قطب مینار سے میٹرو ٹرین تک


ghafferمسلمان حکمران برصغیر پاک و ہند کی حدود میں دو جانب سے آئے۔ محمد بن قاسم دیبل، کراچی کے راستے آٹھویں صدی کے آغاز میں داخل ہوا اور ملتان تک چلا آیا۔ اس کے بعد دسویں صدی کے آغاز میں سلطان محمود غزنی افغانستان کی جانب سے شمال مغربی علاقوں کو روندتا ہوا ملتان تک پہنچا جب کہ اس کی آ خری منزل سومنات کا مندر تھا۔سلطان محمود غزنوی نے ہندستان میں سلطنت قائم نہیں کی۔ اس کے دو سو سال بعد، گیارہویں صدی کے پہلے عشرے میں محمد غوری نے دہلی سلطنت کی بنیاد رکھی اور اپنے غلام قطب الدین ایبک کو خاندانِ غلاماں کا پہلا سلطان مقرر کیا۔ دہلی میں قطب کمپلیکس اسی کی یادگار ہے۔ قطب کمپلیکس میں مسجد قوت الاالسلام، قطب مینار اور علائی دروازہ اہم عمارات تھیں، جو تعمیر کی گئیں۔ قطب مینار کی تعمیر فتح کی علامت کے طور پر کی گئی۔240 فٹ اونچے مینار کی تعمیر کا آغاز 1199ءمیں ہوا۔ مسجد اور مینار کی تعمیر میں جو سامان تعمیرات استعمال ہوا، وہ ہندو اور جین مت کے مندروں کے انہدام سے حاصل کیا گیا تھا جب کہ قطب کمپلیکس کی جگہ کے لیے 27 ہندو اور جین مندر گرا ئے گئے۔ آج یہ قطب مینار ہندستان میں مسلمانوں کی آمد کی نشانی کے طور پر زندہ ہے۔ قطب مینار کی تعمیر قطب الدین ایبک، التتمش اور فیروز شاہ تغلق ، تین حکمرانوں کے دور میں تکمیل کو پہنچی۔

Quwwat_ul-Islam_mosque,_Qutb_complexمغلوں کے عہد میں مسجد وزیر خان کی تعمیر 1635ءمیں لاہور میں ہوئی۔ شہر کا یہ گنجان آباد علاقہ تھا، یہاں درجنوں لوگوں کے گھر تھے، جنہیں گرا کر مسجد کی تعمیر کی گئی۔ یہاں سے گھر بدر ہونے والوں کو کس شکل میں معاوضہ دیا گیا، تاریخ اس کے بارے میں خاموش ہے۔ البتہ مسجد وزیر خان کہ جس کے ارد گرد مقامی فن تعمیر کے حامل کئی منزلہ مکانات تھے، ان سے جمالیات میں بالکل الگ تھلگ مسجد تعمیر کر دی گئی اور اس کے بعد مسجد کے چاروں اطراف بے شمار مکانات وقت کے ساتھ تعمیر ہوتے چلے گئے۔ ان مکانات کی بلندی مسجد وزیر خان سے بھی زیادہ ہے، اور جب مسجد کے صحن میں کھڑے ہوں، تو غربی اور شمالی جانب یہ بد نما مکانات دکھائی دیتے ہیں مگر کبھی اس جانب توجہ نہیں دی گئی کہ اس سے بصری آلودگی پیدا ہو رہی ہے۔مسجد کی شمالی جانب واپڈا والوں نے کچھ نہیں تو ایک درجن کے قریب ٹرانسفارمر ایستادہ کیے ہوئے ہیں جو یہاں کے مقامی لوگوں، واپڈا کے انجنئیرز اور حکمرانوں کی جمالیات پر ماتم کناں اپنے ارد گرد کی آبادی کو بجلی کی سہولت مہیا کررہے ہیں۔

سکھوں کے عہد میں کیا نہیں ہوا؟ مغلوں کی انہی شاندار عمارات کہ جو عہد رفتہ کی نشانیاں تھیں، ان عمارتوں کی دیواروں سے خوبصورت اور قیمتی پتھر نوچ کھسوٹ کر اتارا گیا، انہیں سکھوں کی حویلیوں اور حضوری باغ کی بارہ دری میں استعمال کیا گیا۔ بادشاہی مسجد کے ساتھ ساتھ لاہور کی بے شمار مسجدوں میں گھوڑے باندھے گئے، انہیں ایمونیشن ڈپو میں تبدیل کر دیا گیا۔ بادشاہی مسجد کے میناروں کی بالائی منزلیں اور مسجد کے مشرقی ایوان کی دیواریں گرا دی گئیں، بادشاہی مسجد کیے شمال مشرقی کونے میں رنجیت سنگھ کی سمادھی بنا دی گئی جو آج بھی موجود ہے۔صحن میں گھوڑے باندھنے کی وجہ سے اینٹوں کا فرش برباد ہو گیا جسے پاکستان بننے کے بعد سرخ پتھر کے فرش میں تبدیل کر دیا گیا۔سکھ حویلیوں کی تعمیر کے وقت بھی سیکڑوں گھروں کا انہدام ہوا، اور ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے۔

انگریزی دور آیا تو اپنے ساتھ جدید دور کی زندگی کے ساتھ جڑی ہوئی نئی ایجادات بھی لے کر آیا۔انگریزی دور میں پرانے شہر کی فصیل اور دروازوں کو گرا دیا گیا۔ لاہوری، شیرانوالا، کشمیری، دہلی اور بھاٹی دروازوں کی تعمیر نو کر کے انگریزی جمالیات متعارف کروائی گئی تا کہ عہد مغلیہ کی شاندار سلطنت کے آثار کا تاثر ختم ہو جائے۔ حضرت میاں میر ؒدربار کے ساتھ موجود باغ کی زمین ختم کر کے لاہور Muhammad Qureshچھاﺅنی میں تبدیل کر دی گئی۔ حضرت شاہ چراغ لاہوریؒ کے مزار کے ساتھ جو باغات موجود تھے، اس خالی جگہ پر انگریزی عہد میں تشکیل پانے والے نئے ادارے ہائی کورٹ،جنرل پوسٹ آفس اور موجودہ سپریم کورٹ کی عمارات تعمیر کر دی گئی۔پیر قاسم ؒ کے مزار سے ملحقہ رقبے پر گورنر ہاﺅس کی شاندار عمارت تعمیر ہوئی۔حضرت عبدالرزاقؒ کے مزار المعروف نیلا گنبد سے ملحقہ باغ کے وسیع رقبے پر کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کی عمارت تعمیر کر دی گئی۔ پرانے شہر اور شالامار باغ کے بیچ میں موجود کھلی جگہ پر جہاں مغل عہد کی کئی

عمارتیں وجود تھیں، وہاں آباد کاری ہوئی اور اب یہ آثار اپنی حدود کے اندر اس طرح سمٹ کر رہ گئے ہیں کہ ان کی تلاش میں بہت مشکلات پیش آتی ہیں۔جب لاہور سے ریلوے لائن پشاور کی جانب بچھائی گئی تو بغیر کسی سوچ سمجھ کے، نہایت غیر ذمہ دارانہ اور ظالمانہ رویے کو اختیار کرتے ہوئے، ریل کی پٹری جہانگیر اور نورجہان کے مقبروں کے درمیان میں سے گزار کر ایک کمپلیکس کو دوحصوں میں تقسیم کر دیا گیا، جو آج بھی ویسا ہی ہے، اور رہتی دنیا تک ویسا ہی رہے گا، اس لیے کہ یہ ریلوے ٹریک کہیں اور منتقل تو نہیں کیا جا سکتا اور کسی کو اس بات کا احساس تک نہیں کہ تاریخ پر یہ کتنا بڑا ظلم ہے۔یہ سارے کام انگریزی دور میں ہوئے، انگریز جو دنیا میں ایک مہذب قوم کی صورت میں اپنا نام اور مقام رکھتے ہیں۔

47734494پاکستان بننے کے بعد جب اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا تو تعمیر و تخریب کا یہ سلسلہ رُکا نہیں، اسی طرح چلتا رہا۔ حضرت علی ہجویریؒ کے مزار کی توسیع کی آڑ میں قدیم مسجد کہ جو انہی بنیادوں پر قائم تھی کہ جن پر حضرت علی ہجویریؒ نے اپنی زندگی میں تعمیر کی تھی، گرا دی گئی۔حضرت میاں میر ؒ کے صحن میں صاحب ثروت لوگوں کی قبروں کے مسلسل اضافہ نے صحن کو ایک قبرستان کی شکل میں بدل دیا ہے۔ شالامار باغ کے اندر ایک مدت تک میلا چراغاں منعقد ہوتا رہا، اب بھی اس کی چاردیواری سے متصل کئی مکانات کی تعمیر کی جارہی ہے۔ مغل بادشاہ جہانگیر اور ملکہ نور جہان کے مقبرے اپنی خستگی اور حکومت کی عدم توجہی پر ماتم کناں ہیں۔ قلعہ لاہور اور حضوری باغ کے شاہانہ ماحول میں غیر ملکی حکمرانوں کے جشن کی روایت جاری ہے۔اندرون شہر کی پرانی عمارتیں تجارتی عمارتوں کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔تعمیر اور تخریب کا یہ سلسلہ والڈ سٹی اتھارٹی کے بننے کے بعد بھی جاری و ساری ہے۔شہر کے گرد جو سکھوں کے دور میں خندق بنائی گئی تھی، انگریزی دور میں اسے سرکلر گارڈن میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس باغ میں واپڈا نے تین گرڈ سٹیشن لگائے گئے۔ کئی تھانوں اور سکولوں کی عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں۔ بارہ سو سے زائد تجاوزات یہاں موجود ہیں، ہماری سول سوسائٹی، ہمارے جمہوری حکمران اور ہماری عسکری حکومتیں، کیا کبھی کسی نے ان تجاوزات کو ہٹانے کی جانب توجہ دی؟اورنج لائن میٹرو ٹرین نے بھی اسی طرح بننا ہے، جیسے پچھلی صدیوں میں یہ سب کچھ ہوا۔ تب اگر کوئی نہیں بولا، تو اب بولنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ حکمران جو چاہتے ہیں، کر لیتے ہیں، کر سکتے ہیں، اب اگر وہ تعلیم، صحت، صاف پانی و دیگر انسانی ضرورت کی سہولیات مہیا ہی ایک محدود طبقے کر کرنا چاہتے ہیں تو اس میں ایک عام آدمی، سول سوسائٹی، ٹیکنوکریٹس، ماہرین آثار قدیمہ کیا کر سکتے ہیں؟ وہ تو ان کی ترجیحات میں ہی شامل نہیں ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments