نرگس ماول والا پر بات مگر سائنس کہاں ہے ؟


tahir bhattiآئن سٹائن کی سائنسی فکری جست کو زمینی حقائق کی صف میں شمار کروانے کی حالیہ کوشش پر اردو مضامین پڑھنے کو ملے اور خیال کو کچھ مزید جہتوں میں جانے کی توفیق بھی ہوئی۔ بین الاقوامی میڈیا میں اس سائنسی دریافت کی کوریج اور ہمارے ذکر اذکار میں ایک بنیادی فرق دیکھنے میں آیا ہے۔

مغرب میں یا انگریزی میں شائع ہونے والی تحریریں اپنے مواد کے لحاظ سے اس تجربہ گاہ کے کام اور تھیوری کے معین اور مستند عملی ثبوت پر زیادہ مرکوز تھیں جب کہ شخصیات کا ذکر ثانوی لگ رہا تھا۔ اور تجربات کرنے والے افراد کے انفرادی عقائد اور سماجی رویے تو برائے نام بھی زیر گفتگو نہیں آئے۔ اور اردو مضامین اور کالموں میں نفس مضمون اور کام کی سائینسی اور علمی حیثیت تو برائے نام ہی تھی البتہ نرگس اور عمران کے علاقائی پس منظر اور ذوقی رجحانات کا علم ہوا اور اچھی طنازی کے ساتھ معاشرے کی گھٹن، اہل علم کی بے توقیری اور سائنس سے کیفیاتی سرد مہری خوب واضح کی گئی۔ اس کام کی اہمیت تسلیم لیکن اس سے عام آدمی تک وہ موضوع اہل قلم کے ذریعے اس حد تک نہیں پہنچ پایا جیسا ایسی دریافتوں اور تحقیقات کا حق ہوتا ہے۔

راقم نے اس سلسلے میں سائنس کے ایک مستند ماہرسے پوچھا تو اول تو موصوف نے بھی یہی لائن لی کہ جو ہو رہا ہے وہ پہلے سے بہتر ہے۔اور لوگوں اور اداروں میں بہتری کے آثار نمایاں ہیں۔ ان سے گفتگو کے حوالے پیش کرنے سے قبل میں ان کا تعارف اپنے قارئین سے کروا دوں۔

ڈاکٹر مقبول احمد فزکس کے پی ایچ ڈی ہیں اور ان کے مضامین فزکس کے بین الاقوامی ریسرچ پیپرز میں چھپتے ہیں۔ نسٹ اسلام آباد کے قیام میں ان کا قابل ذکر اور قابل قدر کام ہے اور عبدالسلام سنٹر اٹلی کے ایسوسی ایٹ رکن ہیں۔ اس وقت پاکستان میں دو بڑے اداروں میں فزکس پڑھا رہے ہیں اور یہ کہ فلسفہ ،تاریخ، مذہب اور ادب کا بھرپور ذوق و مطالعہ بھی رکھتے ہیں۔

لیکن تمہید میں جس شکایت سے بات کا آغاز کیا تھا اس کی طرف واپس لوٹتے ہوئے عرض ہے کہ ہم نے پاکستان میں ایسی فکری اور علمی گھٹن دیکھ رکھی ہے کہ اہل قلم کے طنز اور کاٹ دار تحریروں کی وجہ سمجھ میں آتی ہے۔ سائنس اور فلسفے کی معاشرتی بے توقیری اور اہل فکر و فن سے بے مروتی کے بعد معاشرے نرگس کو سائنسدان سے پہلے دیگر حوالوں ہی سے دیکھتے ہیں اور اس کے کام کو اپنی تنگ نظری ہی کی چادر پہناتے ہیں تاہم اس سے علوم کی ترویج پر کیا اثر پڑتا ہے مگر معاشرہ خود جمود تعفن اور گھٹن کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسی گھٹن پہ ہمارے ایک دوست رشید ندیمنے چار مصرعے کہے اور ترک وطن کے بعد کہے۔ وہ بھی 1990 میں کینڈا کے ہو لئے لیکن اپنا اظہار ان لفظوں میں کر گئے۔ کہ

برف کے پھول میراسرد مکاں آخر شب
قافلہ درد کا ٹھہرے گا کہاں آخر شب
بے کلی کروٹیں لیتی ہے میرے بستر پر
سیڑھیاں درد کی چڑھتی ہے یہ جاں آخر شب۔

اس گفتگو کے بعد ڈاکٹر مقبول احمد اس بات پر قائل ہوئے کہ”اس تحقیق کو آئن سٹائن کے نظریہ اضافت سے لے کر آج تک ہونے والی تحقیق، اس لیبارٹری کے کشش ثقل کی لہروں کو ثابت کرنے والے میکنزم اور اس حقیقت ثابتہ کے ہماری زندگیوں پر مستقبل میں اثرات پر سلسلہ مضامین شروع کرنا چاہئے۔”

اس سلسلے میں انھوں نے ڈاکٹر اصغر قادر صاحب سے رابطہ کرنے کا بھی کہا جو اس وقت نسٹ کے موقر سائنسی دماغ ہیں۔ راقم نے البتہ ‘ہم سب’ کے لئے ان کی قلمی معاونت کا وعدہ لیا ہے اور اس مضمون میں اپنے قلم کاروں کی رائے اور سرپرستی کا انتظار ہے۔ میری ذاتی رائے ہے کہ ہمیں اب گھٹن اور تاریکی کے علمبرداروں کو ذہن میں رکھ کر دفاعی تحریروں کے ساتھ ساتھ خالص علمی فکری فنی اور ذوقی پیش قدمی کر دینی چاہئے۔ کچھ لوگ ضرور لال مسجد اور نظریاتی کونسل ٹائپ چیزوں کو روک کر حفاظتی بند باندھ دیں اور کچھ اپنی نسلوں اور اپنے متوازن لوگوں کے علمی سرمائے کو بھی بڑھاتے رہیں۔ چومکھی تو ماضی کی بات ہے اس وقت تو شش جہاتی جدوجہد کا وقت ہے اور روائتی اخبار اور چینلز تو اب تیس سال پہلے کا پی ٹی وی بنے ہوئے ہیں مگر پاک ٹی ہاوس، ہم سب، اور سوشل میڈیا سانس لینے کا ماحول بنائے ہوئے ہیں۔ میرا ذاتی وجدان کہتا ہے کہ آواز میں آواز ملاتے چلے جانے سے مہلک سکوت ٹوٹ جائے گا اور جب بھی بھرپور اور خوشگوار صبح ہو تو ہمارے پاس فکری سرمائے کی کمی نہ ہو اور ہمارے لوگ ہر موضوع پر خود کفیل محسوس کریں۔ آخر پر خمار بارہ بنکوی کا ایک شعر یاد آگیا ہے اگر برمحل بھی لگے تو زہے نصیب!

ہے افق سے ایک سنگ آفتاب آنے کی دیر
ٹوٹ کر مانند آئینہ بکھر جائے گی رات


Comments

FB Login Required - comments