مندر میں مسجد بنتی ہے، مسجد میں برہمن رہتا ہے


\"wisiاٹھارہ گھنٹے کمپیوٹر پر بیٹھنا ہوتا تھا کہ ذمہ داری یہ تھی کہ نیوز سائٹ اپ ڈیٹ کرتا رہوں۔ ساری رات بیٹھا رہتا صبح سویرے پیدل گھر جاتا۔ تھوڑا آرام کر کے کھانا کھا کر واپس آ جاتا۔ پھر یہی روٹین جاری ہو جاتی۔ واحد تفریح یہ تھی کہ ایک آن لائین چیٹ روم کا ممبر تھا جہاں سب اپنے جیسے ہی ویلے اور لوفر اکٹھے تھے۔ لڑکیاں بھی تھیں لڑکے بھی۔ ہم فیملی کی طرح تھے ، کزنوں اور دوستوں کی طرح گپ لگایا کرتے تھے۔

ایک رات جب چیٹ روم میں جھانکا تو وہاں کڑی بیٹھی تھی کہ اس نے اپنے لیے یہی آن لائین نام رکھا تھا۔ گروپ کے سارے لوفر جی جان سے اس کے پیچھے پڑے ہوئے تھے اسے چھیڑ رہے تھے ۔ وہ بھی پٹر پٹر جواب دے رہی تھی۔ خوب رونق لگی ہوئی تھی۔ گروپ کی باقی لڑکیوں کو آگ لگی ہوئی تھی ۔ ان کی شکایتیں سنیں۔ گروپ چیٹ کا چپ چاپ بیٹھ کر جائزہ لیا۔
جب گروپ چیٹ میں بولا تو پھر میرا بھرپور استقبال ہوا کہ تین چار دن بعد چکر لگا تھا۔ اتنے دن بعد آنے پر پرانے ممبران نے حال چال پوچھا اور ساتھ ہی سب نے باری باری کڑی سے تعارف کرایا اور پیش بندی کے طور پر کڑی کو بھی خبردار کر دیا کہ وسی بابے سے دور ہی رہنا۔ دوست ایسے ہی لعنتی ہوتے ہیں خیر ۔

پرائیویٹ چیٹ میں گروپ گرو نے پوری طرح مخبری کر دی اور کڑی کے بارے اس وقت تک کی دستیاب تمام معلومات ہی شیئر کر دیں۔ ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ ہمارے ہی گروپ کا فلاں لڑکا اس کا دوست ہے۔ کیونکہ یہ دونوں آپس میں سیٹ ہیں۔ اس لئے ہمیں تمیز سے رہنا چاہئے۔

گروپ گرو تو یہ بتا کر گیا بعد میں اس کے سارے چیلوں کی باں باں سن کر پتہ لگا کہ سب ہی کڑی کے بیسٹ فرینڈ بنے ہوئے ہیں۔ سارے ہی اس کے ساتھ مستقبل کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔ سب نے ایک دوسرے کی مخبری بھی کر دی اور اپنے مخالفین کی سرکوبی کے واسطے اتحاد بنانے کی ضرورت اور اہمیت پر بھی زور دیا۔

حیرت ہو رہی تھی کہ کڑی نہ ہوئی، محبت کے مریضوں کا جنرل وارڈ ہو گیا جہاں سب گھائل پڑے تھے۔ بس کمال یہ تھا کہ کڑی سب کی ٹہل سیوا کر رہی تھی۔ سب سے ہی گپ شپ لگا رہی تھی۔ اب یہ تو ہو نہیں سکتا تھا کہ وسی بابا نیک بنا دیکھتا رہتا تو اس نے بھی کڑی کو براہ راست پرائیویٹ میسج کیا اور پوچھا کہ کون ہو ؟تعارف کروا ﺅ۔ اس نے کہا بابے تم تعارف کا کیا کرو گے۔ میری منگنی ہو چکی ہے۔ اس لئے سکون کر اور کوئی اپنی ہم عمر بزرگ حسینہ دیکھ ( ہائے جوانی کبھی آئی نہیں اور بزرگی پہلے ہی آ گئی تھی حالانکہ یہ دس سال پرانی بات ہے)۔ کڑی کی بات سنی تو جل کر کہا کہ منگنی ٹوٹنے میں کونسا دیر لگتی ہے لیکن تمھاری صورت تو اس قابل ہو کہ منگنی تڑوانے کی سکیم سوچی جائے۔

کڑی نے کہا تم نے اپنی شکل دیکھی ہے، کبھی منہ بھی دھویا ہے ؟ مجھے اس گروپ کے ہر بندے نے الگ الگ بتایا ہے کہ وسی بابے سے دور رہنا ۔ نہایت بدتمیز ہے۔ یہ سنا تو اس سے پوچھنا پڑا کہ محترمہ کہاں کی شہزادی ہو ؟ اگر شہزادی ہو تو باتیں کیوں بھٹیارن جیسی کر رہی ہو۔ کڑی بولی، اوئے تیری…. تو۔ میں ابھی ذرا اپنے منگیتر سے بات کر رہی ہوں۔ بعد میں تم کو انسان بناتی ہوں ۔میں نے کہا کہ منگیتر کے ساتھ تو جو بات کر رہی ہو، کرو۔ یہ ساتھ باقی جو جلوس پیچھے پھرا رہی ہو اس کا بھی کوئی علاج ، اے حسن والو….

قصہ مختصر ہماری دوستی ہو گئی۔ اب دوستوں کی دوستی کی باتیں کون بتائے۔ بس یہ دوستی کچھ زیادہ ہی ہو گءی۔ ایک وجہ یہ بھی ہو کہ ایک نزدیکی پپو دوست نے نیت باندھے بغیر ہی کڑی پر دل جان گردے پھیپڑے سب ہار دئیے تھے۔ کمبخت مشورہ بھی ہمی سے کرتا اور ذرا مائنڈ نہ کرتا جب میں اسے بتاتا کہ کڑی مجھے بھی بہت ہی اچھی لگتی ہے۔ ایک دن اس نے کہا تم نے دیکھی تو ہو گی ، وہ کسے بری لگے گی۔ اس کی اس بات سے تحریک لی، اپنی سستی کو لعن طعن فرمائی کہ اب تک دیکھی کیوں نہیں۔

جب کڑی سے دیکھنے کا مطالبہ کیا تو اس نے کیمرا آن کیا اور بس پھر ہم دیکھتے ہی رہ گئے۔بات بڑھی۔ کڑی کا فون بھی آ گیا ۔ ایک دن حال چال پوچھا۔ کافی تمیز دار لڑکی ثابت ہوئی۔ کہا کہ تم تو اچھی لڑکی ہو ۔ تو اس نے کہا اچھے تو تم بھی ہو۔ میں نے کہا کہ نیٹ پر تم کو کیا موت پڑتی ہے ۔ بولی وہی جو تم کو پڑی ہوئی ہے۔ باقی سب کو تو صبر آ گیا لیکن ہمارا پپو سنجیدہ ہو گیا کڑی کے حوالے سے۔ پھر جب اس کا افیئر ناکام ہوا تو ایک ہولناک قسم کے مولوی میں ڈھل گیا۔ ہم جو ایک ہی کڑی سے اکٹھے لائن مارا کرتے تھے مذہب پر اس سے بات کرتے بھی ڈرنے لگے کہ وہ خود کہتا تھا کہ اسے کڑی کو اکٹھے لائن مارنا گوارا تھا لیکن اپنے عقائد کے بارے میں ہمارے تبصرے اور سوالات گوارا نہ تھے۔

کڑی ہمارے پپو دوست سے ملنے پاکستان بھی آئی۔ پپو مولوی اس دورے کے بعد ہی ہوا رفتہ رفتہ کیونکہ بات نہ بن سکی تھی۔ کڑی نے واپس جاتے ہی شادی کر لی جہاں اس کے گھر والے چاہتے تھے۔

جب ساری کہانی اختتام کو پہنچی تو ہمیں وہ کھرک لگ گئی صحافیوں والی کہ یہ سب کیا تھا ایک پاکستانی لڑکی ایسی کھلی ڈلی کیسے ہوئی ۔ اس کے اتنے دوست تھے وہ سب سے فری ہو جاتی تھی ۔ ہر کسی کا دعوی تھا کہ اس کے ساتھ شادی تک بات پہنچی۔ کڑی البتہ دل سے سچ مچ شادی کرنے کو تیار ہوئی تو ہمارے پپو سے۔ اپنی منگنی ہوتے ہوئے بھی پاکستان آئی تو ایسا کیا ہوا کہ سب چھوڑ کر واپس گئی اور شادی کر لی۔

جب تحقیقی رگ جاگی تو جو پہلی بات معلوم ہوءوہ یہ تھی کہ کڑی مسلمان نہیں تھی۔ کہانی دلچسپ رخ مڑی تھی تو مدت بعد پھر کڑی کو فون کیا اس سے پوچھا تم غیر مسلم ہو ۔ تو اس نے پوچھا کہ اس سے ہمارے آپس کے تعلق اور دوستی پر کیا فرق پڑتا۔ اسے بتایا کہ زرا برابر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اس نے کہا ہاں میں غیر مسلم ہوں۔ اب یہ چھوڑ دیتے ہیں کہ اس کا مذہب کیا تھا ۔ اس سے فرق بھی کیا پڑتا ہے، انسان تھی اور پاکستانی تھی۔

کڑی نے جو اپنی کہانی سنائی وہ کچھ ایسی تھی کہ اسے کبھی بھی خواتین کی محفل پسند نہیں رہی تھی۔ لڑکوں کے ساتھ بیٹھنا ہی اچھا لگتا رہا۔ جب جوان ہوئی، منہ زور ہوئی اور عاشقی کا زمانہ آیا بھی تو بھی تعلق دوستی تک ہی بڑھے کہ بس اس کی اتنی ہی خواہش تھی۔ گپ البتہ وہ کھلی ڈلی لگا لیتی تھی۔

جب اس کی کسی سے دوستی ہوئی تو پھر مرد عورت کی تمیز اور دلچسپی بھی نہیں رہی۔ باتوں کے دوران میں اسے کہہ بیٹھا کہ تم کیونکہ غیر مسلم ہو تو تمھیں بولڈ ہونا بھی وارا کر جاتا ہے۔ بس پھر یہ کہنا تھا کہ میں نے اس سے پھر وہ وہ گالیاں سنیں کہ میری لمبی زبان بھی اس وقت میری مدد کرنے سے قاصر رہی۔

کڑی کا کہنا تھا تم کو ہمیشہ حیرت رہی کہ میں لفنگا پن کیوں کرتی ہوں ،ایسی کیوں ہوں۔ میں نہیں رہ سکتی اپنے لوگوں کے بغیر ، ان لوگوں کے بغیر جو میری زبان بولتے ہیں جن کی باتیں مجھے سمجھ آتی ہیں ۔جہاں کے میوزک پر میرا دل بھی ناچتا ہے۔ ہمیں پاکستان چھوڑ کر یو کے آنا پڑا تھا۔ میری ایک منٹ کے لئے نہیں بنی گوروں سے۔ مجھ کو اپنا سکول، اپنے دوست ، اپنے لوگ یاد آتے ہیں۔ مجھ کو اپنا لاہور یاد آتا ہے مجھ کو وہ لوگ اچھے لگتے ہیں۔ کوئی میرے ساتھ گپ لگائے، باتیں کرے ۔بس اس ایک خواہش میں لوفر ہوئی میں۔ دوست بنانے کے لئے ۔میں نے لڑکوں کے ساتھ لڑکوں والی گپ لگائی۔ مجھ کو اچھا نہیں لگتا تھا لیکن لگائی۔

ایسا سب کے ساتھ ہوتا نہیں لیکن میرے ساتھ ہوا کہ لوگ مطلب کے لئے نزدیک آتے تھے، شادی سے بھاگتے تھے کہ فرق مذہب کا تھا۔ اس فرق نے مار دیا۔ ہم کاروباری لوگ ہیں ، پیسے کی کوئی کمی نہیں، لیکن سب ہمیں …. ہی سمجھتے تھے۔ یہ ہمارے اپنے لوگ تھے اور ہمارے ساتھ فرق کرتے تھے۔ہم یہ بھی سہہ رہے تھے کہ اپنا وطن اور اپنے لوگ تھے۔ جب ہم کچھ اچھا پکاتے تو ہمسایوں کو دینے جاتے تھے۔ ایک دن میں جب اپنے نئے ہمسایوں کو دینے گئی تو انہوں نے گھر سے نکال دیا کہ ہم لوگ تمھارا کھانا نہیں کھاتے۔ میں کلاس فائیو میں تھی۔ کئی دن روتی رہی ۔اس بے عزتی نے ہماری بس کر دی۔ ہماری فیملی پہلے ہی تنگ تھی ۔ اس نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔

ہم اپنا ملک چھوڑ کر بھی نہیں چھوڑ سکے ۔ نہ پنجابی کے علاوہ کوئی زبان اچھی لگتی ہے نہ کسی اور زبان میں گپ اچھی لگتی ہے۔ پتہ نہیں کیا کیا کہتی رہی۔ تھوڑی دیر بعد سنائی دینا بھی بند ہو گیا ۔ اس کے بعد بھی کچھ وقت ہماری بات ہوئی لیکن نہ کبھی گپ لگی نہ ہم حال چال سے آگے کچھ پوچھ سکے۔ یہ بھی نہیں معلوم کہ ہمارا رابطہ کیسے ختم ہوا۔

مدت بعد ایک بار کسی دانشور کو یہ قصہ سنایا تو اس نے کہا یار اگر اس کو پاکستان اتنا ہی اچھا لگتا تھا تو وہ مسلمان ہو جاتی ۔ اس جواب کی کڑواہٹ نے کئی سال اتنا بدمزہ کیا کہ سب زخم تازہ ہو گئے کہ ہم انسانوں کو ان کے عقائد کے ساتھ قبول کرنے کو تیار نہیں۔ یہ کسی مذہبی شخصیت کا کمنٹ ہوتا تو صبر آ جاتا لیکن ہمارے دانش ور بھی ایسے ہیں کہ کسی کو اپنے عقیدے کے ساتھ جینے مرنے نہیں دیتے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

3 thoughts on “مندر میں مسجد بنتی ہے، مسجد میں برہمن رہتا ہے

  • 22-02-2016 at 3:56 pm
    Permalink

    اندازتحریر بہت شاندار ھے ۔ کہانی بھی دلچسپ ہے البتہ یہ سوچ کر دکھ ہوتا ہے کہ ہم کیسے مسلمان ہیں کہ اللہ کی مخلوق کے ساتھ مل جل کرنہیں رہ پاتے ۔ اور یہی کافر عیسائی ہیں جن کے ممالک میں ہم بھاگ بھاگ کر جاتے ہیں ۔ اور جب ان کے ممالک میں پہنچ جاتے ہیں تو پھر ہم ان غیر مسلموں کا دیا ہوا جوٹھا بھی کھانے کو تیار ہو جاتے ہیں ۔ پھر ہم اپنے مردے ان کے قبرستان میں بھی دفن کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں ۔ پھر ہم میں کوئی تعصب باقی نہیں رہ جاتا ۔ لیکن پاکستان میں ہم کسی غیر مسلم کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ۔ یہ ہے پاکستان کو ایک مسلم ملک بنانے کا نتیجہ

  • 22-02-2016 at 4:08 pm
    Permalink

    اعجاز صاحب آپ کا سارا تبصرہ ہی بہترین ہے بس آخری جملہ کچھ زیادہ ہی طنزیہ ہے کہ یہ سب پاکستان کو ایک اسلامی ملک بنانے کا نتیجہ ہے ۔ مسلہ صرف ایک ہے کہ ہم انسانی پہلو کو نظرانداز کر رہے ہیں اور مسلسل کئے جا رہے ہیں کہ جن بیچاروں کو ہم نے معاشرے میں خود سے الگ کر دیا ہے انکے بھی جزبات ہمارے جیسے ہو سکتے ہیں اپنے لوگوں اپنے وطن کے بارے میں

  • 23-02-2016 at 4:22 am
    Permalink

    حضرت! آپ دونوں نے بجا کہا، سچ یہی ہے کہ یہی مسلکی تفرقات اور لسانی اختلافات ہی ہماری تباہی و بربادی کا سبب ہیں ۔ ضیائی دور میں جہالت جو اندھیرے پھیلے وہی اب تک ہمارا تعاقب کر رہے ہیں اور نجانے ہم کب تک گمراہی کی اس دلدل میں پھنسے مزید دھنستے جائیں گے ۔ اپنے سے مختلف کو تو ہم قبول کرتے ہی نہیں بلکہ اب تو اُن سے زندہ رہنے کا حق بھی چھین رہے ہیں ۔ ان کی املاک و گھروں کو جلانا، سر عام ان کی تذلیل کرنا اور پھر فخر سے ’’ اسلام زندہ ہ باد ‘‘ کے نعرے لگانا، اک رواج بن چکا ہے ۔ اس رواج کو ختم کرکے ہی ہم پاکستانی‘‘ پاکستانی بن سکتے ہیں اورمسلمان بھی!

Comments are closed.