ہماری علمی برتری اور امریکی الو


adnan Kakar

خدا کا شکر ہے کہ ہم دنیا کی باعلم ترین قوم ہیں۔ دنیا اپنا بڑے سے بڑا عالم اٹھا کر لے آئے، ہمارا گیا گزرا طالب علم چھوکرا بھی اس سے علم میں بالاتر ہوتا ہے۔

زیادہ وقت نہیں گزرا کہ عظیم سائنسدان آغا وقار صاحب نے نیوٹن کے قوانین کے پرخچے اڑا کر پانی سے کار چلا دی تھی۔ چند لوگوں نے اس پر تعجب کیا کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ کم انرجی لگا کر پانی کو اس کے اجزا میں تقسیم کیا جائے، اور ٹوٹے ہوئے پانی سے زیادہ توانائی حاصل کر لی جائے۔ وہ ناسمجھ معترضین کہنے لگے کہ ایسا ہو جائے تو پھر ساری دنیا اس ایجاد پر ٹوٹ پڑے گی اور قوم عربوں کے پیٹرول کو گاڑی میں ڈالنے کی بجائے اپنی مرسیڈیز کی ٹینکی بھرنے کے لئے قریبی گندے نالے کا رخ کرے گی۔ پروفیسر ہود بھائی اور ایسے دوسرے ملک دشمن کہنے لگے کہ یہ سائنسی طور پر ممکن ہی نہیں ہے۔ شکر ہے کہ اس طوفان جہالت کو روکنے کے لئے بابائے ایٹم بم جناب ڈاکٹر عبدالقدیر خان آگے بڑھے اور آغا وقار کی حمایت اور حوصلہ افزائی فرمائی۔ لیکن یہود و ہنود کے ایجنٹ پھر بھی کامیاب رہے کہ عظیم موجد آغا وقار صاحب کی گاڑی سڑکوں پر نظر نہیں آتی ہے اور وہ خود بھی منظر سے غائب ہیں۔

ان سے پہلے ایٹمی انرجی کمیشن کے ایک بڑے سائنسدان نے مرد مومن مرد حق غازی ضیا الحق شہید کے زریں دور میں جنات کی مدد سے بجلی پیدا کرنے کا عظیم سائنسی منصوبہ بھی پیش کیا تھا، جس پر اگر عمل کیا جاتا تو اللہ کے فضل سے آج پاکستان دنیا کی سپر پاور ہوتا، لیکن یہود و ہنود کے ایجنٹوں نے اس منصوبے پر عمل نہ ہونے دیا اور وہ عظیم سائنسدان اور عالم کہیں گمنامی کے گوشے میں بے بسی سے یہ سب ہوتا دیکھتے رہے۔

اور یہ تو ابھی ہفتے دو ہفتے پہلے ہی کی بات ہے کہ چند شریر امریکیوں نے دنیا بھر کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا پروگرام بنایا۔ کہنے لگے کہ آسمان پر دو بلیک ہول آپس میں ٹکرا رہے ہیں اور ان کے ٹکراؤ سے کشش ثقل کی لہریں پیدا ہو رہی ہیں جو کہ ان امریکی جھوٹوں نے ریکارڈ کر لی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ حادثہ آج سے اربوں سال پہلے ہوا تھا۔ اپنے دعوے کو معتبر بنانے کے لئے انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ ایک سینئیر پاکستانی نژاد خاتون سائنسدان اور ایک پاکستانی طالب علم بھی اس ٹیم کا حصہ تھے۔ یعنی ایک طرح سے انہوں نے ہماری برتری تسلیم کر لی کہ علم کے امام ہم ہی ہیں۔

بھائی امریکی سائنسدانو، تم نے پھر یہ تو سوچ لینا تھا کہ ان علم کے اماموں کو تم اس طرح چغد (کنگ سائز الو) نہیں بنا سکتے ہو۔ چغد تو تم ہو، اسی لئے تو الو کو علم و دانش کا نشان جانتے ہو۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ بلیک ہول، یعنی کالے سوراخ اگر آسمان پر واقعی ہوتے تو دن میں نیلے آسمان پر یہ صاف نظر آ جاتے۔ اور اگر تم یہ دعوی کرتے ہو کہ تم نے یہ رات کو دیکھے تھے، تو پھر یہ تو سوچ لو کہ رات کو تو سارا آسمان کالا ہوتا ہے، پھر یہ کالے سوراخ تم نے کالے آسمان پر کیسے دیکھ لئے؟

چلو برائے بحث یہ مان لیتے ہیں کہ تمہارا یہ بے بنیاد دعوی درست ہے کہ آسمان پر بلیک ہول ہوتے ہیں۔ تو یہ تو ذرا بتاؤ کہ اربوں سال پہلے ہونے والا یہ حادثہ تم نے آج کیسے لائیو دیکھ لیا ہے؟ تمہارے پاس ٹائم مشین ہے کیا جس کے ذریعے تم نے اربوں سال پہلے جا کر یہ مشاہدہ کر لیا اور اسے ریکارڈ بھی کر لیا؟ اچھا اس کے بعد یہ کیا کہتے ہیں کہ اس ادغام سے اتنی توانائی پیدا ہوئی جو لاکھوں کروڑوں سورجوں کے برابر تھی۔ بھیا ایسی ہی بات تھی تو تمہارے سائنسدان اور آلات جل کر بھاپ کیوں نہ بن گئے؟

engr-fareed-akhtar2یہ سارے بنیادی سوالات تو ہم جیسا بظاہر سائنس سے نابلد شخص بھی اٹھا سکتا ہے۔ لیکن شکر ہے کہ عین وقت پر ہمارے اہل علم بھی میدان میں کود پڑے ہیں۔ نیٹ پر خبریں اخبار کا ایک اشتہار چل رہا ہے۔ اس میں راج گڑھ لاہور کے انجینئیر فرید اختر صاحب نے، جو غالباً ممتاز ماہر فلکیات ہونے کے علاوہ نباض نسوانیات بھی ہیں، نے واضح کر دیا ہے کہ زمین وغیرہ کی گریویٹی، یعنی کشش ثقل ہوتی ہی نہیں ہے۔ نیوٹن کا لا آف گریویٹی اور یہ حالیہ تحقیق تو اتنی زیادہ مضحکہ خیز ہے کہ فرید اختر صاحب محض ایک لیکچر کی مدد سے کسی بھی ذی شعور شخص پر ان کا باطل ہونا ثابت کر سکتے ہیں۔ جن اصحاب کو یہود و نصاری کی بات پر اتنا یقین ہے، وہ ذرا فرید صاحب کا نمبر تو گھما لیں اور گمراہی سے بچ جائیں۔ ابھی تو یہ نجس گورے شکر کریں کہ آغا وقار صاحب اور ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب ان کو جواب نہیں دے رہے ہیں ورنہ وہ دنیا میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتے۔

ہاں اہل علم کے ذکر سے یاد آیا، کہ بدنام زمانہ ویب سائٹ ‘ہم سب’ پر ‘دو گمراہ پاکستانی لڑکیوں کی کہانی’ نامی ایک بے بنیاد مضمون بھی شائع ہوا ہے۔ گو کہ جاہل مصنف نے اپنی دانست میں ایک طنزیہ مضمون لکھا تھا، اور اپنے تئیں اپنے ناسمجھ معترضین کو سمجھانے کے لئے ایک سلیس مضمون بنام ‘دو گمراہ پاکستانی لڑکیوں کی اصل داستان’ بھی آسان اور سادہ زبان میں لکھا تھا، لیکن وہ نابکارقلم گسیٹ دجالی صحافی ہمارئ جید اہل علم کی گرفت سے نہ بچ پایا۔

بہت سے دانشمندوں نے کہا کہ دیکھو، کسی خاتون پر ایسا الزام لگاتے ہوئے تمہیں شرم آنی چاہیے۔ ایک عالم نے پہلے تو انہیں خوب شرمندہ کیا کہ اپنے الزام کے حق میں کوئی تصویری ثبوت پیش کرو۔ گمراہ مصنف نے حیرت ظاہر کی کہ یہ تصویری ثبوت کیسا ہو سکتا ہے، اور کہیں معترض صاحب ثبوت کی آڑ میں نیلی پیلی فلموں کو دیکھنے کی چاہ تو نہیں پوری کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ فوٹوشاپ کے زمانے میں وہ کسی بھی قسم کی تصویر کو رد کرنے میں حق بجانب ہوں گے، تو پھر ایسی تصویر یا فلم کو ثبوت کے طور پر کیوں مانگ رہے ہیں۔

اس کے بعد جب گمراہ مصنف نے اپنی کم علمی چھپانے کو مزید بحث سے معذرت کرتے ہوئے میدان دلیل سے راہ فرار اختیار کی، تو عالم صاحب نے اسے آیات مبارکہ پڑھا پڑھا کر بہتان طرازی پر خوب وعید کی کہ چار گواہوں کے بغیر ایسا الزام لگایا ہی کیوں گیا ہے۔

گمراہ مصنف نے معاملے پر غور کیا ہے۔ اگر یہ عالم صاحب نیٹ پر وقت ضائع کرنے کی بجائے علم دین و علم تاریخ سیکھنے پر وقت صرف کریں، تو ان کو معلوم ہو جائے گا کہ چار گواہوں کی شرط کی اس وقت ضرورت نہیں رہتی ہے جس وقت مجرم خود اقبال جرم کر لے۔ اس کا بیان ہی کافی سمجھا جاتا ہے اور اس پر رسالت مآب نے ایسے مجرم کو سنگسار کر کے اس کی نماز جنازہ بھی پڑھائی ہے۔

سو بس ایک گوگل کر لیں۔ اقبالی بیان بھی مل جائے گا، اور امریکی ہم جنس پرستوں کی تنظیم سے ان محترمہ نرگس ماول والا کے سالانہ خطابات کی خبریں بھی مل جائیں گی۔ ہاں اگر ان عالم صاحب کا مطمع نظر محض ‘معاملے کی تصویری جھلکیاں’ دیکھنا ہے تو پھر وہ غلط در کھٹکھٹا رہے ہیں۔ اس کے لئے بھی گوگل کر کے مطلوبہ مواد خود ہی ڈاؤن لوڈ کرلیں تو ان کا دل خوش ہو جائے گا۔

بہرحال دل بہت خوش ہے کہ آج ہمارے درمیان آغا وقار، انجنئیر فرید اختر اور فاضل اجل  عالم صاحب مدظلہ جیسے صاحبان علم و نظر موجود ہیں اور قوم کو گمراہی سے بچائے ہوئے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 325 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

One thought on “ہماری علمی برتری اور امریکی الو

  • 21-02-2016 at 8:57 pm
    Permalink

    Hamara tu mistri be media ko saath mela k 20 crore harap karney ka chakar chala sakta ha.

Comments are closed.