کتابوں میں زندگی تلاش کرنا بےسود ہے


\"naseerکتابوں سے بہت کچھ مل سکتا ہے
جس طرح کچرے کے ڈھیر
اور ردی کاغذوں کے انبار سے
رزق تلاش کرنے والے بچوں کو
بہت سی بیکار چیزوں کے ساتھ
کچھ کارآمد اشیاء بھی مل جاتی ہیں

کتابوں میں سمجھ میں نہ آنے والی باتیں ہوتی ہیں
اسی لیے ذہنی طور پر بیمار اور ناخواندہ معاشروں میں
کتابوں کا ریپ ایک عام سی بات ہے
لیکن کتابیں اپنی بے حرمتی پر کچھ نہیں کہتیں
کسی ایف آئی آر کا مطالبہ نہیں کرتیں
پھٹے ہوئے خوبصورت گردپوشوں میں چُھپی
خاموشی سے الماریوں میں
یا کم استعمال ہونے والے تہہ خانوں کے فرشوں پر
گرد کی چادر اوڑھے پڑی رہتی ہیں
اس کے باوجود علم و ادب سے حاملہ ہونے کی پاداش میں
دریا برد کر دی جاتی ہیں
یا جلا دی جاتی ہیں

کتابوں سے نکلتے ہیں حملہ آور
\"img-books\"آہنی خود اور زرہ بکتر پہنے ہوئے
جو دلوں اور ذہنوں کے ہر گوشے میں پھیل جاتے ہیں
اور افکار کی غارت گری
صدیوں تک جاری رہتی ہے
کتابوں سے پھوٹنے والی جنگیں کبھی ختم نہیں ہوتیں
کتابوں میں تاریخ دندناتی ہے
اور لہو سے تربتر اوراق پر
گھوڑے بدک کر بےقابو ہو جاتے ہیں
تلواریں چمکتی ہیں
خیموں اور صحیفوں کو آگ لگ جاتی ہے
اور پڑھنے والوں کی آنکھیں دھوئیں سے بھر جاتی ہیں

کتابوں سے نکلتے ہیں
خدا اور دیوتا
بوڑھے کاہن اور جادوگر عورتیں
عقیدے اور عقیدوں کی سختی سے
بگڑے ہوئے چہروں والے عبادت گزار
یا پھر بادشہ اور ملکات، شہزادے اور شہزادیاں
یا غلام اور کنیزیں
کتابوں سے (عام) انسان بہت کم برآمد ہوتے ہیں

\"rarebooks-1\"کتابوں میں ہوتے ہیں قصے اور کہانیاں
شاعری اور اقوالِ زریں
کتابوں میں ہوتے ہیں تارڑ، انتظار اور عبداللہ حسین
اور قرۃ العین
اور مجید اور رشید امجدین
کتابوں سے اٹھنے والی بوسیدہ مہک
کسی پرانی شراب سے کم نشہ آور
اور کسی مہنگے برانڈ کے فرانسیسی پرفیوم سے
کم خوشبودار نہیں ہوتی
اکثر حواس پر چھا جاتی ہے
اور لوگ اس کے عادی ہو کر
یا اس سے الرجک ہو کر
کتابیں کھولنا اور پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں
لیکن کچھ خودکار مصنف پھر بھی دھڑا دھڑ
کتابیں لکھنے اور چھپوانے سے باز نہیں آتے

کتابوں میں آباد رہتے ہیں
\"509046587_nقہوہ خانے اور مطبخ اور شیشہ کیفے اور ناچ گھر
نرتکیاں اور ناریاں رقص کرتی ہیں
اور پہرے دار گشت کرتے ہیں
کتابوں کے صفحات میں
تہذیبیں عروج و زوال سے ہمکنار ہوتی رہتی ہیں
اور متن سے باہر حاشیوں میں
ایک نیا ورلڈ آرڈر جنم لیتا ہے
اور کسی اندراج اور بحث کے بغیر
اقوامِ عالم ایک نئے یک نقاطی ایجنڈے پر متفق ہو جاتی ہیں
جس کے تحت بلٹ پروف جیکٹس
اور اندھیرے میں دیکھنے والی گاگلز پہنے ہوئے میرین
دہشت گردوں کا پیچھا کرتے ہوئے
خواب گاہوں، اسکولوں، مسجدوں، لائبریریوں
اور عجائب خانوں میں گُھس جاتے ہیں

اور جب ہزاروں لاکھوں روحیں جسموں سمیت پامال ہو جاتی ہیں
تو امن افواج قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کے لیے
مفت غذائی پیکٹس، پانی اور دودھ کی بوتلیں
اور اپنی طبع کی ہوئی کتابیں تقسیم کرتی ہیں
تاکہ کیمپوں میں خوراک اور تعلیم کی قلت نہ ہو
اور قاتل ملکوں کی معیشت اور ثقافت قائم رہے

\"22499149486_nچار دانگ، کتابوں کے اندر جب صبح ہو رہی ہوتی ہے
تو ہمارے ہاں لوڈشیڈنگ کے باعث
شام کا اندھیرا گہرا ہو چکا ہوتا ہے
یا کسی ناگہانی کے ڈر سے مکمل بلیک آؤٹ ۔۔۔۔۔۔۔
اور تاریکی میں ساری آوازیں گم ہو جاتی ہیں
یہاں تک کہ موبائل سروس بھی بند ہو جاتی ہے
صرف اذانوں کی صدائیں گونجتی ہیں
اگرچہ دنیا بھر کی آسمانی اور زمینی کتابیں
روشنی اور توانائی سے لبا لب بھری ہوئی ہیں
مگر ہمارا منبع ء نور قصرِ اقتدار ہے
جہاں چمک دمک کی اتنی فراوانی ہے
کہ رات اور دن کی تمیز مشکل ہے
اور ایک اندازے کے مطابق
اس نعمتِ خداداد کا فیض نسل در نسل جاری رہے گا
لیکن جمہور کے گھروں میں چولہے اور قبروں کے چراغ
گیس اور تیل کی بندش کی وجہ سے اکثر بجھے رہتے ہیں
اور گاڑیاں چلنے کے بجائے
سڑکوں پر لمبی لمبی قطاروں میں کھڑی رہتی ہیں

کتابوں میں بھری ہوتی ہے موت
بارود کی طرح
الفاظ کی جگہ بندوقوں کی گولیاں رکھی ہوتی ہیں
کتابوں میں چھپے ہوتے ہیں
خود کش بمبار
جو اچانک نکل کر سامنے آ جاتے ہیں
اور سب کچھ بھک سے اُڑ جاتا ہے
کتابیں پڑھتے ہوئے
آنکھیں یکایک کسی مائن پر جا پڑتی ہیں
یا کٹے ہوئے انسانی اعضا پر
اور ابکائی روکنا مشکل ہو جاتا ہے
واضح رہے
کتابوں میں آجکل کچھ بھی ہو سکتا ہے
زندگی کے سوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احتیاطاً ان سے دور رہنا بہتر ہے!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

4 thoughts on “کتابوں میں زندگی تلاش کرنا بےسود ہے

  • 22-02-2016 at 9:11 pm
    Permalink

    ایک شاندار اور مکمل نظم ہر سطر ایک ایک الگ دنیا ہے سینکڑوں موضوعات کو سمیٹتی ہوئی ایک بھرپور نظم

  • 22-02-2016 at 9:17 pm
    Permalink

    شکریہ عینی

  • 24-02-2016 at 1:17 pm
    Permalink

    ایسی شان رکھنے والی کم ہی نظمیں پڑھی ہیں – بہت اعلا

  • 01-04-2016 at 11:36 pm
    Permalink

    شکریہ رفیع اللہ میاں صاحب

Comments are closed.