پٹھان کوٹ حملہ کیس: پاکستانی ٹیم کے جانے پر بھارت رضامند


pathanوفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ہندوستان نے پٹھان کوٹ واقعے کی تحقیقات کے لیے پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کے وہاں جانے کی حامی بھرلی ہے۔یاد رہے کہ ہندوستان نے الزام عائد کیا تھا کہ گزشتہ ماہ پیش آنے والے پٹھان کوٹ واقعے میں پاکستان کے چند دہشت گرد گروپس اور لوگ ملوث ہیں۔
اسلام آباد کے پنجاب ہاو¿س میں پریس کانفرنس کے دوران چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کے دورے کے لیے ہندوستان نے جو واحد شرط لگائی ہے، وہ یہ ہے کہ ہندوستانی حکام کو تحقیقاتی ٹیم کے دورے سے کم از کم 5 روز قبل آگاہ کیا جائے۔انہوں نے یہ بات پٹھان کوٹ واقعے کی گوجرانوالہ میں درج ہونے والی ایف آئی آر کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہی.
چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ ہماری خصوصی تحقیقاتی ٹیم آئندہ چند روز میں ہندوستان جائے گی، ہندوستانی حکام کو اس حوالے سے وزات خارجہ کی جانب سے خط لکھ دیا گیا ہے جس پر ہندوستان نے رضامندی ظاہر کی ہے۔
تاہم انہوں نے اس بات کا جواب نہیں دیا کہ آیا ہندوستان نے تحقیقاتی ٹیم کے پٹھان کوٹ ایئربیس میں داخلے کی اجازت دی ہے یا نہیں، کیونکہ رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ہندوستان پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کو ایئربیس میں داخلے کی اجازت نہیں دے گا۔
پٹھان کوٹ حملے کی ایف آئی آر گوجرانوالہ میں درج ہونے کے حوالے سے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ واقعے کی تحقیقات اور ہندوستان کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات کی تصدیق کے لیے قانونی طور پر ایف آئی آر کا اندراج ضروری تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایئربیس حملے کے حملہ آوروں کے درمیان رابطے کے لیے مبینہ طور پر استعمال ہونے والے ٹیلی فون نمبرز سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے بھی آیف آئی آر کا اندراج ضروری تھا اور انہیں ایف آئی آر کا بھی حصہ بنایا گیا ہے۔
چوہدری نثار نے یاد دلایا کہ 2008 میں ممبئی حملے کی ایف آئی آر بھی پاکستان میں درج کی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ پٹھان کوٹ واقعے کی تحقیقات کے دوران چند گرفتاریاں بھی کی گئیں ہیں، لیکن گرفتار افراد کا ا±ن ٹیلی فون نمبرز یا مبینہ حملہ آوروں سے تعلق قائم کرنے کے لیے مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے گرفتار افراد کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ حساس معاملہ ہے اور اس حوالے سے میڈیا کو بھی قیاس آرائیاں کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔


Comments

FB Login Required - comments