شام میں خودکش بم دھماکوں میں 150 سے زائد افراد ہلاک


\"sham\"شام کے دارالحکومت دمشق اور حمص میں یکے بعد دیگرے خودکش بم دھماکوں میں 150 سے زائد افراد ہلاک اور 170 سے زائد ہوگئے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ نے انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والے شامی مبصر گروپ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دمشق کے قریب کار بم دھماکے کے بعد یکے بعد دیگرے حضرت زینب کے مزار کے قریب دو خودکش حملوں میں 96 افراد ہلاک ہوئے۔شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی \’ثنا\’ نے پولیس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خود کش حملوں اور بم دھماکے میں بچوں سمیت 178 افراد زخمی بھی ہوئے۔واضح رہے کہ اسی علاقے میں گزشتہ ماہ ہونے والے حملے میں بھی 70 افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس حملے کی ذمہ داری بھی داعش نے قبول کی تھی۔
مبصر گروپ کا کہنا تھا کہ حمص شہر کے ضلع الزہارا میں بھی دو کار بم دھماکوں کے نتیجے میں 59 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔واضح رہے کہ داعش کی جانب سے الزہارا میں حالیہ دنوں میں تواتر سے حملے کیے جارہے ہیں۔
داعش نے اپنی ویب سائٹ پر دارالحکومت اور حمص میں حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس کے دو خودکش بمباروں نے سیدہ زینب کے مزار کے قریب خود کو دھماکوں سے اڑایا، جبکہ دو نے حمص میں کار بم دھماکے کیے۔شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی سفیر اسٹافن دی مستورا نے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے حملوں کو جنگ بندی کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا عالمی طاقتوں نے شام میں جنگ بندی کا فیصلہ اسی لیے کیا تاکہ معصوم لوگوں کی جان بچائی جاسکے۔
یاد رہے کہ دس روز قبل عالمی طاقتوں نے شام میں گزشتہ 5 سال سے جاری خانہ جنگی کو ایک ہفتے کے اندر روکنے پر رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے انسانی امداد کی فراہمی بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔
جرمنی کے شہر میونخ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف اور شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی سفیر اسٹافن دی مِستورا کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بتایا تھا کہ 17 ملکوں نے ایک ہفتے کے اندر اندر شام میں جنگ بندی پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔
تاہم انھوں نے واضح کیا تھا کہ اس جنگ بندی کا اطلاق شدت پسند گروپوں دولتِ اسلامیہ (داعش) اور النصرہ فرنٹ پر نہیں ہوگا۔
دوسری جانب عالمی امدادی ادارے انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کے مطابق حلب میں جاری لڑائی کے باعث 50 ہزار کے قریب لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔