ورکنگ وومن


دو نازُک سے کاندھوں پر تم
کتنا بوجھ اُٹھاتی ہو
گھر کی چھت کا
کمر توڑ منہگائی، بھاری ٹیکسوں کا
دفتر کی ذمہ داری کا
تیز کسیلی باتوں، میلی نظروں کا
انگ انگ پر چلتی پھرتی آنکھوں کا
گلی میں بیٹھے وزنی فقروں
آنے والی کل کی بوجھل فکروں کا

کتنے بھاری پتھر ہیں

بیتی یادوں
نئی محبت کے وعدوں کا
گھنی گھنیری زُلفوں کا!
دو ننھے سے کاندھوں پر تم اتنا بوجھ اُٹھاتی ہو
صنفِ نازُک کہلاتی ہو


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اسی بارے میں: ۔  کیا آپ گیبو سے حسد کرنا پسند کریں گے
شہزاد نیئر کی دیگر تحریریں
شہزاد نیئر کی دیگر تحریریں