عوام اور کرپشن


siftain_khan آج کل ملک میں احتساب کا دور دورہ ہے۔ ایسے میں جب بھی اشرافیہ کی بدترین بدعنوانی پر اعتراض کیا جائے تو جوابی دلیل کے طور پر ہمارے ہاں ایک جملہ بہت زبان زد عام ہے۔ یہاں تو آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔ ہر کوئی کرپٹ ہے۔ عام آدمی کو بھی جہاں موقع ملتا ہے بے ایمانی کرتا ہے۔ دھوکہ دیتا ہے۔ اس بات میں صداقت ہے مگر کوئی اس کی تہہ میں نہیں اترتا کہ ایسا کیوں ہے۔ وہ کیا عوامل ہیں جن کی بدولت ہماری سوسائٹی میں بدعنوانی اتنی سرایت کر گئی ہے۔ اگر عوام اتنے ہی بے ایمان ہیں تو آج سے تین چار عشرے پہلے تک کیوں ایسی صورت حال نہ تھی۔ کیا عوام کے جینیاتی ڈھانچہ میں فرق آگیا ہے۔ عوام اور خواص کی بدعنوانی میں بہت فرق ہے ۔ عام بندہ مجبوری میں کرپشن کرتا ہے جب کہ خاص بد فطرتی کے طور پر ۔ عام کی کرپشن عدم تحفظ کا اظہار ہے جب کہ خاص کی عادت کا نمونہ۔ عام ضروریات پوری کرتا ہے جب کہ خاص ہوس۔ عام ڈرتے ہوئے کرتا ہے جب کہ خاص نڈر ہو کر۔ عام محدود پیمانے پر کرتا ہے جب کہ خاص کی کوئی حد نہیں۔ عام کی بے ایمانی چند لوگوں کو متاثر کرتی ہے جب کہ خاص پورے معاشرے کو آلودہ کرتا ہے ۔ خاص کی وجہ سے اقدار متعین ہوتے ہیں اور عوام صرف ان اقدار کی پیروی کرتے ہیں۔ عام کو پکڑنا آسان لیکن خاص کو لگام دینا مشکل ہے۔ اس سے کوئی یہ نہ سجھے کہ میں عام آدمی کی بدعنوانی کی ترغیب دے رہا ہوں بلکہ چیزوں کو اس کے اصل تناظر میں دیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

اس بدعنوانی کو ختم کرنے کا طریقہ بھی لہٰذا اوپر سے شروع ہو گا۔ عام آدمی کی کرپشن کے قصے سنا سنا کر نہیں۔ قانون کی عملداری جب تک اشرافیہ کو اپنی گرفت میں نہیں لے گی تب تک عام آدمی بھی اس کو اہمیت نہیں دے گا۔ صرف ایک مثال کافی ہے۔ ہمارے معاشرے کا سب سے ان پڑھ اور قانون کو خاطرمیں نہ لانے والا طبقہ بھی جب موٹر وے پر چڑھتا ہے تو تہذیب یافتہ ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ اس کو یقین ہے کہ یہاں امیروغریب سب گرفت میں آتے ہیں۔ یہ قوم اتنی بھی بری نہیں جتنا اس کو پیش کیا جاتا ہے۔ بس اس کا اداروں پر اعتماد بحال کرنے کی دیر ہے۔ یہ آپ کو مایوس نہیں کرے گی۔

یہ تنازع کہ معاشرہ کی اصلاح میں سیاست و ریاست اور فرد میں سے کس کو موضوع بنایا جائے ہمارے مذھبی اور دعوتی علم کلام میں بھی ہمیشہ سے ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ دونوں طرف انتہائیں وجود میں آئی ہیں۔ ایک کا مظہر جماعت اسلامی ہے اور دوسرے کا تبلیغی جماعت۔ اہم فرد ہی ہے مگر اس پر اجتماعیت کے اثرات کو نظر انداز یا کم اہم سمجھنا خود فرد کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ فرد کی اصلاح میں آج کی منظم ریاست کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ریاست کی گرفت فرد پر اداروں کے ذریعے پہلے سے کئی گنا ہو چکی ہے۔ حکومت پر قابض افراد ہی عام فرد کی زندگی پر سب سے زیادہ اثرانداز ہوتے ہیں۔ عام شخص اتنا ہی ایمان دار اور صالح ہوتا ہے جتنا ریاست کا جبراس کو اجازت دیتا ہے۔ اسی بات کو اس مشہور حدیث میں بیان کیا گیا ہے جس میں سود کے اثرات کا ذکر ہے ہر شخص پر۔ سیاست، فرد اور معاشرت میں توازن قائم کرنا ہی اصل شے ہے اور یہی مفقود ہے۔


Comments

FB Login Required - comments