پاکستان کی تاریخ کو دوبارہ سے لکھنے کی ضرورت ہے


daud-zafar-nadeem

پاکستان کی تاریخ کو دوبارہ سے لکھنے کی ضرورت ہے۔ اس تاریخ کو دوبارہ سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان ایک وفاق ہے۔

پاکستان کی تاریخ اصل میں پاکستان میں رہنے والی مختلف اقوام کی تاریخ ہے۔ جس میں بعض مشترکہ تاریخی حوالے بھی ہیں اور بعض مختلف اور بعض اوقات متضاد باتیں بھی ہیں۔ ہم ان تمام باتوں کو نظر انداز کر کے ایک نیا نظریہ نظریہ پاکستان تشکیل کرکے ایک نئی تاریخ بنانے کے چکر میں ہیں۔ بعض اوقات یہ تاریخ 47 سے آگے نہیں بڑھتی اور بعض اوقات یہ تاریخ محمد بن قاسم ، محمود غزنوی اور محمد غوری کے حملوں کو جواز دیتی اور دفاع کرتی  نظر آتی ہے۔ اور اس میں مجدد الف ثانی کے تذکرے، اورنگ زیب کی مذہبی سخت گیری، احمد شاہ ابدالی کے حملوں اور تحریک پاکستان کی جدوجہد کو ملا کر ایک ملغوبہ بنایا جاتا ہے کہ یہ تاریخ ہے۔ اور اس پر ایمان لانا دائیں بازو کے پاکستان قوم پرستوں کے لئے بہت ضروری قرار دیا جاتا ہے۔ مگر مذہبی انتہا پسندوں کی مشکل اس سے بھی بڑھ کر ہے کہ پاکستان کاخطہ سوائے ایک مختصر دور کے اموی، عباسی اور فاطمی خلافت سے برائے نام تعلق کے، کسی خلافت کے تحت نہیں رہا۔ خصوصاً مغلوں نے ایک شہنشاہیت کا سلسلہ شروع کر کے اس کو کبھی عثمانی خلافت سے نہیں جوڑا بلکہ ایک سیکولر ملوکیت کی نشو و نما کی ہے۔ عالمگیر نے تمام تر مذہبیت کے باوجود کسی خلافت کے امکان پر غور نہیں کیا۔ چنانچہ جو لوگ خلافت کا نظام لانے کی بات کرتے ہیں وہ شاید ترکی میں عثمانی خلافت کے احیا ء کی بات کرتے ہیں۔

پاکستان مختلف اقوام کا ایک وفاق ہے۔ ہر قوم کی اپنی ایک تاریخ، شناخت ، زبان اور تہذیب ہے۔ان کی معیشت اور ان کی سوچ کا انداز بھی جدا ہے۔ پاکستان کی تحریک اور جدوجہد کا مقصد ایک ایسا خطہ اور ایسے وفاق کی تشکیل تھا جہاں تمام اقوام اپنی لسانی، تہذیبی، نسلی، اور تاریخی شناخت کا تحفظ کر سکیں اور ان کو یہ خوف نہ ہو کہ کوئی ایک قوم کسی ایک نظریہ کی بنیاد پر ان کو اپنے قومی نظریئے میں ضم نہیں کرے گی۔ اور ان کے جداگانہ شناخت کے حق کو تسلیم کرے گی۔ چنانچہ قائد اعظم محمد علی جناح کی تمام تر جدوجہد اسی کے گرد گھومتی نظر آتی ہے کہ برصغیر میں قومیتوں کی مذہبی، لسانی اور تاریخی شناختوں کا تحفظ کیا جائے۔

بد قسمتی سے قیام پاکستان کے بعد اس جدوجہد کو ایک مخصوص مذہبی عینک عطا کی گئی ہے اور اس کو مخصوص حوالوں اور طریقوں سے یہ ثابت کرنے کے لئے پڑھایا جاتا ہے کہ قائد اعظم ایک خالص مذہبی عالم تھے جو ایک نظریہ پاکستان کے مبلغ تھے اور برصغیر میں ایک مذہبی ریاست کے قیام کی جدوجہد کر رہے تھے۔ چنانچہ پاکستان میں قائد اعظم کے دو نہایت قریبی ساتھیوں، منڈل اور سر ظفر اللہ خان کا ذکر بھی پسند نہیں کیا جاتا اورمسلم لیگ کا منشور اور اس منشور کو لکھنے والے دانیال لطیفی کا تو سارا حوالہ ہی گول کر دیا جاتا ہے۔ قائد اعظم نے بھگت سنگھ کے بارے میں کیا کہا تھا، اینی بیسنٹ کی سوسائٹی کے وہ ممبر تھے۔ اور آخر تک متحدہ پنجاب اور متحدہ بنگال کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ مذہب کی بنیاد پر آبادی کے تبادلے کے سخت مخالف تھے اور نواب آف قلات سے انھوں نے کیا معاہدہ کیا تھا۔ آخر جی ایم سید کن افراد کی وجہ سے پہلے نظر انداز ہوئے اور بعد میں الگ ہوئے، کن افراد نے قائد اعظم کو باچا خاں اور شیخ عبداللہ سے ملنے نہیں دیا۔ سہروردی اور مولوی فضل الحق کو کیسے غیر موثر کیا گیا۔ میاں افتحار کو کیسے الگ کیا گیا۔ یہ سب باتیں تاریخ کا حصہ ہیں اور ان پر ایک بھر پور تاریخی کام کی ضرورت ہے۔

قائد اعظم مسلمانوں کے آغا خانی فرقے سے تعلق رکھتے تھے اور وہ مذہبی طور پر ایک وسیع المشرب اور روداری کے قائل تھے۔ جیسے کہ ان کے مذہبی راہنما آغا خاں محمد شاہ مسلمانوں کے ایک ہمدرد اور خیر خواہ شخص تھے اور کبھی کسی فرقہ واریت کا نہ خود حصہ بنے اور نہ اپنی کیمونٹی کو کسی فرقہ واریت میں ملوث ہونے دیا۔ چنانچہ قائد اعظم میں وہی وسیع المشربی اور روداری نظر آتی ہے جو ان کے مذہبی راہنما میں تھی۔ ان کی اپنے مذہبی راہنما سے عقیدت اور تعلق میں کبھی کمی نہیں ہوئی مگر قیام پاکستان کے بعد تاریخ دانوں نے اپنا فرض عین سمجھا ہے کہ قائد اعظم کو آغا خان اور ان کے مذہبی خیالات سے الگ کیا جائے اور ان کو ایک اثنا عشری شیعہ یا معتدل سنی بنایا جائے۔

اگر ہم قائد اعظم کو تمام تر اخلاص، تدبر اور دیانت کے ساتھ ایک انسان تسلیم کرلیں جن سے بعض غلطیاں بھی ہوئیں تو کوئی قیامت نہیں آئے گی۔ ان کو جدوجہد کے آخر میں جو ساتھی میسر آئے، ان میں سے اکثریت مفاد پرستوں اور موقع پرست کی تھی۔ چنانچہ ہمیں ان کے 1945 سے پہلے کے قریبی ساتھیوں کو نہیں بھولنا چاہیئے۔ دوسرا ان کو پاکستان میں تبادلہ آبادی کو روکنے اور بنگال اور پنجاب کی تقسیم روکنے میں، کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانے میں جو ناکامی ہوئی اس میں ان کی سیاسی طور بعض مخصوص سیاسی عناصر میں محصور ہونےکا بھی دخل تھا جو ان کو بنگالی ہندو راہنمائوں، سکھ لیڈروں اور شیخ عبداللہ جیسے کشمیری راہنمائوں سے دور لے گیا اور ان کے ساتھیوں نے اس خلیج کو مزید بڑھانے کی کوشش کی۔ وہ تمام تر کوشش کے باوجو د نواب اسمعیل اور خلیق الزمان کو بھارت میں روکنے میں ناکام رہے اور اس کام کی پوری جدوجہد نہیں کر سکے کہ اتر پردیش اور دوسری مسلمان اقلیتی ریاستوں کے مسلمان اپنے علاقوں میں ہی رہیں۔ اس کے لئے ان کی بڑھتی عمر ، بیماری کے ساتھ ان کے بعض ساتھیوں کے مخصوص سیاسی عزائم تھے جو پاکستان میں ایک مخصوص زبان اور سیاسی فکر کی بالادستی کے خواہشمند تھے۔ اگر آج ہم پاکستان کو مذہبی جنونیت، فرقہ واریت اور لسانی جھگڑوں سے الگ کرنا چاہتے ہیں تو ہم تو یہ تاریخ دوبارہ دیکھنے اور لکھنے کی ضرورت ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “پاکستان کی تاریخ کو دوبارہ سے لکھنے کی ضرورت ہے

  • 22-02-2016 at 9:44 pm
    Permalink

    As an Indian American Muslim who regards Pakistan and Pakistani people congenitally linked to the great Indian civilization, I applaud the realism displayed in this article. Hats off to you. To turn the country’s usual narratives around, Nawaz Sharif could organize a convention devoted to developing a new narrative outlined in this article. That’ll be the day when pigs fly, as we say in Aamerica, in our total hopelessness. i

  • 24-02-2016 at 5:42 pm
    Permalink

    آپ کی تحریر تاریخ کے ہر سچے طالب علم کی آواز ہے۔ ہمارے مقتتدر طبقے نے ہم پر جھوٹی تاریخ، نظریہ اور ثقافت تھوپ رکھی ہے لیکن اس خباثت کے تسلسل نے ہمیں اپنی اگلی نسلوں کے سامنے معتبر بھی نہیں رہنے دیا۔
    یہ دلیرانہ کام آپ نے کیا ہے۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔

  • 27-02-2016 at 2:10 am
    Permalink

    پاکستان دی تاریخ تے جھوٹھاں دی پنڈ اے ایس تاریخ وچ غداراں نوں محب الوطن تے محب الوطناں نوں غدار بنا دتا گیا اے۔ ایس تاریخ وچ چور ڈاکو لٹیرے تے قتل عام کرن والے مجاہد تے غازی نے۔ ہر سکول تے کالج جان والے پاکستانی دا دماغ دھون لئی ایہہ تاریخ بہت کارآمد آلہ اے

Comments are closed.