عزم وہمت کے پیکر ہیں، اُنہیں اپنے ستم رسیدہ والدین کی حالت زار کا اندازہ ہوچکا ہے اور اپنی ماں کی حرمت کو خود اعتمادی کے ہتھیار سے تحفظ فراہم کرنے کے قابل ہیں۔ مبینہ کے چھوٹے لڑکے نے مجھے ایف آئی آر کی وہ نقل دی۔ جو مبینہ کے والدین نے 18،مئی 1990 کا وہ واقعہ ہوجانے کے فوراً بعد درج کرائی تھی۔ دیگر رپورٹوں کی طرح، جس کی پشت پر سرکاری رعب وداب اور پیسے کی طاقت نہیں تھی، اِس ایف آئی آر کو بھی نظم ونسق کے گر دو غبار کی نیچے کر دیا گیا ہے۔ مبینہ کا شوہر عبدالرشید دیگر کئی ہونہار اور صحت مند نوجوانوں کی طرح بے روزگار ہے اور اپنی بے کسی پر نالاں ہے۔ کیا عبدالرشید جیسے بے کس اور ستم رسیدہ لوگوں کی مشکلات کا کبھی ازلہ کیا جاسکے گا؟ کیا عزت وحرمت کی پامالی کی شکار کشمیر کی خواتین کبھی خوشخبری سُن پائیں گی کہ اُن کے ساتھ دست درازی کرنے کے مرتکب عناصر کو قرار واقعی سزا دی گئی ہے؟

تب بر سراقتدار پی ڈی پی اور ساجھی دار کانگریس جماعت کی خواتین نمایندوں نے اپنے حامیوں کے ہمراہ جلدبازی میں ایسے تمام دیہات اور قصبوں کے دورے کئے، جہاں انڈین آرمی کے جوانوں نے خواتین کی بے حرمتی کے واقعات کو رونما کردیا تھا۔ پی ڈی پی نے اپوزیشن پارٹی کی حیثیت میں انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات کو تشہیر دی۔ اِس طرح کے واقعات پر این سی حکومت نے بہت زیادہ توجہ مبذول نہیں کی تھی۔ عورتوں سے متعلق معاملات میں اصلاحات نہیں کئے جاسکے اور غلطیوں کا ازالہ کرنے کے لئے بھی موثر اقدامات نہیں کئے گئے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ کشمیری خواتین کو دستاویز پارینہ کا رتبہ دیا گیا ہے اور اِس پر مذہبی قومیت، سیکولر قومیت اور نسلی قومیت کے خاکے کھینچے جارہے ہیں۔ اِس پر حد یہ ہے کہ انڈین ملٹری فورسز علیحدگی پسند عناصر کو زیر کرنے کے لئے انتہائی ظالمانہ اقدامات کو وسیلہ بنارہے ہیں۔ ملی ٹنٹ تنظیمیں بھی خواتین پر اِسی طرح کے مظالم ڈھانے میں پیچھے نہیں رہتی ہیں۔ اِن سب کا دعویٰ ہے کہ وہ خواتین کی عظمت کو بحال کرنے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ڈاکٹر نائلہ علی خان

ڈاکٹر نائلہ خان کشمیر کے پہلے مسلمان وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ کی نواسی ہیں۔ ڈاکٹر نائلہ اوکلاہوما یونیورسٹی میں‌ انگلش لٹریچر کی پروفیسر ہیں۔

dr-nyla-khan has 21 posts and counting.See all posts by dr-nyla-khan