وسی بابا کا مولانا انعامی بانڈ، ماما قادر اور بمبئی والا حکیم


ہمارے دوست وسی بابا نے لکھا ہے کہ جن دنوں ان کی مالی حالت خراب تھی تو وہ طالب علمی کے زمانے کے ڈیرے پر گئے تھے۔ وہاں ان کے عملی دوست نے ایک پرانا بانڈ انہیں دیا اور ساتھ ہی ادھر بیٹھے ایک مولانا صاحب سے درخواست کی کہ دعا بھی کر دیں۔ مولانا صاحب قلندری بوٹی کے زیر اثر تھے۔ ’ انہوں نے سب سے ہاتھ اٹھانے کو کہا۔ ہم نے ہاتھ اٹھائے تو کہا خدایا اس خو میں درتہ آسانا کڑا ۔ یو بانڈ ئے وے باسا۔ اے خدا اب تو میں نے تمھارے لیے آسان کر دیا ایک بانڈ ہے۔ یہی نکال دو ہمارے دوست کا مسئلہ حل ہو جائے‘۔ اس سے وسی بابا نے ایک نتیجہ نکالا۔ لکھتے ہیں، ’ آپ کو یہ نہیں لگتا کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا؟ بات خدا کو گائیڈ کرنے تک آ گئی ہے۔ اپنی اوقات پہچانیں اور خدا کی راہنمائی بند کریں تاکہ کوئی سکھ کا سانس آئے‘۔ ایک نتیجہ وسی بابا نے کالم کے شروع میں نکلا جب ایک دوست قلندری بوٹی کے زیر اثر چھت سے نیچے گرا۔ لوگوں نے پوچھا کہ کیا ہوا تو اس نے کہا ’سہ خبر یو منگ خو پخپلہ اس راغلو۔ ہمیں کیا پتہ ہم تو خود ابھی پہنچے ہیں‘۔ اس پر وسی بابا پوچھتے ہیں، ’ آپ کو نہیں لگتا ہماری حکومت بھی ایسی ہی عملی ہے۔ جب کوئی پنگا ہوتا ہے حکومت ایسے ہی کپڑے جھاڑتے اٹھتی ہے ایسا سا ہی بیان دیتی ہے۔ کہ ہم تو خود ابھی پہنچے ہیں‘۔

برادرم وسی بابا تک آتے آتے ماما قادر یاد آ گئے۔ ایک دن کہنے لگے،’ او یارا ہمارا ادھر سینے کا الٹا طرف میں تھوڑا درد ہوتا ہے۔ ہمارا چرت خراب ہے کہ کدھری دل میں کوئی گڑبڑ نہ ہوئے‘۔ ماما کو تسلی دینے کی خاطر کہا کہ ماما پریشان نہ ہوا کریں، ویسے ہی درد ہو گا۔ ماما نے گھور کر دیکھا اور فرمانے لگے، ’ ہاں زوئے جب ہم کلٹی ہو جائے تو پھر تم پریشان ہوئے گا۔ اڑی نہیں کرو ہم کو دل والا ڈاکٹر کے پاس لے جاﺅ‘۔ چار و ناچار ماما کو ایک کارڈیک اسپیشلسٹ کے پاس لے کر گئے۔ ڈاکٹر نے ای سی جی کی۔ اس کے بعد ایکو کیا۔ اس کے بعد ایک پرچی پر کسی کلینک کا نام لکھ کر دیا کہ یہاں سے ای ٹی ٹی کروا کر لے آئیں۔ ای سی جی اور ایکو تک تو ماما خاموش تھے مگرکہیں اور سے ایک اور ٹیسٹ بھی کرنا ہے یہ خیال ماما کو کچھ اچھا نہیں لگا۔ ڈاکٹر سے کہنے لگے، ’ منڑا ڈاکٹر صاحب! ایسا ہلکا سا درد ہے۔ ہمارا خیال ہے یہ ٹی ٹی کا ضرورت نہیں ہے‘۔ بدقسمتی کہہ لیں کہ کوئٹہ میں پرائیوٹ کلینک میں بیٹھے ڈاکٹر مریضوں کے ساتھ اٹھائیس گریڈ کے بابو والا رویہ رکھتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ بلوچستان میں کوئٹہ کے علاوہ کسی شہر میں اسپیشلسٹ ڈاکٹر دستیاب نہیں ہیں اور کوئٹہ میں بھی ہر شعبہ میں اسپیشلسٹ کی تعداد محدود ہے۔ اس لئے ڈاکٹر فیس بھی من چاہا لیتے ہیں۔ دوا بھی بے حساب دیتے ہیں اور مریضوں کے ساتھ رویہ بھی ہتک آمیز رکھتے ہیں (اکثر و بیشتر)۔ قصہ مختصر ڈاکٹر صاحب ماما پر بگڑ گئے۔ کہنے لگے، ڈاکٹر آپ ہیں یا میں؟ ماما نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا، ڈاکٹر تو آپ ہیں مگر بیمار تو ہم ہے۔ بات طول پکڑتی گئی۔ اس جنگ میں آخری جملہ ماما کا تھا جس کے بعد ہمیں باقاعدہ کلینک سے دھکے دے کر نکالا گیا۔ ماما نے ڈاکٹر صاحب سے کہا، ’ تم ڈاکٹر تو ہے مگر ہمارا دادا جیسا۔ پتہ متہ تم کو بھی نہیں ہے کہ دوائی کدھر سے ڈالل کرے‘۔

اسی بارے میں: ۔  ایک لزبیئن خط ۔۔۔ اردو کا خط انگریزی کے نام

کافی دن بعد جب ماما کی طبیعت سنبھل گئی تو ماما سے پوچھا کہ ماما یہ دادا کا قصہ کیا تھا؟ آگے ماما کی زبانی۔ ہمارا دادا ادھر علاقے میں بہت اچھا طبیب تھا۔ ایک دوست نے خطایستل(غلط مشورہ دینا) کیا اور اس کا بیخ نکال دیا(بیڑا غرق کرنا)۔ ہمارا دادا کو بولا کہ ہمارا ساتھ بمبئی ( آج کا ہندوستان) چلو ہم ادھر تم کو کسی شاہی مطب میں طبیب لگوا دیتا ہے۔ دادا نے بھی آسرا نہیں کیا اور سیدھا بمبئی چلا گیا۔ بہت عرصہ خوار و زار رہا پھر ادھر ایک اور دوست کی مدد سے غالباَ حیدر آباد میں ایک مطب کھول لیا۔

دادا کا بہت قصے ہیں۔ دادا بولا کہ پہلے دن ہمارا پاس ایک زنانہ ایک بچے کو لے کر آیا۔ بچے کا حالت خراب تھا۔ ادھر ادھر بھاگ رہا تھا۔ ہم نے زنانہ سے پوچھا اس کو کیا ہوا ہے؟ اس نے بولا ، صبح سے بے چین ہے۔ ادھر ادھر دوڑ رہا۔ ہم نے پوچھا مگر اس کو کیا ہوا ہے؟ زنانہ بولا ہم کو پورا معلوم نہیں ہے لیکن ہمارا شک ہے کہ اس نے گھاسلیٹ (مٹی کا تیل) پیا ہے۔ ہم نے دو بوتل سرخ والا مکسچر دیا اور زنانہ کو کہا کہ اس کو یہ دو بوتل پلاﺅ اور پھر اس کا گلے میں انگلی مارکر الٹی کراﺅ۔ زنانہ پہلے بولا کہ اگر اس نے دوائی نہیں پیا؟ پھر بولا اگر اس نے الٹی نہیں کیا؟ ہمارا دماغ گھوم گیا۔ ہم بولا بی بی اگر اس نے الٹی نہیں تو جب اس کا تیل ختم ہو جائے گا یہ خود بخود رک جائے گا۔

اس کے بعد ماما نے کہا اصل قصہ تو دوسرا ہے۔ دادا کے پاس ایک دن پرانا والا دوست آ گیا۔ کہنے لگا کہ راجا صاحب کا ہاتھی بیمار ہے اگر تم نے اس کا علاج کر دیا تو تم کو شاہی مطب میں جگہ مل سکتا ہے۔ دادا فوراَ ساتھ چلا گیا۔ دادا بولتا تھا کہ ہمارا خیال تھا کہ ہاتھی کسی منشی وغیرہ کا نام ہوئے گا۔ ادھر جا کر دیکھا تو ایک عجیب و غریب بڑا جانور تھا جس کو دیکھ کر ہمارا وار خطا ہو گیا(گھبرا گیا)۔ ہم کو بیماری کا تو فوراَ پتہ چل گیا کہ اس کا پیٹ بند ہے۔ پیٹ بندش کے لئے ہمارا پاس صدیوں پرانا نسخہ موجود تھا۔ ہم آٹے میں گڑ، دیسی گھی اور جمال گوٹہ ملا کر اس کا گولیاں بنا کر مریض کو دیتا ہے اور مریض ایک خوارک میں ٹھیک ہوتا ہے۔ ادھر دو مسئلے تھا۔ ہمارے پاس گولیاں تو موجود تھا مگر ہم کو یہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس گوشت کا پہاڑ کو کتنا گولیاں دیوے۔ اس کے لئے تو فٹبال جتنا گولی کا ضرورت تھا۔ دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ ہم کو یہ سمجھ نہیں آرہا ہے تھا کہ اس کو گولی پائپ جیسا ناک سے کھلانا ہے یا بڑے دانتوں کے درمیان والے تالاب میں گولی پھینکنا ہے؟ بس اسی وجہ سے اپنا زنبیل میں منہ ڈال کر چیزیں نکال رہا تھا اور واپس رکھ رہا تھا۔ اتنے میں راجا صاحب کا منشی بولا، طبیب صاحب! جلدی کرو ہمارا ہاتھی مر جائے گا۔ ہم ہمم ہمم کرتا رہا۔ جب تھوڑا اور وقت گزر گیا تو منشی کا طبیعت بگڑ گیا۔ بولا، تم طبیب بھی ہے یا ویسے ہی آ گیا؟ ہم بولا، منشی بھائی! طبیب تو ہم بہت کمال کا ہے لیکن ہم کو ولا کہ (قسم سے) یہ سمجھ آتا ہے کہ اس پہاڑ میں دارو کدھر سے ڈالل کرے؟

اسی بارے میں: ۔  حافظ حمد الله جیسے بے چارے مرد کہاں جائیں؟

وسی بابا کا کالم پڑھا تو ماما یاد آگئے۔ ماما کو کال ملائی۔ وسی بابا کا کالم سنایا۔ اس سے پہلے یہ بتا دیں کہ ماما حکومت کے لئے ہمیشہ چھوٹی سرکار کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ ہم کبھی پوچھ لیتے ہیں کہ ماما یہ چھوٹی سر کار سے کیا مراد ہے؟ تو ماما آنکھ مار کر کہتے ہیں، ’ تم تو ایسا بات کرتا ہے جیسا ابھی ابھی فرانس سے آیا ہے‘ ۔ ماما نے اپنا تبصرہ یوں کیا۔ اس بابے کو بولو کہ چھوٹی سرکار کا تو پہلے سال دو بعد تیل ختم ہوتا تھا۔ اب پانچ سال رواج ہوا ہے تو راجا صاحب کے منشی لوگ کو بیمار لگنے لگا ہے۔ ہم یہ نہیں بولتا کہ یہ بیمار نہیں ہے۔ اس میں بیماریاں بہت سارا ہیں۔ ابھی سال سے کم وقت باقی ہے۔ چھوٹی سرکار کا تیل ختم ہو جائے گا۔ پھر تم لوگ کوئی اچھا سرکار چن لینا۔ ہم بھی دیکھے کہ تم کدھر سے اچھا سرکار امپورٹ کرتا ہے۔ اور دوسرایہ جو تمہارا مولانا صاحب والا بات تم نے لکھا ہے، تو ہم بتا دیوے کہ یہ خدا کو گائیڈ کرنے والا معاملہ نہیں ہے۔ تمہارے مولانا کے ساتھ ایک مسئلہ ہو گیا۔ اس نے دین اور دنیا کو الگ الگ کر دیا ہے۔ دنیا کا علم سے منہ موڑ کر اب یہ دنیا کو گائیڈ کرنا چاہتا ہے۔ اس کو معلوم نہیں کہ آج کا انسان پوسٹ ماڈرن دور کا انسان ہے جس نے کائنات کو عملاَ تسخیر کر لیا ہے۔ تمہارا مولانا صاحب کے پاس پہلے تو اس کا دارو موجود نہیں ہے۔ اگر دارو موجود بھی ہو تو ہمارا دادا کی طرح تمہارا مولانا صاحب کو یہ پتہ نہیں چلتا کہ اس بلا کا منہ میں دارو کدھر سے ڈالل کرے؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 151 posts and counting.See all posts by zafarullah