پہلی محبت کا آوٹ آف سلیبس پرچہ


کالج میں ایک لڑکی بہت پسند آئی۔ ‘چپکے چپکے رات دن تکنے’ والا محاورہ فٹ بیٹھتا تھا ہم پہ۔ ٹھنڈی آہیں بھرنا وغیرہ جیسے مشاغل بھی ساتھ میں جاری رہے۔ ہم سٹی کالج میں B-Com کر رہے تھے اور وہ PAC سے CA۔

سانولی رنگت، اکہرا بدن، کالے چمک دار بال، چہرے پہ جوان امنگوں اور ذہانت کی مہتابی، سادہ حلیہ جس میں کوئی بن ٹھن نہیں تھی۔ چلتے پھرتے دو تین موٹی موٹی کتابیوں کو ہاتھ میں ہونا جن کا ‘موٹاپا’ اُس کی لیاقت پر ہمارے لئے گواہ تھا، ساتھ میں دو سہیلیوں کا ہونا جنہیں ہم نے قطعی نوٹ نہیں کیا، یعنی ہونا نہ ہونا برابر تھا اور جو ہمیں سب سے نمایاں خوبی لگی وہ اس کے بنا کاجل کے کارے کارے نینا تھے (کاجل لگاتی تھی یا نہیں کبھی پوچھا نہیں، حسن ظن عبادت جو ٹھہری) نام کیا تھا کبھی پتہ نہ چلا۔ ہمیں ضرورت بھی نہ تھی۔ ہم نے خود ہی اُس کا نام رکھ لیا، ‘نینا’۔۔۔ (کچھ ہم اپنے ارد گرد کے تمام لونڈوں لپاڑوں کی طرح شاہ رخ خان کے متاثرین میں سے تھے اور کچھ ہی دنوں پہلے ‘کل ہو نہ ہو’ دیکھ رکھی تھی)۔

کالج میں ایک کلاس فیلو لڑکی سے بڑی گاڑھی چھنتی تھی۔ باقاعدہ سہیلی تھی۔ میری طرح ہنسوڑ۔ ہم دونوں نے باقاعدہ پورا کالج اپنے سروں پر اٹھا رکھا تھا۔ اسے چھیڑ تو اسے تنگ کر۔ روز نئی شرارت۔ اس کے بوائے فرینڈ کا میں غیر رسمی رقیب روسیاہ بن چکا تھا کہ وہ زیادہ وقت ہمارے ساتھ ہلے گلے میں گزارتی اور کچھ ہم دونوں ہمارے اس غیر رسمی مقام کا لطف بھی لینے لگ گئے تھے۔۔۔ یعنی موصوف کو مفت میں جلانے کا اپنا ہی مزہ تھا۔ وہ دشمن جہان ایسے کاموں میں استاد کا درجہ رکھتی تھی۔ اس سے مدعا بیان کیا تو نت نئے مشوروں کا سلسلہ چل نکلا۔ اب روز میں اور دو چار میرے جیسے بیٹھ کر منصوبے تراشتے رہتے کہ کیسے ’نینا‘ کو کیسے پروپوز کیا جائے۔ تب میرا پروپوزل دوستی سے آگے نہیں جاتا تھا۔ یہی بہت تھا کہ صنف مخالف ہمیں دوست رکھے۔ اس سے آگے تو ویسے ہی جان جاتی تھی۔

بہرحال ہماری دوست اور دو تین اور لڑکے لڑکیوں کا گروپ ہمیں سمجھاتے کہ جب تم اسے کہو گے کہ “آپ مجھ سے دوستی کریں گی” تو وہ سیدھا انکار کر دے گی۔ وہ کہے گی ‘نہیں’۔۔۔۔ چند دنوں تو زندگی پوری اسی لفظ کے گرد گھومتی رہی کہ نہیں کو کیسے پار کیا جائے۔ مجھے لگتا تھا کہ نہیں  ’بوستان خیل‘ سے نکلا  پریوں کی حفاظت کرتا کوئی دیوہیکل جن ہے جس سے پنجہ آزمائی میرے جیسا ڈیڑھ پسلی کبھی کر ہی نہیں سکتا۔۔۔ ایسے میں دوستوں کے مشورے کچھ ایسے ہوتے، ’وہ نہیں کہے تو تم نئے دور کی ضرورتوں پہ لیکچر دینا کہ لڑکے اور لڑکی کے درمیان دوستی نئے دور کی ضرورت ہے‘۔ کوئی کہتا ’اپنے اوصاف حمیدہ سے آگاہ کرنا‘ (ہم خود جن سے آگاہ نہ تھے)۔ حزب اختلاف سے صدا آتی کہ ’نہ نہ بس اس کی خوبصورتی بیان کرنا‘ (تھپڑ سے ڈر لگتا تھا)۔ ہمارے جیسے مسکین کہتے ’یار ایسی باتیں نہ کرنا بس کہنا کہ کچھ دن دوستی کر کے تو دیکھئے‘ (یعنی دوستی کا ٹرائل پیریڈ۔ پسند نہ آئے تو پیسے واپس)۔ الغرض ڈھیر سارے مشورے سمیٹے۔ اور تو اور اس نیک کام کے لئے اپنی ہمشیرہ سے بھی ڈھیر ساری نصیحتیں لیں۔

بات دراصل یہ تھی کہ ہماری ہمت ہی نہیں بندھتی تھی۔ بس مشوروں سے ہی ٹھرک پوری کر رہا تھا اور سچ پوچھئے اسی میں مزہ آنے لگا تھا۔ روز میرا اور اس کا ذکر دوستوں کی محفل میں ’ایک ساتھ‘ ہو جاتا اور بس۔ لیکن اب دوستوں نے طعنے دینے شروع کر دئے۔ بے مروت لوگ بات بے بات پھبتیاں کستے اور ناہنجار جگتیں ’کراتے‘۔ سہیلی صاحبہ بلکہ استاد صاحب کہنا چاہئے اب اپنے تجربے کو حقیقت کے روپ میں دیکھنا چاہتی تھیں۔ کامیابی کی خوشی ان کی آنکھوں میں چمکتی تھی۔ قریب تھا کہ وہ ترنگ میں آکر نعرہ مار دیتی۔ آہ انقلاب!!!

آخر ڈرتے ڈرتے، کانپتے پیروں کے ساتھ اور باقاعدہ ہکلاتے ہوئے ‘نینا’ کو دو دوستوں کے ہمراہ ‘ایکسکیوزمی’ کہہ کر روکا۔ اور کہا “کیا آپ میرے سے دوستی کریں گی؟”۔

وہ بولی۔ ‘کیوں؟’۔۔۔

ہیں!!!!

میرے تو رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ دل میں بھانبڑ چلنا شروع ہو گئے۔ یہ تو کسی نے بتایا ہی نہ تھا۔ اس کا جواب تو معلوم ہی نہیں۔ اسے تو ‘نہیں’ کہنا چاہئے تھا۔ اف!

آسمان اور زمین گھومنے لگے، کان سائیں سائیں کرنے لگ گئے۔ تارے اساتذہ کی سوٹیاں کھانے کے علاوہ کیسے دکھتے ہیں اب معلوم پڑا اور بمشکل مری سی آواز میں کہہ سکا۔

‘ایویں’۔۔۔۔

بس اس ’ایویں‘ کو اس نے زیادہ اہمیت نہ دی اور یہ جا وہ جا۔

پہلی محبت پرچہ آؤٹ آف سلیبس ہونے کی وجہ سے شروع ہونے سے پہلے ہی ناکام ہوگئی۔ افسوس!


Comments

FB Login Required - comments