مردم شماری کیوں ضروری ہے؟


 mujahid aliجمعہ کے روز قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ حکومت اس ماہ کے دوران ملک میں مردم شماری کروانے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔ اس حوالے سے یہ عذر تراشا گیا ہے کہ ملک میں سیکورٹی کی صورت حال کی وجہ سے فوج کی مدد کے بغیر مردم شماری کروانا ممکن نہیں ہے۔ اب وفاقی حکومت نے جی ایچ کیو کو اس بارے میں خط تحریر کیا ہے ۔ وہاں سے جواب ملنے پر ہی اس بارے میں فیصلہ ہو سکے گا۔ اس سے قبل بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کے وزیر اعلیٰ ثنااللہ زہری کہہ چکے ہیں کہ امن و مان اور افغان پناہ گزینوں کی صورت حال کی وجہ سے صوبے میں فی الوقت مردم شماری کروانا ممکن نہیں ہے۔ ملک میں آخری بار مردم شماری 1998 میں کروائی گئی تھی ۔ اصولی طور پر ہر دس سال بعد مردم شماری کروانا ضروری ہے لیکن ۱ٹھارہ برس گزرنے کے باوجود اس بارے میں لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت کے اس رویہ کی وجہ سے چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی بڑھنا فطری امر ہے۔

اس کا اظہار آج کراچی میں سندھ حکومت کی قیادت میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سمیت متعد جماعتوں نے اس بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے اور وفاقی حکومت کے رویہ پر نکتہ چینی کی ہے۔ مردم شماری سے ملک کے مختلف حصوں میں آباد لوگوں کی تفصیلات حاصل ہوتی ہیں اور آبادی کے تناسب سے ہی قومی وسائل کو تقسیم کیا جاتا ہے۔ اگر بروقت مردم شماری کرواکے یہ واضح نہیں کیا جائے گا کہ کس صوبے یا علاقے کی آبادی کیا ہے اور اسے کتنے وسائل ملنے چاہئیں تو چھوٹے صوبے اور کم ترقی یافتہ علاقے اسے لازمی طور سے اپنے حق پر ڈاکہ تصور کرنے لگیں گے۔ وسائل کی تقسیم پرانے اعداد و شمار کے مطابق ہو گی تو غلط فہمیاں اور دوریاں بھی بڑھتی رہیں گی۔ ایک ایسے وقت میں جب دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لئے قومی یکجہتی کی ضرورت فزوں تر ہے، مردم شماری یا ایسے ہی کسی دوسرے سوال پر کم ترقی یافتہ علاقوں کے احساس محرومی میں اضافہ قومی مفاد میں نہیں ہو سکتا۔

مردم شماری کے لئے جو ادارہ اور قومی کمیشن قائم کیا گیا ہے اس کی تشکیل کے بارے میں بھی چھوٹے صوبوں کو شدید اعتراضات ہیں۔ اس میں پنجاب کو غیر معمولی نمائندگی دی گئی ہے اور دوسرے صوبوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اب یہی ادارہ دراصل مردم شماری مؤخر کروانے کے لئے وفاقی حکومت کا دست راست بنا ہؤا ہے۔ مردم شماری کمشنر نے مردم شماری کروانے کے لئے ساڑھے تین لاکھ فوجی تعینات کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پاک فوج کی مجموعی افرادی قوت چھ لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ آپریشن ضرب عضب کے علاوہ سرحدوں پر اس کی موجودگی کی روشنی میں یہ قرین از قیاس نہیں ہے کہ وہ نصف سے بھی زائد نفری مردم شماری کمیشن کے حوالے کردے گی۔ حکومت اور اس کے زیر نگرانی کام کرنے والے اداروں کو اس قسم کے عذر تراشنے کی بجائے جلد از جلد ملک میں مردم شماری منعقد کروانے کے لئے اقدام کرنے چاہئیں۔ فوج ماضی کی طرح حکومت کی جائز سیکورٹی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے ضرور اقدام کرے گی۔ تاہم اگر غیر حقیقی مطالبے کرکے ، مردم شماری نہ کروانے کا الزام بھی فوج ہی کے سر دھرنے کی کوشش کی جائے گی تویہ کسی طرح قابل قبول اور درست اقدام نہیں ہوگا۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 411 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali