ملالہ ڈرامہ اور پیچیدگی پسند ذہن!


waqar ahmad malik فرض کیجئے کوئی صاحب پورا دن دفتر گزارنے کے بعد گھر جاتے ہیں اور کمرے کا اے سی آن ہوتا ہے ۔

وہ حیران ہوتے ہیں کہ اے سی کیونکر آن ہے جبکہ وہ گھر سے نکلتے وقت ہمیشہ تمام سوئچ آف کر کے جاتے ہیں ۔

اگر تو یہ صاحب لاشعوری طور پر کسی عدم تحفظ کا شکار ہیں تو ان کا دماغ فورا کسی سازشی نظریے کی بنت میں مصروف ہو جائے گا ، مثال کے طور پر۔۔

’لگتا ہے کوئی چور یا بھیدی تھا جس کو میرے آنے جانے کے معمول کا پتہ ہے ۔ میرے جانے کے بعد وہ مین گیٹ کو پھلانگ کر اند ر آیا ہو گا۔ اور یقینا اندرونی دروازے کی چابی اس نے بنوا رکھی ہو گی یا ہو سکتا ہے وہ تالے کھولنے کا ماہر ہو، تالا کھولتے وقت اس نے ہاتھوں پر دستانے چڑھائے ہوں گے تا کہ انگلیوں کے نشانات نہ پڑیں۔لیکن اس نے باقی کسی سامان کو کیوں نہیں چھیڑ ا میرا خیال ہے وہ کوئی اشارہ دینا چاہتا ہو گا وغیرہ وغیرہ ‘۔

اگر یہ صاحب مافوق الفطرت پر یقین رکھتے ہیں تو اس طرح بھی سوچ سکتے ہیں کہ بچپن سے یہ باتیں سن رہا ہوں کہ جنات شرارت کرتے ہیں ۔ میرے دادا کے ساتھ بھی تو ایسا ہوا تھا کہ رات کو اس کی لالٹین بجھا دیتے تھے ۔ اور بھی گاﺅں میں ایسے کتنے ہی واقعات سن رکھے ہیں ، اور جس جگہ میں رہ رہا ہوں اس کے بارے میں کسی نے بتایا تھا کہ یہ جگہ ’بھاری‘ ہے ۔ اف لگتا ہے یہ جنات کی شرارت ہے وغیرہ وغیرہ۔

لیکن اگر ان صاحب کا ذہن سادہ اور منطقی حل کی جانب مائل ہے تو یہ اس طرح بھی سوچ سکتے ہیں ، ’ امم لگتا ہے صبح اے سی کا سوئچ آف کرنا بھول گیا حالانکہ ایسا ہوتا تو نہیں ہے لیکن غالب امکان یہی ہے‘ ۔

ہم زندگی ، موہوم امکانات سے ڈر یا امید پر نہیں گزارتے بلکہ غالب امکان یا احتمال Most Probableپر گزارتے ہیں۔ میں روزانہ جب دفتر کے لیے نکلتا ہوں تو امکان ہوتا ہے کہ سڑک پر کسی حادثے کا شکار ہو جاﺅں گا، کیا یہ امکان نہیں ہوتا ؟ یقینا ہوتا ہے لیکن میں زندگی کے فیصلے امکانات یا ممکنات پر نہیں کرتا، بلکہ تجربے کے حاصل غالب امکانات پر کرتا ہوں اور یہ امکانات مجھے بتاتے ہیں کہ ہزاروں دفعہ میں دفتر گیا ہوں اور کوئی حادثہ نہیں ہوا تو غالب امکان ہے کہ آ ج بھی نہیں ہو گا۔

زندگی اور اس سے جڑے معاملات اپنی فطرت میں سادہ اور منطقی ہوتے ہیں ۔ مجھے صحیح طور یاد نہیں لیکن غالبا یہ بات عکسی مفتی نے اپنی کتاب Measuring Intangibles
میں لکھی کہ انسان کائنات اور خدا کے وجود کی پیچیدہ گھتیاں سلجھالے گا تو حتمی حقیقت شاید ایک بچے کی مسکراہٹ جتنی سادہ ہو گی۔

Heliocentricملالہ کے معاملہ پر جانے سے پہلے مجھے ایک اور مثال دے لینے دیں۔ اگر آپ یونان سے لے کر اب تک کائنات میں دنیا کے مقام کے مسئلہ کو لیں تو سیکڑوں صدیوں تک یہ معاملہ بہت پیچیدہ رہا۔ سب مفکرین دنیا کو کائنات کا مرکز مانتے تھے اور سورج سمیت تمام ستاروں اور سیاروں کے بارے میں یقین رکھتے تھے کہ یہ دنیا یعنی ہمارے گرد طواف کر رہے ہیں ۔ اس انانیت کا نتیجہ یہ ہوا کہ کوئی حتمی ماڈل نہیں بنتا تھا۔ ہر ماڈل میں غلطیاں اور پیچیدگیاں ہی پیچیدگیاں پیدا ہو جاتیںکیونکہ مختلف سیاروں کی مختلف رفتار تھی اور اوپر سے مفروضہ بھی غلط تھا تو ایک پیچیدگی مزید پیچیدگیوں کو جنم دیتی تھی۔ ایسی ہی ایک پیچیدگی اس مضمون میں لگی ایک تصویر میں دیکھئے جس میں یونانیوں نے ایک غلط مفروضہ کی بنیاد پر سورج، چاند اور دوسرے سیاروں کی حرکت کا جو ماڈل بنایا وہ کس قدر پیچیدہ ہے ۔

اس کے بعد ایک انسان آیا جس نے انا اور مذہب کے خوف سے بالاتر ہو کر سوچا تو اس کو ادراک ہوا کہ دنیا مرکز نہیں ہے یہ خود بھی دوسروں کی طرح خلا میں خوار ہے اور یہ سورج دنیا کے گرد چکر نہیں لگا رہا ، بلکہ دنیا اس کا طواف کر رہی ہے ۔ اور اس سادہ لیکن منطقی دریافت کے بعد شمسی نظام کے سادہ ماڈلز آپ نے دیکھ رکھے ہیں

12699209_10154049488023578_149877139_o
Occam’s razor کے نظریے کو لیجئے ، شاید اصطلاحاتی معنوں میں اس کو نظریہ کہنا مناسب نہیں ہو گا، اس کورہنما اصول تصور کر لیں۔ لیکن اس رہنما اصول نے گذشتہ چھ صدیوں میں سائنس اور سماجیات پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔

اصول سادہ ہے اور اس کو Law of Parsimony بھی کہتے ہیں ۔

Among competing hypotheses, the one with the fewest assumptions should be selected.
(اگر کسی معاملے کے ایک سے زیادہ نتائج ممکن ہوں تو ایسا نتیجہ چننا چاہیے جس میں مفروضات کی تعداد کم سے کم ہو )

یا ۔۔۔Plurality ought never be posited without necessity

(غیر ضروری طور پر پیچیدگی اختیار کرنے سے گریز کرنا چاہیے ۔)

220px-William_of_Ockhamولیم آف آکم (1287 – 1347) کے اس قانون کے ساتھ ریزر یا بلیڈ کا لفظ اسی لیے استعمال ہوا کہ غیر ضروری تفصیلات اور بالخصوص جن کے ساتھ مشاہداتی تجربہ نہ ہو ، ان کو کاٹ دیا جانا چاہیے ۔ اسی اصول کو آئن سٹائن تک جیسے سائنسدانوں نے مانا اور اس کو مد نظر رکھ کر دریافتیں کیں۔

اب آئیے ملالہ یوسف زئی کے معاملے کی جانب ۔

سازشی نظریہ: ملالہ ایک ڈرامہ ہے ۔ ایک تصویر میں اس کو ماتھے کے دائیں جانب گولی لگی دکھایا گیا ہے اور دوسری تصویر میں بائیں جانب۔ اندازہ کریں اب کیا اس سے زیادہ کوئی ثبوت کیا ہوکہ اسلام اور بالخصوص پاکستان کے خلاف ایک عالمی سازش کی جا رہی ہے ۔ ہم آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں ۔ تباہی ہمارا مقدر بن چکی ہے ۔ میر جعفر جیسے غدار ہماری صفوں میں موجود رہیں گے تو تباہی تو آنا ہی ہے۔ مغرب بہت زبردست چال چل رہا ہے ۔ اب تو خد ا ہی ہے کہ ہمیں ہدایت دے۔

ولیم آف آکم ریزر: بنیادی کمپیوٹر سے واقفیت لازمی ہے۔ جس کو یہ بنیادی واقفیت ہو وہ فوٹو شاپ اور دوسری ایپلیکیشنز میں Flip نامی تیکنیک سے واقف ہو گا۔ یہ ایک ہی تصویر ہے جس کو فلپ کیا گیا ہے۔

Pakistani army docto Malala Yousafzai, 14سازشی نظریہ: ملالہ کو گولی لگی ہوئی تھی اور وہ خود اپنے پاﺅں پر چل کر ایک ہیلی کاپٹر پر سوار ہو رہی ہے۔ ہاہا ہا ۔ جس کو گولی لگے اوروہ بھی سر پر اور وہ پیدل ہیلی کاپٹر پر سوار ہو رہا ہو۔ اور تصویر میں اس کا غدار باپ بھی۔ ملک و قوم کو بیچ کھایا ہے انہوں نے ۔ ڈرامہ تو انہو ں نے بھرپور کیا لیکن یہ سارا ڈرامہ ایک تصویر نے پھوڑ دیا ۔ یہ تاریخ کا پہلا کیس ہو گا جس انسان کے سر پر گولی لگی ہے اور وہ پیدل چل رہی ہے ، غضب خدا کا سر پر پٹی بھی نہیں ہے۔

ولیم آف آکم ریزر: انٹر نیٹ پر ایسی ویب سائیٹ اور ٹولز دستیاب ہیں جن سے کسی تصویر کی تاریخ معلوم کی جا سکتی ہے۔ یہ تصویر اس حادثے سے کہیں پہلے کی ہے۔

سازشی نظریہ: ملالہ کو سرے سے گولی لگی ہی نہیں تھی ۔ یہ سب ڈرامہ رچایا گیا۔ پہلے اس کے باپ کو اس ڈرامہ کرنے پر تیار کیا گیا۔ پھر ڈائری والی کہانی چلائی گئی اور پھر یہ گولی والا ڈرامہ ۔ ہم عقل سے کام نہیں لیتے ورنہ کہانی کے تانے بانے کیسے ملتے ہیں ۔ طالبان ہوں یا کوئی اور…. ہم تو یہ جانتے ہیں کہ کوئی مسلمان ایسا سوچ بھی نہیں سکتا ۔ اسلام میں بچوں پر ہاتھ اٹھانے کی ممانعت ہے ۔

teen9n-3-webولیم آف آکم ریزر: اگر یہ ڈرامہ تھا تو ملالہ کے ساتھ گاڑی میں سوار بچیاں، ایمبولینس کاڈرائیور ، ملٹری ہسپتال پشاور اور اے ایف آئی سی راولپنڈی کے بہت سے ڈاکٹرز اور نرسیں…. اور ٓرمی چیف اشفاق کیانی ، کیا یہ سب اس ڈرامہ کے کردار ہیں ، حیرانی والی بات ہے سیکڑوں میں سے کوئی ایک کردار بھی یہ ماننے کو تیار نہیں ہے کہ ملالہ کو گولی نہیں لگی تھی۔ باقی مسلمان ایسا کر سکتا ہے یا نہیں ، وہ مسلمان ہی کہلاتے ہیں جنہوں نے خود تسلیم کیا ہے ۔

سازشی نظریہ: کبھی سنا ہے کہ کسی کو سر پر گولی لگی ہو اور وہ بچ گیا ہو۔ جب گولی بھیجے کے پار ہو گئی تو پیچھے کیا رہ گیا۔ لیکن یہاں ہماری آنکھوں پر پٹی بندھی ہے ۔ ملالہ کو سر پر گولی لگتی ہے اور وہ توبہ توبہ…. ہسپتال تک پہنچ جاتی ہے ۔ بھئی واہ واہ…. لگتا ہے ڈرامہ بنانے والے نے اس زاویے سے نہیں سوچا ورنہ تھوڑا بہتر سکرپٹ بھی لکھ سکتا تھا۔ بھلا کسی نے سنا ہے کہ سر پر گولی لگے او ر بندہ بچ جائے۔

ولیم آف آکم ریزر: ہو سکتا ہے آپ نے نہ سنا ہو، لیکن ایسے بہت سے کیسز ہیں ، جدید دنیا کو تو چھوڑیں 1848ءمیں فائینس گیج (Phineas Gage)کا مشہور زمانہ واقعہ موجود ہے جس کے سر میں لوہے کا راڈ گھس کر آر پار ہو گیا تھا۔ بہر حال ملالہ کا سرجری کیس انٹر نیٹ پر موجود ہے اور تفصیلات موجود ہیں کہ ملٹری ہسپتال پشاور نے پانچ گھنٹے کے طویل آپرشن کے بعد کیسے گولی نکالی اور Decompressive craniectomy یعنی کیسے اس کی کھوپڑی کا کچھ حصہ کاٹا گیااور پھر راولپنڈی منتقل کیا گیا۔

Phineas_Gageor_ToneCorrectedسازشی نظریہ: اس کا باپ ایک لالچی آدمی ہے وہ باہر جانا چاہتا تھا۔ اگر وہ اور ملالہ محب وطن ہوتے تو پاکستان کو کبھی نہ چھوڑتے۔ وطن کے لیے جان بھی دینا پڑے تو کیا مہنگا سودا ہے ۔ اس دھرتی کے لیے ہمارا خون بھی حاضر ہے۔ لیکن صرف باہر جانے کے لیے اس نے ڈرامہ رچایا۔ کوئی محب وطن ہوتا تو چاہے اس کا سارا خاندان کٹ جاتا اس مقدس دھرتی کو کبھی نہ چھوڑتا۔ یہ مٹی ہمیں جان سے زیادہ عزیز ہے ۔

ولیم آف آکم ریزر: اس ملک میں کتنے لوگ ہیں جن کو برطانیہ میں پاکستانی سفارت خانے میں نوکری ملے اور وہ نہ جائیں ۔ اور اس ملک میں کتنے لوگ ہیں کہ اگر ان کی بیٹی اور ان کے خاندان کو زندگی کا خطرہ ہو اور بیٹی کو گولی بھی لگی ہو اور وہ فوج کے ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہو اور وہ پاکستان چھوڑنے سے انکار کر دیں۔

سازشی نظریہ: اے پی ایس میں ایک بچے کو منہ پر کتنی گولیا ں لگیں لیکن وہ نہیں گیا، یہ ہوتی ہے حب الوطنی ۔کیا آپ نے سنا کہ اس بچے یا اس کے والد نے کہا ہو کہ ہم باہر چلے جاتے ہیں ۔ یہ ہوتے ہیں ملک اور اس کی مٹی سے بے لوث محبت کرنے والے ۔

ولیم آف آکم ریزر: بچے کو نہیں سکول کونشانہ بنایا گیا تھا۔ اس بچے کو اس کی کسی حرکت کی وجہ سے ذاتی عناد کا نشانہ نہیں بنایا گیا، لیکن دوسری طرف ملالہ باقاعدہ ہٹ لسٹ پر تھی۔

سازشی نظریہ: ملالہ کیوں ہٹ لسٹ پر تھی ؟ ملالہ کوئی ایسی اہم توپ چیز نہیں تھی ۔ اس کو جانتا کون تھا۔ اسی گولی والے ڈرامے کو ہی تو اس نے کیش کرایا ہے

ولیم آف آکم ریزر: بی بی سی کو لکھی ڈائری اس کی شناخت بنی ۔ اس کے علاوہ وہ دو دفعہ کیپٹل ٹاک، ڈیلی آج، اے وی ٹی ، ٹورنٹو سٹار کو انٹرویو دے چکی تھی۔ اس کے علاوہ انٹرنیشنل چلڈرن پیس ایوارڈ لینے والی پہلی پاکستانی اور پاکستان کا پہلا نیشنل یوتھ ایوارڈ لینے والی بچی تھی ۔ ہر فورم پر عورتوں کی تعلیم کے لیے آواز اٹھاتی تھی

سازشی نظریہ: ڈائری اس نے خود نہیں لکھی تھی ۔ اور اس کا اقرار وہ خود کر چکی ہے ۔ مزید کچھ رہ گیا ہے کہ اس کو ڈرامہ ثابت نہ کیا جا سکے ؟

ولیم آف آکم ریزر: ڈائری خود لکھی یا فون پر لکھوائی ، نکتہ یہ ہے کہ خونی چوک میں لٹکتی لاشوں کے سائے میں ایک ایسے عفریت کے خلاف بولنا جو شانگلہ کے راستے اسلام آبادکے دروازے پر دستک دے رہا ہو بڑے دل گردے کا کام ہے ۔ مجھے یاد ہے میں اس وقت لاہور میں تھا اور لاہور جیسے شہر میں ہم بات کرتے وقت احتیاط کیا کرتے تھے۔ وہ ایک بچی ہو کر سوات میں ڈائری لکھوا رہی تھی ۔ بس یہی وہ بات ہے جو بڑا فرق ڈالتی ہے۔ ڈائری کے لیے بی بی سی نے بہت تلاش کیا تھا لیکن اول تو کوئی مانتا نہیں تھا کہ اس کی بیٹی یہ خطرناک کام کرے اور اگر ایک آدھ نے مانا بھی تو بعد میں انکاری ہو گا۔ یہ بھاری پتھر ملالہ کے حصے میں آ یا۔

سازشی نظریہ: ملالہ مغرب کے ہاتھوں کھیل رہی ہے۔ وہ پاکستان کی بے عزتی کرتی ہے ۔ کہتی ہے پاکستان میں تعلیم کے مواقع نہیں ہیں اور لاکھوں بچے سکول نہیں جاتے ۔ یہ بالکل غلط ہے ۔ ہمارے محلے اور ہمارے رشتہ داروں میں کوئی ایک ایسا بچہ نہیں ہے جو سکول نہ جاتا ہو،

ولیم آف آکم ریزر: شماریات میں آپ کا محلہ اور آپ کے رشتہ دار اس ملک کا نمائندہ ڈیٹا نہیں ہیں۔ اگر بین الاقوامی نہیں تو اپنی حکومت اور اداروں کا ڈیٹا اٹھا کر دیکھ لیں کتنے بچے سکول جانے سے محروم ہیں، اگر اپنی آنکھوں سے دیکھنا مقصود ہو تو اس ملک کسی مضافاتی اور دیہی علاقوں کی سڑکوں سے ہٹ کر کچے راستوں پر سفر کریں۔ جتنا آپ پکی سڑک سے دور ہوتے جائیں گے اس قدر آپ کی تسلی ہوتی جائے گی۔ اپنی کسی کمزوری کی نشاندہی بے عزتی نہیں ہوتی بلکہ اس کمزوری پر ڈھٹائی سے کام لینا ، کمزوری پر فخر کرنا اور اس کو دور نہ کرنا اصل بے عزتی والی بات ہوتی ہے۔

سازشی نظریہ: ملالہ تو ایسے کہہ رہی ہے جیسے ہم کسی پتھر کے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں اور ہمارے ہاں تعلیم کو بہت برا سمجھا جاتا ہے ۔ یہاں ہر طرف سکول نظر نہیں آتے۔ عقل کے اندھوں کوسکولز میں چھٹی کے وقت بلاک سڑکیں نظر نہیں آتیں ۔

ولیم آف آکم ریزر: ملالہ کے بعد…. اے پی ایس اور باچا خان یونیورسٹی میں جو کچھ ہوا، شر پسندوں کی جانب سے تعلیمی اداروں کے خلاف واضح جنگ کا اعلان ہوا ، اور آج ہمارے سکول اور کالج خاردار تاروں سے لپٹے ہیں ، تعلیمی اداروں میں بچوں اور اساتذہ کو دہشت گردوں سے نپٹنے کی تربیت دی جا رہی ہے ، استاد کلاشنکوف لٹکائے بچوں کو نصاب میں درج امن و آتشی کے سبق پڑھا رہا ہے ۔کیا ملالہ نے کل جو کہا تھا، وہ ہمارے آج کا تلخ سچ نہیں ہے؟ اکیسویں صدی میں تعلیمی اداروں میں یہ منظر آپ کو کراہت آمیز لگتا ہے یا ملالہ کی بات سے زیادہ بے عزتی محسوس ہوتی ہے؟

سازشی نظریہ: ملالہ کی کتاب میں سلمان رشدی کا ذکر ہے ۔ کیا یہ ثبوت کافی نہیں ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف کام کر رہی ہے۔کوئی بھی مسلمان اپنے پیغمبر کی توہین کیسے برداشت کر سکتا ہے ۔

ولیم آف آکم ریزر: کتاب میں یہ ذکر ہے کہ سلمان رشدی کی کتاب پر جو ہمارے ملک میں توڑ پھوڑ ہوئی وہ مغرب تک نہیں پہنچی اور نہ ہی سلمان رشدی کو کوئی نقصان ہوا۔ کہیں بہتر تھا کہ سلمان رشدی کی کتاب کا جواب ، ایک موثر کتاب کی جواب میں دیا جاتا۔ جیسے شیری جونز کا ناول ’جیول آف مدینہ‘ ایک شر انگیز ناول ہے ۔ لیکن اس ناول کو سپیل برگ نے اپنی کتاب Politics, Gender, and the Islamic Past سے دلائل دے کر غلط ثابت کیا اور چار سال تک اس کی اشاعت رکوائے رکھی ، امریکہ اور لندن کا کوئی پبلشر اسے شائع کرنے پر رضامند نہ تھا کہ سپل برگ نے دلائل کے ساتھ آواز بلند کی تھی ۔ آخر سربیا میں یہ ناول شائع ہوا اور تنقید نگاروں نے اس کو سکریپ قرار دیا اور بد ترین ناکام ہوا ، اگر اس کی مخالفت سپیل برگ کے بجائے مسلمان کر رہے ہوتے تو اس ناول نے مقبولیت کے ریکارڈ توڑنے تھے ۔

سازشی نظریہ: کرسٹینا لیمب نے بہت مسالہ ڈالا ہے ۔ اس کا تعصب صاف دکھائی دیتا ہے ۔اس نے اسٹیبلشمنٹ اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے الفاظ استعمال کر کہ اپنے دل کی بھڑاس نکالی ہے ۔ ورنہ یہ اصطلاحات ایک بچہ استعمال نہیں کرتا۔

ولیم آف آکم ریزر: بہتر تھا ملالہ خود لکھتی ، جیسا بھی ٹوٹا پھوٹا لکھتی بہتر تھا، کرسٹینا لیمب کا تعصب اس کتاب کا پانچ فیصد بھی نہیں ہے ۔ ہمارا سارا زور اس پانچ فی صد پر رہا۔ باقی پچانوے فی صد کو کبھی زیر بحث نہیں لایا، شاید اس میں ہمیں بے عزتی محسوس ہوتی ہو گی۔لیکن پہلی بات تو یہ ہے کہ اس ملک میں کتنے ہیں جنہوں نے آئی ایم ملالہ پڑھی ہے۔ کیا ہم علمی اور فکری حوالے سے بد دیانت لوگ نہیں ہیں؟

127458807_n

سازشی نظریہ: مجھے اس کی شکل ہی اچھی نہیں لگتی، دونوں باپ بیٹی غدار لگتے ہیں، ان کے چہروں سے ہی دکھائی دیتا ہے کہ کس قدر تیز اور چالاک ہیں ۔ ابھی او لیول کے امتحان میں گوروں نے اس کو کیسا نوازا ۔ جو بھی اس ملک کے خلاف بات کرے گا وہ دشمن ہے ، بس ہمیں تو یہ پتہ ہے کہ ’یہ خاک وطن ہے جاں اپنی اور جاں تو سب کو پیاری ہے۔ ‘

ولیم آف اوکم اٹھا ، اس نے میز کی دراز سے اپنا تاریخی ریزر نکالا اور خودکشی کر لی۔ سازشی نظریے کی پیچیدگی کے مقابلے میں اس نے سادہ حل ڈھونڈ لیا تھا۔


Comments

FB Login Required - comments

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 62 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

One thought on “ملالہ ڈرامہ اور پیچیدگی پسند ذہن!

  • 21-02-2016 at 9:28 pm
    Permalink

    Hahaha, every one with reason and logic have to do the same against the barrage of conspiracy theories here.

Comments are closed.