مقبوضہ کشمیر میں تشدد


IndiaKashmirProtest (620x453)مقبوضہ کشمیر میں سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے طویل تصادم میں سات افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ان میں پانچ بھارتی فوجی بھی شامل ہیں۔ سیکورٹی فورسز اور لوگوں میں تصادم کا آغاز ہفتہ کے روز ہوا تھا جب ایک گروہ کو منتشر کرنے کے بعد پولیس نے سری نگر سے پندرہ کلومیٹر جنوب میں ایک سہ منزلہ عمارت کو گھیرے میں لے لیا تھا۔ اس محاصرے میں پولیس کے علاوہ فوج اور ملیشیا کے جوانوں نے حصہ لیا۔ حکام کا دعویٰ تھا کہ عمارت میں شدت پسندوں نے پناہ لی ہوئی تھی۔ اتوار کو عمارت پر حملہ کے نتیجہ میں ایک شدت پسند اور کئی فوجی اہلکار مارے گئے۔ اس کے بعد شہر میں ہنگامے شروع ہوگئے۔ کشمیری لیڈروں نے جن میں مقبوضہ کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی بھی شامل ہیں، پولیس اور سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ بھارتی حکومت جس طرح سے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے کی کوشش کررہی ہے، اس میں اسے مسلسل ناکامی کا سامنا ہے۔

بھارت نے اپنی طاقت کے گھمنڈ میں ہمیشہ کشمیر کے سوال پر مذاکرات کرنے اور وہاں پر آباد عوام کی خواہشات کے مطابق اس دیرینہ مسئلہ کو حل کرنے سے گریز کیا ہے۔ عوام کی نمائندہ جماعتوں اور لیڈروں کے ساتھ بات چیت کرنے کی بجائے، بھارتی حکومت طاقت کے زور پر ان کی عوامی رابطہ مہم کو ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اسی طرح پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرات کے زریعے اس مسلہ کا باوقار اور قابل قبول حل تلاش کرنے سے بھی گریز کیا جاتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں غیر نمائیندہ انتخابات کے زریعے من پسند حکومت قائم کی جاتی ہے جو عوام کی نمائندگی نہیں کرتی۔ لیکن اب اس کٹھ پتلی حکومت کی سربراہ محبوبہ مفتی بھی بھارتی فورسز کے اقدام کو غلط قرار دیتے ہوئے کہہ رہی ہیں کہ یہ ایک بہیمانہ حملہ ہے جس میں معصوم لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے بھی پرامن سیاسی عمل کے زریعے مسائل حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ کشمیری لیڈر شبیر شاہ نے آج ایک پریس کانفرنس میں سیکورٹی فورسز کی تازہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم تو مسلہ کا پر امن حل چاہتے ہیں لیکن حکومت پر امن احتجاج کے سارے راستے مسدود کررہی ہے۔ اس لئے تصادم ہونا ناگزیر ہے۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران بھارتی سیکورٹی فورسز نے 28 مظاہرین کو ہلاک کیا ہے۔

نئی دہلی کی حکومت نے پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے اور اس اہم مسئلہ پر کوئی قابل عمل اور قابل قبول حل تلاش کرنے کی کوشش کرنے سے گریز کیا ہے۔ جب بھی مذاکرات پر اتفاق ہوتا ہے، بھارتی حکمران حلقوں کے انتہا پسند کسی نہ کسی واقعہ کو عذر بنا کر ملنے یا بات کرنے سے انکار کردیتے ہیں اور مذاکرات کے لئے نت نئی شرائط عائد کی جاتی ہیں۔ لگتا ہے کہ بھارتی سیاستدان عوامی تائید کے باوجود مسائل حل کرنے کے لئے حوصلہ مندانہ اقدام کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکے ہیں۔ بات کرنے کی بجائے پاکستان پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ کشمیری لیڈروں سے مواصلت بند کردے۔ حالانکہ کشمیری لیڈروں کو مصالحتی عمل میں شامل کئے بغیر، صرف طاقت کے زور پر یہ مسئلہ کبھی حل نہیں ہو سکتا۔ بھارت کو سمجھنا ہوگا کہ تشدد اور الزام تراشی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ اسے بہرصورت مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر کشمیری عوام کی بات سننا ہوگی۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 410 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali