میرا جالندھر اور وزیرستان کے آئی ڈی پیز


ramishعلی اکبر ناطق کا ناول نولکھی کوٹھی پڑھتے ہوئے مجھے اپنا نانا ابو کے آنسو بار بار یاد آئے۔ تقسیمِ ہند کے موقع پر جو لوگ جالندھر سے پاکستان آئے ان میں ایک خاندان ایسا بھی تھا جس میں کچھ بچے بڑے اور ایک بیمار ماں تھی جس پہ لحاف ڈالے وہ سرحد پار کرنے کی کوشش میں لگے تھے، ایسا نہیں تھا کہ انکے گاوں تک کسی وحشت یا دیوانگی کی آگ پہنچی تھی لیکن جیسے سب لوگ چل نکلے تھے تو اس زمانے میں پھیلی قتل و غارت سے بچنے اور روز کی افواہوں سے پریشان یہ خاندان بھی نکل آیا۔غالباً سورن پور نام تھا گاوں کا ۔ سرحد پار کرنے سے کچھ پہلے ایک رشتےدار نے انکی ماں سے حال پوچھنے کیلیے لحاف اٹھایا تو انکشاف ہوا کہ وہ کب کی اس جہان کے سب غموں سے نجات پا گئیں۔سرحد پار کرنے کا انتظار کیا اور جیسے ہی اِس پار آئے تو پہلے انہیں وہیں کسی بےنام سی جگہ پہ سپردِ خاک کیا اور آگے چل دیے۔ بھوک پیاس اور سفر سے نڈھال اس خاندان نے جب تھک ہار کے ایک بڑے سے گھر کے دروازے پہ دستک دی اور انہیں بتایا کہ ہم سارا خاندان جالندھر سے آئے ہیں کچھ کھانے کو نہیں ملا بہت دن سے ،نہ ہی وہاں سے کچھ لے کر نکل سکے تو اس خاتون نے آدھی روٹی دی اور دروازہ بند کر لیا۔ یہ باہر آئے کھیت میں سے دو کدو توڑے اور کچے پکے ابال کر کھائے اور آگے چل دیے۔ بس میرے بچپن سے اب تک یہ کہانی یہاں تک پہنچتی ہے اور میرے نانا کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں ، کبھی بے آواز کبھی کچھ سسکیاں۔ وہ اس لمحے کو آج تک نہیں بھلا سکے کہ حالات نے کسی در پہ سوالی بنا دیا اور کیا سلوک کیا گیا۔

آج اتنے سالوں کی ان تھک محنت کے بعد میرے نانا کی نسلیں بھی بیٹھ کے کھا اڑا سکتی ہیں مگر وہ لمحہ ان سے بھلایا نہیں جا سکا۔ کبھی جالندھر کو یاد کر کے وہ ایسا نہیں روتے جیسا اس اذیت بھرے لمحے پہ روتے ہیں ۔ میں نہیں جانتی جالندھر کی یاد یا وہ لمحہ دونوں میں سے زیادہ تکلیف کس بات نے دی ہو گی انکو لیکن یہی وجہ ہے کہ کبھی دروازے پہ آئے کسی کو خالی ہاتھ لوٹایا ہو ایسا نہیں ہو سکا۔کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی بزرگ نے راہ چلتے کچھ کہا اور کچھ کیے بغیر آگے بڑھنا ممکن ہوا ہو۔ہم لوگ گداگری ایک لعنت ہے، پیشہ ہے اور اس قسم کی بحث میں پڑ کے بہت سے ایسے لوگوں کی مدد نہیں کرتے جنہیں واقعی ہماری ضرورت ہے۔ کسی کے آگے سوالی بننا بڑا مشکل کام ہے لیکن بہرحال تقسیمِ ہند سے لے کر قدرتی آفات تک یہ مسئلہ کچھ انسانوں کے دماغ میں موجود فالٹ لائن کا ہو یا زمین کی کسی فالٹ لائن کا یہ سب چیزیں کہیں نہ کہیں کسی خوددار آدمی کی عزتِ نفس داو پہ لگا دیتی ہیں اور اسے سوالی بننے پہ مجبور کر دیتی ہیں۔ پھر وقت آتا ہے کہ یہ جگہ جگہ مجروح ہوتی عزتِ نفس زندگی بھر کیلیے دل میں رہ جاتی ہے۔ چاہے وہ وزیرستان کے آئی ڈی پیز ہوں جن کیلیے ملک بس وزیرستان ہے یا وہ کسی بم دھماکے میں گھر کا واحد کفیل مر جانے کے بعد زبردستی سوالی بنا دیے گئے خاندان ہوں اگر آپ اس قابل ہیں کہ آپ سے کسی نے سوال کر ہی لیا ہے تو چلیں اتنا ضرور کریں جو ممکن ہو۔لیکن یہ فیصلہ کہ ہر سوالی پیشہ ور ہی ہوتا ہے یہ غلط ہے۔ہو سکتا ہے کہ آپ کی اس سوچ کی وجہ وہی پیشہ ور لوگ ہوں گے لیکن بہرحال کہیں نہ کہیں اس سوچ کے باعث ایسے لوگوں کی دل آزاری ہو جاتی ہے جو عادتاً یہ کام نہیں کرتے۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “میرا جالندھر اور وزیرستان کے آئی ڈی پیز

  • 22-02-2016 at 5:23 pm
    Permalink

    بہت صحیح بات کی آپ نے۔
    سب سے بڑی کتاب میں لکھا ہے کہ سوالی کو جھڑکو نہیں،،، اور مسکین کو کھانا کھلاؤ۔

  • 07-03-2016 at 4:15 am
    Permalink

    میری دادی بتاتی ہیں وہ فیروز پور سے پاکستان آئے تھے لاہور کے قریب تاندیوالا میں دو ماں قیام کیا پھر بسوں کی چھت پر طوفانی دات اور دن کا سفر جس میں اندھیرے اور خوف کے علاوہ کچھ نہ تھا ۔ سکھ مسلوں کی لڑکیوں اور بچوں کو دریا میں پھینکتے رہے اوردادی روتی رہیں۔۔۔۔ ان کا سامان کہاں پھینکا کچھ یاد نہیں ۔۔۔۔وقت نے ان کو شیر گڑھ کے قریب گاوءں میں لا پھِینکا مگر یادوں کا سمندر ان کو اکژ اسی طوفان میں لے جاتا ہے۔۔

Comments are closed.