ماروی سومرو ہنزہ ہی میں کیو ں پڑھاتی ہے؟


خبر شائع ہوئی کہ ایک پاکستانی لڑکی ماروی سومرو ایک لاکھ پلس کی تنخواہ چھوڑ کر ہنزہ میں دور افتادہ وادی مسگر میں پڑھاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے اعتراض کیا کہ سندھ میں تعلیمی پسماندگی کم ہے اور کیا یہاں پڑھانے کے مواقع نہیں ہیں کہ ماروی سومرو اس قدر دور ایک وادی میں بچوں کو پڑھا رہی ہے۔

ان اعتراضا ت سے بہت کچھ یاد آ گیا۔ گلگت بلتستان میں رہ کر بچوں کو پڑھانے کی خواہش تھی۔ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں کوشش کی، سرخ فیتہ آڑے آ گیا۔ این جی اوز سے رابطہ کیا لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ مالی پس منظر ایسا تھا کہ سب کچھ چھوڑ کر یہ سب کرنا ممکن نہیں تھا۔

ایک وقت آیا جب جذباتی ہو کر نوکری چھوڑ دی۔ سوچا سیاح لیکر گلگت بلتستان جاؤں گا اور ہر ٹور پر ایک دن اپنے لیے رکھوں گا بچوں کو پڑھاؤں گا۔ سیاح کم آتے اور ٹو ر کے اخراجات بمشکل پورے ہوتے۔ اس دوران پڑھانے کا کچھ خوشگوار تجربہ تو رہا لیکن چار مہینوں بعد مالی صورتحال خراب ہونا شروع ہو گئی۔ دوبارہ سے نوکری سے جڑ گیا۔

ہنزہ میں پیارے ہنزائی جتنا کر سکتے تھے انہوں نے کیا۔ ایک خوبصورت گھر کی آفر ہوئی۔ جس قدر وہ تنخواہ دینے کی سکت رکھتے تھے اس کا وعدہ کیا۔ گلمت میں الامین سکول کے نذیر احمد بلبل کا شکر گزار ہوں ۔ کریم آباد میں نظیم اللہ بیگ کے احسانات ہیں ۔ لیکن بوجوہ گلگت بلتستان میں مقیم نہ ہو سکا۔

اس دیوانگی کو دیکھ کر لوگوں کا اعتراض تھا کہ ایسا کیا مسئلہ ہے کہ آپ کو پڑھانے کا شوق گلگت بلتستان میں ہی ہے۔ ہنزہ میں تو پہلے ہی تعلیم کی شرح پاکستان میں سب سے زیادہ بلند ہے ۔ اگر پڑھانا ہی ہے تو اپنے گاؤں میں پڑھائیں جہاں کے بچے زیادہ مستحق ہیں ۔ کہیں اندر کھاتے آپ کو پہاڑ اچھے لگتے ہیں اور بہانہ وہاں کے بچوں کی تعلیم کا بنا رکھا ہے ۔

اس اعتراض کا جواب تفصیل طلب ہے۔ آ خر ایسا کیا ہے کہ ایک امریکی لڑکی ہنزہ آتی ہے اور واپس جانے کے بجائے یہاں پڑھانا شروع کر دیتی ہے۔ لڑکی فوت ہو گئی تو اس کی ماں سانتا فین پانچ ملین ڈالر کی رقم اکھٹی کر کے ہنزہ میں سکول بنانے آ گئی۔ جاپان کے ہیسی گاوا کی بیوی نے ہنزہ میں شاندار سکول بنوایا۔ 2002 کی بات ہے ایک امریکی لڑکی سے ہنزہ میں ملاقات ہوئی۔ ڈاکٹریٹ کے تھیسز کے لیے پہلی دفعہ ہنزہ آئی تھی۔ مسلسل ویزے کی مدت بڑھوا رہی تھی۔ اس کی ڈاکٹریٹ کی ڈگری خطرے میں پڑ گئی لیکن مختصر مدت کے لیے بھی واپس امریکہ جانے کو تیار نہ تھی ۔ یہاں بچوں کو پڑھاتی تھیں۔ ہنزہ کی دادیوں نانیوں کو دوست بنا رکھا تھا اور بے حد خوش تھی۔

مجھے ہنزہ میں بچوں کو پڑھانے کا اتفاق رہا۔ آپ تین گھنٹے پڑھاتے رہیں بچوں کے چہروں پر تجسس کم ہونے کا نام نہیں لے گا؟ منہ کھولے تجسس بھری آنکھیں لیے یہ بچے آپ کو عشق میں مبتلا کر دیتے ہیں ۔ تین گھنٹے کے بعد ایسا لگتا ہے جیسے آپ کسی بہت بڑے روحانی تجربے سے آشنا ہوئے ہیں۔ تھکاوٹ نام کی نہیں ہوتی۔ بچوں کے ذہانت سے بھرپور سوالات کی یلغار ان کی دلچسپی کا پتہ دیتی ہے۔

آپ ایسے ہی جاتے جاتے پسو کے پرائمری سکول ہی چلے جائیں۔ پیارے پیارے بچے پڑھائی میں منہمک ہیں۔ آپ کلاس روم میں داخل ہوں تو پاکستان کے مستقبل یا تعلیم کے حوالے سے ایسا سوال کر دیں گے کہ آپ گنگ رہ جائیں گےکہ کیا یہ سوال تیسری یا چوتھی کا بچہ کر رہا ہے؟ دن کے کھانے کے وقت ان کے تربیتی رسم و رواج دیکھیں کہ کیسے وہ اپنے کھانے کا ایک ایک نوالہ پہلے دوسروں کو پیش کرتے ہیں اور پھر خود کھاتے ہیں یہ سب ایک انتہائی روحانی تجربہ ہوتا ہے۔ استانیا ں اور اساتذہ کرام آپ کے گرد جب جدید تعلیم کے تقاضوں کے حوالے سے آپ سے راہنمائی کےطلب گار ہوتے ہوئے سوال کرتے ہیں تو دل کرتا ہے انسان اپنے آپ کو جوتیاں مارے۔۔۔ ایک استانی نے بڑی محبت سے کہا کہ آپ ہمارے سکول کی لائبریری نہیں دیکھیں گے؟۔۔ میں نے حیرت سے کہا کہ کیا آپ نے پرائمری سکول میں بھی لائبریری بنا رکھی ہے۔ لائبریری کیا تھی سکول کے ایک کونے میں ایک چھوٹے سے کمرے میں پانچ چھ سو کتابیں نفاست اور ترتیب سے پڑی تھیں۔ کتابوں کے موضوعات دیکھے تو عقل دنگ رہ گئی۔ فرمانے لگیں اساتذہ جب کوئی کتاب پڑھنے کے لیے خریدتے ہیں تو پڑھنے کے بعد لائبریری کی زینت بنادیتے ہیں تاکہ سب پڑھیں۔

آخر ایسا کیا ہے کہ جس کو نیکی کا جنوں چڑھتا ہے وہ ہنزہ یا بلتستان جا پہنچتا ہے۔ کیا باقی پاکستان میں بچے نہیں رہتے؟ کیا باقی پاکستان میں غربت نہیں ہے؟

اس کے جواب کے لیے ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہو گا؟ تعلیم دو طرح کی ہے ۔ ایک یہ کہ آپ ذہن سازی کرتے ہیں۔ بچوں کے اندر سوال چھوڑتے ہیں لیکن ان پر غیر عقلی یقین نہیں ٹھونستے۔ ان کو بتاتے ہیں کہ آپ جیسا مرضی عقیدہ رکھیں وہ عقیدہ انسانوں کو دکھ نہ پہنچائے۔ انسانیت او ر فطرت کا احترام اور خدمت آپ کا اولین مقصد ہونا چاہیے۔

اب اگر تو تعلیم یہ ہے اور میری بہن بیوی یا بیٹی کل گھر میں کہتی ہے کہ وہ اس کو بطور مشن اپنانا چاہتی ہے تو میں مشورہ دوں گا کہ جاؤ، ہنزہ چلی جاؤ ۔ یہ مال وہاں بیچو جہاں خریدار ہیں۔ یہاں مشن والی بات نہ کرنا۔ یہاں ننھے ننھے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا حرام ہے اور تم ایک ایسے بیانیے کے خواب دیکھ رہی ہو جس کا مقصد ساری انسانیت ہے ۔

میں اپنے گاؤں کی مثال دیتا ہوں ۔ میں نے بارہا سوچا کہ کچھ کروں۔ گاؤں میں کچھ اساتذہ سے بھی مشورہ کیا۔ لیکن تدریسی رٹا معاملات کی حد تک تو پڑھانے میں کوئی مسئلہ نہیں لیکن جس تعلیم کا مقصد ایک بچے کے اندر تجسس اور سوال کو زندہ رکھنا ہوتا ہے وہ گاؤں میں دینا ناممکن ہے۔وہ بچے جو ابتر معاشرے میں وقت گزار کر چند گھنٹوں کے لیے سکول آتے ہیں ان کو اگر آپ تھوڑا سا بھی اس تعلیم کی جانب لے کر آئیں گے تو تیسرے دن آپ کو سکول کی انتظامیہ یا والدین دھکے مار کر نکال دیں گے۔ جن سکولوں میں بچہ اگر غلطی سے ڈارون کے حوالے سے سوال ہی کر بیٹھے تو استاد یہ کہہ کر بات ختم کردے کہ۔۔۔ دفع کرو یا یہ کہ وہ خود ایک بندر تھا، خنزیر کا بچہ! ۔۔۔تو ایسی جگہ کے بارے میں آپ خود تصور کر سکتے ہیں کہ وہاں ‘علم’ کی تقسیم کسی خطرے سے خالی نہیں۔ جس معاشرے کو صدیوں بعد بھی اس بنیادی بات پر غور کرنے کی ہمت نا ہو کہ ہم سائنس میں کیوں پیچھے رہ گئے ہیں تو اخلاقی جرات سے عاری ایسے معاشرے میں پڑھانے کے خواب ادھورے رہتے ہیں۔ ایسے معاشروں میں ڈاکٹر عبد السلام سر پیٹتے ہوئے کہتے ہیں ۔۔” او کمبختو میں نے تو تمھیں فزکس پڑھانی ہے، عقیدہ تو نہیں پڑھانا، مجھ سے خدا کے لیے فزکس تو پڑھ لو”

ڈاکٹر عبدالسلام ہنزہ کو جانتے ہوتے تو یہ جملہ کہہ کر خون جلانے کی نوبت نہ آتی۔ ‘

کبھی جائیے ہنزہ۔۔ سکولوں میں سپارکو کی وقفے وقفے ہنزہ جانے والی دوربینوں کو دیکھئے۔ جان جائیں گے کہ سپارکو اس لیے وہاں مقبول ہے کیوں کہ ہنزہ کے بچے آسمان پر ستاروں، سیاروں اور کہکشاؤں کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں ۔

 مال وہیں بکتا ہے جہاں اس کی طلب ہوتی ہے۔ ہنزہ میں علم کی طلب ہے ۔ دنیا جہاں کے لوگ دو زانو ہو کر اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ ہنزہ کے بچے علم وصول کرتے ہیں اور بدلے میں آپ کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو دیتے ہیں ۔

یہ کیسا عالی شان سودا ہے؟ ایک ایسا عالی شان سودا کہ جس کے لیے ایک لاکھ پلس کی تنخواہ کی قربانی، قربانی نہیں لگتی۔ ایسے لگتا ہے کہ جیسے یہ ہنزہ کے بچے ہیں جنہوں نے ہمیں وقت دے کر ہم پر احسان کیا ہے۔

ہماری بہن ماروی سومرو بھی ہنزہ کے بچوں کے احسانات کے نیچے دبنے گئی ہیں۔ ہنزہ کریم آباد وغیرہ میں پڑھانے سے آپ جدید سہولیات سے دور نہیں ہوتے۔ لیکن ماروی سومرو تو ایک ایسی جگہ مسگر میں پڑھا رہیں ہیں جو بارٹر سسٹم کے حوالے سے دنیا کا آخری خطہ شمار ہوتا ہے۔ جہاں اونچے گھوڑوں پر قد آور کرغز بلند پہاڑوں سے اتر کر مقامیوں کو پنیر اور یاک دیتے تھے اور یہاں سے مسالے لے کر جاتے تھے۔ ہنزہ میں قیام کا ایک اضافی فائدہ ماروی بہں کو یہ ہو گا کہ دن رات کا کوئی پہر ہو، وہ اپنے کمرے مین ہوں یا کسی اندھیری پہاڑی  کی چوٹی سے نیچے وادی میں اتر رہی ہوں، گھنے جنگل سے گزر رہی ہوں یا گلی کے ہجوم میں موجود ہوں، انہین ہر جگہ اور ہر وقت ایسے تحفظ کا احساس ملے گا گویا وہ سطح سمندر سے کئی ہزار فٹ بلندی پر ہنزہ وادی میں نہیں بلکہ سندھ دھرتی کی آغوش میں اور اپنے ماں باپ کے آنگن میں چل پھر رہی ہیں۔

ماروی کا مسگر انتخاب ٗ اس پاگل پن کی انتہا کا مظہر ہے جو دنیا کو کسی صورت کوڑھیوں کے ہاتھ میں جاتا نہیں دیکھ سکتا!

ماروی اور مسگر ۔۔ دنیا کے سب سے خوش نصیب ہیں!

اعتراض کرنے والوں سے گذارش ہے کہ ماروی سومرو کی مخالفت کرتے ہوئے فی الفور اپنے علاقوں میں پڑھانا شروع کر دیں!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 98 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik