اسلامسٹ بمقابلہ سیکولرازم


\"amirدو چار سادہ سوالات ہیں اور اتنے ہی سادہ اور واضح ان کے جواب ہیں، مگر چونکہ ان پر کھل کربات نہیں ہوتی، اس لئے کنفیوژن چل رہا ہے۔ایک سوال جو بار بار پوچھا جاتا ہے،سوشل میڈیا اور بعض ویب سائیٹس پر اس حوالے سے دھواں دھار بحث بھی چل رہی ہے کہ ریاست کو سیکولر ہونا چاہیے یا مذہبی یعنی اسلامی۔ کئی دوستوں کو یہ بات سمجھ نہیںآتی کہ آخراسلامی ریاست پر اتنا اصرار کیوں؟ بعض کو اس پر حیرت ہے کہ آخر اسلامسٹ کی اصطلاح کیوں استعمال کی جا رہی ہے ، کیا ان لوگوں کو جو ان کے حامی نہیں، انہیں غیر مسلم تصور کیا جا رہا ہے؟برادرم وجاہت مسعودجیسے صاحب علم بھی یہ نکتہ اٹھاتے ہیں کہ رائٹسٹ کے ساتھ اسلامسٹ کیوںلکھا جا رہا ہے۔اسی طرح کئی لوگ بڑی معصومیت سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ لبرل ازم کو معاشرے میں رائج کرنا چاہیے۔جس کی مرضی ، جو کچھ کرے، کوئی کسی کو روکے نہ ہی کچھ کرنے کے لئے اصرار کرے۔ پچھلے دنوں ویلنٹائن ڈے کی بحث میں اچھے خاصے دین دار گھرانوں کے نوجوان بھی یہ بات کہتے پائے گئے کہ ویلنٹائن کے حوالے سے کسی قسم کی پابندی کے بجائے لبرل رویہ اپنانا چاہیے، کوئی منانا چاہے تو منا لے، نہ منانا چاہے تو اس سے دور رہے۔ اس پورے منظرنامے میںقابل ترس صورتحال روایتی مذہبی طبقے یا رائیٹ ونگ کی ہے۔ میڈیا میں ان کا مقدمہ پیش کرنے والا کوئی نہیں۔ ایسا کوئی نہیں جو سلیقے کے ساتھ، اعتدال اور توازن رکھتے ہوئے دلائل کے ساتھ ان کا نقطہ نظر واضح کرے۔ جو دو چار نوجوان جوش ایمانی سے اس پر قلم اٹھاتے ہیں، ان پردلیل کی جگہ جذبات غالب رہتے ہیں ۔
سب سے پہلے تو ان اصطلاحات کو واضح کر دینا چاہیے۔ ہمارے ہاںسیکولرازم کا ترجمہ عام طور سے لادینیت کیا جاتا ہے، ہمارے سیکولر دوست اس پر بڑا تلملاتے اور برہم ہوتے ہیں۔ ان کی دل آزاری کے باعث میں لادینیت کی اصطلاح استعمال نہیں کر رہا، یہ اور بات کہ سیکولرازم آخری تجزیے میں اسی جانب ہی لے جاتا ہے۔سادہ الفاظ میں سیکولر ازم سے مراد ہے کہ مذہب ہر شخص کا ذاتی معاملہ ہے،تاہم ریاست غیر مذہبی ہوگی اور حکومتی معاملات سے مذہب کو دور رکھا جائے گا۔ اس سارے معاملے میں سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ خدا اور تصور خدا ریاستی معاملات سے بالکل آﺅٹ ہوجاتا ہے۔ ایک سیکولر معاشرہ مذہب کو ہر ایک کا نجی معاملہ قرار دے کر اس میں مداخلت نہیں کرتا، یاد رہے کہ یہ اچھی سیکولرسوسائٹی کی بات ہو رہی ہے، ورنہ ترکی کے سخت گیر سیکولر اور عرب سپرنگ سے پہلے کے مصر، تیونس جیسے ممالک میں لوگوں کے لئے انفرادی طور پر بھی مسلمان رہنا مشکل ہوگیا تھا۔ ترکی میں لمبے عرصے تک مساجد کو تالے لگے رہے، ڈاڑھی رکھنے اور سر پر سکارف تک لینے کی اجازت نہیں تھی۔ایک اچھے یا مہذب سیکولر معاشرے میں کسی شہری کے مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں کی جاتی ،مگر ریاست اپنے تمام قوانین ، ضابطوں اور اپنے نظریہ کی تمام تر بنیاد انسانی دانش اور قوانین پر رکھتی ہے۔ خدائی احکامات کسی سیکولر ریاست میںذرا برابر بھی اہم نہیں ہیں۔
ہماری تمام تر بحث چونکہ پاکستانی تناظر میںہور ہی ہے، مخاطب بھی پاکستانی ہیں، اس لئے ہم مقامی حوالوں کو اہمیت دیں گے ۔ رائیٹ ونگ یا رائٹسٹ ہونے کا ایک تاریخی پس منظر ہے۔ یہ اصطلاح فرانسیی انقلاب کے دنوں میں سامنے آئی ، بعد میں ان میں تبدیلیاں آتی رہیں۔ دنیا بھر میں رائیٹ ونگ سے مراد مذہبی سوچ رکھنے والے، قدامت پسندی یا روایتی اخلاقیات کو اہمیت دینے والے لوگ ہیں۔ مختلف ممالک میں یہ تقسیم مختلف ہے۔ جیسے امریکہ میں ری پبلکن پارٹی نسبتاً زیادہ مذہبی، قدامت پسند اورکسی نہ کسی حد تک اخلاقیات کی بات کرتی ہے، اس لئے امریکہ میں انہیں ایک طرح سے رائیٹ ونگ سمجھا جاتا ہے۔ ڈیموکریٹ ان کے برعکس بہت زیادہ لبرل، فرد کی آزادی کے بہت زیادہ حامی ، ہم جنس پرستی اور اسقاط حمل تک کی اجازت دینے کے حق میں ہوتے ہیں۔ بھارت میں بی جے پی کو ایک لحاظ سے رائیٹ ونگ پارٹی کہا جاتا ہے۔پاکستان میں یہ تقسیم بہت واضح ہے۔ یہاں پر رائیٹ ونگ سے مرادروایتی مذہبی طبقہ اور دینی سوچ رکھنے والا معتدل طبقہ ہے،جو اپنی روایتی اخلاقیات کو مغرب کی تہذیبی یلغار سے بچانے کی بات کرتا ہے، جو چاہتا ہے کہ ملک میں اسلامی نظام نافذ کیا جائے، اس سسٹم کی خیر وبرکات لوگوں تک پہنچائی جائےں اور وہ معاشرہ تشکیل دیاجائے جو اللہ کو پسند ہے اور جس کی تلقین اللہ کے آخری رسول ﷺنے کی ہے۔ ہم رائیٹسٹ کو اسلامسٹ صرف اس بنیاد پر یہ کہتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہماری انفرادی اوراجتماعی زندگی کا محور خدا کی ذات ہونی چاہیے۔ یہ اسلامی ریاست کی بات کرتے ہیں، اسلامی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہیں اور مثالی اسلامی فلاحی معاشرہ تشکیل دینے کا خواب دیکھتے اور اس کی خاطر کوشاں رہتے ہیں ۔
اسلامسٹوں یا رائٹسٹوں کا مطالبہ بڑا سادہ اور آسان ہے۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ ایک فرد کی انفرادی زندگی تو مذہب اور خدا کے تصور ، اس کے احکامات کے گرد گھومتی ہے، اس کی اجتماعی زندگی،معاشرے ، حکومت اور ریاست کا محور بھی خدا ہونا چاہیے۔ اس سے یہ ہرگز مراد نہیں کہ ملک میں پاپائیت قائم ہوجائے یا ہر ادارہ مولوی صاحبان کے حوالے کر دیا جائے ۔ دینی طبقہ اپنا کام کر رہا ہے، دین سیکھنا، دین سکھاناان کا کام ہے،وہ وہی کرتے رہیں گے۔ اسلامی ریاست کے تصور کو سمجھنا مشکل نہیں۔ ہر ریاست کچھ قوانین بناتی ہے، کچھ چیزوں سے وہ روکتی اور کچھ کی اجازت دیتی ہے، ہر جگہ کچھ (ont,s Do,s & D) ہوتے ہیں۔ اب سیکولر ریاست ان تمام کا منبع انسانی عقل ،تجربات اور دانش سے لیتی ہے۔ جبکہ اسلامی ریاست اپنے قوانین ، اپنے ڈوز ، ڈونٹس کی انسپائریشن اسلام سے لیتی ہے۔ خدائی احکامات اس کا منبع ہوتے ہیں۔ یہ وہ بنیادی فرق ہے جو اسلامسٹوں اور سیکولرسٹوں کو الگ کرتا ہے۔اسلامسٹ خدائی قوانین پر اصرار اس لئے کرتے ہیں کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انسانی دانش ، عقل غلطی کر سکتی ہے، دھوکہ کھاجاتی ہے، جبکہ خدائی احکامات کسی بھی قسم کی غلطی اور خطا سے پاک ہیں۔ وہ حتمی اور ہر زمانے کے مطابق درست ہیں۔ اسلامی ریاست اللہ کے قوانین کو اپنی عقل پر ترجیح دیتی ہے۔ جو چیزیں رب ذوالجلال نے حرام کر دیں، وہ کوئی ریاست حلال نہیں کرسکتی، اسی طرح حلال چیزوں کو کوئی حرام نہیں کر سکتا۔اسلامی ریاست مگر صرف حلال حرام کی بحثوں میں نہیں پڑی رہتی،ایسی ریاست کا بنیادی عقیدہ ہے کہ شہریوں کی فلاح وبہبود کا ماں کی طرح خیال رکھا جائے ۔ غیر مسلموںکے حقوق کا نہ صرف تحفظ بلکہ اس معاملے میں تو اصولاً ایثارکا مظاہرہ کرنا چاہیے اور مسلمان شہری اپنے کچھ حقوق کی قربانی دے کر اپنے غیرمسلم بھائیوں کا خیال رکھیں۔اسلامی ریاست میں کسی بھی صورت میں ظلم باقی نہیں رہ سکتا، اسلامی معاشرے کا مرکزی جز عدل اور انصاف ہے ۔
اب پاکستان جیسے ملک میں جس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، ….یہاں حکمران اشرافیہ، بدعنوان ظالم انتظامیہ اور طاقتور استحصالی طبقات کی گٹھ جوڑ کی وجہ سے پورا نظام تباہ ہوچکا ہے، کرپشن ہر طرف پھیلی ہوئی ہے، غریب کو انصاف میسر ہے نہ جینے کا حق۔ مہنگائی اورناجائز منافع خوری روکنے والا کوئی نہیں، ہر جگہ میرٹ پامال ہوتا ہے اور مافیاز طاقت پکڑ چکے ہیں،…. ایسے معاشرے میں فطری طور پر دیگر خرابیوں کے ساتھ ساتھ اسلامی معاشرے کے بنیادی اجزا پر بھی پوری طرح عمل نہیں ہو رہا۔ ان تمام خرابیوں کی ذمہ داری ریاست کے مذہبی ہونے پر نہیں۔ نظام کی خامیاں خاص کر قانون کی عملداری نہ ہونا اس کا بنیادی سبب ہے۔ اس لئے مذہبی سوچ رکھنے والوں کونئے فتنے پیدا کرنے کے بجائے اپنی بہترین صلاحیتیںاسلامی معاشرے کی تشکیل پر صرف کرنی چاہئیں، جبکہ سیکولر سوچ رکھنے والوں کو سیکولر ریاست کا خواب دیکھنے کے بجائے ریاستی نظام کی بہتری ، اس میں اصلاحا ت لانے پر توجہ دینی چاہیے۔پاکستان پچانوے فیصد سے زیادہ مسلم اکثریت رکھنے والا ملک ہے، جہاں کی بیشتر آباد ی دینی معاملات میں بے حد جذباتی ہے، نماز ، روزہ پڑھنے والے نہ بھی ہوں، تب بھی حرمت رسول ﷺپر وہ کٹ مرنے کو تیار رہتے ہیں۔ ایسی جگہ سیکولر ازم قطعی نہیں آ سکتا، ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہی رہے گا، سیکولر بنانے کی کوشش صرف اور صرف شدت پسندمذہبی تعبیر رکھنے والوں کو تقویت پہنچاتی ہے۔ اپنی شناخت کا خوف انہیں مزید بنیاد پرستی پر اکساتا ہے۔ اس لئے اب ریاست کی ہئیت طے ہوچکی، اس کا نظام ٹھیک کرنا چاہیے، تمام توانائیاں اس سمت لگانا ہوں گی۔ اسے ہدف بنانا چاہیے، اگر ایسا ہوسکے توپھر سیکولروں اور اسلامسٹوں میں مشترکہ جدوجہد کے نکات طے ہو سکتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

10 thoughts on “اسلامسٹ بمقابلہ سیکولرازم

  • 22-02-2016 at 6:46 pm
    Permalink

    1956 کے آئین میں (ریاست) مشرقی پاکستان کی بھی ہئیت مغربی پاکستان کی ہئیت کے ساتھ طے نہیں ہو گئی تھی کیا؟ پھر یہ کیوں ہوا کہ وہ “پیپلز ری پبلک آف بانگلہ دیش” بن گئی اور اب شاید ہی دوبارہ (غیر سیکیولر) اسلامی جمہوریہ بن پائے۔ ایک زمانے کے شام اور عراق میں ریاست کی ہئیت کی تبدیلی کی بھی مثالیں ہیں۔ انسانوں کو من حیث المجموع دیکھنے کی خاطر سیکیولر ریاست کے قیام کی خواہش اور اس کے لیے جدوجہد جاری رہے گی، میرے اور آپ کے بعد بھی یا شاید آپ اپنی زندگی میں ہی پاکستان کو پیپلز ریپبلک بنتا دیکھ لیں، کون جانے؟

  • 22-02-2016 at 7:23 pm
    Permalink

    انسانوں کو من حیث المجوع دیکھنا؟؟؟ حضرت انہی اصطلاحات کی آڑ لی جاتی ہے۔ سادہ بات ہے کہ خدا اور تصور خدا صرف گھر کی چار دیواری تک محدود نہں ہوسکتا۔ ہماری اجتماعی زندگی بھی اس تصور کے گرد گھومتی ہے، کچھ احکامات ہیں، کچھ چیزیں مطلوب ہیں، کچھ سے روکنا مقصود ہے، سب سے بڑھ کر کہ اسلام کا ایک تصور علم ، تصور اخلاق، تصور معیشت اور تصور معاشرت بھی ہے۔ اس کے خدوخال واضح کرنا ہمارا کام ہے، یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ دراصل اسلامائزیشن سے آپ لوگوں کے ذہنوں میں وہ مولوی صاحبان آ جاتے ہیں، جن کے رویے بے لچک اور گفتگو متشدد ہوجاتی ہے۔ ہم جب اسلامائزیشن کی بات کرتے ہیں، اسلام کے تصور اخلاق کی بات کرتے ہیں تو اس میں وہ حقیقی شکل ہوتی جس کا نمونہ اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا۔

  • 22-02-2016 at 8:11 pm
    Permalink

    مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں کے رائٹسٹ بھی کنفیوژن کا ہی شکا رہیں۔بغیر سمجھے اور بغیر کسی واضح سوچ کے بس یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ ملک میں اسلامی نطام کا نفاذ ہی تمام مسائل کا حل ہے۔۔۔پہلی بات تو خاکوانی صاحب نے ساری سیکولرازم کا ’’آخری تجزیہ‘‘ بھی فوری کر ڈالا کہ یہ لادینیت کی طرف لے جاتی ہے۔سادہ سی بات یہ ہے کہ کیا مغربی ممالک میں جہاں سیکولرازم نافذ ہے وہاں رہنے والے مؤمنین یا مسلمان بے دین ہوگئے ہیں؟کیا ان کی زندگیوں سے اللہ اور رسول ﷺ کا ادب،احترام،محبت سب کچھ جاتا رہا ہے؟جواب ہے کہ نہیں قطعاً ایسا نہیں ہے جو کلمہ گو ہے جو نمازی ہے جو قاری ہے سب کو آزادی ہے کہ مسجد میں نماز ادا کرے یا کسی پارک میں،سو یہ ’’آخری تجزیہ‘‘ باالکل نامناسب اور زیادتی ہے اور یہ باالکل ایسے ہی ہے جسیے کوئی کہے کہ نعوذباللہ آخری تجزئیے میں اسلام انتہا پسندی کی طرف لے جاتا ہے۔
    اسلامی قوانین کے نفاذ میں کوئی حرج نہیں اگر اسلامی فرقے کسی ایک چیز پر متفق ہوجائیں۔اگر اس پر بھی اتفاق ہوجائے تو اگلا مرحلہ آتا ہے اسلامی قوانین کے نفاذ کے لئے ماحول سازی کرنا۔کیا آنحضرتﷺ نے پہلے ہی دن اسلامی سزائیں نافز کردیں،یا انتہائی جانفشانی سے تربیت کرنے کے بعد ،سودوزیاں سمجھانے کے بعد سزاوں کا نفاذ کیا؟یہ ایک لمبی بحث ہے ،جہاں ملک بھر کے تمام ’’علماء‘‘ مسلمان کی تعریف پر ہی متفق نہیں،وہاں جہاں زمینوں پر قبضے کے لئے مسجد کا سہارا لیا جاتا ہو وہاں اسلامی قوانین کے نفاذ سے قبل دلوں میں اسلام کے نفاذ کی زیادہ ضرورت ہے۔
    ہمارے رائٹسٹ دوستوں کا آخری تجزیہ یہ ہوتا ہے کہ ’’جہاں کی بیشتر آباد ی دینی معاملات میں بے حد جذباتی ہے، نماز ، روزہ پڑھنے والے نہ بھی ہوں، تب بھی حرمت رسول ﷺپر وہ کٹ مرنے کو تیار رہتے ہیں‘‘ دوسرے لفظوں میں یہ ان ’’علماء‘‘ کی ناکامی کا اعتراف ہوتا ہے بقول خاکوانی صاحب جن کا کام دین سکھانا ہے۔یعنی نماز نہ پڑھنا،ساری عمر مسجد کا منہ نہ دیکھنا،کبھی بھی قرآن مجید کی تلاوت نہ کرنا ،جھوٹ کو شیر مادر کی طرح پینا ،دھوکہ دینا اور دونمبری میں دنا بھر کو مات کرنا توہین رسالتﷺ نہیں،بس کسی کی طرف کوئی ’’بیان‘‘ منسوب کرکے اس کی گردن مارنا ہی حرمت رسولﷺ ہے۔بچیوں کے ساتھ اجتماعی زیادتیوں پر خاموش رہنے والے ویلینتائن ڈے پر اچھل کود کرتے نظر آئیں تو سمجھ لیں حرمت رسولﷺ کو کوئی خطرہ نہیں بس ترجیحات نے خودکش دھماکہ کرلیا ہے۔

  • 22-02-2016 at 8:29 pm
    Permalink

    میں نے کسی اصطلاح کی آڑ نہیں لی کھل کر کہا ہے انسانوں کو من حیث المجموع دیکھنا کسی بھی مذہب بشمول اسلام کا مقلد ہونے کے۔ باقی جواب راشد دے چکے ہیں۔ اسلامی نظام کہیں بھی نہیں ہے اور ریاست کے ساتھ اسلامی جمہوریہ لگانے سے ریاست اسلامی ویسے ہی نہیں ہوتی جیسے اسلامی سوشلزم کہنے سے سوشلزم کو مشرف بہ اسلام نہیں کیا جا سکتا۔

  • 22-02-2016 at 8:59 pm
    Permalink

    پہلی بات ہے کہ ہماری پوری بحث پاکستانی تناظر میں ہے۔ میری تحریر اسی سوال پر ہے کہ پاکستانی ریاست کو اسلامی ریاست ہونا چاہیے یا پھر سیکولر ریاست؟ میں نے سیکولر ازم پر یا دنیا بھر میں سیکولرازم کے حوالے سے ، ان کے اثرات پر کوئی بات نہیں کی، یہ بحث یوں پھیل جائے گی، اس لئے ادھر نہیں گیا۔ ویسے بھی وہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔ جو شخص باہر کسی مغربی سیکولر ملک میں رہ رہا ہے، اس نے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا،پلس مائنس سب کچھ دیکھ بھال کر اس نے فیصلہ کیا اور یہ اس کا درد سر ہے۔ ہم پاکستان میں رہتے ہیں، ہماری اگلی نسلیں بھی انشااللہ ادھر ہی رہیں گی، ہمارا مسئلہ پاکستان ہے، مغربی دنیا کا سیکولرازم نہیں۔
    ایک بات اور واضح کر دوں تاکہ ممکن ہے بحث آگے بڑھنے سے پہلے ہی ختم ہوجائے۔ میرا قطعی کسی مزید اسلامی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ کرنے کا نہیں۔ میرے نزدیک تہتر کے آئین میں جو کچھ حاصل ہوچکا، وہ بڑی حد ملک کو اسلامی ملک بنا سکتا ہے۔ جو قوانین موجود ہیں، تقریباً تمام ہی اسلامی ہیں۔ یعنی میں یا میرے جیسے لوگ مزید کسی چیز کے متمنی نہیں۔ ہم تو اسی ملک کو اسلامی ریاست تصور کرتے ہیں، انہی قوانین پر ہی اکتفا کرتے اور اسی پر خوش ہیں، ظاہر ہے تہتر کے آئین یا ملکی قوانین پر آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان پر اتفاق نہیں۔ علما کا کبھی ان پر کوئی ایشو نہیں رہا۔ ہمارا کہنا صرف یہ ہے کہ ریاست کی یہ ہئیت طے ہوچکی، تہتر کے آئین کا احترام کرنا چاہیے، اب اس پر عملدرامد ہونا چاہیے۔ نظٓام میں خامیاں دور کی جائیں تاکہ لوگوں کو فلاح وبہبود کے لئے کچھ ہوسکے۔ ہر کچھ عرصے بعد ریاست کو سیکولر بنانے کی مہم نہ چلائ جائے کہ اس سے مذہبی طبقہ خواہ مخواہ دوبارہ سے اپنے پرانے سٹٓانس پر جاتا اور آگے بڑھنے کے بجائے دائرے کا سفر شروع ہوجاتا ہے۔ بھائی ہم تہتر کے آئین پر متفق اور اسی پر قانع ہیں۔ سیکولرازم کے دعوے داروں کو بھی تہتر کے آئین تک رہنا چاہیے۔ اصل مسئلہ اپنے نظام عدل کو ٹھیک کرنے کا ہے، زرعی اصلاحات کی جائیں، تعلیم ، صحت اور سوشل سیکٹڑ کے دیگر شعبوں میں زیادہ رقوم مختص کی جائیں، لوگوں کے مسائل کم ہوں۔ اصلاحات لانی چاہیں بڑے پیمانے پر۔ یہ اہداف ہونے چاہئیں اب۔ انہی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

  • 22-02-2016 at 9:17 pm
    Permalink

    مرزا صاحب ہم تو ریاست کے ساتھ اسلام کا نام لگانے پر ہی راضی ہیں، بے شک وہ اس طرح مکمل طور پر اسلامی نہیں ہو جائے گی، مگر ہم اس پر ہی خوش ہیں۔ ہم تو جناب تہتر کے آئین پر ہی راضی اور خوش ہیں، اسی پر قانع ہیں۔ اس سے زیادہ کا مطالبہ ہی نہیں کر رہے۔ صرف یہ چاہتے ہیں کہ اس آئین پر اب عمل درآمد کیا جائے۔ سوشلزم کو اسلامی سوشلزم کہنے پر سوشلسٹوں نے اعتراض کیا تھا، ہم تو اسلامی جمہوریت کی اصطلاح پر مطمین اور خوش ہیں۔ تہتر کے آئین کے تحت جو جمہوری نظام ہے، اس پر راضی باضی ہیں، آپ دوسروں کو بھی یہ کہیں کہ اسی آئین پر متفق ہوکر اب آگے کی طرف بڑھیں۔ جن اصلاحات کی ہمارے نظام کو شدید ضرورت ہے، اس طرف اپنی صلاحتییں کھپائیں، دبائو بڑھائیں۔ لوگ بہت تنگ ہوچکے ہیں انہیں ریلیف ملنا چاہیے۔ ورنہ یہ شدت پسندی کی طرف جائیں گے۔ خاکسار تو اس شدت پسندی سے بچنے کا نسخہ تجویز کر رہا ہے کہ ریاست ماں جیسا کردار ادا کرے۔

  • 23-02-2016 at 3:03 am
    Permalink

    آئین یا قانون تو انسان ہی بناتے ہیں،پھر یہ مطالبہ کرنا کہ اب اس بارے کوئی بات نہ کی جائے،سمجھ سے بالاتر ہے۔یہ کہنا کہ اس پر نظرثانی کی کوشش مذہبی متشدد طبقے کو ناراض کرے گی ،بھی ایک نا انصافی پر مبنی بیان ہے۔ آزادی اظہار ایک بنیادی حق ہے اس کو کسی کی ناراضگی کی وجہ سے ختم کرنا عدل و انصاف کا خون کرنے کے مترادف ہے۔ قوانین پر ہر طبقہ فکر اپنی رائے دینے کا مجاز ہوتا ہے اور حالات کے مطابق ان میں تبدیلی بھی ناگزیر ہوتی ہے۔۱۹۷۳ کا آئین بھی تو اتنے سال کے غور وفکر کے بعد ہی بنایا گیا تھا۔اگر آئین کبی تبدیل ہی نہیں ہوسکتا تو پھر اسمبلیاں منتخب کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
    جہاں تک اللہ تعالی کے احکامات اور قوانین کا تعلق ہے اسکو تبدیل کرنے کا تو سوچا بھی نہیں جاسکتا۔کیا سیکولر نظام کا مطالبہ کرنے والے کسی پاکستانی نے یہ کہا ہے کہ خدا کے کسی قانون کی خلاف ورزی کی جائے؟ اگر کہا ہے تو حوالہ دیں۔ کون کہتا ہے کہ یہاں شراب بیچنے کی اجازت ہو یا جوا کھیلا جائے؟صرف ریاست کی طرف سے تمام شہریوں کے مساوی حقوق کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔
    حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جذباتی تصور جو محترم نے بیان کیا ہے کہ پاکستانی عوام میں پایا جاتا ہے،وہ درست ہے ،لیکن کیا جذبات سے زیادہ اعمال کو ٹھیک کرنا حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی روح نہیں؟بالکل ہے۔

  • 23-02-2016 at 10:17 am
    Permalink

    مقام شکر ہے کہ خاکوانی صاحب نے ہماری دیرینہ درخواست کو قبول کرتے ہوۓ “رائٹسٹ” کی اصطلاح کے بارے میں اپنے فہم کو واضح کیا. ان کے اس موقف کے اعادے سے بھی اطمینان ہوا کہ ان کے “رائٹ ازم” میں تہتر کا آئین پاکستان میں اسلام کے نفاذ کے لئے کافی ہے. خادم یہ عرض کرنے کی اجازت چاہتا ہے کہ تہتر کا آئین ایک خالص سیکولر طریقۂ کار، یعنی بالغ راے دہی کے نتیجے میں تشکیل پانے والی مجلس قانون ساز میں غور و خوض اور بحث و تمحیص کے بعد وجود میں آیا تھا. اس آئین کی شقوں پر عمل درامد کے لئے ضمنی قوانین، اصول و ضوابط بھی اسی سیکولر طریقہ کار کے تحت وضع کیے جاتے ہیں، جس میں مثلا، کسی بھی بزعم خود اسلام کے منتہی فرد کے فہم اسلام کے مقابلے میں اراکین کی اکثریت کے فہم اسلام کو برتری حاصل ہوتی ہے، چونکہ اس اکثریت کے پیچھے ملک کی آبادی کی اکثریت کی اسلامی امنگیں کارفرما فرض کی جاتی ہیں. جمہوری طریقے سے وجود میں آنے والے اجماع کی کیسی خوب صورتی ہے کہ محترم خاکوانی اس پر نظر ڈالتے ہیں تو انہیں اس میں “اسلامسٹوں” کی توقعات کا عکس جھلملاتا نظر آتا ہے، اور ہم جیسے کم سواد اسی میں سیکولرزم کا جلوہ محبوب دیکھتے ہیں. ایک نوے فی صد سے زیادہ مسلم اکثریت کے حامل ملک میں یہ اندیشہ ہاے دور و دراز کچھ وقعت نہیں رکھتے کہ ان کی منتخب کردہ پارلیمان کوئی ایسا قانون بنا ڈالے گی جو اسلام کے صریحا متضاد ہو گا. ایسی سوچ اس ملک کی عظیم اکثریت کے ایمان اور ان کی عاقبت اندیشی کے بارے میں شدید بد گمانی کے سوا کچھ نہیں ہے.

    سوال یہ ہے کہ اس قسم کی حوصلہ افزا صورت حال میں، ہم جیسے خفقانی “اسلام ازم” کے سایہ گل سے کیوں ڈرتے ہیں؟ اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ سن تہتر کے متفقہ آئین کو پے در پے پامال کیا گیا ہے. اس میں عوام الناس کی توجہ، جذباتیت پروری کے آزمودہ ہتھکنڈے کی مدد سے ہٹانے کے لئے، فرد واحد نے ایسی ترامیم کی ہیں جن کا اسلام کی “عدل اجتماعی” کی روح سے واجبی، مگر ظواہر پرستی، فروعیات پسندی اور اذیت پسندانہ جبریت سے گہرا تعلق ہے. آج یہ بات کم و بیش سب اہل نظر پر عیاں ہے کہ ان ترمیمات کی تہہ میں فرد واحد کے ناجائز تسلط کو دوام بخشنے کی خواہش ہی کارفرما تھی. مگر چونکہ اس زہر ہلاہل پر “اسلام ازم” کا خوش نما لیبل چسپاں ہے، چنانچہ اسے چھیڑنے سے ہر کوئی گھبراتا ہے. ستم تو یہ ہے کہ مذکورہ فرد واحد کو “اسلامسٹ” طبقے کی ایک چھوٹی سی جماعت کی (پہلے جلی، بعد میں خفی) حمایت بھی حاصل رہی جب کہ جمیعت علماے اسلام، جمیعت علماے پاکستان، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے علاوہ، مسلمانوں ہی کی اکثریت پر مشتمل کم و بیش تمام سیاسی جماعتیں اس کے خلاف جد و جہد میں قربانیاں دیتی رہیں. ایسے ہی اندیشوں کے پیش نظر ہم “اسلام” کی جگہ “اسلام ازم” پر غیر ضروری اصرار دیکھتے ہیں تو خوف پیدا ہو جاتا ہے کہ پھر کسی قسم کی طالع آزمائی کو تقدس کا جامہ پہنانے کی تیاری ہو رہی ہے.. ڈرتا ہوں آئینے سے کہ مردم گزیدہ ہوں..

    حاصل گزارش یہ کہ محترم خاکوانی صاحب ہوں یا محترم وجاہت مسعود اور ان کے الگ الگ حلقہ بگوشان ہوں، یا ہم جیسے ان دونوں کے بہ یک وقت قتیل، سب کا اجماع جمہوری طرز سیاست پر ہے. چونکہ خاکوانی صاحب مکالمے کو پاکستان کی حد تک رکھنے پر مصر ہیں، تو یہ عرض ہے کہ پاکستان میں عوام کے حق حکمرانی پر شب خون مارنے کے لئے زیادہ گہرے وار “اسلام ازم” کے پردے میں ہوۓ ہیں. جبھی ہم اس دن سے ڈرتے ہیں جب اس اصطلاح کو طالع آزمائی کے خوگر لے اڑیں اور ہم اور خاکوانی صاحب منہ دیکھتے رہ جائیں. مجھے یقین ہے کہ جمہوریت پر جب بھی ڈاکہ مارا جاے گا، عوام کے حقوق کے پاسدار ضرور اس کی مخالفت کریں گے. اگر ایسا پچھلی آمریت کی طرح “سب سے پہلے پاکستان” کے نام پر ہوگا تو ہمیں جد و جہد میں بوجوہ آسانی ہوگی. ہاں، اگر “اسلام ازم” کا نعرہ استعمال ہوا تو اس سے وابستہ جذباتیت کے سبب فتوی فروشی کا ایک بازار بازار بھی کھل جاے گا اور جد و جہد کا پودا خون ناحق سے آبیاری مانگے گا. بہتر ہوگا کہ اس ملک کی تاریخ میں پاے جانے والے “اسلام ازم” سے جڑے جبر و استبداد کے تاثر سے بچنے کے لئے خاکوانی صاحب کی قبیل کے “رائٹسٹ” کوئی ایسا عنوان اختیار کریں جیسے “اسلامی جمہوریت” تاکہ انہیں داعش ، طالبان وغیرہ کے ساتھ نتھی کیے جانے کی کوفت نہ اٹھانا پڑے، جیسا کہ ہمیں جنرل سیسی، جنرل کنعان ایورن، انور خواجہ وغیرہ جیسے “سیکولرسٹ” جابروں کی صف میں شمار کیے جانے پر ہوتی ہے.

  • 23-02-2016 at 5:54 pm
    Permalink

    ہمیں تعلیم، صحت، امن، انصاف، میرٹ اور قانون کی حکمرانی چاہیے: وہ اسلامی نظام میں ملے گا یا سیکولر نظام میں ؟

    ہم = مسلمان (سنی، شیعہ)، ہندو، سکھ، عیسائی، یہودی، احمدی، پارسی وغیرہ

  • 23-02-2016 at 7:36 pm
    Permalink

    جیتے رہیے قاضی صاحب۔

Comments are closed.