مہاجرین کا کیمپ جلائے جانے پر جرمن شہریوں کا جشن


adnan Kakar

کل اکیس فروری بروز اتوار کو جرمنی کے علاقے سیکسنی میں ایک ایسی عمارت میں آگ بھڑک اٹھی جو کہ شامی مہاجرین کی رہائش کے لئے تیار کی جا رہی تھی۔ یہ عمارت باتزن شہر کا ایک ہوٹل تھی جسے پناہ گزینوں کی رہائش کے لئے تعمیر و مرمت کیا جا رہا تھا۔ یاد رہے کہ سیکسنی کا علاقہ، مہاجرین مخالف جرمن گروپ پیگڈا کا گڑھ ہے۔ جلتی ہوئی عمارت کے سامنے مظاہرین جشن مناتے رہے اور خوشی کا اظہار کرتے رہے۔ وہ تالیاں بجا رہے تھے اور خوشی کے مارے نازیبا نعرے لگا رہے تھے۔

تین افراد کو اس جگہ سے بزور ہٹا دیا گیا کیونکہ وہ آگ بجھانے کے عمل میں رکاوٹ پیدا کر رہے تھے۔ سراغ رسانوں کو موقعہ واردات پر آتش گیر مادے کے آثار ملے ہیں اور انہیں یہ یقین ہے کہ یہ آتش زنی کی کارروائی ہے۔

گزشتہ جمعے کو سیکسنی کے ایک گاؤں کلاسنٹز میں مقامی لوگوں نے مہاجرین سے بھری ایک بس کو روک لیا تھا اور نعرے لگاتے رہے تھے کہ ’ہم ہی یہاں کے لوگ ہیں‘ اور ’واپس جاؤ‘۔ سیکسنی کے گورنر سٹانیسلا ٹیلچ نے ان دو واقعات کو ناقابل یقین اور باعث صدمہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کرنے والے افراد CbvL9q1XIAEY6t4مجرم ہیں۔ انہوں نے اس عمل کو قابل نفرت اور گھناؤِنا قرار دیتے ہوئے ایسا کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا عزم کیا۔

گزشتہ سال شامی بچے ایلان کردی کی لاش کی تصویر منظر عام پر آنے کے بعد جرمنی کی چانسلر اینجیلا میرکل نے مہاجرین کا کھلے بازوؤں سے استقبال کرنے کا اعلان کیا تھا اور انہوں نے دوسرے یورپی ملکوں پر بھی زور ڈالا تھا کہ وہ مہاجرین کو قبول کریں۔ انہوں نے جرمنی میں ہی لاکھوں مہاجرین کو پناہ دینے کا اعلان کیا تھا۔ جرمنی میں 2015 میں گیارہ لاکھ کے قریب جنگ سے متاثرہ مہاجرین کی آمد ہوئی تھی۔

مگر پھر ان مہاجرین کی وجہ سے امن و امان کے مسائل پیدا ہونے شروع ہوئے جس کی انتہا کرسمس اور سال نو کی تقریبات میں جرمن شہر کولون کے مرکز میں کیتھیڈرل کے سامنے مہاجرین کی طرف سے کئی درجن افراد کے گروپ بنا کر جرمن خواتین کی بے حرمتی کے منظم واقعات کی صورت میں منظر پر آئی۔ تقریباً 839 افراد نے خود پر حملوں کی پولیس میں شکایت کی جن میں سے 497 خواتین تھیں جنہوں نے جنسی حملوں کی رپورٹ کی۔ کولون کے مرکز میں ایک ہزار افراد سے زیادہ مہاجرین کے گروہ نے وہاں موجود عورتوں اور مردوں پر حملے کئے اور وہاں موجود دو سو کے قریب پولیس والے بے بسی کی تصویر بنے رہے۔ جرمن عورتوں کے بیانات آئے کہ جانوروں کی طرح دوڑا دوڑا کر ان کا تعاقب کیا گیا۔

cologn-cathedralمعاملے کی حساسیت کے پیش نظر جرمن براڈ کاسٹر زیڈ ڈی ایف نے تین دن تک اس خبر کو دبائے رکھا اور بعد میں اسے اپنے اس فعل پر معافی مانگنی پڑی۔ ایسے ہی واقعات ہیمبرگ شہر میں بھی رپورٹ کئے گئے۔ جرمن قوم کے لئے یہ واقعہ نہایت ہی صدمہ آور اور چونکا دینے والا تھا۔ اس کے بعد وہاں کئی شہروں میں عوامی جشن اور کارنیوال
وغیرہ نہایت ہی خوف کی فضا میں ہوئے۔

جرمنی نے یورپی یونین کے ساتھ مل کر ترکی کو شامی مہاجرین کے لئے کئی ارب یورو دیے تاکہ وہ ان مہاجرین کو یورپ آنے سے روکیں اور ترکی میں ان کو پناہ دیں۔

عجیب معاملہ ہے کہ جو لوگ خوف و وحشت سے بچ کر پناہ کی تلاش میں دوسرے ملک جا رہے ہیں، وہ اپنے میزبانوں کو ہی خوف و وحشت میں مبتلا کر کے اپنے ہم وطنوں کے لئے مزید مصائب پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ ہم تو بس یہی دعا کر سکتے ہیں کہ خدا سب انسانوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دے۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 332 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar