موٹر وے نہ سہی …. مگر جنازے تو سڑکوں سے گزرتے ہیں


zefferیہ کراچی ہے، کئی برسوں سے کوئی ترقیاتی، تعمیراتی منصوبہ نہیں دیکھا۔ بھائی لوگ کہتے ہیں میٹرو ضروری نہیں، سب سے بڑا کام غربت ختم کرنا ہے۔ ہاں! میں بھی یہی کہتا ہوں۔ پر بھائی لوگو! سوال یہ ہے، یہاں کوئی اورنج ٹرین منصوبہ نہیں ہے، چار پانچ میٹرو کجا، آدھی ادھوری پٹڑی نہیں ڈالی گئی، بجا؟ پاکستان کا غریب ترین طبقہ یہیں کمانے آتا ہے، ان کی غربت کے خاتمے کے لیے کیا کاوشیں ہوئیں۔ پنجابی بیانیہ نہ لگے، تو جواب کا منتظر ہوں۔ اور سائیں! کیا ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیربھٹو کے مزاروں کو جاتی سڑک ایک ‘ہنی پل’ سے بھی کم اہمیت کی ہے۔ تھر جیسے دور افتادہ علاقوں سے مرنے والوں کی خبریں بھی تب آتی ہیں، جب ان کے قل کی رسمیں ہو چکی ہوتی ہیں۔ اندرون سندھ کے لیے کوئی اسپتال، اسکول، غربت کے خاتمے کا بے نظیر منصوبہ؟

اور یہ دیکھیے بلوچستان کا دار الحکومت، کوئٹہ۔ ایسی ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، الامان الحفیظ۔ کراچی سے کوئٹہ شاہراہ کی حالت دیکھیے، جھنگ ملتان کی شاہراہ سے وسیع نہ ہوگی۔ کون سے منصوبے ہیں، یہاں کے سرداروں کی حکومت کے پاس، جس سے غریب کے سینے میں سانس کی چبھن کم ہو؟ ابھی کل ہی کی تو بات ہے، اس صوبے کا ‘حاضر سروس’ وزیرِ اعلیٰ اسلام آباد میں سکونت پذیر تھا، ایسے میں بلوچ عوام کی نارسائی کا دکھڑا کیوں کر اثر کرے! غربت کے خاتمے کا یہاں بھی کوئی منصوبہ؟

اور یہ لیجیے میرا ننھیالی صوبہ خیبر پختون خوا۔ ادھر پشاور کا تو معلوم نہیں، دودھ کی نہریں بہتی ہیں، یا نہیں لیکن ہری پور سے شروع ہونے والی ٹریفک جام سے لے کر، بٹ گرام تک، ریشم کے لاروے کی طرح رینگتی گاڑیاں، روز کا معمول ہے، کہ نہ چاہتے ہوے بھی زبان سے مغلظات کا وظیفہ جاری ہونے لگتا ہے۔ کوئی تبدیلی کے نشان دکھائی دیے ہیں، وہاں؟ نہیں کوئی نہیں۔ پٹوار سسٹم کی اصلاح کا بڑا واویلا ہے، تین چار برس ہو گئے، کوشش کرتے، ابھی تک پٹوار خانے سے وراثتی جائداد کی ‘فرد’ نہیں نکلوا سکا۔ خیبر پختون خوا میں ایک شوکت خانم میمورئیل کا قیام، وہ بھی صوبائی حکومت کے اداروں کا کارنامہ نہیں، ایک غیر سرکاری ادارے کی کارکردگی کا ثبوت ہے۔ غربت کے خاتمے کا کیا لائحہ عمل بنایا گیا؟

زیادہ پرانی بات نہیں ہے، آپ اپنی یاد داشت کو زحمت دیجیے، اور گزشتہ وفاقی حکومت کے ‘شان دار’ ترقیاتی کاموں پر ایک نظر ڈالیے۔ راوی چین ہی چین لکھ چکا۔ اور یہ جو پاک چین راہ داری منصوبے کی ریکھا ہے، من توڑنے لگتا ہے۔ پہلے تو یہ کاغذی شیر قرار دیا گیا، پھر اس بات پر جھگڑے کہ ہمیں بھی استفادہ ہو۔ کراچی سے لاہور، راول پنڈی، پشاور کا سفر کرنے والے برملا اعتراف کرتے ہیں کہ پاکستان ریل ویز کی کارکردگی پہلے سے بہت بہتر ہوئی ہے۔ یہ نا کافی ہے، اسے اور مزید بہتر ہونا چاہیے، لیکن دو اڑھائی سال پہلے کی ریل اور اب کی ٹرین میں زمین آسمان کا فرق آ گیا ہے۔ پاکستان کے کھیل کے میدانوں میں کوئی باہر سے آ کر کھیلنے کو نہیں تیار۔ زمبابوے کی ٹیم آئی، کوئی فرق نہیں پڑا۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کے مقابلے میں یتیم ہوتا ہوا، ہمارا کرکٹ بورڈ پی ایس ایل کروانے میں کام یاب ہوا۔ کچھ جان میں جان آتی لگتی ہے۔ لیکن یہ اہم تھوڑی ہے، بھئی سب سے پہلے غربت کا خاتمہ کیا جانا چاہیے۔

غریب کے لیے کہیں کچھ نہیں ہو رہا، جو کہیں ہو رہا ہے، وہ خبروں کی زینت ہے۔ کراچی میں روز کی اٹھارہ بیس لاشیں گرنا بند ہو گئی ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ اور اسٹریٹ کرائم میں نمایاں کمی آئی ہے۔ دہشت گردی ختم نہیں ہوئی، لیکن وہ پہلا سا حشر نہیں لگا۔ ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اتنے پر مطمئن نہیں ہونا۔ میٹرو، اورنج ٹرین۔ یہ منصوبے اچھے ہیں یا برے۔ ان میں کمیشن کھایا ہے یا نہیں۔ اس کا فائدہ تخت لاہور کو ہے، یا رعایا کو۔ میٹرو بس، اورنج ٹرین پر اسکول کے بچے سفر کریں گے، ملازمین، یا صرف رنجیت سنگھ کے درباری۔ صفائی کا ٹھیکے میں کتنا کمیشن کھایا، کیا شہر بھی کچھ صاف ہوا؟ یہ سب سوال، یہ اعتراضات ہونے چاہیں، ہوتے ہیں۔ جن صوبوں میں سرے سے کچھ ہو ہی نہیں رہا، وہاں کیا کہا جاے، کہ یہاں کیا ہونا چاہیے۔ کہیں سے آغاز کرنا ہے، نہ کریں غربت کا خاتمہ غریب کے دیہات سے شہر تک پختہ سڑک فراہم کر دیں۔ سچ ہے، کہ حکومتی ایوانوں میں بیٹھے فرشتے نہیں ہیں، یقین کیجیے، ہم رعایا بھی فرشتے نہیں ہیں۔ اس سے بھی بڑا سچ یہ ہے، کہ حکومتِ وقت مجھے یہ سب لکھنے پر بھی کوئی عہدہ نہیں عطا کرنے والی۔

کیا ہے کہ دو تین دن سے اندر ہی اندر یہ گیت گونج رہا ہے۔ سنیے! ”راہوں میں۔۔ جیون کی راہوں میں۔۔ جو کھِلے ہیں پھول۔۔ پھول مسکرا دے۔۔۔ کون سا پھول چرا کے، رکھوں من میں سجا کے…. “ لیجئے پھر سے راہوں کا ذکر آیا…. تو بھائی میٹرو نہ بنائیں، موٹر وے نہ بنائیں مگر صاحب جنازے لے جانے کے لئے تو سڑکیں درکار ہیں نا!


Comments

FB Login Required - comments

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 84 posts and counting.See all posts by zeffer-imran