وزیراعظم پر بھاری ہوتے وزیر بہادر


mujahid aliیاوش بخیر وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان جب بھی بات کرتے ہیں تو وہ پتھر پر لکیر کھینچ دیتے ہیں کہ ہے کوئی جو اس کہے کو تبدیل کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ وہ بولتے ہیں تو لگتا ہے کہ ملک کا اصل لیڈر بول رہا ہے جو جانتا ہے کہ کیا کہنا ہے، کس سے کہنا ہے اور کس طرح یہ واضح کرنا ہے کہ یہ حرف آخر ہے۔ ماضی میں بھی دشمنوں نے بہت چاہا کہ وزیراعظم کو باور کروا سکیں کہ چوہدری صاحب بہرصورت وزیر داخلہ ہیں یعنی ان کی کابینہ میں ایک رکن اور میاں نواز شریف خود سربراہ حکومت ہیں۔ لیکن میاں صاحب بھی جانتے ہیں کہ چوہدری نثار کو برداشت کرنے میں ہی ان کی بھلائی ہے۔ اسی لئے وہ ان کی کسی بات کا برا نہیں مناتے۔ بھلے وہ وزیر داخلہ ہوں لیکن یکساں اتھارٹی سے دفاعی یا خارجہ امور میں طبع آزمائی کرتے رہتے ہیں اور وزیراعظم لاڈ بھری نظروں سے انہیں دیکھتے رہتے ہیں۔ گویا کسی نوآموز کو تجربہ کرتے دیکھ کر باپ یا استاد خوش ہو رہا ہو۔ لیکن چوہدری صاحب کی باتیں بچگانہ مشاغل کا حصہ نہیں ہوتیں، وہ کسی اہم معاملہ میں ایسے وقت بولتے ہیں جب سب طبع آزمائی کر کے تھک چکے ہوتے ہیں۔ پھر سب ان کی سنتے ہیں اور سر دھنتے ہیں۔

ہفتہ ہونے کو آیا پورا ملک اس بات کا سراغ لگانے میں مگن ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے قومی احتساب بیورو کو جو وارننگ دی ہے، اس کے نتیجے میں اس ادارے کے ساتھ کیا سلوک ہو گا۔ سب مانتے ہیں کہ نیب ایک آئینی ادارہ ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی جانتے ہیں کہ جب ملک کا وزیراعظم …. جسے پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل ہو اور جو اپنی تجاویز منظور کروانے کے لئے دوسروں کا محتاج بھی نہ ہو اور جو ماضی میں کوئی آئینی ادارہ تو کجا فوج سے بھی سر ٹکرانے کا عملی مظاہرہ کر چکا ہو، یہ الگ بات کہ اس تصادم میں خود نواز شریف کا ہی سر پھوٹا اور منتخب وزیراعظم ہتھکڑی پوش ہو کر انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں پیشیاں بھگتتے پھرے …. تو جب ایسا وزیراعظم طے کر لے کہ اس نے نیب کو درست کرنا ہے تو کون ہے جو اس کا راستہ روک سکتا ہے۔ دیکھ لیجئے 5 روز بیتے گزر چکے ہیں۔ ملک کا کوئی اخبار یا میڈیا ایسا نہیں ہو گا جس نے اس بیان کے حوالے سے احتساب کی ضرورت اور نیب کی خود مختاری کے بارے میں بات نہ کی ہو لیکن نواز شریف جانتے تھے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ بالآخر نیب کو یہ تو کہنا ہی پڑا کہ وہ وزیراعظم کی پریشانی کو سمجھ سکتا ہے اور آئندہ ان کی ہدایات پر عمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اب دیکھئے ملک کا وزیراعظم ایک ایسے آئینی ادارے کی کارکردگی پر ایک جلسہ عام میں سوال اٹھاتا ہے جس کی پاس خود اس کے خلاف اور اس کے اہل خاندان کی بدعنوانی کے بارے میں ایسی شکایات موجود ہیں، جو فیصلہ طلب ہیں۔ پھر وہ یہ واضح کرتا ہے کہ یہ ادارہ جس طرح لوگوں کے گھروں میں جا کر انہیں ہراساں کرتا ہے اس سے کس طرح ملک کی ترقی کی رفتار متاثر ہو رہی ہے۔ اس دوٹوک اور بے باکانہ بیان کے بعد اپوزیشن جماعتیں اپنے اپنے طور پر خوش ہوتی ہیں کہ چلو بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے کا کام خود وزیراعظم ہی کر رہے ہیں اور کسی دوسرے کو اس معاملہ میں انگلی اٹھانے کی ضرورت نہیں پڑی۔ البتہ آصف علی زرداری نے جب وزیراعظم کے عتاب کا ” تنور“ گرم دیکھا تو انہوں نے قیاس کر لیا کہ نواز شریف نیب پر تو خفا ہیں ہی، لگے ہاتھوں ایف آئی اے کو نکیل ڈالنے کی روٹی بھی سینک لی جائے۔ تو انہوں نے بیان جاری کیا کہ درست ہے آپ کو نیب کی ناانصافی کا خیال آیا مگر یہ بھی دیکھئے کہ ایک دوسرا وفاقی ادارہ سندھ میں کیا گل کھلا رہا ہے۔ ڈاکٹر عاصم جیسے شریف النفس کو کرپشن کے الزام میں دھر لیا ہے اور اسے کسی ثبوت کے بغیر خوار کر رہے ہیں۔ اس کا بھی کچھ کیجئے۔

یعنی صاف لفظوں میں پیغام یہ تھا کہ منہ نہ کھلوائیے۔ ہم بھی جانتے ہیں کہ اب نیب کی نظر پنجاب کے معاملات پر ہے۔ وہاں مسلم لیگ (ن) کے چھتر چھایہ میں بعض لوگ جو گل کھلا رہے ہیں، نیب نے اب ان کی فائلیں تیار کر لی ہیں اور ان کے خلاف کارروائی ہوا ہی چاہتی ہے۔ بعض جفادریوں کی گرفتاریوں کا تو فیصلہ ہی ہو چکا ہے۔ اور یہ بھی دیکھ لیجئے کہ نیب ایک آئینی ادارہ ہے۔ آپ اس کا سربراہ مقرر تو کر سکتے ہیں لیکن اسے ہٹانے کا اختیار آپ کے پاس نہیں ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ آپ چاہتے ہیں کہ نیب بھی کسی نہ کسی طرح آپ کو جوابدہ ہو۔ تو اس مقصد کے لئے آپ کو اسمبلی میں آنا پڑے گا۔ اور اگر اس کام میں آئینی ترمیم کی ضرورت محسوس ہوئی تو وہ تو ہماری مدد کے بغیر ممکن نہ ہو گی۔ ہم ساتھ چلیں گے تب ہی قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت مل سکے گی ورنہ سینیٹ میں ہماری اکثریت ہے۔ وہاں ہم آپ کا راستہ روکنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ لیکن ہم تو مان رہے ہیں کہ نیب ہمارا مشترکہ دشمن ہے۔ لیکن اس دشمن کو گرانے میں فائدہ تو آپ کا ہی زیادہ ہے۔ چلیں تھوڑا ہمارا بھی ہو گا لیکن ہمارا بھی تو پورا فائدہ ہونا چاہئے۔ نیب کے ساتھ ایف آئی اے کو بھی نکیل ڈالیں تو ہماری ضرورت اور انتقام پورا ہو۔

کون ہے جو اس بیان کی اصابت سے انکار کر سکے۔ لیکن اسے درست تناظر میں سمجھنا اور پڑھنا ضروری ہو گا۔ یہی کام ہمارا نام نہاد آزاد میڈیا کرنا نہیں چاہتا۔ تو دیکھ لیں اسے بھی حکومت اور اپوزیشن کا مک مکا قرار دیا۔ کہا کہ دونوں کی دم نیب کے پاﺅ ں تلے آئی ہے۔ اس لئے بظاہر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے ہیں لیکن مشترکہ حریف کا مقابلہ کرنے کے لئے ہتھ جوڑی کر لیں گے۔ بد خواہوں نے تحریک انصاف کو بھی اس ملی بھگت میں شامل کرنے کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔ اور مثال لانے لگے کہ پرویز خٹک نے جس طرح صوبائی نیب کو کنٹرول کرنے کے لئے اقدام کیا ہے، اس سے خفا ہو کر تو وہاں کے سربراہ نے استعفیٰ بھی دے دیا ہے۔ پی ٹی آئی کو یہ داغ دھونے کے لئے لاہور ہائی کورٹ کا رخ کرنا پڑا جہاں ایک درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ دیکھیں کیسے وزیراعظم ایک خود مختار آئینی ادارے کی ہئیت تبدیل کرنے کے لئے اقدام کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ بلکہ معاملہ اب دھمکیوں تک کہاں محدود رہا۔ سینیٹر مشاہد اللہ نے واضح کر دیا ہے کہ اصلاح ضروری ہو تو حکومت کو قدم تو اٹھانا ہی پڑے گا۔ نیب اپنی حدوں سے گزر رہی ہے اس لئے اسے کنٹرول کرنے اور اس کی نگرانی کرنے کے لئے احتساب کمیشن بنایا جائے گا۔ یہ کمیشن نیب کے سارے معاملات کی نگرانی کرے گا۔ یوں اس ملک میں ناانصافی کا خاتمہ ہو سکے گا۔

لیجئے یہ سب تو ہو گیا۔ مگر اس دوران کسی کو یہ خیال نہیں آیا کہ وہ ملک کے بااختیار ، با خبر اور بااثر وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے مشورہ ہی کر لیتے۔ یہ کوئی باچا خان یونیورسٹی پر حملہ کا معاملہ تھوڑی تھا کہ چوہدری نثار خان صاحب موصوف منقار زیر پر رہتے۔ یہ تو ملک میں کرپشن کے خاتمہ اور ایک خود مختار ادارے کی اتھارٹی اور آزادی کا معاملہ تھا۔ یہ وزیراعظم کے بیان کی غلط تعبیر اور اس کی بنیاد پر اٹھائے جانے والے بے سود طوفان کا مقابلہ کرنے کا چیلنج تھا۔ اس لئے چوہدری نثار علی خان کو خود ہی میدان میں اترنا پڑا۔ اگر آپ نے منگل کے روز وزیراعظم کی طرف سے نیب کو دئیے گئے عام نوٹس کی تفصیلات کا مطالعہ نہیں کیا تو اب انہیں ضرور پڑھ لیجئے تا کہ وزیر داخلہ کے بیان کی حکمت اور قدر و منزلت کی پرتیں آپ پر وا ہو سکیں۔

انہوں نے فرمایا ہے کہ حکومت نہ تو نیب سے گھبراتی ہے اور نہ ہی اس سے ڈرتی ہے۔ اور یہ باتیں بھی غلط ہیں کہ حکومت قومی احتساب بیورو کے اختیارات کم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ لیجئے پیالی میں طوفان تو چوہدری نثار علی خان کے دو فقروں کی مار نکلا۔ مگر وہ جو وزیراعظم کہتے تھے کہ باز آ جاﺅ ورنہ قانونی کارروائی ہو گی۔ اگر اس بیان میں خوف نہیں تھا۔ دھمکی نہیں تھی۔ کچھ کرنے کا ارادہ نہیں تھا تو آخر وہ کیا تھا۔ اس کا جواب بھی چوہدری نثار علی خان نے عطا کر دیا ہے۔ فرمایا کہ وزیراعظم تو نیب کو بس یہ بتا رہے تھے کہ بعض افسر اور سرمایہ کار روتے دھوتے آ کر نیب کی شکایتیں کرتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب تھوڑی ہے کہ اس کے خلاف کارروائی کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔ وضاحت فرمائی کی نیب سابق حکمران جنرل (ر) پرویز مشرف نے قائم کیا۔ اس کی نواز دشمنی مسلمہ ہے۔ پیپلز پارٹی نے پانچ برس حکومت کی۔ مسلم لیگ (ن) اور اس کی قیادت کے بارے میں اس پارٹی کا عناد بھی سب پر واضح ہے۔ اب اگر پرویز مشرف کے آٹھ اور پیپلز پارٹی کے پانچ برسوں میں نیب شرییف فیملی اور اس کے ساتھیوں کا بال بیکا نہیں کر سکی تو اب تو ہماری حکومت ہے۔ اب ہم ایسا کیوں کر ہونے دیں گے۔ ہیں جی!

لیجئے یہ معاملہ تو طے ہو گیا۔ یوں لگتا ہے کہ بچہ گلی میں جا کر جھگڑا کرتا ہے اور مختلف گھروں سے اس کی حرکت پر لے دے ہوتی ہے۔ متنبہ کیا جاتا ہے کہ اس کو سنبھال کر رکھو ورنہ نتیجہ اچھا نہ ہو گا۔ پھر اس گھر کے (اور بچے کے) بزرگ (آپ والد بھی کہہ اور سمجھ سکتے ہیں) باہر نکلتے ہیں۔ محلے داروں کو تسلی دلاتے ہیں۔ وہ تو بچہ ہے۔ آپ کیوں ہوش کھونے لگے ہیں۔ اس نے دھمکی تھوڑی دی ہے۔ بس بتایا ہے کہ کچھ لوگ اسے تنگ کرتے ہیں۔ اب اتنی سی بات کا بتنگڑ بنانے کی کیا ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے نیب کے بارے میں بات کی ہے۔ کچھ معاملات کی نشاندہی کی۔ اور اس حوالے سے کچھ اشارے کئے۔ اب کابینہ کے ایک سپر وزیر نے وضاحت کی ہے کہ وزیراعظم کیوں نیب کے خلاف اقدام کریں گے۔ ہم نہ تو ڈرتے ہیں اور نہ ناراض ہیں۔ تو کوئی کارروائی کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ تمت باالخیر۔
تو یہ بھی طے ہوا کہ جب وزیراعظم بولیں تو غور سے سنو۔ دیکھو اور انتظار کرو۔ کیونکہ وزیراعظم کی بات کو سمجھنے کے لئے اس شرح کی ضرورت پڑتی ہے جو سپر وزیر کی جیب میں دھری ہے۔ وجہ اس کی سیانے جانتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ پس پردہ رہنے کی عادی قوت نے دہشت گردی اور کرپشن کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیب اس مقصد کو بخوبی پورا کر رہا ہے۔ اب وزیراعظم کے چاہنے سے کیا ہوتا ہے۔ یا نہیں ہوتا ہے۔ اس کا جواب دینا مشکل ہے۔ فی الحال تو آپ سپر وزیر کی باتیں سنیں۔ کوئی بات تو ہے کہ انہیں یہ عالی مرتب حیثیت حاصل ہے اور وہ بے خوف ، بے لحاظ اور بدکلام ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 413 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali