پاکستان کی نیب زدہ سیاست


rana شاعر انقلاب مرحوم حبیب جالب نے کہا تھا !

 کہاں قاتل بدلتے ہیں فقط چہرے بدلتے ہیں

عجب اپنا سفر ہے فاصلے بھی ساتھ چلتے ہیں

پاکستان کے سیاست دان نہ جانے کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں نہ تو یہ کرپشن سے باز آتے ہیں نہ یہ کمبخت مخلوق احتساب سے خائف ہے، حضرت خمار بارہ بنکوی کا یہ مصرع یقینا کسی اور کیفیت کا ترجمان ہے لیکن یہاں اس سے استفادہ کرنے کی کوشش بے جا نہ ہوگی،

نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے

دیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہے

69برسوں پر محیط یہ داستان احتساب بس ایک ہی مخلوق کو مشق ستم بناے ہوئے ہے۔

 ہم نے کبھی نہیں کہا کہ سیاست دان کوئی پاک صاف آسمانی مخلوق کا نام ہے۔ ان کا احتساب کیجیے۔ اس قسم کا احتساب کہ اس میں انصاف بھی نظر آئے۔ خدائی فوجدار نہ بنیں۔ سیاست دانوں کے علاوہ بھی کچھ پاکیزہ و مستور عناصر ہیں جن کو ہم نے مقدس گائے کے درجے پر فائز کر رکھا ہے۔ ان کی نقاب کشائی بھی کیجیے۔ صاحب کیا احتساب سے کسی کو استثنیٰ حاصل ہے؟ لیکن یہاں اس سرزمین پاکستان میں چند طبقات کو یہ استثنیٰ حاصل ہے خواہ ان کی غلطیاں ہمالیہ سے بھی بلند ہوں۔

آپ کے اسی دوہرے میعار نے آپ کے نیب کو صرف اور صرف سیاسی انتقام لینے کا مہرہ بنا کے رکھ دیا ہے اور اس کی کوئی وقعت اور حیثیت نہیں رہی۔ سب سے پہلے فاروق لغاری اور پھر نواز شریف نے اس ادارے کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا۔ سیف الرحمن نے پیپلز پارٹی کی قیادت پر عرصہ حیات تنگ کیے رکھا۔ محترم آصف علی زرداری دس سال سے زیادہ عرصہ پابند سلاسل رہے جو کہ ہماری تاریخ کا کوئی قابل رشک باب نہیں ہے۔

مشرّف صاحب نے احتساب کی اعلی روایات کو برقرار رکھا جب آپ نے گجرات کے چودھریوں اور پیپلز پارٹی کے اندر فارورڈ بلاک بناکے فیصل صالح حیات ، رانا نوریز شکور، اللہ یار ہراج اور راؤ  سکندر اقبال جیسے لوگوں کو سیاسی وفاداریاں بدلنے کے عوض ان کی تمام بدعنوانیوں سے صاف قرار دے دیا۔

 اب پھر سے احتساب کا منہ زور گھوڑا قابو سے باہر ہورہا ہے۔ پیپلز پارٹی جو کہ سب سے زیادہ اس کالے قانون کا شکار ہوئی اس نے تمام تر اختلافات کے باوجود احتساب کے قانون میں بہتری لانے کی کوشش کی تھی لیکن مسلم لیگ نون کی قیادت نے اس پر وقتی سیاسی مفاد کو ترجیح دی اور آج جب ہاتھ ان کے گریبان تک پہنچا تو شور مچا رہے ہیں۔ میں احتساب کے کالے قانون کا سب سے زیادہ ذمہ دار خود ان ہی سیاست دانوں کو سمجھتا ہوں،

عمران خان کو ہی دیکھ لیں جب احتساب کی زد میں پرویز خٹک اور کچھ دوسرے وزرا کے آنے کا خطرہ پیدا ہوا تو فی الفور احتساب ایکٹ ہی تبدیل کردیا حالانکہ موصوف دن رات اپنے ہی و ضع کردہ احتساب کے طریقہ کارپر رطب السان تھے اور بڑے فخر سے اس کارنامے کا ڈھنڈورا پیٹ رہے تھے، اب کل سے وہ پھر حسب عادت اپنی ہی کی ہوئی ترامیم پر دوبارہ غور کے لیے کمیٹی بنا رہے ہیں۔ غور کریں اس ملک کے ان نام نہاد رہنماو ¿ں پر جن کی سیاست کا محور صرف اور صرف ان کا ذاتی مفاد ہوتا ہے، ان کی سیاست کبھی اصولوں پر مبنی نہیں ہوتی۔ انصاف کے نام پر پارٹی کا نام رکھ کر اپنی ہی پارٹی میں جو شخص انصاف اور میرٹ کی دھجیاں اڑا دے ، وہ اور کسی کو انصاف کیسے دے سکے گا؟

قومی احتساب بیورو کا نام تبدیل کرکے اب اس کو قومی بھتہ خور ایجنسی کا نام دے دینا چاہیے کیونکہ آج تک سوائے سیاسی انتقام کے اس ادارے نے کوئی قومی خدمت سر انجام نہیں دی، کیا تماشہ ہے کہ احتساب وہ کررہے ہیں جن کے پاس اس کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے اور وو خود کسی کو جواب دہ نہیں ہیں، اس مذاق کو اب بند ہونا چاہیے پاکستان کے وہ سب ادارے جو قومی خزانے سے مستفیض ہوتے ہیں سب کا احتساب ہونا چاہیے نہ صرف سیاست دان بلکہ جرنیلوں اور ججوں کا بھی۔ میڈیا میں شامل کالی بھیڑوں سمیت سب کا بلا امتیاز کڑا احتساب ہونا چاہیے۔

جب ہم نواز شریف کی دولت اور آصف زرداری کے غیر ممالک میں اثاثوں کی بات کرتے ہیں ہمیں ضرور ان سے اس کا حساب مانگنا چاہیے لیکن ضیا الحق ، اختر عبدالرحمن ،مشرّف ، حمید گل اور جنرل کیانی کے خاندانوں کے اثاثہ جات کا بھی ذکر کرنا چاہیے۔ احتساب صرف ان کو ہی زیب دیتا ہے جن کا اپنا دامن پاک ہو۔

ملک میں دہشت گردی کا عفریت دندناتا پھر رہا ہے وقتی طور پر کچھ کمی ضرور ہوئی ہے لیکن بہت سال لگیں گے اگر اسی جذبے اور جانفشانی کے ساتھ تمام ادارے مکمل یکسوئی سے اس کا مقابلہ کریں گے اور پوری قوم ان کی پشت پر ہوگی۔ لہٰذا قومی اتفاق رائے کے ساتھ اسکا قلع قمع کرنا ہو گا۔ جہاں تک احتساب کا معاملہ ہے پاکستان کے عوام سے بہتر کوئی اور محتسب کیسے ہوسکتا ہے۔ دیکھ لیں پیپلز پارٹی صرف سندھ تک محدود ہو کررہ گئی ہے، اگر سیاست دان اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو سب کا حشر ایسا ہی ہوگا۔


Comments

FB Login Required - comments

رانا امتیاز احمد خان

رانا امتیاز احمد خاں جاپان کے ایک کاروباری ادارے کے متحدہ عرب امارات میں سربراہ ہیں۔ 1985 سے کاروباری مصروفیات کی وجہ سے جاپان اور کیلے فورنیا میں مقیم رہے ہیں۔ تاہم بحر پیمائی۔ صحرا نوردی اور کوچہ گردی کی ہنگامہ خیز مصروفیات کے باوجود انہوں نے اردو ادب، شاعری اور موسیقی کے ساتھ تعلق برقرار رکھا ہے۔ انہیں معیشت، بین الاقوامی تعلقات اور تازہ ترین حالات پر قلم اٹھانا مرغوب ہے

rana-imtiaz-khan has 21 posts and counting.See all posts by rana-imtiaz-khan