مردم شماری اور قوم پرستوں کے لطیفے….


 faizullah khan ایاز لطیف پلیجو کو ہونے والے کشف کے مطابق سندھ کی آبادی چھ کروڑ ہے۔ تعداد کے فرق کے ساتھ کم و بیش ایسے ہی بیانات ہر جگہ کا قوم پرست لیڈر دیتا ہے…. وطن عزیز کے جملہ قوم پرست رہنماﺅں کے بیانات کی روشنی میں دیکھا جائے تو پاکستان کی آبادی تیس بتیس کروڑ تک جا پہنچتی ہے۔ یہ کمال ہمارے قوم پرستوں کو ہی حاصل ہے کہ ایک نظر آبادی پہ گھما کے پوری پوری تعداد بتا دیتے ہیں ایسی مہارت تو آئن اسٹائن جیسے سائنس دانوں اور مغربی ممالک تک کو حاصل نہیں۔ مناسب ہو گا عالمی دنیا ہمارے مہان قوم پرست عبقریوں سے معاونت طلب کرے یہ ایسے تمام مسائل مثلاً پانی بجلی گیس اور آبادی کے بارے میں سب کچھ اندازے سے بتا دیتے ہیں، ہم ایویں خود کو کوستے ہیں سائنسی علوم و فنون میں پیچھے رہ گئے، ہمیں ان سب سے استفادہ کرنا چاھئِے یہ وہ مخلوق ہے جو کائنات تبدیل کرسکتی ہے کیونکہ ہر رنگ و نسل کا قوم پرست کم از کم بھی پانچ ہزار سال سے اپنی تاریخ شروع کرتا ہے۔ اسفند یار اور اچکزئی اس کی خوبصورت مثالیں ہیں اسی طرح کے سرائیکی قوم پرست بھی ہیں جن کے الگ ہی دکھڑے ہیں، قوم پرستوں کی سیاست بھی بڑے ہی مزے کی ہے اسٹیبلشمنٹ کو گالیاں دیں گے اور اندھیرے میں جا جا کر ملاقاتیں بھی کریں گے۔۔۔ بلکہ اپنے سندھی قوم پرست تو بہت ہی ھلکے ہیں مانگتے سندھو دیش ہیں راضی اسکیم تینتیس کے ڈھائی سو گز کے پلاٹ یا قبضے کے بنگلے پہ ہوجاتے ہیں اور انہیں دیکھ کر اسٹلیشمنٹ بھی سکھ کا سانس لیتی ہے کہ اگر یہی سندھو دیش کی آزادی ہے تو روز لیتے رہیں یا زیادہ زور لگایا تو دو تین فٹ ریل کی پٹری اڑا دیں گے….  ہمیشہ ناراض اور ردعمل میں رہنے والے قوم پرست چاہتے ہیں کہ بغیر محنت کئے سب کچھ ان کے حوالے کردیا جائے یہی وجہ ہے کہ باتیں رواج ثقافت اور تہذیب کی کرا لو، کام کا بولو تو جان نکلنے لگتی ہے اور ہاں آخر میں یہ کہے بغیر مجھے روٹی ھضم نہیں ہوگی کہ اپنے نئے نویلے لبرلز و سیکولرز کی طرح یہ سارے آئٹم بھی ماضی میں سرخے تھے اور آج کل کے فیشن کے عین مطابق زیادہ سیکولرز ہو گئے۔ تھوڑے بہت سرخے ہیں اور جو باقی بچے، وہ خود ساختہ ملحد بن چکے….


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “مردم شماری اور قوم پرستوں کے لطیفے….

  • 21-02-2016 at 3:46 pm
    Permalink

    agar islam parast 20000 ya 30000 hazar ke majme ko one million ka march keh sakhte hain jabke jhooth ke aazab ka bhe maloom aur jhooth bolne walle per Allah ke lanath se khabardar bhe thoo aggar qoom parast thoora jhooth bolein tho keya faraq partha hai

  • 21-02-2016 at 4:01 pm
    Permalink

    یار لوگوں نے بھی غلطی ہاے مضامین کی، لگتا ہے، شرط باندھ رکھی ہے. مثلا “سرخے” اور “سیکولر” میں تفاوت.. سرپرستانہ انداز کی معذرت کے ساتھ، اگر “سرخے” سے بھائی کی مراد مارکسی سوچ کے لوگ ہیں، تو، وہ پہلے بھی سیکولر ہی تھے کہ مارکسی ہوتے ہی سیکولر ہیں. اگرچہ غیر مارکسی سیکولر بھی ہوتے ہیں. جہاں تک لاکھوں کروڑوں کی لاف زنی کا تعلق ہے، تو ایاز لطیف پلیجو کا بیان تو ہماری نظر سے نہیں گزرا. البتہ ٹی وی کی ہمہ دم لائیو کوریج کی برکت سے پچھلے سال ساری قوم نے ایک ” رہنما” کو کنٹینر پر کھڑے، پنڈال کی خالی کرسیوں کو لاکھوں کا مجمع قرار دیتے دیکھا تھا. کیا یہ موصوف بھی قوم پرست ہیں؟ اسی طرح، موہوم “نظریہ پاکستان” کا علمبردار ایک لاہوری اخبار کئی برس سے بلا ناغہ ہر عید پر سرخی لگاتا آیا ہے کہ، “بادشاہی مسجد میں لاکھوں فرزندان توحید نے نماز عید ادا کی”. ممتاز ادیب اور سابق سرکاری افسر مختار مسعود صاحب نے لکھا ہے کہ وہ ہر سال لگنے والی اس سرخی سے اچنبھے میں پڑے رہتے تھے. جب وہ لاہور کے ڈپٹی کمشنر تعینات ہوۓ تو ایک روز عملے کو ساتھ لے جاکر بادشاہی مسجد کی پیمائش کی. کسی صورت اس میں پچپن ہزار سے زیادہ افراد نہیں سما سکتے. بھائی کی دی گئی تعریف کی رو سے تو مذکورہ اخبار، اپنے ایٹم بم پر سواری کے شوقین مرحوم مدیر سمیت، پکا قوم پرست ٹھہرا. اسی طرح “انی بجلی گیس اور آبادی کے بارے میں سب کچھ اندازے سے بتا دینے” کے فن میں تو محترم احسن اقبال، محترم سراج الحق اور مرحوم قاضی حسین احمد زیادہ طاق رہے ہیں جو پاک چین اقتصادی کاریڈور، کالا باغ ڈیم اور وسط ایشیا میں اسلامی انقلاب تک، ہر قومی اور بین الاقوامی امر کے بارے میں، زمینی حقائق سے اعتنا کیے بغیر انتہائی پر وثوق بیانات دیتے آے ہیں. عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ قوم پرست جماعتو ں میں احمق ضرور ہوتے ہیں اور دروغ گو بھی.. مگر یہ محض انہی کا خاصہ نہیں. کہ، اس دیار میں سودا برہنہ پا بھی ہے..

    ہاں، پانچ ہزار سال کی تاریخ بیان کرنا کیوں کر غلط ہے اور محمد بن قاسم کے سراسر بے نتیجہ حملے سے تاریخ کا آغاز کرنا کس بنا پر سائنسی ہے، اس مسلے پر ہم اب تک غور کر رہے ہیں. ممکن ہے کہ بھائی اس حوالے سے ہماری رہنمائی فرمانا پسند فرمائیں .

  • 21-02-2016 at 10:39 pm
    Permalink

    Labelling! Labelling! Dear bro, do more than just labelling. Argue your case, criticise others, but avoid this bald labelling.

Comments are closed.