قمر زمان کو سکواش نہیں آتی


wisi 2 babaہم سکواش کورٹ بیٹھے ہوئے تھے۔ بس جی میں آئی تھی کہ کوئی تو میچ دیکھ ہی لیا جائیے اس کھیل کا بھی۔ پاکستان اوپن کا کوئی اہم میچ تھا۔ درجن ڈیڑھ لوگوں کا ایک جم غفیر بیٹھا میچ دیکھ رہا تھا۔سکواش کے دو بڑے کھلاڑیوں کے صاحبزادوں کا میچ تھا۔ میچ پھنسا ہوا محسوس ہورہا کہ ہمارے ساتھ بیٹھے بزرگ تماشائی کی اچھل کود اور بے تابیاں بے مثال ہوتی جا رہی تھیں۔

اچانک ایک عجیب و غریب شارٹ ماری ایک پلیئر نے کہ بال نے سکواش کورٹ کی دونوں دیواروں کے کونوں کو ایسے ٹچ کیا اور بجائیے تیزی سے واپس آنے کے وہیں مردار سی ہو کر رہ گئی۔ جس کھلاڑی کو جوابی شارٹ مارنی تھی اس کی پھرتی کے باوجود وہ بال کو اٹھانے میں ناکام رہا اور پوائنٹ شارٹ مارنے والے کھلاڑی کو مل گیا۔

اس معجزاتی شارٹ نے حیران کیا تھا کہ اتنے زور سے ماری ہوئی شارٹ تیزی سے پلٹنے کی بجائے وہیں مر مرا گئی۔ یہی سوچ رہے تھے کہ ساتھ بیٹھے بزرگ نے ایک زوردار ہاتھ میری ٹانگ پر مارا کہ لگا ٹانگ لگے ہیں توڑنے۔ بزرگ کے ساتھ گتھم گتھا ہونے کی نیت لئے ان کی جانب مڑا تو وہ شدید جذباتی حال میں کھڑے تھے۔ اپنی ٹوپی اتار کر ہاتھ میں پکڑ رکھی تھی مجھے سے پوچھا کہ اودے لیدل ( دیکھا تم نے)۔ کیسی شارٹ تھی ؟ میں یہی دیکھنے کو بیٹھا تھا ۔ یہ شارٹ قمر زمان کا بیٹا ہی مار سکتا ہے۔

1431253970بزرگوں کا جذباتی خطاب جاری تھا کہ اس شارٹ کو ڈیڈ ڈراپ کہتے ہیں یہ قمر زمان نے ایجاد کی تھی، سنا تم نے ایجاد کی تھی۔ اس کا بیٹا پورے میچ میں ایک آدھ بار یہ شارٹ مارتا ہے۔ قمر زمان کا جب دل کرتا تھا یہ شارٹ مار کے پوائنٹ لے لیتا تھا۔ ٹانگ کو سہلاتے ہوئے بزرگوں سے کہا کہ قمرزمان جہانگیر اور جان شیر سے تو کبھی جیتا نہیں۔ بزرگ نے کہا یہی تو تم کو سمجھ نہیں ہے کہ ان دونوں کا سٹیمنا جناتی تھا۔ سکواش میں ایک ہی سٹروک پلیئر پیدا ہوا تھا جس کا نام قمر زمان تھا۔

بزرگ نے انکشاف کیا کہ میچ جن دو کھلاڑیوں کے درمیان ہو رہا ان میں سے ایک قمر زمان کا صاحبزادہ ہے، دوسرا خود ان بزرگ کا بھتیجا یا نواسہ تھا جبکہ وہ صرف ڈیڈ ڈراپ والی شارٹ دیکھنے ہی کورٹ آئے تھے۔ میچ ختم ہو گیا تماشائی اکٹھے ہوئے تو اندازہ ہو گیا کہ سب ہی سکواش کے ماہرین ہیں۔ ان کی باتوں سے یہی محسوس ہوا کہ قمرزمان جیسا سٹروک پلیئر سکواش کے کھیل نے نہیں دیکھا۔

ان سب باتوں کا یہی نتیجہ نکلنا تھا کہ قمرزمان سے ملاقات کی خواہش پیدا ہوئی ۔ تو س انہیں ڈھونڈا، ٹائم لیا اور پہنچ گئے انہیں ملنے۔

قمر زمان باتوں کی ایک پٹاری ہیں۔ قصہ گو ہیں۔ آپ ان سے مل کر بور نہیں ہو سکتے۔ ہم لوگوں نے ان سے پوچھا کہ سکواش میں انہوں نے کون سے ٹائٹل جیتے تو انہوں نے ملازم کو آواز دی کہ میچوں کے ریکارڈ کی فوٹو کاپی لے آو¿۔ دوسرے سوال پر سرکاری اعزازات کی لسٹ بھی مل گئی۔ قمر زمان اپنے ساتھ کھیلنے والے کھلاڑیوں کے قصے سناتے رہے۔ ان کے لہجوں کی نقل اتارتے رہے۔ ہم مبہوت ہو کر ان کی باتیں سنتے رہے۔

ان سے سوال کیا کہ صاحب یہ بتائیں کہ ڈیڈ ڈراپ والی شارٹ کا کیا قصہ ہے ۔ ہمیں بتائیں کہ آپ نے سکواش کے کھیل میں نئی شارٹس کیسے ایجاد کیں جو آپ کے جانے کے بعد کوئی نہ مار سکا۔ قمر زمان خاموش ہو گئے۔ ان کی باتوں کو بریک لگ گئی۔ تھوڑی دیر پہلے ہی وہ ایک گورے کھلاڑی کی گرل فرینڈ بھاگ جانے پر اس کے تاثرات کی نقل اتار رہے تھے اور ہم لوگوں کے پیٹ میں بل پڑتے جا رہے تھے ہنستے ہوئے۔

08-PM (4)محفل کا ماحول بدل سا گیا۔ ان نکی خاموشی ہی اتنی طویل تھی۔ جب بولے تو کہا کہ یار ہم بہت غریب تھے۔ کوئٹہ میں رہتے تھے۔ سکواش کورٹ ہمارے گھر سے دس پندرہ کلومیٹر دور تھا۔ میں وہاں کھلاڑیوں کی کٹ اٹھانے اور ان کی خدمت کرنے جایا کرتا تھا اور اکثر بھاگتے ہوئے جاتا تھا کہ میچ دیکھنے کا ٹائم نہ نکل جائے، کسی کے ساتھ پریکٹس کر سکوں۔ پیروں میں ہوائی چپل ہوا کرتی تھی۔

میچ ختم ہونے کے بعد کھلاڑیوں سے استعمال شدہ سکواش بال لے لیا کرتا تھا جو پھٹ چکی ہوتی کہ سکواش کی بال کی عمر ہی اتنی ہوتی ہے۔ یہ گیند گھر لا کر دیا کرتا تو میری ماں ساری رات بیٹھ کر اسے سوئی دھاگے سے سی دیا کرتی۔ ان مرمت شدہ گیندوں اور دوسرے کھلاڑیوں کے ریکٹ سے میں پریکٹس کیا کرتا۔ دل میں یہ خیال ہوتا کہ شارٹ زور سے لگائی تو بال جلدیپھٹ جائے گی ، تو بس شارٹ ایسے مارتا کہ بال زیادہ دیر چلے۔

بس یہی پریکٹس کرتے رفتہ رفتہ ڈیڈ ڈراپ مارنا سیکھ گیا۔ سکواش کورٹ میں وہ کونے اور اینگل دریافت کر لئے جہاں شارٹ مارتا تو مخالف کھلاڑی کے لئے بروقت اسے اٹھانا ممکن نہ ہوتا۔ اس رفتار کا بھی پتہ لگ گیا جس سے مختلف شارٹیں مارنی ہوتی تھیں۔ باقی بس پریکٹس تھی جو میں روز کرتا تھا۔

قمرزمان سے پوچھا کہ اچھے سٹروک پلیئر تو آپ تھے ، جہانگیر اور جان شیر تو بس پھر جناتی سٹیمنا کی وجہ ہی سے جیتے۔ قمرزمان بولے کہ سٹروک ہی سب کچھ نہیں ہوتے۔ تکنیک بھی ہوتی ہے۔ سکواش میں سٹیمنا کی بھی بہت اہمیت ہے جو میرا اتنا نہیں تھا بلکہ جہانگیر جان شیر جیسا کسی کا بھی نہیں تھا۔ جہانگیر کا جیتنا تو یقینی ہوتا تھا۔

سکواش کے باقی سب کھلاڑیوں کا مقابلہ تو اس میں ہوتا تھا کہ جہانگیر کے ساتھ فائنل کون کھیلے گا۔ نمبر ون تو جہانگیر ہو گا، نمبر ٹو کون ہوگا۔جان شیر اور جہانگیر دونوں بہت بڑے کھلاڑی ہیں جو روز پیدا نہیں ہوتے ایک ہی دور میں بھی اکٹھے نہیں آتے لیکن پاکستان کو نصیب ہوئے۔ جہانگیر تو ایک بڑا کھلاڑی ہی نہیں، ایک بڑا انسان بھی ہے ۔ ان کے ریکارڈ بولتے ہیں۔ قمرزمان کے اعترافات ہی بتا رہے تھے کہ وہ خود بھی صرف بڑے کھلاڑی ہی نہیں، بڑے انسان بھی ہیں۔

قمر زمان سے پوچھا کہ اب ہم سکواش میں کب ترقی کریں گے تو ان کا جواب تھا کہ اگلے دس پندرہ سال تو کچھ نہیں کریں گے۔ ان سے کہا کہ لیکن آپ کا تو اپنا بیٹا بھی سکواش کھیلتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ہاں کھیلتے ہیں، دو بیٹے کھیلتے ہیں۔ میرے بیٹے بھی اور باقی کھلاڑی بھی شہرت عزت تو جہانگیر اور جان شیر والی چاہتے ہیں لیکن ان جیسی محنت کئے بغیر۔

قمر زمان سے پوچھا لیکن آپ تو سکواش فیڈریشن کے نائب صدر ہیں تو انہوں نے کہا تو آپ کو نہیں پتہ کہ صدر کون ہے۔ پتہ تھا کہ فضائیہ کے ایک افسر ہیں اور پاک فضائیہ کے افسران ہی سکواش فیڈریشن کو چلاتے ہیں۔ قمرزمان کا کہنا تھا کہ میں نے ایک اجلاس میں تجویز دی تھی کہ سکواش کو کیسے چلانا ہے۔

تجویز یہ تھی کہ ہمارے پاس اس وقت بیس پچیس کھلاڑی ہیں چھ سات عالمی معیار کے ہیں تو ہمیں دو پول بنانے چاہئییں ایک دس کھلاڑیوں کا جس میں یہ چھ سات عالمی معیار کے کھلاڑی ہوں۔ دوسرے پول میں باقی نوجوان اور منتخب کھلاڑی ہوں۔ پہلے پول کے ہر کھلاڑی کو ایک یا دو میچ مہینے میں دوسرے پول والے کھلاڑی سے کھیلنے کی پابندی ہو اور ان کے زیادہ میچز انٹرنیشنل کھلاڑیوں سے کرائے جائیں۔ اس سے یہ ہو گا کہ ہمارے معیاری کھلاڑیوں کا لیول بھی بہت بہتر ہو گا اور دوسرے پول کے کھلاڑیوں سے بھی ہمیں اچھے کھلاڑی مل جائیں گے جو عالمی سطح پر جیتنے کے قابل ہوں گے۔ ہم اپنے پہلے پول اور دوسرے پول سے دو دو تین تین کھلاڑی جہانگیر خان ، جان شیر اور باقی پاکستانی لیجنڈ کھلاڑیوں کے حوالے کر دیں گے تو وہ انہیں بہت پالش کر دیں گے۔ ہماری سکواش میں حکمرانی بحال بھی ہو جائیے گی اور برقرار بھی رہے گی۔

قمر زمان نے بتایا کہ یہ تجویز مسترد کر دی گئی۔ ایک ہی پول بنانے کا فیصلہ ہوا ۔ انہوں نے بڑا احتجاج کیا کہ ایسا کرنے سے ہمارے اچھے کھلاڑیوں کا بھی لیول خراب ہو جائیے گا جب انہیں مقامی کھلاڑیوں سے زیادہ کھیلنا پڑے گا تو معیار گرے گا اور ہم سکواش میں کہیں کے نہیں رہیں گے۔

قمرزمان سے پوچھا کہ آپ جیسے کھلاڑی کو آخر کوئی انکار کر کیسے سکتا ہے ؟ کیا کہا گیا تھا؟ ان کا کہنا تھا کہ مجھے کہا گیا کہ قمرزمان تم کھیل کو نہیں سمجھتے۔ یہ کہہ کر قمرزمان نے نظریں پھیر لیں۔ ہم نے سر جھکا لئے کہ کیا لوگ ہیں ہم بھی جو سکواش کے چیمپئن کھلاڑیوں کے پسندیدہ ترین کھلاڑی کو بھی یہ کہنے کی جرات رکھتے ہیں کہ اسے سکواش کا کھیل نہیں آتا۔

اس ملاقات کو پندرہ سال ہونے کو آئے۔ ان پندرہ برس میں ہم سکواش کے کھیل میں کہیں نہیں دیکھے گئے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “قمر زمان کو سکواش نہیں آتی

  • 21-02-2016 at 2:12 pm
    Permalink

    بہت ہی شاندار مضمون,, معلوم ہوا کہ قمر زمان بھی نہ صرف ایک عظیم کھلاڑی ہیں بلکہ بہت عظیم انسان بھی ہیں- دکھ اس بات کا ہوتا ہے کہ کیسے کیسے ہیرے اللہ نے ہماری جھولی میں ڈال دیے اور ہمیں ان کے تجربے سے استفادہ کرنے کی توفیق بھی نہ ہوئی-
    جیتے رہئے ایک بہت زبردست کھلاڑی, ایک شاندار انسان سے متعارف کروایا آپ نے

Comments are closed.