قومی مفاد اور غداری کی اسناد


junaid qaiserاِس وقت دنیا میں دو بنیادی بیانیے موجو د ہیں ، قومی سلامتی / نیشنل سیکورٹی کا بیانیہ اور دوسرا قومی خوشحالی /نیشنل پراسپیرٹی کا بیانیہ ۔ پاکستان میں غالب بیانیہ قومی سلامتی کا رہا ہے ۔ اور با قی تمام ذیلی بیانیے چاہے وہ مذہبی ، لسانی یا فرقہ وارانہ ہو ں اِسی قو می بیانیے کے مفادات کے تابع تخلیق کر کے ریا ست نے سما ج پر مسلط کئے ہیں۔ اِس قو می بیانیے کے مدمقابل قو می خوشحالی ، اور بنیادی انسانی حقوق اور آفاقی، جمہوری اور شہری آزادیو ں کی جس نے با ت کی ہے، ان کو ریاست کی جا نب سے سند یافتہ دانشوروں اور کالم نگاروں نے غداری کا لقب اور میڈل ہی دیا ہے۔ غداری کے سرٹیفیکیٹ دینے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے بلکہ بعض کا لم نگاروں نے تو یہ بھاری بوجھ اپنے ناتواں کندھو ں پر اٹھا رکھا ہے ۔

سقراط سے ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کو ریا ستی اداروں کی جا نب سے غدار اور سیکورٹی رسک قرار دیا گیا آج بھی پاکستان میں میڈیا کے ارتقا کے با وجود میڈیا جس کی بنیاد اظہار ِرائے کی آزادی پر ہے جس میں اختلا ف رائے کو احترام دیتے ہوئے دلیل اور منطق کی بنیا د پر جواب دینے کی روایت ہے ۔ مگر اِس ارتقا کے با وجو د ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے کالم نگا ر اور صحافی آج بھی غداری کے سرٹیفیکیٹ فر وخت کرنے والی چھوٹی چھوٹی دکانیں کھولے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ اشتیاق بیگ نے اپنے کا لم ’ ملکی مفاد کی خلاف کام کرنے والے قوم کے غدار‘ میں سابق سفیر حسین حقانی کو غداری کا سر ٹیفکیٹس دینے کے ساتھ سا تھ اُس وقت کی حکو مت کو بھی کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ حسین حقانی کو غدار قرار دینے کے لئے کا لم نگار نے اِس حوالے سے خو اجہ آصف کے بیا ن اور میمو گیٹ کا حوالہ دیا ہے۔

حسین حقانی، وزیر دفاع خواجہ آصف کے بے بنیا د الزامات کا جواب پہلے ہی اپنے ٹویٹ کے ذریعے دے چکے ہیں کہ”جب میں سفیر تھا ، تو ہم نے اِمر یکہ سے ائیر فورس کے لئے ایف 16 حا صل کئے مجھے نہیں پتا کہ وزیر دفا ع مجھ پر کیو ں الزام لگا رہے ہیں ‘۔

جہا ں تک میمو گیٹ کا تعلق ہے تو اِس کے ایک اہم ترین کر دار موجودہ وزیراعظم میا ں نواز شر یف جو اُس وقت اپنا تاریخی کالا کوٹ پہن کر پٹیشن لے کے سپر یم کورٹ پہنچے تھے ، اب اِسے اپنی غلطی قرار دے رہے ہیں اور ایک سویلین حکومت کے خلا ف سازش میں شریک ہو نے پر ندامت کا اظہار کر رہے ہیں ۔ اِسی میمو گیٹ سازش کے ایک اور اہم کردار اُس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل(ر) پا شا بقول حا مد میر ، سابق صدر آصف علی زرداری سے معا فی مانگنے کے ساتھ اس با ت کا بھی اعتراف کر چکے ہیں کہ اُنہوں نے یہ سب کچھ جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کے ایما پر کیا تھا اِن تمام معافی نامو ں کے بعد میمو گیٹ کی حقیقت سویلین حکو مت کے خلا ف ایک سازش کے سوا اور کچھ بھی نہیں ۔

اشتیاق بیگ نے جس قومی مفاد کا ذکر کیا ہے اور اِسی کو معیار بنا کر غداری کے سر ٹیفکیٹس تقسیم کئے ہیں اس قومی مفاد نے پا کستان کو بدحالی اور تباہی کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ ایسا قومی مفاد ، جس کا تعین اور فیصلہ پارلیمنٹ سے نہ ہوا ہو، اس کو قومی مفا د نہیں کہا جا سکتا، جمہوری اور ترقی یافتہ معا شروں میں جہاں منتخب پا رلیمنٹ اور نما ئندہ ادارے جو معاشرے کی اجتماعی ذہانت اور مفادات کے عکاس اور ترجما ن ہو تے ہیں ، وہی قو می مفا دات کو تشکیل دیتے ہیں۔ اور انہیں قومی مفادات کے تابع پالیسیاں بنائی جا تی ہیں اِن قومی مفادات میں اختلا ف رائے کو بھی اہمیت دی جا تی ہے اور ان کے مفادات اور نظریا ت کے لئے بھی گنجائش پیدا کی جا تی ہے۔ اُنہیں غدار قرار دے کر آزاد آوازوں کا گلا گھونٹا نہیں جا تا بلکہ اِن کی آزاد آراء قومی بیا نیہ کا حصہ ہوتی ہیں۔ پا کستا ن میں غیرجمہو ری ادوار میں غیر منتخب حکمرانو ں نے قومی مفادات کے نا م پر جو پالیسیا ں تشکیل دیں اُن کا خمیازہ آج تک پوری قوم بھگت رہی ہے۔ جنرل (ر) ضیاالحق کے زمانے میں افغان جہاد قومی مفاد کی پا لیسی تھی جس نے پا کستان کو ہیروین کے ذریعے منشیا ت زدہ، کلاشنکوف کلچر کے ذریعے دہشت گردی کا شکا ر اور مذہبی انتہا پسندی کے ذریعے فرقہ وارانہ قتل و غارت گری کا مرکز بنا دیا جنر ل (ر) پر ویز مشر ف کی قومی مفادات کی پالیسیوں نے اِس ملک کو نوجوان خودکش بمباروں کا تحفہ دیا ۔ ان نام نہاد قومی مفادات کی پالیسیوں میں ہمیں غیر منتخب حکمرانو ں کے مفا دات تو دکھائی دیتے ہیں مگر ریا ست اور افراد شہریوں کے مفا دات کہیں نظر نہیں آتے۔

قومی بیانیہ محض ایک ریاستی ادارے انتظامیہ یا کچھ مخصوص افراد کے مفا د کا نا م نہیں ہوتا بلکہ تمام ریا ستی اداروں اور تمام شہریو ں بلا امتیا ز رنگ و نسل مذہب و عقیدہ اور جنس کے مفا د کا نام ہوتا ہے یہی آج کی زندہ اور ترقی یافتہ ریا ستوں کا قومی بیانیہ جسے قومی خوشحا لی کا بیانیہ کہا جا تا ہے۔ آج دنیا کی تمام ریا تیں قومی سلامتی کے بیانیہ سے قومی خوشحا لی کے بیانیہ کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ نیشنل ایکشن پلا ن کی تشکیل کے وقت قومی قیادت، سول اور ملٹری دونو ں نے اِس عزم کا اظہار کیا تھا ، کہ ہم نے ماضی کے بیانیہ کو ترک کر کے ایک نیا بیانیہ تخلیق کرنا ہے اور اس کو معا شرے میں فروغ دے کر ایک نئے معاشر ے کو تخلیق کرنا ہے۔ یہ بیانیہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف بننا تھا۔ جس کے اصول جمہو ری اور لبر ل اقدار پرمبنی ہو نا تھے۔ اور اس میں شہریوں اور ان کے بنیادی حقوق کو اہم تر ین حیثیت ملنا تھی۔ جس میں جمہوریت ، وفاقیت کے اصولوں ، بین الاقوامی دنیا سے بہتر تعلقات ، تجا رت اور معیشت کی بنیاد پر ، ہمسا یہ ریا ستو ں سے باہمی تعاون کے ایک نئے رشتے کا آغاز ہونا تھا۔ یہ وہ بیانیہ ہے، جو موجودہ بیانیہ سے یکسر مختلف ہے اور یہ وہی بیانیہ ہے جس کی بات بے نظیر بھٹو ، آصف علی زرداری ، بلاول بھٹو ، عاصمہ جہانگیر اور حسین حقانی جیسے نظریات رکھنے والے سیا ستدان اور دانشور کر تے رہے ہیں۔

بدقسمتی سے وہ لو گ جو آج بھی پرانے قومی بیانیہ کے زاویے سے دنیا کو دیکھتے ہیں۔ جو بدلتی دنیا کو سمجھنے سے قاصر ہیں ، جن کو دنیا کی بدلتی حقیقتیں نظر نہیں آرہی یا وہ اِن کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے یا اپنے مخصوص مفادات کی بنا پر ایسا نہیں کر سکتے وہ جدید خیالات اور نظریات کا پرچار کرنے والو ں کے خلا ف غداری کے سرٹیفیکٹ تقسیم کرتے نظر آ رہے ہیں۔ پا کستان کو ایک جدید جمہوری ریا ست اور ایک ترقی یافتہ قو م بننا ہے۔ اور جدید رجحانات پر مبنی قومی خوشحالی کا بیانیہ ہی اس کا بنیادی محرک ہو گا اور اِس قومی خو شحالی کے بیا نیہ کی تر ویج کر نے والے اِس قو م کے غدار نہیں بلکہ اِس قوم کے معما ر ہوں گے۔


Comments

FB Login Required - comments