ایک خیال نے دہشت پھیلا رکھی ہے


dilawar’نا اہل اساتذہ پیدا کرنے والو اور جعلی ڈگریاں بیچنے والو!میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں نے تمہارے معاشرے میں جنم لیا اور تمہاری مشکل یہ ہے کہ تمہارے معاشرے میں، میں پیدا ہو گیا۔ یہ آتش و آب کا تضاد ہی معاشرتی ترقی میں بربادی کا باعث ہے…. “یہ تھی ایک طالب علم کی بپتا….

ہم روز رونا روتے ہیں کہ فلاں جگہ اتنے بے گناہ مارے گئے ۔ فلاں جگہ ڈاکو اتنی نقدی اور طلائی زیورات لے کر گھر والوں کوایک کمرے میں بند کر کے چلے گئے ۔ محلے داروں نے گھر والوں کی چیخ و پکار سن کر دروازہ توڑااور لٹیروں کے ہاتھوں برباد ہونے والے یر غمالیوں کو رہائی دلوائی۔

اب تو صبح سو کر اٹھتے ہیں تو دل ملول ہوتا ہے کہ آنکھ نہ ہی کھلتی تو بہتر تھا ۔کم از کم نہ ڈپریشن تھا،نہ ہائی نہ لو بلڈ پریشر کی شکایت،نہ اپنوں کی بے نیازیاں ، نہ کار بے کار سرکار، بد عنوانی کا شکار محکمے اور ان پر تعینات بدعنوان افسرانِ بے شمارکے کرتوت…. جناب والا!غریب آدمی کو کیا غرض کہ کیک کس نے کھایااور بیکری کون ہڑپ کر گیا، اسے کیا غرض کہ پٹھان کوٹ کیس یا عمران فاروق کیس محض خبروں کی زینت ہیں یا محض جگ ہنسائی۔وہ تو یہ سوال بھی نہیں اٹھاتا کہ کب،کس کی دم پر پاﺅں آئے تو وہ نیب کو للکارتا ،یا چنگھاڑتا ہے یا پھر نیب پر کتنا سرمایا خرچ ہوتا ہے ، نیب کا کام کیا ہے اور ”بھائی بھائی کھا کمائی …. اپنی اپنی باری آئی“ والوں کے اگر تماشے ہی دیکھنے ہیں ،کوئی عملی قدم نہیں اٹھانا،کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرنا تو نیب کا محکمہ پاکستان میں کیا کر رہا ہے؟اس بے چارے کو تو خبر ہی نہیں کہ واردات کہاں ہوتی ہے اور اس کے مقدمے کہیں اور کیوں بنتے ہیں نہ ہی وہ ’انڈے کہیں اور، کڑ کڑ کہیں اور‘ کے محاورے کو اپنے حافظے میں جگہ دینا چاہتا ہے ۔

چھوٹے بچوں کا قتل (اپنوں یا بیگانوں کے ہاتھوں) روز کا معمول بن چکاہے ۔ میڈیا پر شور شرابہ ہو تووقتی طور پر تھوڑا بہت ایکشن لیے جانے کا ڈرامہ رچا کر، کیسوں کو کھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے۔ اگر واقعہ کے گواہ اور مدعی تگڑے ہوں تو بھی فیصلہ کمیٹیوں کے ہاتھ میں غیر معینہ مدت کے لیے دے دیا جاتا ہے ۔ اب اگر پیروی ہوتی رہے تو کیس کسی جانب لگتا ہے ورنہ طاقتور ظالم دندناتے پھرتے ہیں متاثرین کو نئے مخمصوں میں الجھ کر مزید ذلیل و خوار ہونا پڑتا ہے۔پڑھے لکھے اور سمجھدار سفید پوش سارا کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اپنا نقصان کروا کے بھی زبان نہیں کھولتے بلکہ عافیت اسی فارمولے میں سمجھتے ہیں کہ اگر جمع پونجی سے عزت بچ جائے تو اس پر جمع پونجی کی قربانی دے دینی چاہیے۔اگر تو عزت واقعی ہی بچ جائے تو جمع پونجی صرف کرنے کی تکلیف نہیں ہوتی مگر خون پسینے سے کمائی اولاد کا مستقبل تاریکی میں ہچکولے کھائے تو اس سے بہتر ہے کہ بچوں کو پڑھنے لکھنے کی بجائے کسی مزدوری کے لیے بھیج دیا جائے ۔کسی مولوی نے نوجوان کا نکاح پڑھایا ۔ مولوی صاحب نے نوجوان سے اعزازیہ طلب کیا ۔نوجوان نے مولوی صاحب سے پوچھا کہ میاں جی کتنے پیسے دوں؟ مولوی صاحب نے جواب دیا کہ برخوردار جتنی تمہاری دلہن حسین ہے اس کے مطابق دے دو۔دلہا نے ایک سو روپے مولوی صاحب کو پکڑائے تو مولو ی صاحب سخت ناراض ہوئے اور دانت پیس کر وہاں سے تلملاتے ہوئے رفوچکر ہونے ہی والے تھے کہ ہوا کے جھونکے سے دلہن کا گھونکھٹ چہرے سے سرکا تو اچانک مولوی صاحب کی نظر دلہن کے چہرے پر پڑ گئی جو کہ انتہائی بد صورت تھی۔ مولوی صاحب نے اپنی جیب سے اسّی روپے نکالے اور دلہا کے ہاتھ پر رکھ دیے۔لوگوں نے پوچھا مولوی صاحب یہ کیا؟ تو وہ بولے کہ یہ ابھی میں نے کم واپس کیے ہیں ۔دلہن کو دیکھ کر تو دل چاہا کہ پورے کے پورے سو روپے واپس کر دوں مگر میں نے دلہا میاں کا دل رکھنے کے لیے بیس روپے رکھ لیے ہیں ۔ دیکھا آپ نے کہ اس طرح کے مولا نا صاحب جو کہ انتہائی لالچی ہوتے ہیں ان کے بھی وضع کردہ زندگی کے کچھ اصول وضوابط ہوتے ہیں….

بچہ زندگی کرنا اگر چہ اپنے گھر سے سیکھتا ہے مگر زندگی کے اصول و ضوابط تعلیمی اداروں سے سیکھتا ہے ۔والدین اس مقصد کے لیے ڈھیروں روپیہ صرف کرتے ہیں۔ افسوس ہوتا ہے اپنے ملک کے تعلیمی نظام کو دیکھ کر کہ جن لوگوں نے اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل تعمیر کرنا ہوتا ہے وہ بجائے تعمیر کے ،نسلوں کی بربادی کا باعث بنتے ہیں ۔آنے والے ہر سال میں تعلیمی اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔ حکومت بھی تعلیم کے شعبے کے لیے بجٹ بڑھا رکھتی ہے اور والدین بھی مہنگائی اور فیسوں کے بوجھ تلے کراہ رہے ہوتے ہیں ۔شنید ہے کہ اب ہر ضلع میں ہماری گورنمنٹ مقامی یونی ورسٹیاں بنائے گی۔یوں تو یہ اچھا قدم ہے ۔ ڈر اس بات کا ہے کہ جس طرح گاﺅں اور قصبہ جات میں مسجدوں پر مسجدیں بنتی جاتی ہیں لیکن نمازی گھٹتے جاتے ہیں خاکم بدہن کہ ہمارے تعلیمی ادارے بھی اسی تناسب سے ویران ہوتے جائیں ۔ایک اندازے کے مطابق ایک سو پچاسی ملکی یونی ورسٹیاں تو پہلے ہی بغیر این او سی کے چل رہی ہیں ۔ حکومت اورایچ ای سی کو پہلی فرصت میں اس بات کا نوٹس لینا چاہیے کہ یہ یونی ورسٹیاں طلبہ کی کیسی پنیر ی تیار کر رہی ہیں۔ جن بچوں بچیوں نے کل کو ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے، ڈاکٹر بننا ہے، انجینئر بننا ہے، مسیحا بننا ہے اور لیڈران وقت بننا ہے معاف کیجیے گا وہ پرائیوٹ پرائمری سکول ٹیچر بننے کے قابل بھی نہیں ہوتے۔ ہماری دانش یہاں ایک ایگزیکٹ کو رو رہی ہے۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ ڈگریوں کے ریٹ لگے ہوئے ہیں ایم فل کی ڈگری آپ کو بیس ہزار سے تیس چالیس ہزار تک مل جاتی ہے ۔پی ایچ ڈی کی ڈگری ذرا بڑی ہے اس کو بھی آپ آسانی سے پچاس ہزار سے ایک لاکھ میں حاصل کر سکتے ہیں۔ گورنمنٹ یونی ورسٹیوں میں تو طلبہ تھوڑے سہمے سہمے رہتے ہیں ۔ ریسرچ کے لیے جو اسائنمنٹس یا تھیسس کے لیے تھکے ہوئے مو ضوعات انہیں دیئے جاتے ہیں اگر کوئی فطین طالب علم ان پر بحث کرے تو اس کا مقالہ، خاکہ یا رزلٹ روک کر کئی کئی مہینے بلکہ کئی کئی سال خوار کیا جاتا ہے اور من پسند(کاسہ لیس) نالائق چہیتے سٹوڈنٹس پوزیشز کے ساتھ دساور ارسال فرمائے جاتے ہیں۔ لے دے کے ایک وائس چانسلر ہوتا ہے جو اس سب کا نوٹس لے …. بے چارہ چانسلر بھی یہاں کیا کرے؟وہ تو خود سیاسی سیٹ پر آیا ہوتا ہے کیا اس نے نوکری نہیں کرنی ہوتی؟ بھلاوہ اپنے پیٹی بھائیوں کو تحفظ نہ دے کر اپنے لیے مشکلات کیوں پیدا کرے….

قانون ساز اداروں کو چاہیے کہ یہ جو” نکی نکی“ کوٹھیوں میں ہائیر ایجوکیشن بانٹنے کامصنوعی دھندہ چل رہا ہے مستقل بنیادوں پر اس کا سد باب کرے ، جس کی پناہ میں طلبہ کا قیمتی وقت اور ان کا پیسہ ضائع ہورہا ہے ۔ یہ ڈگریاں بانٹنے والی فیکٹریاں لگانے والوں کا احتساب بہت ضروری ہے۔طلبہ کا دھیان معیار اور کوالٹی کی بجائے ڈگری کی جانب ہوتا ہے۔جو طلبہ یہاں سے فارغ ہوتے ہیں ان کو دوسرے ادارے تھوڑی تھوڑی تنخواہیں دے کر ان ڈگری ہولڈرز کو ہائر کر لیتے ہیں اور پھر سٹوڈنٹ سے بھاری فیس بٹور کر ایم اے ،ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں بیچ کر ان کو عملی میدان میں دھکیل دیا جاتا ہے ۔ ایسی تعلیم یافتہ پود تو پنکچر لگانے کے قابل بھی نہیں ہوتی چہ جائیکہ وہ کسی کلیدی عہدہ سے انصا ف کر سکے۔ ڈگری ہولڈرز میں روز افزوں ترقی ہو رہی ہے اور تعلیم میں کمی۔علمیت و بصیرت کے سوتے سوکھ کر کانٹا بنتے جاتے ہیں اور جہالت کے جوہڑ پھیلتے جا رہے ہیں ۔ کم سخن وبے ہنر تحقیق و تدقیق سے نظریں چرا کر بے منفعت جگالی میں کوشاں رات دن جتے ہوئے ہیں ۔ علمی وا دبی رجحان ،ڈگری کے پیچھے بھاگ کر توانائیوں کا زیاں کرنے والوں کی شکل کو ترس گیا ہے ۔ جب اس سے مطلوبہ مقصد حاصل نہیں ہوتے تو یہی ڈگری عملی زندگی میں مذاق بن جاتی ہے ۔ چند مفاد شناس ریٹائرڈ بوڑھے ڈنگ ٹپاﺅ کے لیے پرائیویٹ یونی ورسٹیوں میں اپنے کنٹریکٹ پکے کرواتے ہیں اور اپنے نالائق اور انتہائی نکمے تیسرے درجے کے طلبہ کی فوج ظفر موج وہاں اپنے ساتھ بھرتی کرا دیتے ہیں تا کہ نہ تو کوئی موازنہ کرنے والا وہاں موجود ہو ، نہ معیار متعین کرنے کی زحمت ہو اور نہ ہی کوالٹی پرکھنے کی نوبت آئے ۔ادارہ مالکان کو سب اچھا کی رپورٹ جاتی رہے اور مفت کے ’راشن کا کاروبار ‘چلتا رہے۔

انتہائی افسوس کی بات ہے کہ اس سال بھی دنیا کی پانچ سو ٹاپ کی یونی ورسٹیوں کی فہرست میںہماری ایک یونی ورسٹی بھی جگہ نہیں بنا پائی۔خدا جانے ایچ ای سی ان کا کڑا احتساب کیوں نہیں کرتی ۔گزشتہ دنوں ایک یونی ورسٹی کو منہ کی کھانی پڑی جب اس نے ایم فل طلبہ کے لیے ایک ایم اے پاس ٹیچر ہائیر کرنے کی کوشش کی تو مطلوبہ ٹیچر نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ جو کلاس میں نے خود نہیں پڑھی، اس کوپڑھانا میرے بس میں نہیںہے۔ متعلقین نے اسے مجبور کیا اور اس کا حوصلہ بڑھایا کہ آپ کوالیفیکیشن کا ذکر نہ کرنا۔ کسی کو پتا نہیں چلے گا۔پھر بھی وہ ٹیچر ایسا کرنے پر راضی نہ ہوئی۔ہم اس غیرت مند ٹیچر کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتے ہیں۔ جس نے اس مقدس پیشے کی لاج رکھی اور وقتی طور پر فائدہ لینے کی بجائے جھوٹ اور فریب پر لعنت بھیجی اور سچے استاد کا رتبہ بلند کیا۔پاکستان میں ایسا کرنا کوئی ان ہونی بات نہیں ۔کیو ں کہ فرضی اسائنمنٹس،فرضی ورکشاپس اور فرضی نمبر زکو ئی نہیں دیکھتا، دھیان ڈگری پر ہوتا ہے اور ڈگری ،ڈگری ہوتی ہے اصلی ہو یا جعلی…. اپ گریڈیشن کے چکر میں کھوج پرکھ کی بجائے ڈگری چاہیے، وہ چاہے کسی بھی طریقے سے حاصل ہو۔ جعلی ا دارہ مالکان کے محل نظر لالچ ہوتی ہے، چاہے اس کے لیے نوجوانوں کا مستقبل رہن رکھنا پڑے۔ جانور میں خواہش اور فرشتے میں صرف عقل ہوتی ہے انسان ایک ایسی مخلوق ہے کہ اس میں دونوں قوتیں پائی جاتی ہیں ۔اگر وہ عقل دبا لے تو جانور بن جاتاہے اور اگر وہ خواہش دبالے تو فرشتہ کہلواتا ہے۔اب انسان چوں کہ شعور رکھتا ہے اسے خود سوچنا ہے کہ بھلائی کس میں ہے۔کیا ہم نے بے لگام خواہشات کو فروغ دینا ہے یا شعور بانٹنا ہے؟


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “ایک خیال نے دہشت پھیلا رکھی ہے

  • 21-02-2016 at 11:19 pm
    Permalink

    Excellent
    This is dire need of the day.
    Education can be uplifted only when we will add a supplement of QUALITY.
    quality will come only through putting sincere and untiring efforts in all segments of Education whether it is formal, non formal, technical or non tecnical education.
    HEC must play its vital role.
    Excellent column having blen of wonderful thoughts.
    Stay blessed.

  • 22-02-2016 at 3:37 pm
    Permalink

    Dr Shahida Dilawar Shah is in the teaching line. Her observations and analyses are based on facts. It is high time that action is taken by the Govt. keeping in view the due importance of education. But expecting that from a govt, that consists of the uneducated idiots, will end in disappointment and nothing else.

  • 23-02-2016 at 12:54 am
    Permalink

    The narration is a smooth read, no doubt about that. However, the bitter truth brought into focus in such a convincing manner reflects ahead nothing but gloom. And the sad part is that the required action will never be taken by the concerned authorities

  • 26-02-2016 at 12:50 am
    Permalink

    پس! ہمیں دائیں بازو، بائیں بازو کی بحث سے نکل کے راست سمت قدم بڑهانے کی ضرورت ہے. عمدہ تحریر.

Comments are closed.