مالی بدعنوانی، رشوت اور کرپشن


usman suhailعثمان سہیل 

عنوان میں دئے گئے الفاظ ہماری سماجی گفتگو کے علاوہ سیاست، صحافت، نوکر شاہی اور قانونی حلقوں میں بھی گرما گرم موضوعات ہیں- حال ہی میں نامور ماڈل ایان علی نے موضوع کو ایک ناقابل اشاعت جہت بھی عطا کردی ہے۔شکریہ ایان۔ اس کیس کی بدولت یہ کم علم صفحہ ہستی پر موجود رنگوں کی نیرنگی سے آگاہ ہوا۔ صاحبو جنرل نالج بھی کوئی چیز ہے۔

تفنن برطرف گذ شتہ دنوں حکومتی سطح پر اس اطلاع کو نہایت اہمیت دی گئی کہ مالی بدعنوانی کے انڈکس میں پاکستان کا شمار اب 126 سے 117 ویں درجہ پر آگیا ہے اور اسے ایک کامیابی سے تعبیر کیا گیا۔ ہمیں یقین ہے کہ میرے اور بہت سے قارئین کے علاوہ انڈکس میں ترقی پر خوش ہونے والے بہت سے حکومتی عمائدین کو بھی معلوم نہ ہوگا کہ یہ انڈکس کیسے تشکیل دیا جاتا ہے۔ خیر یہ میری صریح بدگمانی بھی ہوسکتی ہے۔

بدعنوانی کے مندرجہ بالا اشاریہ کے علاوہ جی ڈی پی یا قومی پیدوار کی مالیت کی طرز پر کرپشن کی مالیت کے بارے میں سینکڑوں اور ہزاروں ارب روپوں پر مشتمل نت نئے تخمینہ جات بھی آئے روز پیش کیے جاتے ہیں جو اس قدر متنوع ہوتے ہیں کہ ناقص یاد داشت کے باعث یہاں نقل کرنے سے معذور ہوں۔ راقم یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ یہ تخمینے کس بنیاد پر ہوتے ہیں۔ آیا سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں تعینات صاحبان عہدہ اپنی حیثیت کے بل پر وصول کردہ رشوت اور سرکاری رقم کی خرد برد شدہ رقوم کو کسی ادارے کو رپورٹ کرتے ہیں جو ان رقومات کا اندراج اپنے رجسٹر یا کمپیوٹر پر کرتے اور حاصل جمع مختلف سیاستدانوں، صحافیوں اور ماہرین معیشت کو جاری کردیتے ہیں تاکہ وہ اپنے بیانات اور تجزیوں کے لیے استعمال میں لاویں اور عوام کے مبلغ علم میں اصافہ کرسکیں۔ اس ضمن میں خان صاحب پر شبہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنا سیاسی بغض نکالنے کے لئے ان رقومات میں اپنے خرد برد شدہ ووٹ بھی جمع کردیتے ہوں گے۔
چنانچہ راقم کو تجسس ہوا کہ آخر ٹرانسپیرینسی انٹرنیشنل یعنی بین الاقوامی ادارہ شفافیت کی درجہ بندی کس بنیاد پر ہوتی ہے۔ چنانچہ اس ضمن میں ایک چھوٹی سی تحقیق سرزد ہوئی ہے جس میں قارئین کو بھی شریک کیا جاتا ہے۔

ادارہ کی کرپشن پر کی گئی درجہ بندی کو Corruption Perception Index CPI کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ایک دوست نے اس کے لیے اردو میں فہرست برائے مفروضہ بدعنوانی کی اصطلاح بھی تجویز کی ہے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یہ درجہ بندی اس بنیاد پر ہے کہ اس ملک کے پبلک سیکٹر یعنی عوامی خدمات کے شعبہ میں بدعنوانی کے بارے کیا خیال کیا جاتا ہے۔ بطور احتیاط اسے مشاہداتی رائے بھی کہا جاسکتا ہے۔ (زبان دان اصحاب سے رہنمائی کی درخواست ہے) اس سلسلے میں اوپر ذکر کیا گیا ادارہ اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ کرپشن کے حقیقی اعداد و شمار کو جمع کرنے کیلئے کوئی بامعنی طریقہ کار وضع کرنا اور عمل میں لانا ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ ادارہ کا کہنا ہے کہ بدعنوانی یا رشوت کے منظر عام میں آنے والے واقعات یا اس سلسلے میں عدالتوں میں پیش ہونے والے مقدمات سے مالی بدعنوانی کے تفتیش کاروں اورعدالتی نظام کی کامیابی نیز میڈیا کی ایسے معاملات کو منظر عام پر لانے کی صلاحیت کا اظہار تو ہوتا ہے تاہم اس سے بدعنوانی و رشورت ستانی کے حقیقی اعداد و شمار کا اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے۔ اس سلسلے میں حتمی اعداد و شمار کی عدم دستیابی کے باعث یہ ادارہ یہ جاننے کے لئے کہ پبلک سیکٹر میں بدعنوانی کے بارے میں مجموعی خیال یا آراءکیا ہیں کچھ تشخیصی ہتھکنڈوں (assessment techniques) اور سرویز پر انحصار کرتا ہے۔ اس سلسلے میں ادارہ کی مختلف ممالک میں مقامی شاخیں بھی موجود ہیں۔ سال 2015 کی رپورٹ کے لئے ادارہ نے مندرجہ ذیل اداروں کی رپورٹس پر انحصار کیا ہے

1 African Development Bank Governance Ratings 2014 2. Bertelsmann Foundation Sustainable Governance Indicators 2015 3. Bertelsmann Foundation Transformation Index 2016 4. Economist Intelligence Unit Country Risk Ratings 2015 5. Freedom House Nations in Transit 2015 6. Global Insight Country Risk Ratings 2014 7. IMD World Competitiveness Yearbook 2015 8. Political and Economic Risk Consultancy Asian Intelligence 2015 9. Political Risk Services International Country Risk Guide 2015 10. World Bank – Country Policy and Institutional Assessment 2014 11. World Economic Forum Executive Opinion Survey (EOS) 2015 12. World Justice Project Rule of Law Index 2015

عام چلن کے مطایق یہ سرویز مختلف سوالناموں پر مشتمل ہوتے ہیں جن کے جوابات پر شماریات کے علم کو روبہ عمل لایا جاتا اور نتائج اخذ کیے جاتے ہیں۔ یہ سوال نامے کن سوالات پر مشتمل تھے، کن افراد سے کیے گئے، انہوں نے کس مبلغ علم کی بنیاد پر اور کتنی ایمان داری سے پر کیے وغیرہ جیسی وجوہات کی بنا پر یہ سراسر موضوعی معاملہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ سروے سے ایک ذاتی تجربہ یاد آیا جو یہاں بیان کرنا ضروری خیال کرتا ہوں۔ ایک صنعتی ادارہ جہاں ہم نئے نئے نوکر ہوئے تھے وہاں وفاقی ادارہ شماریات کا پیدوار سے متعقلہ ایک سوالنامہ موصول ہوا جس کا مقصد قومی پیدوار کے بارے اعداد وشمار اکٹھا کرنا تھا۔ ناکافی معلومات کی بنیاد پرایک جونیئراہلکار نے یہ سوالنامہ پر کیا، اعداد و شمار کی کوئی جانچ پڑتال نہ کی گئی اور ایک اعلٰی عہدے دار نے مندرجات پڑھے بغیر ہی اس پر دستخط ثبت کردئیے۔ اس عمل کو عرف عام میں فاختہ (گھگی ) بنانا کہا جاتا ہے۔ اس تناظر میں وفاقی ادارہ شماریات کے جائزوں کی درستگی کے متعلق آپ خود کچھ بھی سوچنے میں آزاد ہیں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ کرپشن کی مالیت کے اعداد و شمار کا ہے چنانچہ ناچیز کی رائے میں بدعنوانی سے متعلقہ اشاریہ جات و تخمینہ جات کو تجریدی شماریات سے تعبیر کیا جانا کچھ غلط نہ ہوگا۔

مضمون کے اختتام پر ایک اور عرض کرتا چلوں کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی یہ کوشش محض پبلک سیکٹر میں ہونے والی بدعنوانی کا احاطہ کرتی ہے اس میں نج کے کاروباری اداروں کے باہمی لین دین میں ہونے والی افزوں تر مالی وجنسی کرپشن شامل نہیں ہے۔ مشتاق احمد یوسفی صاحب نے اپنی تصنیف زرگزشت میں ایک صاحب نظر کا مقولہ نقل کیا ہے جس کے مطابق کاروبار میں روپے کے ساتھ جنس کا بھی انویسٹمنٹ کردیا جائے تو فیکڑیاں ملیں ہر سال انڈے بچے دینے لگتی ہیں۔ استغفراللہ!


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “مالی بدعنوانی، رشوت اور کرپشن

  • 24-02-2016 at 3:32 pm
    Permalink

    اس طرح کے اعدادوشمار کو مخالف وحی سمجھ کر عام کرتے ہیں اور عوام سو فیصد مشینی سچ جانتے ہیں۔ آپ نے اس پراسیس کی نشاندہی کر کے ان معاملات کی حقیقی تصویر پیش کی ہے۔

Comments are closed.