کنہیا کمار کے نام کھلا خط


usman ghaziکنہیا کمار اپنے نام سے تو تم ایک ہندو ہو مگر سچ میں تم بہت بڑے انسان ہو ۔

پاکستان میں آج کسی کو افضل گورو یاد نہیں ہے اور تم نے ہندوستان میں اس کشمیری حریت پسند کی برسی منائی, اس کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دیا اور پھر اتنا آگے بڑھے کہ ریلی بھی نکال دی ۔

اب تم پر غداری کا مقدمہ نہیں بنتا تو اور کیا ہوتا ؟

ہاں پتہ لگا کہ تم بہار کے ایک گاو¿ں سے نکل کر جواہرلعل نہرویونی ورسٹی پہنچے ہو، یہ بھی معلوم ہوا کہ تم ایک معذور باپ کے اولوالعزم بیٹے ہو، اس بات کا بھی علم ہوا کہ وہ تمہاری ایک تقریر ہی تھی، جس کی بدولت تم اسٹوڈنٹ یونین کے الیکشن جیت کر آل انڈیا اسٹوڈنٹ فیڈریشن جی این یو کے صدر بن گئے۔ تمہاری ہمت کی داد دینا ہوگی، تم غیرمعمولی ہو ۔

Kanhaiya_Kumar_2734474g (1)کنہیا کمار,….

جب ریاستوں پر انتہاپسند مسلط ہوں تو آزادی اظہار ایک سنگین جرم ہوتا ہے۔ تم ہندو ہو کر مسلمان حریت پسند کی حمایت میں اپنے ملک کے غدار ٹھہرائے گئے ہو تو یہاں پاکستان میں بھی وہ لوگ کم نہیں جن کے سینے بھگت سنگھ کو ہیرو کہنے کے جرم میں غداری کے فتوو¿ں سے چھلنی کئے گئے ہیں ۔

بھارتی میڈیا آج تمہیں تنقید کا نشانہ بنارہا ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر نام نہاد دیش بھگت تم پر پھبتیاں کس رہے ہیں مگر تم یہ سب سہنے میں اکیلے نہیں ہو۔ سرحد کے اِس پار بھی آزادی اظہار کے متوالے انتہاپسندوں کے اسی جبر کا شکار ہیں ۔

کنہیا کمار….

Gv_7c79G_400x400
تم کشمیر کو بھارت کا حصہ مانتے ہو اور ہم پاکستان کا…. یہاں ہمارا اختلاف ہے, اس اختلاف پر ہم سچے دل سے ایک دوسرے سے لڑیں
گے مگر ایک بات پر ہمارا اتفاق ہے کہ اس خطے کے کروڑوں انسان نفرت کے بیوپاریوں سے نجات مانگ رہے ہیں ۔

اس خطے کا آنے والا کل ہمارے عزم کا نقیب ہوگا۔

پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی پر یقین رکھنے والے ہندوستان کے بہن بھائیوں کو رائے کی آزادی کی عظیم جدوجہد پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

دعاگو
عثمان غازی


Comments

FB Login Required - comments