نظم میں جدت و قدامت کا قضیہ اور تیسری لہر


naseer nasirاس تحریر کا مقصود بنیادی نظری مباحث کو چھیڑنا اور از سر نو نظم یا جدید نظم کی تعریف متعین کرنا نہیں۔ کیونکہ جدید اردو نظم کے زیادہ تر مسائل نظری نہیں عملی نوعیت کے ہیں۔ اردو میں نظم کی عملی یا اطلاقی تنقید نہ ہونے کے برابر ہے اور اب تک سارا زور نظری تنقید یا تھیوری یا نصابی طرز کی تحقیقی اور تنقیدی ترجیحات و ترغیبات پر رہا ہے۔ نظم کیا ہے؟ قدیم نظم کیا ہے؟ جدید نظم کیا ہے؟ مابعد جدید نظم کیا ہے؟ نثری نظم کیا ہے اور کیوں ہے؟ غزل اور نظم کی مسابقت اور تقابل میں نظم کی قبولیت یا ناقبولیت میں کتنی حقیقت ہے کتنا افسانہ ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ یہ سارے مباحث بڑی حد تک اب ماضی کا قصہ ہیں۔ ان میں اب کوئی خاص کشش نہیں رہی اور ان پر بحث کا عمل پانی میں منتھن ثابت ہوتا ہے۔ زمانہ قدیم سے لے کر اب تک شاعری کی لاتعداد تعریفیں اور توجہہات بیان کی گئی ہیں جن سے ہر کوئی اپنے اپنے مزاج اور طبع کے مطابق شافی جواب حاصل کر سکتا ہے۔ البتہ ہر دور کی روحِ عصر، حالات و واقعات کا تناظر، داخلی اور خارجی محرکات اور بعض آفاقی قدروں کے رواں شعری تصورات بدلتے رہتے ہیں۔ شعری فردائیت تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ اور انہی سے نظم کے جدید یا قدیم ہونے کا ادراک ہوتا ہے۔ بقول ارسطو شاعر پر زندگی کی عکاسی فرض ہے لیکن ضروری نہیں کہ یہ عکاسی لمحہ ¿ موجود یا گرد و پیش کے معاملات تک محدود ہو۔ شاعر کو آزادی ہے کہ چیزوں کو حسبِ مراد، یا تو اس طرح پیش کرے جیسے وہ کبھی تھیں یا جیسی وہ ہیں یا جیسا انہیں بتایا یا سمجھا جاتا ہے یا جیسا انہیں ہونا چاہیئے۔

اصل بات یہ ہے کہ ہر دور کی شاعری، چاہے وہ کسی بھی صنفِ سخن میں ہو، جدید بھی رہی ہے، جدید تر بھی، قدیم اور روایتی بھی۔ اس میں ایک طرح کی اوور لیپنگ یا بر پوشی ہوتی ہے جس میں بہتر پرت کمتر پرت کو ڈھک دیتی ہے۔ بعض اوقات اس میں پھلانگ اور اچانک تغیر و تبدل آ جاتا ہے جس کا انحصار تاریخ اور وقت کے بہاو¿ پر یا کرہ ارض میں ہونے والے بڑے بڑے واقعات اور سانحات پر ہوتا ہے۔کوئی بڑی سائنسی ایجاد یا بڑا سائنسی انکشاف بھی یکلخت شعر و ادب کا دھارا پلٹ دیتا ہے۔ لیکن اس میں جدید و قدیم کی تخصیص ہیئت سے نہیں بلکہ اس کے مواد، موضوع، اسلوب، تکنیک، لفظیات و تراکیب اور اس میں بیان کیے گئے معروضی اور باطنی تجربات سے ہوتی ہے۔ ہیئت تو ویسے بھی خارجی فنی صورت کا نام ہے۔ اگرچہ یہ نظم کے داخلی کروں اور منطقوں کی بھی ہم مرکز ہوتی ہے۔ گویا قدیم زمانے میں لکھی گئی کوئی نظم جدید ترین ہو سکتی ہے اور آج کی لکھی ہوئی کوئی نظم بوسیدہ یعنی نئے پن سے خالی ہو سکتی ہے یا اس کے بالعکس۔ اس تناظر میں اردو کے حوالے سے بات کی جائے تو پابند، معریٰ، آزاد اور نثری ان میں سے کسی بھی فارم میں لکھی گئی نظم جدید بھی ہو سکتی ہے اور فرسودہ اور ازکار رفتہ بھی۔ اچھی نظم جدید یا قدیم سے نہیں روحِ عصر سے پہچانی جاتی ہے۔ اچھا تخلیق کار تاریخ اور وقت کے تمام ادوار سے جڑا ہوتا ہے، اس کے اندر گزری ہوئی صدیاں آرکائیو ہوتی ہیں، اس کے سامنے حال کا پینوراما ہوتا ہے اور اس کے تصورات میں مستقبل کے اَن دیکھے زمانے کئی شکلوں میں ڈھل رہے ہوتے ہیں۔ اسے کسی خاص تھیوری یا نظری بیانیے، ہیئت، طریقِ کار اور زمانے کا پابند نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا وژن از خود قدیم و جدید کی حدِ فاصل قائم کرتا یا پار کرتا ہے۔ اگرچہ یہ حدِ فاصل کسی زمانی لکیر کا نام نہیں۔ اقبال کی بعض نظمیں اپنی آفاقیت اور دوامیت میں قدیم و جدید کی حدوں سے ورا ہیں۔ جدید یا قدیم کسی بھی زمانے میں چلے جائیں اقبال صرف ایک ہے اور ایک ہی رہے گا۔

میں یہاں دہرائے ہوئے مختلف نظری تنقیدی مباحث اور دلائل نقل کرنے کے بجائے دنیا کے قدیم ادب سے چند عملی مثالیں پیش کرتا ہوں۔ تقریباً ساڑھے تین ہزار سے چار ہزار سال پہلے کی یہ نظمیں (ترجمہ شدہ، بحوالہ مصر کا قدیم ادب از ابن حنیف) دیکھیے اور خود فیصلہ کیجیئے کہ یہ نظمیں اتنے زمانی فاصلے کے باوجود قدیم ہیں یا جدید؟ اگرچہ یہ آزاد سادہ نثری ترجمہ ہے اور اپنے زمانے کی ہیئیتوں، تکنیکی پہلوو¿ں اور فنِ شعری کی باریکیوں کو ظاہر نہیں کرتا لیکن اس کے باوجود کیا یہ نظمیں اپنے موضوعات، مواد، اسلوب، حسیات، اپنے عصری تقاضوں، شعری تجربوں، علامتوں، استعاروں، اثر پذیری، آفاقیت وغیرہ کے لحاظ سے جدید نہیں ہیں؟ کیا یہ ہمارے ہی دور کی داستان، ہمارا ہی خارجی و باطنی انتشار و کرب اور تلاش و تجربہ نہیں لگتیں؟ حالانکہ زمانی اعتبار سے بہت پارینہ ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ کئی ہزار سال پرانی ہونے کے باوجود یہ نظمیں آج بھی جدید لگتی ہے اور آئندہ بھی جدید لگتی رہیں گی۔ انھیں پڑھنے کے بعد قدیم و جدید کی بحث ازخود رفت گزشت ہو جاتی ہے۔ قدیم عالمی ادب سے ایسی بیسیوں مثالیں دی جا سکتی ہیں۔

آج میں کس سے بات کروں

آج میں کس سے بات کروں
بھائی کمینے بن گئے ہیں
اور آج کے دوستوں میں محبت باقی نہیں رہی
آج میں کس سے بات کروں
دل لالچی ہو گئے ہیں
ہر شخص اپنے ساتھی کا سامان ہتھیا لیتا ہے
اج میں کس سے بات کروں
شرافت ختم ہو گئی ہے
اور متشدد آدمی ہر شخص پر پل پڑا ہے
آج میں کس سے بات کروں
لوگ لوٹ رہے ہیں
ہر شخص اپنے پڑوسی کو لوٹ لیتا ہے
آج میں کس سے بات کروں
راست باز لوگ باقی نہیں رہ گئے
اور ملک بدکرداروں پر چھوڑ دیا گیا ہے
آج میں کس سے بات کروں ؟
دھرتی پر برائی کا دور دورہ ہے
اس (برائی) کی کوئی انتہا نہیں۔

موت کے بارے میں ایک نظم

موت آج میرے لیے ایسی ہے
جیسے کوئی بیمار صحت یاب ہو جائے
جیسے بیماری کے بعد کوئی باغ چلا جائے
موت آج میرے لیے ایسی ہے
جیسے م±ر کی خوشبو
جیسے خوشگوار ہوا کے دن کوئی کشتی کے بادبان تلے بیٹھا ہو
موت آج میرے لیے ایسی ہے
جیسے کنول کے پھولوں کی مہک
جیسے کوئی سرزمینِ سرخوشی کے ساحل پر بیٹھا ہو
موت آج میرے لیے ایسی ہے
جیسے بارش کا طوفان تھم جائے
جیسے کوئی لڑائی سے گھر لوٹ آئے
موت آج میرے لیے ایسی ہے
جیسے صاف کھلا آسمان
جیسے کوئی اَن جانی بات جان لے
موت آج میرے لیے ایسی ہے
جیسے کئی برس قید میں رہنے کے بعد کوئی
اپنے گھر جانے کی تمنا کرے۔

پالکی برداروں کا گیت

بھری ہوئی پالکی خالی سے اچھی لگتی ہے
پالکی بردار خوش ہیں
کہ بھری ہوئی پالکی خالی سے اچھی لگتی ہے۔

محنت کشوں کا گیت

کام کر میرے بھائی، آرام کا وقت قریب ہے
فرعون ابدی ہے
زمین اور اسمان کے جانور اور پرندے
رینگنے والے جاندار اور ا±ڑنے والے جاندار
سب مشقت کرنے پر مجبور ہیں، سب کو مرنا ہے
پر فرعون ابدی ہے
دن کے وقت کام کر میرے بھائی
فرعون ابدی ہے
دریا اتر جاتے ہیں اور سوکھ جاتے ہیں
سنگِ مر مر چکنی مٹی کی طرح ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے
قومیں مٹ جانے کے لیے زوال پذیر ہونے لگتی ہیں
پر فرعون ابدی ہے
کام کر، یہی تیرا کٹھن انجام ہے
فرعون ابدی ہے
سائے اداسیوں میں سے گزر رہے ہیں
ایک زمانے کی جگہ دوسرا زمانہ لے لیتا ہے
سلاطین مقبروں میں اتر جاتے ہیں
پر فرعون ابدی ہے۔

کئی ہزار سال کہنہ اتھرو وید میں درج یہ نظم (بحوالہ “ہندو صنمیات” از ڈاکٹر مہر عبدالحق، اردو ترجمہ ڈاکٹر عرش صدیقی) خدائی صفات و واحدانیت، ابتدائے آفرینش، نظریہ تخلیق، انسانی ارتقا اور حیات و کائنات کے اسرار کے حوالے سے حیران کن حد تک جدید طرزِ فکر کی عکاس ہے:

کچھ نہیں تھا
نہ چمکدار آسمان تھا نہ آسمان کی پھیلی ہوئی لامحدود چادر تھی
کس پردے میں سب کچھ تھا؟ سب کچھ کہاں پنہاں تھا؟
کیا کہیں پانیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں تھا سب کچھ ؟
فنا نہیں تھی
لیکن بقا بھی تو نہیں تھی
رات اور دن کی سرحدیں نہیں تھیں، کچھ نہیں تھا
بس ایک ذاتِ واحد، صرف ایک ذات
اپنے آپ میں زندہ تھی اور سانس لے رہی تھی
اس ذات کے علاوہ نہ کبھی کچھ تھا نہ اب کچھ ہے
یہی ذاتِ واحد سب کچھ ہے
ہاں، اندھیرا تھا اور اس گہرے اندھیرے میں سب کچھ پنہاں تھا
ایک سمندر تھا نظر نہ آنے والا
تخمِ زندگی ( اندر کی ) گرمی سے پھوٹا اور محبت پیدا ہوئی
شاعروں کے دلوں میں اور ان کے دماغوں میں اس نے گھر بنا لیا
اور یہ شاید ان چیزوں میں رابطے تلاش کرنے لگے جو تخلیق کر دی گئیں تھیں
اور جو تخلیق نہیں کی گئی تھیں
یہ شعلہ تخلیق، یہ شعلہ کہاں سے لپکا؟ یہ شعلہ ہمہ گیر زمین سے نکلا یا آسمان سے آیا؟
کوئی نہیں جانتا
پھر بیج بوئے گئے، بڑی بڑی طاقتیں پیدا ہوئیں
نیچے فطرت تھی اور اوپر ایک قوت کی مرضی
کون اس راز سے واقف ہے؟
کون جانتا ہے کہ یہ ہزار رنگ کائنات یہاں سے، وہاں سے یا کہاں سے آئی؟
وہ ذات، ذاتِ یکتا ہے جس نے تمام کائنات کو تخلیق کیا
یہ اس کی رضا تھی یا اس کا حکم تھا یا اس کی خاموشی تھی
جس نے کائنات کو تخلیق کیا تھا
ہر بات صرف وہی جانتا ہے
وہ جو یکتا ہے، جس کا مقام عرشِ عظیم ہے
صرف وہی جانتا ہے
یا شاید
شاید وہ بھی نہیں جانتا!

یہاں چوتھی صدی عیسوی یعنی آج سے دو ہزار سال قبل کی ایک آفاقی کیلٹی نظم ”اوسین کی پشیمانی ضعیفی میں“ بطورِ خاص قابلِ غور ہے۔ (بحوالہ تاریخ ادبیات عالم از پروفیسر عبدالوہاب اشرفی) اس نظم میں بیان کردہ اور بین السطور حسیات کی جھلکیاں ماضی قریب سے حال تک کی انگریزی، لاطینی امریکی اور اردو شاعری میں جابجا دیکھی جا سکتی ہیں۔ میرے خیال میں تو دو ہزار سال پرانی ہونے کے باوجود یہ نظم اپنے موضوع کے لحاط سے اور وقت اور عمر کی ایک دائمی نامیاتی اکائی کے طور پر آج بھی جدید ہے اور آئندہ بھی جدید رہے گی۔

اوسین کی پشیمانی ضعیفی میں

آج کی رات مجھ پہ غم کے لمبے سائے ہیں
میرے لیے گذشتہ رات بھی کافی طویل تھی
یہ دن کٹھن اور دشوار گزار راستے پر سر گرم سفر ہے
تھکا دینے والے دیروز کے بطن سے ابھرا ہے
آنے والا ہر دن میرے لیے طویل ہوتا ہے
حالانکہ پہلے اس طرح کی بات نہ تھی
اب تو سچی خوشی بھی مجھ سے روٹھ کر کوسوں دور چلی گئی ہے
نہ رزم گاہ ہے نہ جنگ کی تیغ زنی
نہ سریلے گیت ہیں، نہ دل کو گرمانے والی موسیقی اور نہ ہی عورتوں کا حسن و جمال
نہ دہکتی ہوئی انگھٹی ہے اور نہ کھانوں کا انبوہ
اور نہ ہی فراخ دل مالک کا اہتمامِ ضیافت
نہ غزالوں کا تعاقب، نہ راز و نیاز کی باتیں
اب تو عزیز سے عزیز تر بھی مجھ سے تجارت کی زبان میں بات کرتا ہے
افسوس! میں یہ دن دیکھنے کو زندہ رہا
ہر دن جو گوشہ مکان میں خوشیوں سے خالی گزرتا ہے
شکاریوں کو چونکا دینے والی صدا کے بغیر
نہ ہی شکاری کتوں کے بھونکنے کی صدا آتی ہے
لطیف مذاق سے عاری اور خوش طبعی کی ترنگوں سے محروم
آج کی رات مجھ پہ غم کے سائے لمبے ہیں
اتنے بڑے جہان میں کوئی انسان اتنا غم زدہ اور افسردہ نہ ہو گا
جتنا کہ میں آج کی رات ہوں
ایک بےچارہ بوڑھا انسان جس کی ہڈیوں کی رطوبت خشک ہو چکی ہے
جو کسی لائق نہیں جو سوائے منتشر سنگریزوں کو جمع کرنے کے
میں ایک معزز قبیلہ فن کی آخری یادگار ہوں
فن کا بیٹا اوسین
بنجر اور بھورے آسمان کے نیچے ایستادہ
گوش بر نوائے جرس
آج کی رات مجھ پہ غم کے سائے لمبے ہیں۔

جس طرح مغربی ادب پر اسٹیم انجن کی ایجاد، دو عظیم جنگوں، ایٹم بم اور سرمایہ داری اور اشتراکیت کی سرد جنگ کے دیر پا اور دور تک کے اثرات ہیں۔ اسی طرح برصغیر کے اردو ادب پر تقسیمِ ہند کے گہرے اثرات مرتب ہوئے اور یہ ابھی تک پوری طرح اس دبدھے سے باہر نہیں آ سکا۔ تاہم گزشتہ چالیس پچاس سالوں کی نئی اردو نظم کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو اس کی قریب ترین جڑت مجید امجد سے بنتی ہے۔ ادب کے تقسیم اور مابعد تقسیم کے منظر نامے سے ہٹ کر دیکھیں تو مجید امجد وہ شاعر ہے جس نے سب سے پہلے بدلتی ہوئی دیہی اور شہری قدروں کو صارفیت کے حوالے سے محسوس کیا اور نظم کو نئے عصری تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کا آغاز کیا۔ لیکن موجودہ نظم جس کا مَبدا ستر کی دہائی کا اواخر یعنی بعد مجید امجد دور ہے، مجید امجد کی نظم سے آگے کی چیز ہے۔ میرا جی، ن م راشد، فیض اور مجید امجد کے ع±ہ±ود سے ہمارے عہد تک آتے آتے کئی قیامتیں گزر گئیں ہیں اور نظم نگار کے اندر اور ارد گرد کی صورتِ حال زیادہ پیچیدہ ہو گئی ہے۔ ایران عراق جنگ، خلیج کی دو جنگیں، افغانستان کی خانہ جنگی، اشتراکیت اور روس کی شکست و ریخت اور تیسری دنیا میں ترقی پسندی کی نئی توجیہات، طالبان، القاعدہ، نائن الیون، نیو ورلڈ آرڈر، تہذیبوں کا ٹکراو¿، معادیات، نیٹو کا پھیلاو¿، افغانستان پر براہ راست امریکی حملہ، تورا بورا، مہاجرین، سیاسی پناہ گزین، آئی ڈی پیز، دہشت گردی، خود کش حملے، تکفیری آئیڈیالوجی، داعش، دوسری عرب سپرنگ، لیبیا اور شام کا بحران، روس اور چین کا نیا عالمی کردار، گلوبلائزیشن، پولرائزیشن، بائیو، الیکٹرو میگنیٹکس اور انوائرمینٹل وار فیئرز، فورتھ اور ففتھ جینریشن ڈاکٹرائن، انفارمیشن اور میڈیا وار، سائی اوپس، آئی ٹی، موبائل، انٹر نیٹ، سوشل میڈیا، ویکسینیشن، جی- ایم – اوز، فاسٹ فوڈ چینز، پلازہ کلچر، تعلیم اور صحت کی کمرشلائزیشن، محبتوں، رشتوں اور سماجی تعلقات میں منافقانہ طرزِ فکر و عمل، ملٹائی نیشنل اور این جی اوز کی بھرمار، تیل اور توانائی کے بحران، آلودگی، آبی ذخائر کی پرخاش، بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ، کساد بازاری، اکنامک اینڈ کلچرل اوکلٹزم وغیرہ یہ وہ غیر معمولی مظاہر اور حادثاتِ طبعی ہیں جن سے آج کا نظم نگار دوچار ہے اور مسائل و موضوعات کے انبار تلے دبا ہوا ہے۔ یہ جدت اور قدامت کا قضیہ نہیں۔ نہ یہ ما قبل اور ما بعد جدید کی بات ہے۔ یہ ان سے آگے کا فنامنا ہے، جو بالخصوص ہمارے خطے کے علاقائی زبانوں کے ادب اور اردو کی نظمیہ شاعری میں تیسری لہر کا مظہر ہے، لیکن ابھی تک قدیم، روایتی اور جدید و بعد جدید میں الجھے ہوئے ہمارے بیشتر نقاد اور زعمِ جدت و ابہام میں مبتلا مگر لگے بندھے موضوعات اور بنے بنائے نقوشِ پا میں پاو¿ں رکھنے کے عادی بعض نئے نظم نگار خود بھی اس تیسری لہر سے آشنا نہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “نظم میں جدت و قدامت کا قضیہ اور تیسری لہر

  • 24-02-2016 at 2:54 pm
    Permalink

    آج کی نظمیہ شاعری میں تیسری لہر کے حوالے سے آپ کی یہ تحریر جاندار بنیادوں پر استوار اور آپ کی تنقیدی بصیرت کا بھرپور آئینہ دار ہے۔ میں خود کو اس سے ہم آہنگ پا رہا ہوں اور یہ میرے لیے باعث مسرت ہے

  • 24-02-2016 at 3:31 pm
    Permalink

    شکریہ رفیع اللہ میاں صاحب۔ آپ خود بھی تو اس تیسری لہر کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔

    • 25-02-2016 at 11:40 am
      Permalink

      محبت ہے آپ کی جناب، آپ اردو نظم کا سرمایہ ہیں

Comments are closed.