شہری طبقہ اور قدرتی وسائل کا ضیاع


پچھلے دنوں ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی کے کچھ طُلبا اور کچھ میڈیا کے ساتھیوں کے ساتھ ضلع لیّہ میں سیلاب اور خشک سالی سے متاثرہ علاقے میں خواتین کسانوں کے حالاتِ زندگی جاننے کا موقع ملا۔ حالانکہ اس دو روزہ معلوماتی دورے کا مقصد خواتین کسانوں کو متاثر کرنے والے ماحولیاتی آلودگی کے عوامل و عناصر سے متعلق کیس سٹڈی جمع کرنا اور ان کو میڈیا اور اربن کلاس شہریوں کی آگاہی کےلئے شائع کرنا تھا لیکن ان خواتین کسانوں کے حالات جانتے ہوئے مجھ پر ذاتی طور پر بہت سی حقیقتیں عیاں ہوتی چلی گئیں۔

میری آنکھ لاہور جیسے بڑے شہر جو کہ صو بہ پنجاب کا دارالحکومت ہے اور جسے پاکستان کا لاڈلا بچہ بھی کہا جاتا ہے، میں کھلی۔ والدین کی اکلوتی اولاد ہوتے ہوئے اپنے اردگرد ہر وہ آسائش دیکھی جس کی توقع کی جا سکتی ہے۔ اچھی خوراک، لباس اور من پسند تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنا، غرض یہ کہ والدین نے بلا روک ٹوک زندگی کی تمام آسائشوں کا حصول یقینی بنایا۔ مگر ان خواتین کسانوں کے حالاتِ زندگی دیکھنے کے بعد میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ ہم اربن کلاس کے بگڑے ہوئے بچے جانے انجانے میں ان کسان بھائی بہنوں کے ساتھ کتنی زیادتی کرتے آئے ہیں۔ یہ کسان جو سارا سال شدید گرمی، سردی، آندھی طوفان، دریائی کٹاﺅ، بارش اور خشک سالی کے باوجود مختلف اجناس کو بیچ بونے سے لے کر فصل پک جانے تک اپنی نیند، سکون، روپے، پیسے اور خون پسینہ سے سینچتے ہیں اور ہم اِن ہی اجناس کو ضائع کرنے میں ایک پل کو بھی نہیں سوچتے کہ جو خوراک اگاتا ہے وہ خود اپنے بچوں کو اچھی اور متوازن غذا دینے سے قاصرہے اور اس حق سے انہیں ہم شہری محروم کر رہے ہیں۔ ایک طرف دن بھر خوراک کو ضائع کر کے اور دوسری طرف ماحول کو اپنی قیمتی گاڑیوں کے دھوئیں سے آلودہ کر کے جس کا بالواسطہ بلاواسطہ اثر کسانوں کے موجودہ حالات پر پڑ رہا ہے۔ ایک خاندان میں ہر شخص اپنی علیحدہ گاڑی رکھنا چاہتا ہے تا کہ وہ زمانے کی بھاگ دوڑ میں لیٹ نہ ہو جائے۔ اور صبح سویرے ایک ہائی فائی سوسائٹی میں صاحب جی کے دفتر جانے سے پہلے انکا ڈرائیور ایک سے دو گھنٹے تک پانی کا پائپ لے کر یوں گاڑی کو دھو دھو کر صاف کرتا ہے جیسے آج چمچماتی گاڑی دیکھ کر اس کا مالک اپنا بنگلہ اس کے نام کر دے گا۔ یقین کریں اس دوران ڈرائیور ایک پل کو یہ نہیں سوچتا کہ گاڑی دھلنے کے اس سارے عمل میں پائپ سے جو صاف، میٹھا اور زمینی پانی مسلسل بہتا رہا اس پانی سے جانے کتنے خاندان ہفتوں گذارا کر سکتے تھے۔ اس پانی کی قدر وہی بہتر جان سکتا ہے جو کراچی اور اسلام آباد جیسے شہروں میں ہر ہفتے مہنگے داموں گھریلو استعمال کا واٹر باﺅزر خریدتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ہم ٹوتھ برش کرتے ہوئے 13 لیٹر (روزانہ)، ٹائیلٹ فلش کرتے ہوئے45 لیٹر(فی فلش)، نل سے گرم پانی نکالتے ہوئے 18 لیٹر (فی منٹ)، نہاتے ہوئے 10 لیٹر (فی 15منٹ)، اور گاڑی دھوتے ہوئے 18 لیٹر فی منٹ صاف پانی ضائع کرتے ہیں۔

دوسر ی جانب ہم اپنے بچوں کو یہ نہیں سکھاتے کہ پلیٹ میں اتنا کھانا ڈالا جائے جتنا آسانی سے کھایا جا سکے اور ضرورت پڑنے پر اوربھی ڈالا جا سکے بلکہ کھانے کے ضیاع کا اصل مظاہرہ تو شادی بیاہ اور عقیقے جیسی تقریبات میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ جس میں بچے تو بچے بڑے بزرگ جو عام حالات میں آپ کو اپنے سفید بالوں کا حوالہ دیتے ہوئے تلقین کرتے نظر آئیں گے، پلیٹوں میں کھانا یوں انڈیلتے ہیں جیسے آج کے بعد میاں محمد نواز شریف صاحب نے شادیوں پر ون ڈش پر بھی پابندی لگا دینی ہے۔ اور جب کھانا انڈیل کر ٹیبل تک لانے کا معرکہ سر کر لیا جاتا ہے تو کُچھ دیر بعد ہی کھانے سے دل اُٹھ جاتا ہے اور پھر بھری ہوئی پلیٹوں سے بھرے ٹیبل سے جلد سے جلد اُٹھنے میں عافیت سمجھی جاتی ہے۔

ویسے کچھ اسی طرح کی صورتحال ریستورانوں اور ہوٹلوں میں بھی نظر آتی ہے جہاں کھانا آرڈر تو کیا جاتا ہے لیکن مکمل طور پر کھایا اور ختم نہیں کیا جاتا۔ اوپرسے ہمارے نام نہاد تعلیم یافتہ سلجھے ہوئے شہری اپنا ہی بچایا ہوا کھانا گھر لاتے شرم محسوس کرتے ہیں تا کہ ایسا نہ ہو کو آس پاس بیٹھے لوگ ان کو کمتر سمجھیں۔ اور آخر میں وہی ہوتا ہے جس کے ہونے سے اُگانے سے پکانے اور کھانے تک کا تمام عمل پیچھے چلا جاتا ہے ۔ ریستوران ویٹر آتا ہے بل لیتا ہے، کھانے کے برتن اُٹھاتا ہے اور تمام بچا ہوا کھانا کوڑے دان میں ڈال دیتا ہے اور بدقسمتی سے یہ عمل سارا دن جاری رہتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی خوراک اور زراعت سے متعلق تنظیم کے ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں اُگائی جانے والی خوراک کا ایک تہائی حصہ ضائع ہو جاتا ہے جس میں سے 40 فیصد سبزیاں اور پھل ہیں۔ اگر ہم اسی رفتار سے خوراک کو ضائع کرتے رہے تو ایک دن آئے گا جب کسانوں کے پاس اُگانے کے لئے نہ مناسب بیج ہو گا، نہ سازگار موسم، نہ ذرائع اور نہ اُگانے کی چاہت اور یقینی طور پر ہمارے پاس بھی ضائع کرنے کو کچھ نہیں ہو گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

کرن سائمن کی دیگر تحریریں
کرن سائمن کی دیگر تحریریں